Connect with us

Today News

نام نہاد افغان ترجمان کا جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Published

on



وزارت اطلاعات و نشریات نے نام نہاد افغان ترجمان کا جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق نام نہاد افغان ترجمان حمد اللہ فطرت ایک بار پھر جھوٹ اور گمراہ کن بیان کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں صرف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

درست فضائی حملوں، چوکیوں کی تباہی اور قبضے، سازوسامان، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے کارندوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد و شمار باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں جبکہ حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی جاتی ہیں برخلاف اس کے کہ ایک عادی پروپیگنڈا کرنے والی رجیم کی جانب سے من گھڑت معلومات پیش کی جائیں۔

اس کے برعکس پوری دنیا بھارتی سرپرستی میں قائم افغان طالبان رجیم اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیز کی جانب سے کیے گئے حملوں کی گواہ ہے جیسا کہ حالیہ بزدلانہ حملہ ڈومیل، بنوں میں ہوا جہاں خواتین اور بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوئے۔

افغان شہریوں کو پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مسلسل استعمال کیے جانے کے شواہد بھی منظر عام پر آ چکے ہیں اور عوامی سطح پر دستیاب ہیں جن میں 5 اپریل کو بلوچستان کے وزیر داخلہ کی کانفرنس میں پیش کی گئی معلومات بھی شامل ہیں۔

ایک اور ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد قیادت پناہ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگربین الاقوامی رپورٹس افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں درجنوں دہشت گرد پراکسیز کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔

حمد اللہ فطرت اور افغان طالبان رجیم کے دیگر ترجمان باقاعدگی سے جعلی، پرانی اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا ویڈیوز اور دعوے پوسٹ کرتے رہتے ہیں جنہیں صرف ان کے بھارتی آقاؤں اور ان کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ریسکیو مشن مہنگا پڑ گیا، امریکا کے 20 کروڑ ڈالر کے طیارے تباہ، تفصیلات سامنے آگئیں

Published

on


ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔

امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر (یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔

ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ آج ہوگا

Published

on


اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت متوقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط آج سپریم کورٹ میں ہوں گے۔

تقریب میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کی قیادت میں ترک وفد شرکت کرے گا، جو 6 سے 9 اپریل تک پاکستان کے دورے پر ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس میں عدالتی تربیت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے گا۔

اس موقع پر ضلعی عدلیہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون کو بھی اہم محور بنایا جائے گا، جبکہ عدالتی اصلاحات کے شعبے میں باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق متوقع ہے۔

تقریب میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور عدالتی خودمختاری و قانون کی حکمرانی کے فروغ پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں ہونے والی اس تقریب کو براہ راست نشر کیا جائے گا، جس میں معزز جج صاحبان اور اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، ترک وفد اپنے دورہ پاکستان کے دوران ٹیکسلا اور لاہور کے تاریخی مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان 45 روزہ سیز فائر پر بڑی پیشرفت

Published

on


امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending