Connect with us

Today News

نی ایندرتال ، ایک نظریہ

Published

on


1856میں Fossilsپر کام کرنے والے ماہرین کی ایک ٹیم جرمنی کی ایک وادی نی ایندر میں کام کر رہی تھی کہ اسے ایسی باقیات ملیں جوانسانی باقیات سے ملتی جلتی تو تھیں لیکن انسانی نہیں تھیں۔ماہرین کو سب سے پہلے Skull cap n Femer bone ملی۔ٹیم ممبران یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کون سی انسانی نوع کی باقیات ہیں۔کھدائی کرنے والے ماہرین نے اپنی دریافت کو دنیا کے ماہرین حیاتیات سے شیئر کیا تو سب اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ باقیات موجودہ نوع انسانی سے ہٹ کر ایک دوسری نوع کی ہیں۔چونکہ یہ باقیات جرمنی کی وادی نی ایندر میں دریافت ہوئی تھیں اس لیے اسے نی ایندرتال Neanderthals کہا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ باقیات تقریباً ساڑھے 3لاکھ سال پرانی ہیں اور یہ کہ یہ نوعِ انسانی اب معدوم ہو چکی ہے۔

ہومو سیپینHomo sapien انسان کے زمین پر آباد ہونے سے پہلے ہومو ارک ٹسHomo Erectus کا دور آیا۔اس سے پہلے زمین پر زندگی تھی۔بے شمار قسم کے جانور اور چرند پرند تھے۔زمین ان کی مختلف آوازوں سے نغمہ زن تھی جب سیدھا کھڑا ہو کر چلنے والی پہلی مخلوق ہومو ارک ٹس نمودار ہوئی۔ہومو ارک ٹس کی پہلی نوع شاید نی ایندرتال ہی تھی۔ بہت ابتدا میں یہ زمین پر تو چلتے پھرتے اور شکار وغیرہ کرتے تھے لیکن کوئی سٹرکچر کوئی عمارت بنانے کی ابھی نہیں سوجھی تھی اس لیے یہ درختوں پر رہتے تھے۔انسانوں کی ہی ایک اور نوع ہومو فلورنس تھی۔انڈونیشیا کے ایک جزیرے فلورنس سے انسانی باقیات کے جو ڈھانچے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانی نوع کی ایک تیسری قسم تھی۔بہت قدیم زمانے میں آباد یہ نوعِ انسانی بہت چھوٹے قد کی تھی۔ان کا عمومی قد تین سوا تین فٹ تھا،ان کی کھوپڑیاں بھی چھوٹی تھیں۔یہ نوع بھی اب مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے۔یورپی ماہرینِ حیاتیات نے بغیر کسی ثبوت کے ایک نظریہ گھڑ لیا ہے کہ انسان بندر یا ایپسApesسےEvoluteہوکر موجودہ انسانی شکل و صورت میں آیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ ارتقا Evolutionافریقہ میں ہوا ہو حالانکہ اگر اس قسم کا کوئی ارتقا ہوا ہے تو وہ کیوں اور کب بند یا ختم ہو گیا۔پچھلے 8سے10ہزار سال کی انسانی تاریخ تو معلوم ہے۔ اس لمبے عرصے میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ صفحہء شہود پر نہیں ملتا جس میں کسی نے کسی بندر یا ایپ کو انسان میں ڈھلتے دیکھا ہو۔ افریقہ سے انسان نے ترقی کر کے ایشیا اور یورپ میں قدم رکھا۔ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ مشال کا مذاق اُڑاتے ہوئے انھیں بن مانس کی شکل میں پیش کیا۔امریکی اور یورپی مائنڈ سیٹ ہے کہ کالی یا بھدی چیز نے افریقہ میں جنم لیا تھا۔نی ایندرتال کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ میں نمودار ہوئے لیکن پھر وہاں سے نکل کر دوسرے برِ اعظموں میں پھیل گئے۔

ماہرینِ حیاتیات کا اندازہ ہے کہ کوئی چار لاکھ سال پہلے نی ایندرتال نمودار ہوئے۔سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ زمین پانچ مرتبہ برفانی دور یا Ice Ageسے گزری ہے۔پہلی مرتبہ ہماری زمین 2.6بلین سال پہلے برف سے ڈھک گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ سب سے سخت برفانی دور 720سے635لاکھ سال پہلے تھا۔نی ایندرتال سخت ترین کپکپاتی سردی جھیلنے والی نوعِ انسانی تھی۔وہ سخت ترین آب و ہوا کو بخوبی جان گئے اور اس میں زندہ رہنا سیکھ گئے تھے،آخری برفانی دور میں پوری زمین پر عمومی درجہء حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔سطحِ سمندر بھی موجودہ سطح سے کوئی 100فٹ نیچے تھی۔جبرالٹر یعنی جبل الطارق کی پہاڑیوں میں ایسی کئی غاریں ہیں جہاں نی ایندرتال بسے ہوئے تھے۔اب سمندر ان غاروں کے دہانوں تک پہنچا ہوا ہے لیکن اس وقت یہ سوفٹ نیچے تھا۔نی ایندرتال یہاں سمندر کی تہہ جو اس وقت خشک زمین تھی وہاں چلتے پھرتے،شکار کرتے اور گزر بسر کرتے تھے۔

نی ایندر تال زمین پر سب سے لمبے عرصے یعنی کوئی چار لاکھ سال آباد رہے۔یہ 42ہزار سال پہلے بالکل معدوم ہو گئے۔یہ اپنے دور میں یورپ،مغربی و وسطی ایشیا اور سائیبیریا میں آباد رہے۔ان کا جسم بہت مضبوط،، طاقتور اور گٹھا ہوا تھا لیکن ان کا قد زیادہ سے زیادہ سوا پانچ فٹ تک تھا۔ان کی ناک چوڑی تھی جو سرد ہوا کو گرم کرنے میں ممدو معاون تھی۔ نی ایندرتال کی کھوپڑی قدرے بڑی جب کہ دماغ کا سائز بھی بڑا تھا۔موجودہ نوعِ انسانی اور نی ایندرتال کے DNAکا موازنہ کیا جائے تو یہ97.5 فی صد ایک جیسا ہے۔ایک اندازے کے مطابق موجودہ یورپی آبادی میں4فیصد اور ایشیائی آبادی میں اڑھائی سے تین فیصد نی ایندرتال DNAہے۔سیدنا امام جعفرؑ اور امام ابنِ تیمیہ نے رائے ظاہر کی ہے کہ موجودہ نوعِ انسانی سے پہلے کم از کم دو نوعِ انسانی مکمل طور پر معدومی کا شکار ہو چکی ہیں۔واﷲ اعلم۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

طورخم بارڈر پر پاک فوج کے بھرپور جواب میں افغان طالبان کے دم دبا کر بھاگنے کی ویڈیو سامنے آ گئی

Published

on



اسلام آباد:

طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے مؤثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج کے بھرپور ردعمل کے باعث افغان طالبان دم دبا کر فرار ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان طورخم بارڈر سے ٹرکوں پر سامان لاد کر علاقے سے نکل گئے، جبکہ پاکستانی فورسز نے سرحدی دفاع کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں اور کسی بھی سرحدی جارحیت کا فوری، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی سرحدی خلاف ورزی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور دشمن کے کسی بھی مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ہمہ وقت الرٹ ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

قندھار کی فضاؤں میں پاکستانی شاہینوں کی پیٹرولنگ، دشمن اپنے بلوں میں چھپ گیا، ویڈیو دیکھیں

Published

on


افغان جارحیت کے خلاف جاری آپریشن ضرب للحق میں پاکستانی جیٹ طیارے فضائی حملے کرنے کے بعد قندھار کی فضامیں گشت کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں کی قندھار میں پیٹرولنگ کے دوران کسی قسم کی قابل تشویش مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی، یوں محسوس ہو رہا ہے کہ دشمن اپنے بلوں میں دبک کر بیٹھ گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کیخلاف مکمل طور پر تیار اور بھر پور جواب دینےکی صلاحیت رکھتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بے چارا سچ گیا پانی میں

Published

on


کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے

سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے

جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

کیا کمال کی شے ہے یہ جھوٹ بھی۔بلکہ یوں کہیے کہ یہ وہ سکہ ہے جو ہر ملک،ہرشہر،ہربازار،ہر مارکیٹ اور ہر دکان میں چلتا ہے بلکہ یہ واحد سکہ ہے جو ہر دور ہر زمانے میں بھی چلتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوا ہے نہ کھوٹا ہوا ہے تاریخ میں بھی چلتا ہے اور جغرافیے میں بھی چلتا ہے، تاریخ اور جغرافیہ کا حدود اربعہ وجہ تسمیہ جنرل نالج، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں بھی رواں دواں ہے۔

دین ومذہب،صنعت وتجارت اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی چلتا ہے، گلی کوچوں اور بالاخانوں، چوباروں میں چلتا ہے، چوروں ڈاکوؤں میں بھی چلتا ہے اور ان کے مخالفوں یعنی کوتوالوں، قاضیوں اور قوانین اور دساتیر میں بھی چلتا ہے صرف ڈالروں میں چلتا نہیں ہے بلکہ دوڑتا ہے اور سیاست میں تو ڈالر سے بھی زیادہ چلتا ہے جب کہ جمہوریت میں یہ صرف پیروں سے ہی نہیں چلتا بلکہ’’پروں‘‘ سے اڑتا ہے گوروں،کالوں زردوں میں سرخوں اور سبزوں میں مطلب جدھر دیکھیے جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا یہ ہی یہ ہے۔یکساں طور پر محوخرام رہتا ہے مطلب یہ کہ

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

اگر آپ ہمیں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں یہ مقبول عام سکہ نہ چلتا ہو تو ہم آپ کو’’کولمبس‘‘قرار دیں گے اور اس کے مقابل اس کا سوتیلہ بھائی سچ۔ آخ تھو ۔خود اس پر بھی اور اس منہ پر بھی۔جس سے یہ نکلے پشتو میں اسے ماں کی گالی کہا گیا ہے اور سچ کہا گیا ہے بلکہ ماں بہن کے علاوہ پوتی دادی بیوی، خالہ پھوپھی ،چچی ممانی کی بھی گالی ہے۔اب اگر آپ کسی کو گالی دیں گے تو کیا ’’سردار‘‘ خوش ہوگا شاباشی دے گا؟نہیں بلکہ لٹھ لے کر آپ کے پیچھے دوڑے گا ۔

اور جھوٹ

زباں پہ بارخدایا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے

اور بوسے کی قابل ہے بھی وہ زبان۔جس سے یہ امرت یہ آب حیات یہ شیروشکر اور یہ امرت دھارا نکلتا ہو اس میں یار جیسی خاصیت بھی ہے

ہر غنچہ کہ گل دگرے غنچہ نہ گردد

قرباں زلب یار گہے غنچہ گہے گل

ویسے تو بہت سارے علما و فضلا دانا دانشوروں اور سالکوں نے اس کی مدح سرائیاں کی ہیں قصیدے لکھے ہیں لیکن ایک صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے

کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے ؟ کیا ہے

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ ضیا ہے،کیا ہے

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے

اگر یہ اپنی صنف بدل لے اور مذکر سے مونث ہوجائے تو اسے حسینہ عالم،مس ورلڈ،مس یونیورس بلکہ مس کاسموس بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ویسے تو ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر اس کا بول بالا ہے لیکن سنا ہے کہ ایک مملکت ناپرساں عالی شان میں اس کی بہت چلن اور آؤ بھگت ہے بلکہ اس مملکت کا اصل حکمران کہیے تو بجا ہوگا کہ یہ وہاں کا آئین بھی ہے قانون بھی یہ ہے سماج بھی ہے رواج بھی اور سرتاج بھی ہے۔

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

اس مملکت میں اس کے ہزار رنگ ہزار روپ ہیں

تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے

سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے

ہم نے ایک دانا دانشور سے پوچھا کہ مملکت ناپرسان عالی شان میں اس کثیر الفوائد کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد اور کثیرالاستعمال نعمت کی اتنی زیادہ پذیرائی کی وجہ کیا ہے تو فرمایا کہ اس کی ایک الگ کہانی ہے۔کہ جب یہ مملکت وجود میں آئی جس میں ہر طرف ہر جگہ ہر مقام پر مواقع ہی مواقع تھے تو یہ مژدہ جاں فزا جھوٹ اور سچ نام کے دو سوتیلے بھائیوں نے بھی سنا جو ایک گاؤں میں رہتے تھے اور آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس نئی مملکت میں جاکر روزگار ڈھونڈا جائے چنانچہ چل پڑے۔چلتے چلتے راستے کے کنارے ایک تالاب دکھائی دیا تو جھوٹ نے سچ سے کہا بھائی کیوں نہ اس تالاب میں ڈوبکیاں لگاکر فریش ہوا جائے، سچ نے کہا ٹھیک ہے پھر دونوں نے ایک درخت کے نیچے کپڑے اتارے اور تالاب میں اتر گئے۔

دونوں نہانے لگے تیرنے لگے۔ڈبکیاں لگانے لگے اور مستیاں کرنے لگے، تھوڑی دیر بعد سچ نے دیکھا کہ جھوٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس نے پورے تالاب پر نظر دوڑائی لیکن جھوٹ دکھائی نہیں دیا، تشویش ہوئی کہ کہیں ڈوب تو نہیں گیا۔کافی انتظار کے بعد جب کنارے کی طرف دیکھا تو جھوٹ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے لیکن سچ کا لباس ندارد تھا پھر کافی دیر بعد اس کی سمجھ میں آگیا کہ جھوٹ اپنا ہاتھ کرگیا ہے وہ سچ کا لباس پہن کر بھاگ گیا ہے۔بیچارا سچ سن ہوکر رہ گیا کہ اگر جھوٹ کا لباس پہن کر جاؤں گا تو لوگ مجھے جھوٹ سمجھیں گے اور ایسے ہی ننگا لنگوٹ نکلوں گا تو لوگ دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں گے۔ دوسری طرف جھوٹ سچ کے لباس میں مملکت ناپرسان کی راج دھانی اکرام آباد پہنچ گیا تو اس کی زبردست پذیرائی کی گئی لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اہلاً و سھلاً و مرحبا۔تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو۔

اسے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اور جھوٹ مزے اڑانے لگا۔مسند پر بٹھادیا گیا اور سارے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی خاص طور پر سیاست دانوں، پارٹیوں اور لیڈروں نے تو اسے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنالیا۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا بیچارا سچ کبھی تالاب سے نکل پائے گا یا پانی میں اس کی’’جل سمادھی‘‘ ہوجائے گی؟





Source link

Continue Reading

Trending