Today News
وزیر داخلہ سندھ کی رمضان میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ ماہِ صیام 2026 کے دوران صوبے بھر میں فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں اور تینوں عشروں میں خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، درگاہوں اور تراویح اجتماعات کی خصوصی نگرانی کی جائے جبکہ افطار اور سحر کے اوقات میں حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مساجد اور مذہبی اجتماعات کے اطراف واک تھرو گیٹس اور جامع تلاشی نظام کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے بڑے تجارتی مراکز، بازاروں اور شاپنگ مالز میں مؤثر سیکیورٹی پلان مرتب کرنے، اسنیپ چیکنگ، موبائل گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول مانیٹرنگ کے ذریعے سی سی ٹی وی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام کے لیے علمائے اکرام سے رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ افطار پوائنٹس اور دسترخوانوں کی سیکیورٹی کے لیے مقامی پولیس اور رضاکاروں کے ساتھ مؤثر کوآرڈینیشن کو یقینی بنایا جائے۔
ٹریفک انتظامات کے حوالے سے انہوں نے ہدایت کی کہ مارکیٹس اور کاروباری مراکز میں رش کے پیش نظر ٹریفک مینجمنٹ پلان پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، افطار سے قبل اور بعد اہم شاہراہوں پر اضافی ٹریفک نفری تعینات کی جائے اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ شہریوں کو پیشگی ٹریفک ایڈوائزری سے آگاہ رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے خواتین اور فیملیز کی سہولت کے لیے خصوصی گشت اور ہیلپ ڈیسک کے قیام، جبکہ ایمرجنسی رسپانس یونٹس اور ایمبولینس سروس کو الرٹ رکھنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ ماہِ صیام کے بابرکت مہینے میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی غفلت یا کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس، رینجرز اور متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے مربوط اور مؤثر سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
Source link
Today News
پنجاب میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا
پنجاب میں سال 2026 کے پہلے چار ہفتوں میں خسرے کے 1695 مشتبہ مریض سامنے آگئے۔
تفصیلات کے مطابق خسرے کے لیبارٹری ٹیسٹ سے کنفرم مریضوں کی تعداد 330 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں خسرے کے 40 آؤٹ بریک الرٹس جاری کیے گئے۔
ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب نے خسرے سے متعلق تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی۔ سال 2024 میں پنجاب میں خسرے کے 23 ہزار 680 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے تھے۔
سال 2025 میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 19 ہزار 913 رہی جبکہ سال 2024 میں خسرے کے 6 ہزار 747 کیسز لیب سے کنفرم ہوئے تھے۔ سال 2025 میں خسرے کے کنفرم مریضوں کی تعداد 4 ہزار رہی۔
سال 2024 میں خسرے سے 16 اموات جبکہ 2025 میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال خسرے کی صورتحال پر محکمہ صحت کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
چیف سیکرٹری اور وزیر صحت کی سربراہی میں متعدد اجلاس ہوئے ہیں۔ خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متعلقہ اضلاع میں سرویلنس تیز کر دی گئی ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اور اسپتالوں کی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران بابر اعظم کی پریکٹس سیشن اور میچ میں مختلف مائنڈ سیٹ سے بیٹنگ نے بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک نیٹ سیشن کے دوران نسیم شاہ کی شارٹ گیند کو انہوں نے مڈوکٹ کے اوپر سے کھیلا، جبکہ سلمان مرزا کی آف اسٹمپ سے باہر شارٹ ڈلیوری پر زوردار اپر کٹ لگایا۔
شاداب خان اور ابرار احمد کی لیگ اسپن کے خلاف بھی وہ قدموں کا استعمال کرتے ہوئے شاٹس کھیلتے دکھائی دیے۔
تاہم ایک موقع پر نسیم کی لیگ کٹر پر وہ شاٹ غلط ٹائم کر بیٹھے اور خود پر برہم بھی نظر آئے۔
یہ 20 سے 25 منٹ کا سیشن بابر اعظم کے دو رخ دکھاتا ہے۔
ایک طرف جارحانہ ارادے کی جھلک جبکہ دوسری جانب کسی میچ میں بھی نیٹ جیسی روانی نظر نہیں آئی اور وہی گیندیں میچ میں محتاط انداز سے کھیلی گئیں۔
اپنا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 111.81 ہے، جو سب سے کم اور سابق کپتان محمد حفیظ کے اسٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔
کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا ہے، مگر اب بابر کو میدان میں کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔
Today News
مقبوضہ کشمیر کے فنڈز اترپردیش منتقل؟ بی جے پی پر بڑا الزام
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کو بھارتی ریاست اترپردیش منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اترپردیش منتقل کر دیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ 52 لاکھ روپے میں سے 10 کروڑ 58 لاکھ روپے اترپردیش میں خرچ کیے گئے، جبکہ خطے کو خود شدید اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی یہاں سے منتخب ہو کر بھی دیگر ریاستوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی معاشی مشکلات اور ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے میں فنڈز کی منتقلی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims