Connect with us

Today News

نفرت ایک گمان – ایکسپریس اردو

Published

on


نفرت ایک چھوٹا سا لفظ ہے جسے اس دنیا کے زیادہ تر انسان اپنے وجود میں پالنے کے دعویدار ہیں۔ ہر ایک انسان کو لگتا ہے کہ وہ اپنے اطراف میں موجود بیشمار افراد میں سے کئیوں سے شدید نفرت کرتا ہے جنھوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اُس کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے۔

فقط چار حروف پر مشتمل لفظِ نفرت اپنے اندر خطرناک اثرات سموئے ہوئے ہے بشرطیکہ وہ اصل میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ انسان کی ذات میں سرایت کر چکا ہو۔

دراصل جس احساس کو اکثر انسان نفرت سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اُن کا گمان ہوتا ہے۔ نفرت کوئی معمولی جذبہ انسانی نہیں ہے جو بات بے بات ہر دوسرے شخص کو کسی نہ کسی فرد سے ہو جائے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ نفرت کرنا عام انسان کے بس کا کام نہیں ہے، دوسرا اس کو کرنے کے جواز کی شدت جہنم کی آگ کی تپش سے برائے نام ہی کم ہونا لازم و ملزوم ہے۔

ہستیِ انسانی اپنے اندرون دہکنے والے جس لاوے کو نفرت کا نام دے رہی ہوتی ہے وہ اصل میں شدید غصے کا احساس ہوتا ہے جو اُس کو ایذا پہنچانے والے لوگوں پر آنا جائز امر ہے۔

عموماً افراد کا غصہ آتش فشاں پہاڑ کی مانند ہوتا ہے، اچانک پھٹا، اپنے اندر کا لاوا باہر نکالا پھر آخر میں شانت، اس کے برعکس نفرت کرنے والا فرد اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دے بھی تو وہ ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔

نفرت کرنا بڑا دل گردے کا کام ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے انسان سے اُس کی ذات کی نفی کا مطالبہ کرتی ہے، نفرت کا الاؤ انسان میں سے انسانیت کو مکمل طور پر اُکھاڑ پھینکتا ہے پھر اُس کے اندر ہمدردی، رحم، معاف کرنے کا حوصلہ اور دل میں وسعت پیدا کرنے کا جذبہ کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔

ایک بار جو انسان نفرت کے جہاں میں داخل ہو جاتا ہے پھر وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ اُس کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے اور اُس کا وجود اس کی دلدلی سطح میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

انسان کو چکنی مٹی سے خلق کیا گیا ہے، سادہ مٹی اور چکنی مٹی کے درمیان نمی کا فرق ہے اور نمی میں آب یعنی پانی کا عنصر پایا جاتا ہے اور پانی کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ 

اس پیرائے میں دیکھا جائے تو انسانی ذات میں نفرت کی جگہ بنتی نہیں ہے، جب  کہ شیطان کو چونکہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ انسان کو خود سے کمتر و حقیر سمجھ کر اُس سے روزِ اوّل سے نفرت پالے ہوئے ہے تو آگ کا یہ کھیل شیطان کی شیطانیت کے ہی عین مطابق ہے۔

13ویں صدی کے عظیم فارسی صوفی، شاعر، عالم اور فلسفی مولانا جلال الدین بلخی (جنھیں عموماً دنیا رُومی کے نام سے جانتی ہے) کے نزدیک انسان کا قلب وہ مقدس مقام ہے جہاں پروردگارِ عالم کا نور جلوہ گر ہوتا ہے۔

مولانا رُومی کہتے تھے، ’’ مقدس اور پاک مقام (خدا) کو اپنے اندر تلاش کرو، کیونکہ وہ تمھارے دل میں ہے‘‘ اُن کے نزدیک دل عقل کی حدود سے آزاد ہے۔

مولانا رُومی کی تعلیمات چونکہ عشقِ حقیقی، محبت اور انسانیت پر مشتمل ہے اور جیسے کہ حقیقی معرفت ’’ عقل‘‘ کی بجائے ’’ عشق‘‘ سے حاصل ہوتی ہے اور عشق کا تعلق انسانی قلب سے ہے لہٰذا اُن کے مطابق، دل کو برائیوں سے پاک کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خالقِ انسانی کی تجلیات کا آئینہ بن سکے کیونکہ دل سیاہ ہو تو ظاہری علم یا اعمال بیکار ہیں۔

فرمانِ رُومی ہے، ’’جس دل میں مخلوقِ خدا کے لیے محبت ہے، وہی دل عظمت کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے اور انسانیت سے محبت، ذاتِ خداوند تک پہنچنے کا خوبصورت راستہ ہے۔‘‘

بقولِ رُومی انسان کے دل میں خدا بستا ہے، اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں خدا بسے وہاں منفی کیفیت ’’ نفرت‘‘ جسے رُومی انسان کے لیے زہر سمجھتے تھے وہ کیسے موجود رہ سکتی ہے؟

خالق نے انسان کو بہت چاہ سے تخلیق کیا ہے، انسان سے سب سے زیادہ محبت وہی ذاتِ عظیم کرتی ہے، جب خلق کی بنیاد محبت ہے پھر اُس کے وجود میں نفرت کے موجود رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

اگر انسان کو واقعی کسی دوسرے انسان سے نفرت ہو تو وہ اُس کی تکلیف پر تڑپ اُٹھے گا نہ اُس پر کڑا وقت آنے پر اپنی ساری منفی کیفیات کو بالائے طاق رکھ کر مدد کے لیے دوڑ پڑے گا۔

انسان ایک انتہائی جذباتی مخلوق ہے جو غصہ انتہا کے درجے پر کرتی ہے کہ خود ہی اُس کیفیت کو نفرت کا چوغہ پہنا بیٹھتی ہے لیکن جب محبت، رحم اور ترس کرنے پر آئے تو ماضی کی ہر تلخ بات اور یاد کو ایسے بھولا دیتی ہے جیسے کہ وہ کبھی رونما ہوئی ہی نہ ہو۔

انسان سچے، پرُ خلوص اور محبت کی چاشنی سے گوندھے رشتوں کے درمیان اپنی زندگی کا لطف اُٹھانا بے حد پسند کرتا ہے، اُس کے اطراف میں موجود افراد میں سے جب کوئی اُس کی زندگی کے پُر کیف رنگوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو وہ شدید غصے کے احساس میں ایسا کرنے والے کو اپنی زندگی سے بیدخل کر دیتا ہے۔

مگر نفرت نہیں کر پاتا کیونکہ نفرت کرنا انسان کی گھٹی میں نہیں ہے بس کیونکہ انسان فطرتاً نادان ہے اس لیے وہ اپنے اندر جنم لینے والے ہر منفی احساس کی انتہا کو نفرت کا نام دے کر شیطان بننے کی بھدی اداکاری کر رہا ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بیرونی قرضوں، واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی84 فیصد تک بڑھ گئی، حجم1.91ارب ڈالر سے بڑھکر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر8 فیصد تک شرح سے سود ادا کر رہا ہے،ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کے قرضے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.32ارب  ڈالر ادا کئے گئے، خالص بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال1.71ارب ڈالر اضافہ ہوا، 11.44ارب  ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی، 3 ارب ڈالرکمرشل قرضہ جس میں 32.70 کروڑ ڈالرسود شامل ہے ادا کیا۔

آئی ایم ایف کو 58کروڑ سود سمیت 2.10 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 18.8کروڑ ڈالرسود سمیت 1.56ارب ڈالر، اے ڈی بی کو61.5 کروڑ سود سمیت 1.54ارب ڈالر،عالمی بینک کو 41.9کروڑ سود سمیت 1.25ارب ڈالر، سعودیہ کو3.3 کروڑ سود سمیت 81 کروڑ ڈالر ادا کئے،  سعودی سیف ڈیپازٹس پر 20.3کروڑ ڈالرسود ادا کیا۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال یورو بانڈ کے 50 کروڑ ڈالر،چین کو سیف ڈیپازٹس پر23.9 کروڑ سود سمیت 40 کروڑ ڈالر، جرمنی کو 10.7 کروڑ، فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کئے گئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا 27.70 کروڑڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کروڑوں ڈالرز قرض کو دھچکا، میڈیکل کمپلیکس کی زمین متنازع نکلی

Published

on



اسلام آباد:

حکومت پاکستان کا چینی مارکیٹ میں پہلی بار پانڈا بانڈ کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنیکا منصوبہ انتظامی اورقانونی رکاوٹوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 2 منصوبوں کیلیے غلط مقامات کے انتخاب نے معاملے کو پیچیدہ بنادیا،جن میں 76کروڑڈالر مالیت کاجناح میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہے۔

پاکستان کمزورکریڈٹ ریٹنگ کے باعث براہِ راست چینی قرض مارکیٹ میں داخل نہیں ہوسکتا،حکومت نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اورایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی کریڈٹ گارنٹی حاصل کی ہے،تاہم ان اداروں نے شرط عائدکی ہے کہ قرض صرف ماحول دوست اورگرین منصوبوں پر خرچ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق آزادکشمیر میں ٹیلی میٹری منصوبے کے ایک مقام پر اعتراضات سامنے آئے،جسے بعد ازاں بھارت کے اعتراض پر فہرست سے نکال دیاگیا۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسی کے تحت متنازع علاقوں میں فنڈنگ نہیں کی جاسکتی۔ادھر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے اسلام آبادکے سیکٹر ایچ16 میں مختص زمین پر نجی ملکیت کے دعوے سامنے آئے،جس پر ضامن اداروں نے تحفظات ظاہرکیے۔

وزیراعظم نے جولائی 2024 میں منصوبے کاسنگِ بنیادرکھاتھا، تاہم بعد ازاں زمین کے واجبات کے دعوے سامنے آنے پر حکومت کومقام تبدیل کرناپڑا،منصوبہ اب سیکٹر ایچ11منتقل کر دیاگیا۔

ذرائع کاکہناہے کہ مجموعی 25 کروڑڈالرمیں سے تقریباً 15کروڑ 20 لاکھ ڈالر دومنصوبوں پر خرچ کیے جانے تھے،جن میں 76.5ملین ڈالر انڈس بیسن کے 26 مقامات پرریئل ٹائم ڈسچارج مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کیلیے مختص تھے،جبکہ 76 ملین ڈالر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے رکھے گئے تھے۔

ذرائع نے بتایاکہ وزارتِ خزانہ کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں،ایکسٹرنل فنانس ونگ نے قرض کے معاہدوں،انڈررائٹرز اور چینی قانونی مشیروں کی تقرری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہاکہ بیوروکریسی کومکمل طور پر اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ اب متبادل مالی ذرائع کی تلاش میں ہے اورغیر ملکی بینکوں سے اضافی قرض پر بات چیت جاری ہے،جن میں 60 کروڑڈالرکاقرض بھی شامل ہے،جو برطانوی بینک سے حاصل کیاجارہاہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سعودی عرب میں یوم تاسیس کا رنگا رنگ آغاز، 300 سالہ تاریخ کے جشن میں شہر جگمگا اٹھے

Published

on



ریاض:

سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جہاں دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجا دیا گیا اور فضاء جشن کے نعروں سے گونج اٹھی۔

سعودی شہری پہلی سعودی ریاست کے قیام کے 300 سال مکمل ہونے پر تاریخی دن کو بھرپور جوش و خروش سے منا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور عوامی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس دن کو باقاعدہ قومی سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2022 میں دی تھی۔

تاریخی طور پر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے 1744 میں رکھی جس کی یاد میں ہر سال یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے آج سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں خصوصی شوز، ثقافتی مظاہرے اور موسیقی کی محافل جاری ہیں جہاں سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو کر قومی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending