Connect with us

Today News

ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!

Published

on


رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ کرنے کے بعد‘ پتہ چلا کہ برطانوی نیوی میں آنے کے لیے کڑے امتحان کی ضرورت ہے۔

اب کالج جا رہا تھا۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں چلا جاتا اور بہت سخت کوش ورزش کرتا۔ ساتھ ساتھ جم بھی کرنا شروع ہو گیا۔ چند ماہ بعد ‘ ایسے لگتا تھا کہ اس کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ قد اور ایک کسرتی باڈی ۔خیر ‘ بحریہ میں جانے کا امتحان دے ڈالا۔ جو اس نے آسانی سے پاس کر لیا۔ اب اسے برطانوی نیوی میں نوکری مل گئی۔ زندگی کا خواب مکمل ہو گیا۔ تعیناتی‘ ایک جنگی جہاز پر ہوئی۔ جو تقریباً چار ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جب واپس بندرگاہ پر آیا تو رابرٹ اپنے سینئر افسر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بالکل چھٹیاں نہیں کرنا چاہتا۔ اسے جتنی بھی جلدی ہو‘ فوراً کسی دوسرے جنگی جہاز پر دوبارہ سمندر میں بھیج دیا جائے۔ سینئر افسر حیران رہ گیا۔ کیونکہ ایسا ہوتا نہیں تھا۔ جو بھی افسر ‘ چار پانچ ماہ ‘ مسلسل بحری بیڑے کا حصہ رہتا تھا۔ اسے دو ہفتہ کے لیے چھٹیاں دی جاتی تھیں۔ اس رویے کے برعکس رابرٹ ضد کر رہا ہے کہ اسے فوراً سے پیشتر ‘ دوبارہ پانی میں بھیج دیا جائے۔ حکم دیا کہ ڈاکٹر اس کا ذہنی توازن دیکھیں۔ بحریہ کے ڈاکٹرز نے بڑی محنت سے اس کا نفسیاتی معائنہ کیا۔ لکھ کر دیا کہ رابرٹ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا عشق گہرے پانیوں میں نوکری کرنا ہے۔

سینئر افسر نے رپورٹ پڑھی ۔ اسے ‘ ایک ایسے جنگی جہاز میں تعینات کر دیا جو کافی مدت کے لیے ایک مہم پر جا رہا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ رابرٹ ‘ اپنے شوق کی بدولت پوری برطانوی بحریہ میں بہترین افسروں کی فہرست میں آ گیا۔ دو بلکہ ڈھائی دہائیاں گزر گئیں۔ ایک دن رابرٹ عرشے پر آرام سے پیدل چل رہا تھا کہ ایک بھاری مشین کا ٹکڑا حادثاتی طور پر اس پر آن گرا‘ اس کی بائیں ٹانگ کچلی گئی۔ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایک اسپتال میں تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے‘ ایک نزدیکی برطانوی اسپتال میں لایا گیا تھا۔ جیسے ہی ہوش میں آیا تو ایک تجربہ کار سرجن‘ ملنے کے لیے آیا۔ بتانے لگا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے ۔ مگر اب اس کی ٹانگ کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ہڈی‘ اتنی بری طرح کچلی جا چکی ہے کہ اس کا جڑنا ناممکن ہے۔

اب ایک ہی حل ہے کہ اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا جا ئے۔ رابرٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔معلوم تھا کہ اس کی بقیہ زندگی ایک اپاہج کے طور پر گزرے گی کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی ۔ ایک ماہ اسپتال گزارنے کے بعد‘ جب واپس اپنے گھر آیا تو بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ چارماہ گزر گئے۔ رابرٹ واپس سرجن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بیساکھیوں کا سہارا لینا بہت معیوب لگتا ہے۔ اسے مصنوعی ٹانگ لگا دی جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ اسپتال میں مصنوعی اعضا کے ڈیپارٹمنٹ نے اس کے لیے بہت اچھی‘ مصنوعی ٹانگ بنا دی۔ رابرٹ اس کے بعد‘ بیساکھیوں کے بغیر چلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑا سا لنگڑاتا ضرور تھا ۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔

مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ رابرٹ عزم و ہمت کا ایک پہاڑ تھا۔ ایک دن ‘ اپنے گھر کے نزدیک ایک گراؤنڈ میں گیا۔ وہاں کے کوچ سے ملا۔ اسے تمام صورت حال بتائی اور کہا کہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ دوڑنا چاہتا ہے۔ کوچ پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اسے‘ ایک معذور آدمی کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مگر صرف اتنا اندازہ تھا کہ معذور لوگوں کو دوڑنے کی تربیت دینے کے لیے ایک پورا محکمہ موجود ہے۔ رابرٹ کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جب منتظمین نے رابرٹ کی ہمت دیکھی تو ایک کہنہ مشق کوچ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس نے رابرٹ کی ٹریننگ شروع کر دی۔ ایک سال بعد‘ کوچ اور رابرٹ کی ریاضت رنگ لے آئی اور وہ بڑی آسانی سے گراؤنڈ میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔ 1988 میں سوئل (Seoul) میں پیرا اولمپکس تھیں۔

کوچ نے رابرٹ کو کہا کہ وہ پیرا اولمپکس کی تیاری شروع کر دے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رابرٹ کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ مگر ایک ٹانگ کے ساتھ‘ میں کیسے دوسروں کا مقابلہ کروں گا؟ کوچ نے اسے ہمت دلائی۔ اس کی ٹریننگ مزید سخت کر ڈالی۔ پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے‘ اب رابرٹ مکمل طور پر تیار تھا۔ تیز رفتار دوڑ دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اس نے اپنے لیے ‘ سو میٹر کی دوڑ منتخب کی جو کہ حددرجہ دشوار تھی۔ جب اپنے مخصوص اسپورٹس میں دوڑ لگائی‘ تو لوگ رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ساتھ ساتھ رابرٹ نے سو میٹر کی وہ دوڑ بھی لگائی جس میں چار ایتھلیٹ ‘ ٹیم بنا کر دوڑتے ہیں۔ دونوں ریسوں میں کامیاب ٹھہرا۔اسے کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ اب رابرٹ ہر مقابلہ میں حصہ لیتا تھا۔

بار سیلونا میں 1992 کی پیرا اولمپکس میں بھی حصہ لیا۔ اس میں بھی اسے امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ دس برس کے عرصہ میں رابرٹ نے یورپ اور اپنے ملک یعنی یو کے ، کے ہر مقابلہ میں حصہ لیا۔ مختلف مقابلوں میں گولڈ میڈل تک لیتا رہا۔ بارسلونا کی پیرا اولمپکس کے بعدریٹائر ہو گیا اور ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ اس کا جذبہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی توانا رہا۔ تین مختلف رگبی ٹیمز کا کھلاڑی بن گیا۔ ساتھ ساتھ قومی سطح پر معذور لوگوں کو اسپورٹس سکھانے کا کوچ بن گیا۔ آج کل ‘ لندن کی والی بال ٹیم سے بھی منسلک ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ برف پر اسکیٹنگ کرنے کا بھی شوقین ہے۔ رابرٹ آج بھی ایک بھرپور اور آسودہ حال زندگی گزار رہا ہے۔

سوچ رہے ہوں گے کہ ایک معذور آدمی کی سچی کہانی سنانے کا کیا مقصد ہے؟ جناب یہ حقائق آپ کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی طرح‘ نامکمل ہوتا ہے۔ کوئی ذہنی آزمائش میں مبتلا ہے۔ تو ایک خاص اقلیت ‘ جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ جسمانی طور پر نامکمل ہونا تو نظر آتا جاتا ہے۔ مگر ذہنی طور پر مسائل دوسروں کو بہت کم ہی معلوم پڑتے ہیں۔ تمام انسانوں کی بات نہیں کر رہا۔ مگر ایک محدود تعداد‘ کسی نہ کسی سقم کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں ‘ جہاں بے بس لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دوسرے انسان اکثر ایک منفی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ وہاں‘ سب سے بڑا مسئلہ ‘ امید کا ختم ہو جانا ہے۔

ان گنت نوجوان پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تو مسائل ہی بہت گھمبیر ہیں؟ یہ رویہ ذہنی ہو یا جسمانی ۔ دراصل یہی رویہ آپ کاسب سے بڑا دشمن ہے۔ اور کامیابی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے ‘ ناامیدی سب سے پتھریلی رکاوٹ ہے۔ جس نے آپ کی صلاحیت کو مقید کر رکھا ہے۔ مسائل جو کچھ بھی ہوں ۔ اگر آپ میں آگے بڑھنے کا عزم ہے تو یقین فرمائیے کوئی بھی دنیاوی طاقت راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بہت سے نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کاروبار کرنے کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں ہے۔

یقین فرمائیے اگر آپ ہمت دکھائیں تو یہ کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔تھوڑا عرصہ پہلے‘ کووڈ کی بلا نے پورے پاکستان کو بند کر رکھا تھا۔ ہمارا ملک ہی کیا ‘ پوری دنیا ہی جمود کا شکار تھی۔ لاہور میں ایک سولہ سترہ سال کے نوجوان نے اپنے ہاتھ سے برگر بنانے شروع کر دیے۔ لاہوری ذائقہ کے مطابق بنے ہوئے یہ برگر‘ پہلے مقامی آرڈر پر بناتا رہا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ‘ اس نے آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ صرف تین برس میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ آج لاہور ہی میں اس کے تین ریسٹورینٹ ہیں۔ جو صرف برگر بنا کر بیچتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گھر کے نزدیک ہے۔ وہاں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ انتظار تقریباً تیس منٹ تک کا ہے۔ لوگ بڑے آرام سے انتظار کرتے ہیں۔یہ کامیابی بالکل سامنے کی بات ہے۔

دراصل رابرٹ نے ایک چیز ثابت کی ہے کہ ناامیدی ‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ، ٹینکر کو آگ لگ گئی، پروازیں عارضی طور پر معطل

Published

on



دبئی:

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ایئرپورٹ پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد ایئرپورٹ کے اطراف میں ایک ٹینکر کو آگ لگ گئی جس پر فوری طور پر ایمرجنسی اداروں نے قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کا عمل جاری ہے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق واقعے میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت ایئرپورٹ پر آنے والی پروازوں کی لینڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

دبئی آنے والی پروازوں کو اس وقت ایئرپورٹ سے دور فضا میں ہولڈنگ پیٹرن میں رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب سعودی اسٹیٹ ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک گھنٹے کے دوران 34 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جلد فضائی آپریشن بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

گریٹر اسرائیل کا دیباچہ – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکی سرپرستی میں اسرائیل کی ایران پر دن رات بارود کی بارش اور سفاکانہ حملوں، ایران کی مشرق وسطی کے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ساری گتھیاں سلجھ جائیں گی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر ایران سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا جس کی سزا دینے کے لیے دنیا کے ٹھیکیدار ان پر رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں آگ برسا رہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکا کی نظر میں ایران کے جرائم تو بہت ہیں مگر دنیا کو بتایا گیا کہ ایران کو مہلک ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے یہ حملہ کیا گیا۔ اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اور ایٹم بم بنانا جرم ہے تو امریکا اور اسرائیل سمیت کئی ممالک یہ جرم بہت پہلے کرچکے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار امن کے خود ساختہ ٹھیکیدار ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر انسانیت دشمن ریاست اور مجرم اعظم ثابت ہوچکا ہے۔ ایران ایٹم بم بنا بھی رہا ہے تو کس قانون کی بنیاد پر وہ ایران پر چڑھائی کر سکتے ہیں؟

حملہ آور تسلیم کر چکے ہیں کہ ابھی تک ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کی اور ایران ایٹم بم نہ بنانے کا وعدہ بھی کر رہا ہے مگر ایٹم بم رکھنے اور گرانے والے ایران پر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کے جرم کی پاداش میں حملہ آور ہیں۔ تمام مذاہب، معاشرتی اقدار اور اخلاقیات ہر کسی کو اپنی حفاظت و دفاع کا حق دیتے ہیں۔ ہر وہ ہتھیار جو جان و مال کے تحفظ اور دشمنوں کے شر سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ضروری ہو وہ بنانا اور خریدنا بنیادی حقوق میں آتا ہے تو ایران کی یہ کوشش قابل سزا جرم کیسے بن گئی؟ ہماری نظر میں ایران کے جرائم میں سرفہرست مسلمان ریاست ہونا، فلسطین و غزہ کے مظلومین کی حمایت اور اسرائیل کے سامنے نہ جھکنے سے انکار ہے۔

مشاہدے، منطق اور سائنسی نقطہ نظر سے چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ جیسے دن، رات اور رات دن سے، روشنی تاریکی اور تاریکی روشنی سے، ٹھنڈا گرم اور گرم ٹھنڈے سے۔ اسی طرح ظالم مظلوم اور مظلوم ظالم سے پہچانا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس پر اجماع امت ہے کہ اسرائیل اور امریکا اسلام اور مسلمان دشمن ہونے کے علاوہ امن عالم کے لیے خطرناک اور ہر فساد کی جڑ ہے اور ان دونوں سے لمحہ موجود میں نبرد آزما صرف ایران ہے جو ایران کا حق پر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر کوئی منصف مزاج انسان حق و باطل کی لڑائی میں غیرجانبدار کیسے رہ سکتا؟

غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ معرکہ حق و باطل میں حق کا ساتھ دینا واجب ہے، اس لیے ایران اسرائیل جنگ میں ہمیں مظلوم ایران کے ساتھ اور ظالم امریکا و اسرائیل کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر عقیدے کی عینک اتار کر ہم اس جنگ کو ایک پاکستانی کی نظر سے دیکھیں تو ہر ذی شعور انسان کو ایران مظلوم اور حق پر جب کہ اسرائیل اور امریکا ظالم، غاصب، جابر اور باطل نظر آئے گا، پھر ہم اس معرکہ حق و باطل میں غیر جانبدار رہ کر باطل، ظالم و جابر اسرائیل اور امریکا کی خاموش حمایت کیوں کریں۔

ایسا اکثر غیر جانبداری کے پیچھے چھپ کر کیا جاتا ہے مگر یاد رکھیں کہ معرکہ حق و باطل میں غیر جانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ بحیثیت پاکستانی اس جنگ کو دیکھیں تو رب کعبہ کی قسم کہ یہ ہماری بقا اور پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے ہمیں آج نہیں تو کل اسے لڑنا پڑے گا۔ خدانخواستہ ایران ہار گیا تو پاکستان کا وہ ازلی دشمن اسرائیل ہمارے سر پر بیٹھ جائے گا جو ماضی میں ہندوستان کے ساتھ مل کر ہماری ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کے لیے حملے کی کوشش کرچکا ہے مگر اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے دونوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ مئی 2025ء میں اسرائیل کی بھرپور معاونت کے باوجود پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست فاش جس نے نریندر مودی کو سرنڈر موذی بنا دیا اور دنیا کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہا دراصل و درحقیقت اسرائیل کی شکست ہے۔

عالمی امن ایوارڈ نہیں “جنگی جرائم کے عالمی ایوارڈ” کا حقیقی حقدار ٹرمپ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں مئی کے معرکہ حق میں ہندوستان کے گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد کو 6 مانے یا 12 اس سے فرق نہیں پڑتا اور نہ ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ ساتھی، اتحادی ہندوستان اور اسرائیل کا ہے ہمارا نہیں۔ ہمارے عقیدے اور رسول اللہﷺ کی احادیث کی روشنی میں صہیونی ہمارے ازلی و ابدی دشمن تو ہیں ہی مگرپاکستان تو ریاستی، مملکتی اور بابائے قوم محمد علی جناح کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتا تو ایران سے بدظن بعض پاکستانی احباب ذرا راہنمائی فرمائیں کہ اس جنگ میں بحیثیت پاکستانی، ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کا ساتھ دینا چاہیے یا خاموش رہ کر امریکا اور اسرائیل کا؟

 ایران سے بدظن احباب سے اتنا کہوں گا۔ اس جنگ میں ایران کی مخالفت نہیں غیر جانبدار رہنا اسرائیل اور امریکا کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگا جو یقیناً کوئی مسلمان یہ نہیں چاہے گا۔ تو خدا کے لیے ایران پر حملہ غزہ کے پھول اور کلیوں جیسے بچوں کے قاتل صہیونی درندوں کی گریٹر اسرائیل اور لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکا کی جنونی جنگ کو عقیدے کی جنگ نہ بنائیں یہ مسلمان ممالک کو نیست و نابود کرنے کا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے کئی مراحل میں ناعاقبت اندیش مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے یہود و ہنود کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔

 ایران پر امریکی اسرائیلی یلغار گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا دیباچہ اور سرنامہ ہے جس میں پہلے ایران، عراق اور ترکیہ سے گریٹر کردستان، پھر پاکستان اور ایران سے گریٹر بلوچستان اور پھر پاکستان اور افغانستان سے گریٹر پختونستان برآمد ہوگا تو اس کے بعد گریٹر اسرائیل بنے گا۔ اس جنگ کو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ نہ سمجھیں یہ پاکستان سمیت بلکہ پوری امت مسلمہ کی بقا کی جنگ ہے مگر سادہ لوح مسلمان شیعہ سنی کے چکر میں اسے عقیدے کی جنگ سمجھ کر اس سے لاتعلق ہو رہے ہیں اور امریکا اسے مذہبی ٹچ کے ساتھ اور اسرائیل اسے گریٹر اسرائیل کا دیباچہ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔

ٹرمپ کے کندھوں پر مخصوص کلٹ کے پادریوں اور مذہبی لیڈروں کا دست شفقت رکھنا اور جنگ میں کامیابی کے لیے اجتماعی دعاؤں نے صورتحال واضح کر دی کہ یہ درحقیقت مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ یہ جنگ آج نہیں تو کل صرف ایران نہیں پورے عالم اسلام کے خلاف لڑی جائے گی، جس کے لیے کئی دہائیوں سے یہود و ہنود تیاری کر رہے ہیں۔

ایران عراق جنگ، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی فوجی اڈے، ایران عراق جنگ، افغانستان، عراق پر امریکی یلغار، پاک افغان کشیدگی اور اب ایران پر اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ یلغار، مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کو ایران کے ساتھ دست وگریبان اور ایک دوسرے پر حملہ آور کروانا اس منصوبے کی کڑیاں ہیں۔ اس لیے پاکستان، افعانستان سمیت تمام اسلامی ممالک باہمی اختلافات ختم اور ہوش کے ناخن لے کر اس جنگ کو عقیدے کی جنگ بنانے کی بجائے عقل و شعور اور فراست کے ساتھ امت کی وحدت کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالم کفر کے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات کریں ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، گاڑی چھین کر فرار ہونے والے ملزمان کو پولیس نے پکڑ لیا، شہریوں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں صدر کے علاقے میں ملزمان ایک خاتون کی گاڑی چھین کر فرار ہو گئے تھے تاہم بعد ازاں شہریوں اور پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔

ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ دکان سے سامان خرید رہی تھی کہ اس دوران ملزمان گاڑی چھین کر فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق گاڑی کی پچھلی نشست پر خاتون کے تین چھوٹے بچے بھی موجود تھے جن پر ملزمان کی نظر نہیں پڑی۔

ملزمان گاڑی لے کر نمائش چورنگی کے قریب پہنچے تو بچوں کو گاڑی سے اتارنے لگے۔

اسی دوران وہاں موجود ایک سپاہی نے ملزمان کو مشکوک سمجھ کر قابو کرنے کی کوشش کی جس پر اردگرد موجود شہری بھی مشتعل ہو گئے اور دونوں ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاع ملنے پر پولیس کی مزید نفری موقع پر پہنچ گئی اور زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending