Today News
ویلفیئر اسٹیٹ کا نعرہ لاپتہ ہوگیا
وزرات پیٹرولیم کے وزیر مملکت علی پرویز ملک نے ایک مشکل تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ اب حکومت عوام کو پیٹرول کی قیمت میں بلینکٹ کور نہیں دے سکتی۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کا خاتمہ نہ ہونے کی بناء پر حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں کا اضافی بوجھ عوام پر ڈال دیا۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے 458 روپے مقرر کی تھی مگر عوام کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے اس کی قیمت پھر 378 روپے کردی، مگر یہ رقم بھی بہت زیادہ ہے۔ ا س کے ساتھ ہی حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ سولر پینل کی بجلی پر ریلیف ختم کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت اضافی بجلی سسٹم میں شامل تو ہوجائے گی مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کے تحت بجلی صفر یونٹ تصور کی جائے گی، حکومت اس پر ریلیف فراہم نہیں کرے گی، یوں ویلفیئر اسٹیٹ بنانے کا نعرہ خلیج سے اٹھنے والے دھویں کے بادل میں کھوگیا۔
وفاقی حکومت نے ایران، اسرائیل و امریکا جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دراصل منی بجٹ نافذ کردیا ہے۔ پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ پورے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا جب کہ گڈز ٹراسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ جب نئے مالیاتی سال کا بجٹ تیار ہوگا تو وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یوں آئی ایم ایف کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان کی معیشت پر کچھ مثبت اثرات تو پڑیں گے مگر مجموعی طور پر اس فیصلے کے منفی نتائج برآمد ہوںگے۔
گزشتہ دو برسوں سے یہ بیانیہ اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دور ہے۔ پاکستان کا امریکا، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سے معمول کے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو ہمیشہ ادھار پیٹرول فراہم کرتا رہا ہے۔ ادھر ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور سرکاری ذرائع بار بار یہ بات بتاتے ہیں کہ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مسلسل غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں مگر اس صورتحال میں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس جعفری نے گزشتہ دنوں سینیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سستا تیل ایران میں دستیاب ہے۔
ایران سڑک کے راستہ تیل فراہم کرسکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی معقول تجویز ہے مگر پاکستان ایران پر عائد عالمی اور امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل خرید نہیں سکتا۔ اگرچہ دنیا بھر کے 85 کے قریب ممالک تیل کے بحران کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں بھارت بھی شامل ہے ، بھارت کی حکومت نے پیٹرول اور گیس کے سلنڈر کی راشننگ کردی۔ اگرچہ بھارت میں راشننگ کے نظام میں خرابیوں کی بناء پر بھارت کی بعض ریاستوں میں پیٹرول اور گیس کی قلت کا سامنا ہے ، بھارت کے عوام سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں مگر وہاں مہنگائی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔
بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے تھے۔ بھارت میں پنڈت جواہر لعل نہرو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد جیسا اگلی صدی تک دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والا سیاست دان تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فورا بعد زرعی اصلاحات کیں۔ سوویت یونین، برطانیہ اور امریکا سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے۔ پنڈت جی سوشل ازم سے متاثر تھے تو انھوں نے معیشت کو سوشلسٹ طرز پر استوار کرنے کی پالیسی اختیار کی، یوں بھارت کی معیشت ٹھوس بنیادوں پر کھڑی ہوئی۔ پنڈت نہرو کے بعد ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی نے بھی یہی پالیسی اختیار کی۔ انھوں نے بھی ہر سطح پر سادگی کے کلچر کو تقویت دی۔
80ء کی دہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب شروع ہوچکا تھا۔ اندرا گاندھی کے صاحبزادے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے نچلی سطح تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کی پالیسی کو تقویت دی، ان کے دور میں خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ بھارت کا عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر انحصار بڑھ گیا مگر پھر وزیر اعظم نرسیما راؤ کو من موہن سنگھ جیسا وزیر خزانہ مل گیا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھارت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کھول دیا اور ریاستی ڈھانچہ کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ نرسیما راؤ ایک کمزور وزیر اعظم کے طور پر تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں مگر انھوں نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، یوں بھارت میں ایک خوشحال متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔
موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔ ان پر بڑے سرمایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ان پر اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کی سرپرستی کی الزام ہے، مگر وزیر اعظم مودی کی جانب سے غیر ممالک سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کرانے اور توشہ خانہ سے کوئی ذاتی فائدہ نہ لینے کے کسی فیصلے کی ہمارے ملک میں تو ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صرف بھارت کی پارلیمنٹ کی کارروائی پر نظر ڈالی جائے تو کوئی رکن غیر ملکی سوٹ پہنا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کفایت شعاری کی کئی مثالیں قائم کی تھیں اور 11 ، اگست 1947ء کی آئین ساز اسمبلی کے دوسرے دن کے اجلاس میں کرپشن کے عفریت کو مہلک مرض قرار دیا تھا مگر بعد میں آنے والے حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں ، پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی بیوروکریسی نے ساری توجہ اپنے اثاثے بنانے پر دی۔ 80ء کی دہائی کا جائزہ لیا جائے تو جب بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پہلی ترجیح قرار دی گئی تھی اس وقت جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء، افغانستان کی امریکا نوازشہری اشرافیہ اور افغان جہادی قیادت ، افغانستان کے پروجیکٹ کے لیے امریکا اور اتحادی ممالک سے آنے والے ڈالروں سے مستفید ہورہے تھے۔
کسی بھی حکومت کی ذمے داری عوام کی نگہبانی کرنا ہے، آج پاکستان کی بات کریں تو خلیجی بحران میں حکومت نے عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے بعض اقدامات ناکافی ہیں۔ سندھ حکومت کو پنجاب کی طرح 500 بسوں کے فریٹ کے ٹکٹ معاف کردینے چاہیے تھے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
ا س بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی لاکھ پاکستانی شہریوں کے یورپی ممالک میں اثاثے ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کے گلف، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں وسیع کاروبار ہیں، یہ لوگ پاکستان سے یہ دولت لے کر گئے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جرات کا مظاہرہ کریں۔ غیر ممالک میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کے لیے قانون سازی کرے، یوں کھربوں ڈالر ملک میں واپس آجائیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم، صحت، پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کے علاوہ تمام غیر پیداواری منصوبے بند کیے جائیں۔ حکومت تمام بڑی گاڑیوں پر پابندی لگادے اور ان بڑی گاڑیوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
وفاق اور صوبوں میں موجود بڑی گاڑیوں کو نیلام کردیا جائے۔ صدر اور وزیر اعظم چھوٹی گاڑیوں پر سفر کریں۔ تمام سرکاری اداروں میں ایئرکنڈیشنز بند کردیے جائیں۔ صدر، وزیر اعظم اور وزراء خود ذاتی طور پر سادگی کے کلچر کو اپنائیں۔ ملک میں تمام بازار سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بند ہونے چاہئیں۔ صرف ریسٹورنٹس اور میڈیکل اسٹورز کو آدھی رات کے بعد کھلا رہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلہ کو فوراً منسوخ کرنا چاہیے، دوسری صورت میں ملک میں ایک بدامنی کا دور آجائے گا۔
Today News
کامیاب سفارتکاری پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتا ہوں، عباس عراقچی
تہران:
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی، تاہم یہ عمل ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کے لیے 10 نکاتی تجویز بھی پیش کر دی ہے، جس میں اہم مطالبات شامل ہیں۔ ان تجاویز کے مطابق ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے، ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف مضبوط ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
Today News
اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز، پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا مذاکرات پر تیار
اسلام آباد:
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق کی خبر نشر کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا، جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔
Today News
یہ کیا ہے؟ – ایکسپریس اردو
ایک اردو یا اردو، پنجابی مکس کہاوت تو یہ ہے کہ جو ’’سوتے ‘‘ ہیں، وہ کھوتے ہیں لیکن پشتو کہاوت یہ ہے کہ جو سوتے ہیں، ان کی بھینسیں ہمیشہ ’’نر‘‘ کٹڑے دیتی ہیں اوراس کے پیچھے حکایت یہ ہے، جوہرکہاوت کے پیچھے ہوتی ہے ۔ اس حکایت اور کہاوت کا ہر کاشتکار اور زمیندار کو پتہ ہے ۔
یعنی جو سوتا ہے، وہ کھوتا ہے ، سے مراد یہ ہے کہ جو سست اور کاہل لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی چراتے ہیں اور سارا دن سونے میں گزار دیتے ہیں، یوں وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایسے ہی جو سوتاہے، اس کی بھینسیں یا گائیں ہمیشہ کٹڑا یا بچھڑا دیتی ہیں، سیدھی سی بات ہے کہ اگر بچھیایا کٹڑی ہوگی تو وہ آگے چل کر گائے یا بھینس بن جائے گی ، یوں کسان یا زمیندار کے گھر میں تازہ دودھ، مکھن، گھی اور دہی وافر ہوگا، گوبر سے اوپلے بنیں گے جو بطور ایندھن استعمال ہوں یا کھیتوں میں بطور کھاد لیکن کٹڑوں یا بچھڑوں کی منزل قصائی ہوگا جو اسے ذبح کرکے بطور گوشت انسانوں کو کھلا دے گا۔
آپ تو جانتے ہیں اورآپ سے زیادہ اورکون جان سکتا ہے کہ پاکستان ’’موجدوں‘‘ کی سرزمین ہے، یہاں وہ وہ ایجادیں ہوتی ہیں کہ اگر آئن سٹائن زندہ ہوتا تو وہ بھی آکر ان کے آگے ’’زنوائے تلمذ‘‘ تہہ کردیتا اورگزارش کرتا کہ اساتذہ کرام مجھے اپنی شاگردی میں قبول کرلیئجے۔یہ چیز تو آپ نے پڑھ لی ہوگی، اگر نہیں پڑھی تو ہم سنائے دیتے ہیں قند مکرر کے طورپر کہ
پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو ’’چھوٹا گوشت‘‘ بنا کر بیجنے والے دوکان دار قصاب گرفتار۔ پشاور میں کٹڑوں کے گوشت کو بکرے کا گوشت بنا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جب کہ مختلف کڑاہی گوشت رستورانوں اور ہوٹلوں کو بھی سپلائی ہوتا ہے ، خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پہلے بھی کئی بار ایسے لوگ پکڑے جاچکے ہیں لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ یہاں لوگ تو پکڑے جاتے ہیں لیکن ’’کاروبار‘‘ ہمیشہ جاری رہتے ہیں بلکہ پکڑ دھکڑ سے کاروبار میں اورتیزی آجاتی ہے کہ ’’ساجھے دار‘‘ بڑھ جاتے ہیں ۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
اشرف المخلوقات، حیوان اعلیٰ، خلیفۃ الارض عرف حضرت انسان اورنہ جانے کیا کچھ کرتا ہے ۔ اب پتہ نہیں کہ ان جانوروں کو باقاعدہ ’’ذبح‘‘ بھی کیا جاتا ہے یا نہیں ؟کیونکہ جانور درست طریقے سے ذبح کرنے کے لیے عام طورکچھ خاص الفاظ اداکیے جاتے ہیں، مثلاً بسم اللہ ، اللہ اکبر۔ رب جلیل نے فرمایا ہے کہ تم ہرکام شروع کرتے ہوئے میرا نام یعنی بسم اللہ پڑھاکرو ،اگر صرف اس بسم اللہ پر انسان کاربند ہوجائے تو پورا دین مکمل ہوجاتا ہے ، اس کوزے میں سمندر یہ ہے کہ جب ہم کوئی کام شروع کریں گے اوربسم اللہ سے ابتداء کریں گے تو لازم ہے کہ اس کام پر ہماری توجہ ہوگی کہ یہ کام کیا ہے ۔ کیا وہ کام کہیں ایسا تو نہیں ہے جس کی ممانعت ہو، جو گناہ ہو، یااللہ کا ناپسندیدہ ہو ۔اب اگر ایک کام کی بنیاد جھوٹ پر ہے یعنی گوشت بڑا ہے اور اسے چھوٹا بنا کر یا کہہ کر فروخت یا سپلائی کیا جاتا ہے تو اس پر اگر تکبیر پڑھ بھی لی تو کیا فروخت کرنے والے ، ذبح کرنے والے اور سپلائی کرنے والے کا کام جائز ہوجائے گا؟اس لیے ہمارے ذہن میں فوراً یہ آئے گا کہ یہ کام غلط ہے ، جرم ہے۔ اب ذرا دھونڈیئے ! سوتا کون ہے اور کھوتا کون ہے؟
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah