Today News
نیشنل سیکیورٹی پر ہم نے اصولی موقف اپنایا کہ پارلیمنٹ میں بریفنگ دی جائے، بیرسٹر گوہر
اسلام آباد:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی پر ہم نے اصولی موقف اپنایا ہے کہ پارلیمنٹ میں بریفنگ دی جائے، ہم چاہ رہے تھے کہ افغانستان اور ایران امریکا کشیدگی پر بریفنگ لیں لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے جوائنٹ سیشن میں کب تک ہم ان کے ساتھ بیٹھتے رہیں گے؟ جب یہ ہمیں اہمیت ہی نہیں دیتے، ہماری پارلیمان میں موجودگی کو یہ تسلیم نہیں کرتے تو ہم کیوں آئیں؟
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی، ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی، ذاتی معالجین سے معائنہ تک نہیں کروایا جارہا، آپ کا رویہ انتہائی سخت ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ فوٹو سیشن کے لیے آپ کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں؟ ایسا نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے کل میری نشست پر آکر وزیراعظم کی بریفنگ میں شرکت کا پیغام دیا تھا میں ان کا مشکور ہوں ان کی رائے قابل احترام ہے، ہم نے یہ معاملہ اپنی سیاسی کمیٹی میں رکھا ہمارے کچھ تحفظات تھے اور ہیں، ہم نے قومی سلامتی کے مسئلے پر ہمیشہ ملک کا ساتھ دیا، پاک بھارت جنگ ہو، پاک افغانستان کشیدگی ہو یا ایران امریکہ تنازع ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہوئے ہمارے بیانات آن ریکارڈ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری ہے یہ ملک ہمارا ہے، فوج قربانیاں دے رہی ہے ہم اس کو سلام پیش کرتے ہیں، افغانستان سے جو دہشت گردی ہورہی ہے ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، دہشت گردوں کو پیچھا کرکہ ان کا منتقی انجام تک پہنچانا چاہیے، افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے مذاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیے، پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین نہیں استعمال ہونی چاہیے۔
انہوں ںے کہا کہ ہم ان کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود یہ انسانی بنیادوں پر بھی ہمیں ہمارے لیڈر سے نہیں ملنے دے رہے، ہم آج اپنے لیڈر کی وجہ سے اس اسمبلی میں ہیں، اپنے کو توڑ کر آپ دنیا میں بلاک نہیں بنا سکتے اپنوں کو توڑ کر آپ لوگوں کو نہیں جوڑ سکتے، ہمارا جائز مطالبہ تھا کہ پارلیمان کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر بریفنگ دی جاتی دونوں ایوانوں کو نمائندوں کو مدعو کیا جاتا اس سے اس ہاؤس کی توقیر میں اضافہ ہوتا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت ہیں ہم سوشل میڈیا کے دباؤ پر فیصلے نہیں کرتے، قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے، لیکن ہم صرف آپ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے آپ کے ساتھ فوٹو سیشن کے لیے نہیں بیٹھ سکتے، 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ ہم نے لیے ہیں 300 سے زائد ہمارے پارلیمنٹرینز ہیں، ہمیں اگر آپ آئیسولیٹ کریں گے تو آپ خود ہی فوٹو سیشن کرلو ہم الگ ہی رہیں گے۔
Today News
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی چشمہ یونٹ 5 کے حفاظتی معاہدے کی منظوری
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے چشمہ یونٹ 5 کے حفاظتی معاہدے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ چشمہ یونٹ 5 کے لیے آئی اے ای اے کی جانب سے حفاظتی معاہدے کی منظوری پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے اہم سنگ میل ہے، یہ منظوری پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے بڑی پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے پرامن جوہری پروگرام اور عدم پھیلاؤ کے معیارات سے وابستگی پر عالمی برادری کے اعتماد کا اظہارہے اور چشمہ یونٹ 5سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر 2030 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ منصوبے کے مکمل ہونے پر قومی گرڈ کو کاربن سے پاک بجلی کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، پاکستان اس وقت کل 3,530 میگاواٹ صلاحیت کے 6 جوہری پاور پلانٹس چلا رہا ہے۔
اسی طرح گزشتہ سال جوہری توانائی نے قومی بجلی پیداوار میں 18.3 فیصد اور مجموعی کاربن سے پاک بجلی میں 34 فیصد حصہ ڈالا۔
Source link
Today News
ٹرمپ کے قتل کی سازش کرنے والے ایران کی اہم شخصیت کو قتل کردیا؛ امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث ایران کی ایک اہم شخصیت کو ہلاک کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بڑا انکشاف کیا۔
انھوں نے بتایا کہ امریکی کارروائی میں ایران کے اُس یونٹ کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا جن پر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام تھا۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بقول امریکا اپنی سیاسی قیادت کو لاحق خطرات کے خلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔
تاہم انھوں نے اُس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اس فوجی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات ظاہر کی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی حکام پہلے بھی ایران پر سابق اور موجودہ امریکی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
سنہ 2024 میں امریکا میں ایک افغان شہری اور ایک ایرانی نژاد شخص کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق 51 سالہ فرہاد شکیری پر الزام تھا کہ اسے پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک اہلکار نے ٹرمپ کی نگرانی اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سازش ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے قبل ہی بے نقاب کی گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کر کے منصوبے کو ناکام بنایا۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور ماضی میں بھی ایسے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
Today News
کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی
حکومت نے کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے بعد ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر مزید ایک روپے 63 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی مہنگی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق بجلی جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی صارفین سے مارچ کے بلوں میں اضافی وصولی ہوگی اور اس اضافے کا اطلاق کے-الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا۔
لائف لائن صارفین الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اطلاق نہیں ہو گا، نیپرا نے جنوری کی فیول پرائس پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
خیال رہے کہ نیپرا نے گزشتہ روز سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی مہنگی کی تھی، سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے یونٹ مہنگی کی گئی تھی۔
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur