Today News
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی وزارتی کانفرنس،بلال اظہر کیانی کی قیادت میں پاکستانی وفد کی شرکت
کیمرون کے دارالحکومت یواوندے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی چودھویں وزارتی کانفرنس جاری ہے۔ وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی قیادت میں پاکستانی وفد عالمی تجارت میں سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے اصلاحاتی سیشنز میں شریک ہے اور اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کر رہا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے عالمی تجارتی نظام کو شفاف، جامع اور لچکدار بنانے پر زور دیتے ہوئے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ کثیرالجہتی مذاکرات میں پاکستان نے برابری اور ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کی، جبکہ اصلاحات کے پلینری اجلاس میں اہم تجارتی مفادات کے تحفظ پر مؤقف واضح کیا۔
وزیر مملکت نے ڈبلیو ٹی او کے زرعی امور کے لیے منتخب منسٹرفسیلیٹیٹر کی حیثیت سے برطانیہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ پیٹر کیل، ترکیہ کے وزیر تجارت ڈاکٹر عمر بولت، اور جاپان کے نائب وزیر زراعت، جنگلات اور ماہی گیری یوکی نورو نیموٹو سے ملاقات کی۔
علاوہ ازیں بلال اظہر کیانی نے چین، امریکہ، برازیل، یورپی یونین، کیمرون، موزیمبیک، کینیڈا اور ارجنٹائن کے اعلی حکام اور کاٹن فور کے رکن ممالک کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی۔ انہوں نے قوانین پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے اور کسانوں و غذائی تحفظ کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، جس سے دیگر عالمی شخصیات نے اتفاق کیا۔
جینیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز حسین وزیر مملکت کیانی کی معاونت کر رہے ہیں۔ شریک ممالک نے کانفرنس کے مجوزہ اعلامیہ پر اتفاقِ رائے کے سلسلے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
پاکستان کا وفد آج اور کل بھی ڈبلیو ٹی او کانفرنس کے تحت مذاکرات میں بھرپور حصہ لے گا۔
Today News
تہرن یونیورسٹی پر حملہ، ایران کا خطے میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
پاسداران انقلاب نے خطے میں قائم امریکی یونیورسٹیوں سے اساتذہ، طلبہ اور عوام کو دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جامعات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں اسرائیل اور امریکا سے منسلک یونیورسٹیاں ایران کے لیے جائز اہداف بن گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبرایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی اور صہیونی افواج نے تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کر کے ایک بار پھر ایرانی جامعات کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس کے نادان حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب سے قابض حکومت کی تمام یونیورسٹیاں اور مغربی ایشیا میں امریکی جامعات ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گی، جب تک کہ تباہ کی گئیں ایرانی جامعات کے بدلے میں دو یونیورسٹیوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ ہم خطے میں موجود امریکی جامعات کے تمام عملے، اساتذہ اور طلبہ، نیز قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے مذکورہ جامعات سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔
مزید بتایا گیا کہ اگر امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس مرحلے میں اس کی علاقائی جامعات جوابی کارروائی کا نشانہ نہ بنیں تو اسے پیر 30 مارچ کو تہران کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک یونیورسٹیوں پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے باضابطہ بیان جاری کرنا ہوگا۔
پاسداران انقلاب نے امریکی حکومت سے کہا کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ اس کے بعد بھی اس کی جامعات کو نشانہ نہ بنایا جائے تو اسے اپنی وحشی اتحادی افواج کو یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز پر حملوں سے روکنا ہوگا بصورت دیگر یہ دھمکی برقرار رہے گی اور اس پر عمل کیا جائے گا۔
امریکا اور اسرائیل نے اصفہان یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی سائنٹفک اور ثقافتی بنیادیں تباہ کرنا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے جان بوجھ اصفہان اور تہران میں جامعات کو نشانہ بنایا ہے، اصفہان یونیورسٹی اور تہران کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی امریکی جارحیت کا تازہ نشانہ بننے والی جامعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے اصل مقاصد آشکار ہو رہے ہیں جو ایران کی سائنسی اور ثقافتی روایت کو منظم انداز میں نشانہ بنانا ہے، جس کے لیے جامعات، ریسرچ سینٹرز، تاریخی مقامات اور نامور سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور فوری خطرے کا بیانیہ دراصل محض ایک بہانہ تھا اور ایسی گھڑی ہوئی کہانیوں کا مقصد اپنے اصل عزائم کو چھپانا تھا۔
Source link
Today News
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
لکھنے کا پہلے شوق تھا، پھر گزشتہ تیرہ برس بلکہ پندرہ سال سے قلم کاری عادت سی بن چکی ہے۔ سات دنوں میں دو کالم رقم کرنا معمولی لگتا ہے تاہم کچھ عرصے سے کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔ لکھنے والوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ دیوار میں چنے ہوئے کرداروں پر مزید سیاہی انڈیلی جائے۔ اور گھڑسواروں کی تعریف ہو۔ گمان ہے کہ شائد‘ ملک بنایا ہی شاہ سواروں نے تھا۔ مگر شائد اپنے لیے۔ جس کو وہ پاکیزہ اور دودھ کا دھلا کہیں‘ وہ فرشتہ ۔ جس سے ناراض ہوں، وہ شیاطین کی صف میں شامل ۔ تو جناب ‘ہمارے ملک میں تو سارے حکمران فرشتہ صفت ہی چلے آرہے ہیں لیکن اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ابلیسی کام بھی کرگزرتے ہیں۔ جب تجوری بھر جاتی ہے‘ تو پھر معصوم اور فرشتہ نظر آنے لگتے ہیں یا کوشش کرتے رہتے ہیں۔
اب خود بتایئے کہ میرے جیسا انسان جو کسی بھی وقت دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، اس کا اپنی اسٹڈی تک محدود ہونا کتنا سہل ہو گا؟ پینتیس برس کی سرکاری نوکری بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کسی سیاسی جماعت کا کارندہ نہیں بنا جو حد درجہ آسان سا کام تھا۔ آج اس سے بھی زیادہ سہل تر ، بہر حال چھوڑیئے ، اس قصہ کو۔ پندرہ برس پہلے کا واقعہ ہے۔ ملک کے ایک جید کالم نگار سے بڑی چاہ سے ملنے گیا۔ اردو پر گرفت تو ان کی آج بھی مستند ہے۔ کوئی آدھا گھنٹہ یا شاید پینتالیس منٹ گفتگو رہی۔ گمان تھا کہ کچھ لفظی موتی‘ عطا فرمائیں گے، طالب علم کے علم میں اضافہ ہو گا۔ کمال محبت سے پیش آئے۔ مگر آدھا گھنٹہ ٹیلی فون پر ایک سینئر ’’گھڑ سوار‘‘ کو بذریعہ اسٹاف تلاش کرتے نظر آئے۔ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے رہے۔
میرے سامنے بالآخر ان صاحب سے بات بھی ہوئی۔ تو مضمون یہی تھا کہ چند اہم باتیں کرنی ہیں۔ باہم بیٹھنا ضروری ہے۔اندازہ تو یہی تھا کہ دانائی کے چند ہیرے‘ میری جھولی میں بھی ڈال دیں گے۔ مگر نوبت ہی نہیں آ سکی۔ معلوم پڑا کہ اپنی تحریروں میں خوبصوت الفاظ استعمال کرنے کے سوا ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہی ضرورتیں‘ وہی طرز تفاخر اور وہی دوسرے کو جزوی طور پر مرعوب کرنے کی ادنیٰ سی کوشش۔ یقین فرمائیے کہ جب ان سے مل کر واپس دفتر آیا تو طبیعت بوجھل تھی۔ مگر سوال تو یہ بھی ذہن کے پردہ پر ابھرتا ہے کہ جناب کس کے در پر حکمت کے لیے جایا جائے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں بھی سوچتا ہوں کہ کیوں جاؤں؟ بہر حال یہ ایک فکری کشکمش ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ البتہ ایک اصول تو طے کر چکا ہوں۔ جس کی تحریر پسند ہو، اس سے کبھی نہیں ملتا ۔ اگر کوئی ملاقات کی صورت بنتی ہوئی نظر آئے ‘ تو فوراً کنارہ کشی کر لیتا ہوں۔
اس لیے کہ کہیں اس کرم فرما کا بنا ہوا تصوراتی بت اسے ملنے کے بعد پاش پاش نہ ہو جائے۔ لہٰذا ملنا بے سود ہے۔ اس سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر عقل و خرد کے اصل جوہریوں کے سامنے زانوائے ادب طے کرنا‘ باعث افتخار سمجھتا ہوں۔ ان کی کھوج میں لگا رہتا ہوں۔ ویسے وہاں بھی اصل آدمی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ایک شہری بزرگ کا چرچہ سنا کہ دین کی علمی دولت سے مالا مال ہیں، کاروبار بھی فرماتے ہیں یعنی دین اور دنیا میں توازن قائم رکھا ہوا ہے۔ کوئی دس بارہ برس پہلے کا واقعہ ہے بلکہ حادثہ ہے۔ ان کے گھر پر پہنچا تو بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ لوگ ہی لوگ‘ خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے‘ میں بھی انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔ ایک نوجوان آیا اس نے دریافت کیا کہ آپ حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں۔
مثبت جواب پر ‘ اس کارندے نے ایک ٹوکن میرے ہاتھ میں دے ڈالا کہ آپ کی باری کوئی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ جب ٹوکن نمبر پکارا جائے تو آپ بزرگ کے کمرے میں چلے جایئے گا۔ ہاں، پانچ منٹ سے زیادہ رہنا ممنوع ہے۔ کیونکہ اگلا ٹوکن والا بھی انتظار کر رہا ہوگا۔ دماغ میں آیا کہ کیا خدا سے نسبت رکھنے والے بندے‘ ٹوکن دے کر ملتے ہیں؟ کیا رب کے دربار میں رسائی ٹوکن کے ذریعے ہو گی؟دین سے نسبت رکھنے والے بزرگ تو کسی بھی تکلف اور تردد سے پرہیز کرتے ہیں۔ طبیعت اس قدر ابتر ہو گئی کہ ٹوکن واپس کر کے گھر چلا آیا۔آج تک اس شخص کے پاس نہیں گیا۔ معلوم پڑا کہ پورے ملک میں وہ ایک برگزیدہ ہستی مانے جاتے ہیں۔ البتہ میرا دل نہیں مانتا کہ خدا کے ولی ‘ بذریعہ ٹوکن دستیاب ہوتے ہیں۔
کاروبار تو خیر کرتا ہی ہوں جوحد درجہ ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں۔ ریٹائرمنٹ سے تھوڑا سا پہلے شروع کیا تھا۔ خیر اب تو کافی کچھ سیکھ چکا ہوں۔ دن میں صرف پانچ گھنٹے اپنے نجی دفتر میں بیٹھتا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔ دن اور رات کا بیشتر حصہ‘ اپنی اسٹڈی میں گزارتا ہوں۔ ایک قدیم سا وائی فائی کا اسپیکر موجود ہے، یوٹیوب کو اس سے منسلک کرنا بڑے بیٹے نے سکھایا تھا۔ کے ایل سہگل‘ بیگم اختر فیض آبادی کو سنتا ہوں اور سردھنتا ہوں۔ کبھی کبھی مہدی حسن کی غزلیں بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ ’’دختر رز‘‘ سے مکمل دوری ہے۔ حواس میں رہ کر موسیقی سننے کا لطف ہی کوئی اور ہے۔ ہاں‘ قوالیاں سن کر مزہ آتا ہے۔ خصوصاً غلام فرید صابری قوال کی۔ یہ دونوں بھائی بھی قوالوں کے سپہ سالار ہیں۔ آواز تو خیر کمال ہے ہی‘ مگر اس کے اندر‘ فارسی کی آمیزش بھی قیامت خیز ہے۔ گھر میں ایک ایسا کمرہ۔ جس میں آپ تنہا بیٹھ سکتے ہیں‘حد درجہ ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کا اصل گھر وہی بن جاتا ہے اور اسی میں دل لگتا ہے۔ ذاتی اسٹڈی میں کتابیں ہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔
کبھی لگتا ہے ساری پڑھ چکا ہوں۔ مگر اکثر اوقات ایسے معلوم پڑتا ہے کہ یہ نسخے کیا‘ زندگی میں ایک حرف تک نہیں پڑھ پایا۔ ویسے ایک بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب ملک ملک ‘ سیاحت کا شوق غالب تھا تو غیر ممالک سے ڈیکوریشن پیس لایا کرتا تھا۔ اکثر تو ضایع ہو گئے۔ مگر آج بھی اسٹڈی روم میں بہت سے آراستہ ہیں۔ خصوصاً کینیا اور ساؤتھ افریقہ سے لائے گئے، مصنوعی چہر ے اور شتر مرغ کے رنگین انڈے۔ افریقہ میں ایک نایاب آرٹ ہے، وہ شتر مرغ کے انڈے پر تصاویر دنیا کے نقشے اور قدیم جنگلوں کے ماحول کو اس عرق ریزی سے پینٹ کرتے ہیں کہ انڈا‘ ایک علمی سوغات بن جاتا ہے۔
یہ حسن‘ افریقہ میں گلیوں گلیوں بکھرا ہوا ہے۔ اس طرح کا فن ‘ باقی دنیا میں ناپید ہے۔ ہاں‘ ایک سگار بکس بھی ہے جس میں اچھے کیوبن سگار موجود ہیں۔ کبھی کبھی جب سوچ کا ہالہ بہت بڑھ جائے تو سگار کے کش لگانا اچھا لگتا ہے ۔ سگار کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اسے پورا پیے بغیر بجھا سکتے ہیں۔ اور اس لیے‘ہر سگار ایک خاص پیکنگ میں آتا ہے۔ آپ جب اکتا جائیں تو اسے بجھا کر اسی کے خول میں ڈال دیجیے۔ تازہ بھی رہے گا اور دوبارہ استعمال کے قابل بھی۔
اب ایک تمنا یا خواہش ہے بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ لاہور ہی کے کسی مضافاتی علاقے میں تھوڑی سی زمین لے کر وہاں رہنا چاہتا ہوں۔ ایسے پرندے پالنا چاہتا ہوں‘ جنھیں پنجرے میں نہ رکھنا پڑے۔ پرندے کو قید میں رکھنا‘ خلاف قدرت معلوم پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے عشق ہے۔ دل چاہتا ہے کہ نئے حاصل شدہ قطعہ پر ‘ پودے لگاؤں جو پھولوں سے بھرے رہیں۔ درخت ہوں جن پر اجنبی پرندے ‘ بغیر کسی خوف کے گھونسلے بنانے اور بے خطر رہنا شروع کر دیں۔ دنیا کی بہترین موسیقی‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہے ۔ خصوصاً صبح اور شام کے وقت تو یہ قدرت کی جانب سے موسیقی کا رنگیں سیلاب ہے جو انسان کو بھگوئے بغیر نہال کر ڈالتا ہے۔
اس جگہ پر ایک کمرہ بھی بنواؤں گا ۔ جہاں ‘ اپنی اسٹڈی سے چند اشیاء منتقل کروں گا۔ پھر شام کو اندھیرے ا ور روشنی کے باہمی ملاپ کے وقت‘ سہگل اور بیگم اختر کی غزلیں سنوں گا۔ یہ میرا خواب ہے۔ جسے بہت جلد ‘ تکمیل کے مرحلہ سے گزاروں گا۔ ویسے اپنے آپ سے کبھی کبھی سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ شاید ذمے داریاں نبھاتے نبھاتے ‘ معلوم ہی نہ پڑا کہ کب کافی وقت گزر گیا۔ بالوں میں سفیدی چھا گئی۔
پر بالوں کی اس برف نے بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔ انسان دنیا میںاکیلا ہی آتا ہے اور واقعی ‘ تنہا ہی واپس چلاجاتا ہے۔ کہاں پرواز کر ڈالتا ہے‘ کس عالم میں ایستادہ ہوتا ہے۔ یہ راز آج تک کوئی بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایا۔ ویسے اس سنجیدہ سوال کا کوئی بھی جواب تلاش نہیں کرنا چاہے۔ کیونکہ اپنی اپنی دانست میں جو بھی انسان‘ جو کچھ بھی سمجھتا ہے‘ وہ اس کے لیے درست ہے اور جو نکتہ اس کے لیے محترم ہے ‘ اس پر ہم کیوں بحث کریں؟ویسے مجھے تو اب کچھ بھی غلط معلوم نہیں دکھتا۔ دنیا‘ کائنات ‘سماج‘ انسانوں کی حقیقت کیا ہے؟ یہ بھی معلوم کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ہو سکتا ہے سب دکھاوا ہو۔خواب ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ سب کچھ ہی سچ ہو؟
Today News
تکبر کا نتیجہ خواری – ایکسپریس اردو
تکبر کا شکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یو ٹرن لینے اور گیڈر بھبکیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور خود جنگ شروع کرکے یا کرا کر پھر خود ہی جنگ بند کرانے کا از خود ریکارڈ بناکر عالمی شہریت کا حامل نوبل پرائز کا خواب دیکھنے والے سپرپاور کے دعویدار ملک امریکا کے صدر کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور کرنا کیا ہے؟ شاید انھیں خود بھی نہیں پتا مگر ان کے تبدیل ہونے والے فیصلے دنیا کو حیران ضرور کردیتے ہیں شاید وہ شر میں خیر کی توقع کی بجائے خیر میں سے شر نکال لیتے ہیں۔
انھوں نے شر کی بجائے خیر کے لیے ایران سے مذاکرات شروع کرائے مگر جب انھیں لگا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوجائیں انھوں نے خیر کا انتظار کیے بغیر ایران پر حملہ کرکے شر انگیزی کی اور کئی دن جنگ جاری رکھ کر ایران کو 48گھنٹے کا نوٹس دیا اور نوٹس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی خود اپنی شروع کردہ جنگ میں پانچ دنوں کا وقفہ کرلیا۔
دنیا اور امریکی خود حیران ہیں کہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے لیے ایران سے مذاکرات کرانے والے امریکی صدر کو ہوا کیا تھا کہ اپنے تکبر پر ناز کرتے ہوئے انھوں نے مذاکرات چھوڑ کر ایران پر حملہ کرادیا اور تکبر کا شکار گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے سازشی ذہن کو پڑھے اور دیکھے بغیر اسرائیل کے کہنے پر دونوں نے ایران پر یہ سوچ کر حملہ کیا کہ چار عشروں سے عالمی پابندیوں کا شکار کمزور ملک ایران گھنٹوں میں ہتھیار ڈال دے گا اور پھر اسرائیل محفوظ اور امریکا وینزویلا کی طرح ایران کے آئل کا بھی مالک بن کر آئل کی بھی سپر پاور بن کر اپنی مرضی سے دنیا بھر میں آئل فروخت کرنے کا ٹھیکیدار بن جائے گا۔امریکی صدر کے تکبر نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ امریکا دنیا میں جو چاہے کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ چاہے تو رات کی تاریکی میں وینزویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کراکر امریکا لاکر قید کرا دے یا دنیا پر مرضی سے ٹیرف مسلط کردے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
اسرائیلی وزیراعظم بھی امریکی صدر کی طرح تکبر اور رعونیت میں مبتلا ہوکر خواب دیکھ رہا تھا کہ وہ اور امریکا دونوں مل کر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے اور ایرانی عوام بھی وینزویلا کے عوام کی طرح اپنے صدر کے اغوا پر خاموش رہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
اس لیے اسرائیل اور امریکا نے پہلے مرحلے میں ایران کے مذہبی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جو دھمکیوں کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر بیٹھے اور نہ انھوں نے کسی محفوظ بنکر میں پناہ لی بلکہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات پر غیر محفوظ جگہ پر شہادت کے منتظر رہے اور اپنی خواہش کے مطابق شہادت سے ہمکنار ہوئے جس کا ایرانی عوام پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے باہمی اختلاف بھلاکر متحد ہوگئے اور بمباری کے خوف سے چھپنے کی بجائے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور اپنے سپریم لیڈر سے محبت و عقیدت کے لیے ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔
امریکا کی توقع کے برعکس اپنے دیگر رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی ایرانی متحد، پرعزم اور دلیر ثابت ہوئے اور ان کے ملک نے تقریباً ایک ماہ کی جنگ میں ہتھیار ڈالے نہ امریکی خواہش پوری ہونے دی بلکہ اسرائیلی حملوں کا وہ جواب دیا کہ جس کی دنیا کو توقع نہیں تھی۔ ایران نے 48گھنٹوں کی دھمکی دی نہ پانچ روز کے لیے جنگ روکی مگر اسرائیل اور امریکی اہداف پر اپنے حملے جاری رکھ کر دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا۔
اسرائیل فلسطین اور لبنان کو تباہ کرنے کے بعد ایران کو چند گھنٹوں کی مار سمجھ رہا تھا اور تکبر کے مارے اسرائیلی شیطان نے ایران کے ساتھ لبنان پر حملہ کرکے لبنان کے بعض علاقے مکمل تباہ کردیے اور پہلی بار ایران کی بمباری سے اپنے بعض شہر اور دس ہزار املاک بھی تباہ کرا بیٹھا کیونکہ اس سے قبل اسرائیل کو کہیں سے اپنے حملوں کا خوفناک جواب نہیں ملا تھا۔ امریکا واقعی سپر پاور ہے اور اسرائیل امریکا کا بغل بچہ ہے جو امریکا کی گود میں بیٹھ کر خود کو بھی سپرپاور سمجھ بیٹھا تھا جو اب اتنا مجبور ہوگیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے گھروں میں چھپ کر محفوظ ہونے کا کہہ رہا ہے۔
امریکا ایران سے بہت دور اور محفوظ تو ہے مگر اس نے خلیجی ممالک میں لیے گئے اپنے اڈوں پر ایرانی حملوں میں قابل ذکر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے اور اس کا تکبر بھی خاک میں ملا اور اسے اپنی شروع کی گئی جنگ خود روکنا پڑی جب کہ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ روکنے کے لیے ایران کو یہ کہنا پڑا کہ جنگ ایران کی مرضی سے ختم ہوگی، امریکا کی مرضی جنگ نہیں رکوا سکتی۔
امریکا اور اسرائیل کو اپنی جنگی طاقت اور صلاحیتوں پر بڑا ناز اور اس کے حکمرانوں کو تکبر تھا مگر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ کے بقول اب ایران سے جنگ میں امریکا اور اسرائیل فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ یہ اگر حقیقت ہے تو امریکا اور اسرائیلی حکمرانوں کے بے پناہ تکبر نے امریکا و اسرائیل کو یہ دن دکھا دیے ہیں جس میں امریکا تو تباہی سے محفوظ رہا مگر اسرائیل خود تباہ ہوا مگر امریکا نے خلیجی ممالک کو بھی مکمل تباہ کرانے کی سازش کی جو دونوں کی خواہش تھی۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport