Connect with us

Today News

وفات پانے والے 42 لاکھ افراد کے شناختی کارڈ فعال نکلے، نادرا نے منسوخ کردیے

Published

on



قومی شناختی نظام کی مکمل درستی کے لیے نادرا نے اہم قدم اٹھالیا، سول رجسٹریشن ریکارڈ اور قومی شہری ڈیٹابیس کے درمیان مطابقت کا کام مکمل ہوگیا جس کے بعد 42 لاکھ ایسے شناختی کارڈ منسوخ کردیے گئے جن کے لواحقین نے کارڈ منسوخ نہیں کرایا تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سول رجسٹریشن نظام اور نادرا کے نظام میں مطابقت کے بعد مرنے والے افراد کے شناخت کارڈ منظر عام پر آئے جس پر نادرا آرڈیننس اور شناختی کارڈ رولز کے تحت اقدام اٹھاتے ہوئے 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، لواحقین نے صوبائی اداروں میں اندراج کرایا لیکن نادرا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہیں کرایا تھا۔

نادرا کے مطابق نادرا کے حالیہ معاون اقدامات پر 30 لاکھ افراد کے لواحقین نے شناختی کارڈ منسوخ کرائے، 42 لاکھ شناختی کارڈز سول رجسٹریشن نظام میں وفات کے اندراج کے باوجود فعال رہے۔

شناختی کارڈ منسوخ نہ ہونے سے قومی اعدادوشمار عدم مطابقت کا شکار ہوتے ہیں، بعض اوقات غلطی یا بدنیتی سے بھی کوئی رشتہ دار شناختی کارڈ منسوخ کرا دیتے ہیں، غلطی سے شناختی کارڈ منسوخی پر نادرا سے رابطہ کر کے یونین کونسل کی معلومات لی جائے اور  یونین کونسل میں درستی کرائی جائے اور نادرا میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کرایا جائے۔

نادرا کے مطابق ایک کروڑ 40 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج یونین کونسل میں ہو چکا ہے لیکن نادرا میں نہیں ہوا، نادرا ایسے بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو یاددہانی کے ایس ایم ایس بھجوا رہا ہے، ایسے بچوں کے والدین جلد ازجلد نادرا سے ان کے ب فارم بنوائیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سپریم کورٹ نے فوری نوعیت کے مقدمات کے لیے خصوصی انتظامات کا اعلان کردیا

Published

on


سپریم کورٹ نے فوری نوعیت کے مقدمات کے لیے خصوصی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کا ادارتی ڈیسک جمعہ اور ہفتہ کو صرف ہنگامی مقدمات وصول کرے گا۔

عوامی سہولت مرکز کا ادارتی ڈیسک صبح 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک کھلا رہے گا۔ فوری نوعیت کے کیسز صرف رجسٹرار کی منظوری سے وصول کیے جائیں گے۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی منظوری سے سپریم کورٹ میں ہنگامی مقدمات کے لیے نیا طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت ہنگامی کیسز کی وصولی کا شیڈول بھی جاری کیا گیا ہے۔

جمعہ اور ہفتہ کو صرف فوری نوعیت کے مقدمات دائر کیے جا سکیں گے اور رجسٹرار سپریم کورٹ کی منظوری کے بعد ہی کیسز وصول ہوں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز

Published

on



اسلام آباد:

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں لطیف کھوسہ نے ایران کی کھل کر حمایت کرنے کا کہا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے، لطیف کھوسہ نے ایوان میں قرارداد پیش کرنے اور ایوان کی اسرائیل کی مخالفت کی کا کہا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ شیر علی ارباب نے کہا کمیٹیوں سے نکل کر کچھ نہ ملا اور ہم اپنا موقف بھی نہیں پیش کرسکتے، کمیٹیوں سے استعفیٰ کے بجائے ایوان سے ہی استعفے دے دیں۔

شیر علی ارباب نے کہا کہ ہمارے پاس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھی جس میں ہم اپنی حیثیت اور طاقت منواسکتے تھے، اگر کمیٹیوں میں واپس نہیں آتے تو اسمبلیوں سے بھی استعفے دے دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اجلاس میں تمام ارکان کو رائے کا موقع دیا جا رہا ہے، اپوزیشن ارکان کی رائے کو دیکھتے ہوئے مشترکہ فیصلے کیے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

راولپنڈی: ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں مبینہ طور پر 264 ملین روپے کی کرپشن کا انکشاف

Published

on


راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں مبینہ طور پر 264 ملین روپے کی کرپشن اور خورد برد کا انکشاف ہوا ہے تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود ذمہ داران تاحال گرفت میں نہیں آ سکے۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے غیر جانبدار انکوائری کمیٹی بنانے کے لیے دو دن کی مہلت کا ری مائنڈر بھی جاری کیا گیا تھا مگر مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انکوائری کمیٹی تاحال قائم نہ ہو سکی۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 264 ملین روپے کی مبینہ خرد برد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خریداری پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جبکہ متعدد اشیاء بغیر ٹینڈر اور بغیر کوٹیشن لوکل پرچیز کی گئیں۔ دستاویزات کے مطابق ایسی اشیاء بھی خریدی گئیں جن کی فوری ضرورت موجود نہیں تھی۔

آڈٹ حکام کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں میں اس وقت کی سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فائزہ نعیم کا نام شامل ہے جبکہ آڈٹ رپورٹ میں سابق ڈی ایچ او میڈیکل سروسز ڈاکٹر حوریہ محسن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مبینہ کرپشن کیس میں ڈی ایچ او پریوینٹو سروسز ڈاکٹر احسان غنی کو بھی شامل قرار دیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے آٹھ اکاؤنٹنٹس کو بھی اس معاملے میں شامل بتایا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے 264 ملین روپے کے مالی نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کو ذمہ داران کا تعین کرنا ہوگا جبکہ رپورٹ میں سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی جائے گی۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز کی ہدایت کے باوجود انکوائری کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر سوالیہ نشان بن گئی ہے اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کے باوجود تاحال عملی کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending