Connect with us

Today News

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے پرانے ڈھانچے کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی طے

Published

on


پاور سیکٹر کی ضروریات کے پیش نظر نیشنل گرڈ کمپنی میں نئی تنظیمی تبدیلیوں کا عمل جاری ہے۔ کمپنی کی پاور سیکٹر میں بڑی اصلاحات پر مبنی نیا ماڈل یکم جولائی سے نافذ ہوگا۔

وزارت توانائی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اصلاحاتی عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق نئے ماڈل میں پاور سیکٹر میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی بڑھانے کے لیے اہم اقدامات شامل ہیں، اور نیشنل گرڈ کمپنی کا نیا آپریٹنگ ماڈل گرڈ کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ہوگا۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے پرانے ڈھانچے کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی ہے۔

تنظیمی اصلاحات کے تحت این جی سی میں 6 اہم ستون متعارف کروائے گئے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے ریئل ٹائم ڈیٹا اور اسمارٹ گرڈ مینجمنٹ ممکن ہوگی۔

ترجمان نے بتایا کہ مالی نظم و نسق مضبوط بنانے اور شفافیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، سیفٹی کو اولین ترجیح دینے کے لیے آزاد نگرانی کے نظام کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ داخلی نظام کو سادہ بنا کر تاخیر اور بیوروکریسی میں کمی لانا بھی اصلاحات کا حصہ ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق نئی ٹیکنالوجی سسٹمز تکمیل کے قریب ہیں اور کارکردگی کے معیار بھی طے کیے جا چکے ہیں۔ مکمل ڈیجیٹل اور آپریشنل نظام دسمبر 2026 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ ترجمان کے مطابق نیشنل گرڈ کمپنی ملک بھر میں بجلی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

درآمدی سرگرمیوں کی معطلی، روئی کی قیمت میں فی من 1500 روپے کا ریکارڈ اضافہ

Published

on



کراچی:

خلیج میں جاری جنگ کے باعث درآمدی سرگرمیوں کی معطلی سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت ایک ہزار 500 روپے کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح 19 ہزار 500روپے جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت ایک ہزار روپے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 300روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہیں اور رواں ہفتے بھی روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔

کاٹن سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ مقامی روئی بڑھتی ہوئی طلب کھ پیش نظر کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران کپاس کی کاشت میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے، بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے، ملک بھر کے کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں غیر متوقع کمی اور ہلکی پھلکی بارشوں کے باعث کپاس کی کاشت معطل ہونے سے پاکستان میں گذشتہ دو ہفتوں سے روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے فی من روئی کی قیمت میں ایک ہزار 500روپے اور گزشتہ دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 3ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ رواں سال کی نئی بلند ترین سطح 19ہزار 500روپے جبکہ ایک ماہ کی مؤخر ادائیگی پر 20ہزار روپے فی من کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

رواں ہفتے بھی روئی اور ہھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روئی کی عالمی قیمتیں بھی مئی وعدہ روئی کے سودے ریکارڈ 3.20فیصد اضافے کے ساتھ 69.46سینٹ فی پاؤنڈ کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

پھٹی کی قیمتوں میں بھی تیزی کے رحجان اور کاٹن ایئر2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی کاشت میں بھی خاطر خواہ اضافہ بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں جس سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی واقع ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں دیگر بڑے زرعی ممالک کے مقابلے میں کسانوں کی جانب سے فصلوں کے تصدیق شدہ بیج استعمال کرنے کی شرح پہلے ہی کافی کم ہے تاہم پچھلے سالوں سے یہ شرح بہتر ہو رہی تھی، لیکن اب اتھارٹیز کی جانب نافذ کئے گئے نئے قوانین جن کے تحت کپاس، گندم اور چاول سمیت تمام بڑی فصلوں کے تصدیق شدہ بیجوں کے رائٹس فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ان بیجوں کی مختلف ورائٹیز کے رائٹس خریدنے والی سیڈ کمپنی ہی یہ بیج فروخت کر سکے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کو توانائی شعبے میں تحفظ حاصل

Published

on



اسلام آباد:

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی  کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی  کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔

اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔

مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔

تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی  کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور توانائی بچت اقدامات کے ذریعے نہ صرف درآمدی بل کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ارضی پلیٹیں ٹکرانے سے آبنائے جبل الطارق ماضی بن جائے گی

Published

on



لاہور:

افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے علاوہ بحیرہ روم اور بحراوقیانوس کو باہم ملاتی 36 میل چوڑی آبنائے جبل الطارق تاریخی و اہم بحری گذرگاہ ہے اسی کو عبور کرکے نامور مسلم جرنیل، طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا تھا۔

اب لزبن یونیورسٹی پرتگال اورجوہانس گٹن برگ یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین ارضیات نے مشترکہ تحقیق سے دریافت کیا ہے اس آبنائے کی تہہ میں افریقی اور یورشیائی ارضی پلیٹیں ٹکرا رہی ہیں۔

اسی تصادم کے باعث مستقبل میں دونوں پلیٹیں آپس میں مل جائیں گی یہ عمل جنم لیتے ہی آبنائے جبل الطارق ماضی کا حصہ بن جائیگی۔





Source link

Continue Reading

Trending