Connect with us

Today News

والدہ کی شادی کا رنج، سوتیلے باپ کو قتل کرنے والے دونوں بیٹے گرفتار

Published

on



تھانہ کینٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ قبل اپنے سوتیلے والد کو قتل کرنے والے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق دونوں بھائیوں کو والدہ کی شادی کا رنج تھا، جس پر ملزمان نے اپنے سوتیلے والد کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

گرفتار افراد واردات کے بعد روپوش ہوگئے تھے، تاہم کینٹ پولیس نے ٹیکنیکل و ہیومن انٹیلیجنس ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔

پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز خان کے مطابق زیر حراست افراد کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

لاہور؛ 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا سفاک ملزم گرفتار

Published

on



پولیس نے بروقت کارروائی کرکے 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنے والے سفاک ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

لاہور پولیس نے بتایا کہ اے ایس پی ڈیفنس باریرہ کی سربراہی میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا اشفاق خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری کارروائی کی۔

اے ایس پی ڈیفنس باریرہ نے بتایا کہ7  سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا سفاک ملزم رضوان کو گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم نے بچی کے گھر آ کر ورغلا پھسلا کر بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی تاہم متاثرہ بچی کے والد احسان علی کی مدعیت میں نامزد ملزم رضوان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایس پی کینٹ نے بروقت کارروائی پر ایس ایچ او فیکٹری ایریا اشفاق خان اور پولیس ٹیم کو شاباش دی۔

قائم مقام ایس پی کینٹ راحیلہ اقبال نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری

Published

on


وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری کر دی جس کے مطابق 96فیصد اسکولوں میں پختہ عمارتیں، 92 فیصد میں بیت الخلا اور 82 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

غذائی قلت سے بچوں کے قد اور وزن میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پرائمری ، مکمل کرنے والی لڑکیوں کی شرح 75فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی، ہر سال لڑکیوں کی تعلیم میں سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔

جمعرات کو پی آئی ای میں گرلز ایجوکیشن سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 2023/24 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔یہ رپورٹ پی آئی ای ،ملالہ فنڈ ،پی اے جی ای اور وفاقی وزارت تعلیم کے اشتراک سے تیار کی گئی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجہیہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز سینیٹر فوزیہ،ڈجی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا،شراکتداروں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے رپورٹ کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہماری پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہوں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا، بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔

ہمیں بھی اعداد و شمار کے بعد اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دنیا نے انہی کے ذریعے کامیاب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم سے ‘ڈراپ آؤٹ’ ہونے کا راستہ ہم صرف اپنے رویوں کو تبدیل اور اپنے دماغوں کو وسیع کر کے ہی روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 14 کروڑ نوجوان ہیں،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس یوتھ کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا انہیں مواقع فراہم کر کے اپنا اثاثہ بنا رہے ہیں۔ہمیں جہالت کے خلاف جہاد اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔

ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری یا ہنر تھما دیتی ہے، اس کا حق ہے کہ اسے آگے بڑھنے دیا جائے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو گھریلو ذمہ داریاں ضرور دیں ، لیکن انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھنے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔ ہنرمند خواتین کو گھروں تک محدود رکھنا انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔

وفاقی وزیر نے اختتام پر کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں اور حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک ایکشن پلان ترتیب دینا ہے ، اس میں سامنے آنے والی کامیابیاں اور چیلنجز دونوں ہمارے لئے ایک نئی راہ متعین کریں گے۔

ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں تعلیمی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں لڑکوں سے بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ ہمارا مقصد اعداد و شمار کے زریعے ان خلیجوں کو نشاندہی کرنا ہے جو ہماری بچیوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں تا کہ پالیسی سازی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں اپنی فوقیت ثابت کر دی ہے۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (NAT) 2023 کے مطابق، لڑکیوں نے انگریزی، اردو ، سندھی اور ریاضی میں لڑکوں سے بہتر اسکور حاصل کیے۔ آٹھویں جماعت میں بھی وہ سائنس اور ریاضی میں آگے رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے فی ہزار بچوں اور سکولوں کا تناسب کم ریکارڈ ہوا ہے ۔

تعلیمی اداروں میں معذروں کے سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ23 فیصد سکولوں میں ریمپ (Ramps) موجود ہیں تاہم کم تعلیمی ادارے ہیں جس میں خصوصی تدریسی مواد یا امدادی آلات دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں بتا یا گیا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں 23 فیصد اساتذہ بنیاد تربیت یافتہ ہیں ۔ 19فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی بجٹ کا حصہ 13فیصد سے کم ہو کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی فنڈز کا 94فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی تعداد مردوں کے برابر آ رہی ہے، لیکن روزگار میں ان کی شرکت صرف 24فیصد ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی سرمایہ کا ضیاع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب بھی ملک میں مجموعی طور پر 2.62 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے 1.34 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اگرچہ لڑکیوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، لیکن نظام کی کمزوریاں ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکیاں باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں منزل تک پہنچانے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی جدید تربیت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کے سابق وزیر خزانہ ایپسٹین جنسی اسکینڈل میں نام آنے پر مستعفی

Published

on


امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر ہارورڈ یونیورسٹی میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لارنس ہنری سمرز امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔

انھوں نے اپنے تعلیمی عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ سمرز اپنی پروفیسر شپ اور تمام اکیڈمک عہدوں سے اس تعلیمی سال کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے۔

وہ نو نومر مورساوار-رحمانی سنٹر فار بزنس اینڈ گورنمنٹ میں اپنے لیڈرشپ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔

یہ اقدام بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے متعلق سامنے آنے والے دستاویزات کے بعد سامنے آیا ہے۔

سمرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ تھا اور انھوں نے اپنی 50 سال سے زیادہ کی تعلیمی خدمات کے دوران طالب علموں اور ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی قدردانی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ تحقیق، تجزیے اور عالمی اقتصادی مسائل پر تبصرے کے ذریعے مستقبل میں اپنی شراکت جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ سمرز نے کلنٹن انتظامیہ کے دوران امریکا کے وزیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب کہ بعد میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے طور پر پانچ سال کام کیا۔

ان کا نام ایپسٹین‌ فائلز میں اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ ایپسٹین نے ہارورڈ کو بڑی رقم کے عطیات دیے تھے، جس کے بعد سمرز اور ایپسٹین کے درمیان متعدد خط و کتابت ظاہر ہوئی۔ 

اس سے قبل سمرز نے OpenAI کے بورڈ سے بھی استعفیٰ دیا تھا جبکہ انہیں امریکی اکنامک ایسوسی ایشن نے عمر بھر کے لیے پابندی عائد کی تھی جس کا تعلق بھی ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات سے تھا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending