Today News
نئے سپریم لیڈر کا انتخاب
ایران کی مجلس خبرگان نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر اور رہبر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ایران کی کمان نئے سپریم لیڈر کے پاس آگئی ہے۔ ویسے تو اطلاعات یہی تھیں کہ نئے سپریم لیڈر گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کے معاملات میں عملی کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ بالخصوص پاسدران انقلاب کے معاملات میں ان کا رول خاصا زیادہ رہا ہے۔ اب بھی یہی اطلاعات ہیں کہ پاسداران انقلاب کا ووٹ اور حمایت انھیں ہی حاصل تھی اورا س حمایت نے ہی ان کے حق میں فیصلہ کی راہ ہموار کی ہے۔ بہرحال اب وہ ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ ایران کے آیندہ فیصلے ان کی رائے سے مشروط ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ زدہ ماحول میں نئے ایرانی سپریم لیڈر کیا کردارکر تے ہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ وہ زیادہ سخت گیر موقف رکھنے کے حامی ہیں، اس لیے جاری جنگ زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے ۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جب لیڈر بالخصوص سپریم لیڈر تنازعات کے آغاز میں مارے جاتے ہیں تو ان کے جانشن زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنے پیش رو سے زیادہ سختی سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی ایسی ہی سنگین صورتحال میں ذمے داری ملی ہے ۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر جو ان کے والد بھی تھے، جنگ کے آغاز میں شہید ہو گئے ہیں۔ اس لیے جناب مجتبیٰ خامنہ ای پر ایک دباؤ ضرور ہوگا۔
ایک بات اور اہم ہے کہ جب دشمن کسی لیڈر کو جنگ کے دوران قتل کردیتا ہے۔ تو اس کے جانشین کو وراثت میں یہ مسئلہ ملتا ہے کہ اس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل ہیں اور مضبوط ہیں۔جناب مجتبیٰ خامنہ ای بھی ایسی صورتحال کا شکار نظر آتے ہیں۔ انھیں بھی ثابت کرنا ہے کہ ان کا انتخاب درست ہے۔ اب وہ رہبر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ سب نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ لیکن ایک مرحلہ ابھی باقی ہے۔ انھیں اپنی صلاحیتیں ابھی منوانی ہیں۔ جوایک مشکل مرحلہ ہے۔ لوگ ان کا ان کے والد سے موازنہ کریں گے۔
نئے رہبراعلیٰ کی کوئی سیاسی تقریر فی الحال سامنے نہیں آئی ہے۔ ان کی کوئی تصنیف بھی ہمارے سامنے نہیں ہے کہ ان کی تحریر سے ان کی شخصیت کا انداذہ لگایا جاسکے ۔ ان کی کتاب سے ان کی سوچ پڑھ لیں۔ جس سے ان کی سیاسی سوچ کا انداذہ لگایا جا سکے۔ ان کی کوئی ویڈیو بھی موجود نہیں ہے۔ البتہ ان کی چند تصاویر ضرور موجود ہیں۔ لیکن وہ بھی بہت کم۔ انھوں نے اب تک جو بھی کام کیا ہے، پردہ کے پیچھے رہ کر کیا ہے۔ وہ کیا سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی پالیسی کیا ہوگی؟ وہ کیا مزاج رکھتے ہیں؟ باقی سب کہانیاں ہیں، ریکارڈ پر کچھ نہیں۔
اس جنگی ماحول میں نئے سپریم لیڈر کے لیے جلد پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ اس وقت جنگ سے پیچھے ہٹے تو یہ تاثر بنے گا کہ وہ کمزور ہیں۔ انھیں ایک مضبوط شناخت کے لیے جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ اسی لیے جب سے ان کا علان ہوا، ایران کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ پاسداران انقلاب کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ جیسے ٹرمپ کے بیان کا براہ راست جواب دیا جارہا ہے کہ جنگ کب بند کرنی ہے، یہ فیصلہ ہم کریں گے۔ اس کو نئے سپریم لیڈر کی سوچ اور پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے نئے لیڈر کے لیے سخت موقف اور کشیدگی کو جاری رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کو کئی قسم کے دباؤ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ پاسداران انقلاب کی طرف سے یہ دباؤ ہوگا کہ وہ ان کی پالیسی کو آگے لے کر چلیں۔ انھیں انقلا بی دھڑے کی جانب سے بھی دباؤ کاسامان ہوگا کہ وہ انقلاب کی سوچ کو بھی آگے لے کر چلیں۔ انھیں اصلاح پسندوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوگا کہ وہ ملک میں اصلاح پسندی لے کر آئیں۔ انھیں قدامت پسندوں اور اصلا ح پسندوں کے درمیان توازن رکھ کر آگے برھنا ہوگا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سب دھڑے غور سے دیکھ رہے ہیں کہ جانشین مضبوط ہے یا کمزور۔ ان کی پالیسی کیا ہے۔ والد کے ساتھ کام کرنا اور پھر خودکمان کرنے میں فرق ہے۔ لوگ اس فرق کو جاننا چاہتے ہیں۔
نئے رہبر کے انتخاب عوام نے کو بہت ویلکم کیا ہے۔ لیکن ابھی وہ عوام میں نہیں آئے، وہ انڈر گراؤنڈ ہیں، وہ سامنے نہیں آسکتے، ان کا کوئی ویٖڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی ایرانی صدر سے ملاقات کی بھی کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں آئی۔ اس لیے ایک تشنگی باقی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں جید مذہبی رہنما موجود ہیں لیکن فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔ اب وقت ثابت کرے گا کہ ان کو کتنی قبولیت حا صل ہوگی۔ اب جنگ کا ماحول ہے۔ قوم متحد ہے۔ ابھی سب خاموش بھی ہیں۔ جنگ کے بعد ان کے انتخاب کا اصل مرحلہ شروع ہوگا۔ تب ہی معلوم ہوگا کہ کتنی مقبولیت اور کتنی قبولیت ہے۔ مقبولیت عوام میں، قبولیت مذہبی رہنماؤں میں۔ کیا وہ ان کو ا پنا مذہبی لیڈر مان لیں گے؟
آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ایرانی میزائل حملوں میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار ان کو سخت گیر رہنماکے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان سے لمبی جنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان سے زیادہ سخت موقف کی توقع کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ سرپرائز بھی دے سکتے ہیں۔ وہ نئی سوچ اور نئی پالیسی کے ساتھ بھی آگے آسکتے ہیں۔ لیکن اس کے امکانات بظاہر کم نظر آرہے ہیں۔
Today News
طالبان رجیم کی سرپرستی میں پروان چڑھتی دہشتگردی خطے کیلیے سنگین خطرہ ہے؛ چین
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب افغانستان کے موجودہ طالبان رجیم میں دہشت گردوں کی پشت پناہی سے پڑوسی ممالک کے لیے سیکیورٹی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فوکونگ نے طالبان رجیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
فو کونگ نے دہشتگردی کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان، بی ایل اے، ٹی ٹی پی کی موجودگی قابل مذمت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ افغان سرزمین ان دہشت گرد تنظیموں کے لیے پناہ گاہ بن گئی ہیں جس سے پڑوسی ممالک کے لیے سنگین سیکیورٹی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
چین کے مندوب نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی ہر قسم کی دہشتگردی کی سخت اور بھرپور مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ طالبان حکومت دہشتگردی کے سنگین خطرات کو تسلیم کریں۔
چینی مندوب نے فو کونگ نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت افغانستان کی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کریں۔
عالمی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
Today News
ایران جنگ میں ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، حملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی
FLORIDA:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے فیصلے سے متعلق بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اقدام کی جانب ان کے قریبی مشیروں نے مائل کیا تھا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے متعلق صورتحال تیزی سے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی تھی جسے انہوں نے پوائنٹ آف نو ریٹرن قرار دیا۔
ان کے مطابق مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو ایران ایک ہفتے کے اندر حملہ کر سکتا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی 51 بحری کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ ڈرون بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس ایسے کم لاگت دفاعی انٹرسیپٹر موجود ہیں جو ایرانی ڈرون خطرات کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے عالمی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا سخت فوجی ردعمل دے گا۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے بعض تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے تہران کو مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔
انہوں نے ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر مبینہ حملے کی اطلاعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بھی ذکر کیا اور ایران کی نئی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہوگا آیا وہ امن کی راہ اختیار کرتی ہے یا نہیں۔
Today News
ایرانی حملوں پر سعودی عرب کابینہ کا سخت ردعمل سامنے آ گیا
ریاض:
سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
کابینہ نے مملکت کے فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دفاعی فورسز نے حالیہ حملوں کے دوران اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو بروقت ناکام بنایا۔
سعودی میڈیا کے مطابق کابینہ نے ایران کی جانب سے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور دیگر عرب ریاستوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ شہری علاقوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
کابینہ نے اس موقع پر خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے مشترکہ وزارتی اجلاس کو مثبت پیش رفت قرار دیا جبکہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایرانی کارروائیوں کے خلاف منظور کی جانے والی مذمتی قراردادوں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Sports1 week ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport