Today News
وی آئی پی کلچر کے خاتمے سے کفایت شعاری ممکن
حکومتوں نے دکھاوے کی کفایت شعاری کے لیے متعدد فیصلوں کا اعلان تو کیا مگر سرکاری طور پر نہ ہی وی وی آئی پی کلچر کو محدود کیا جس سے کفایت شعاری برائے نام ہوئی اور وی آئی پی کلچر پر تو کوئی اثر پڑا ہی نہیں، جس کا واضح ثبوت وزیراعظم کا حالیہ دورہ کراچی تھا جس پر لوگوں کی نظر تھی اور وہ گن رہے تھے کہ وی وی آئی پی پروٹوکول میں کتنی سرکاری و غیر سرکاری گاڑیاں ہیں جو گننے والوں کے مطابق 37 تھیں ۔تنقید کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو رمضان المبارک سے قبل سانحۂ گل پلازہ کے موقع پر کراچی آنا چاہیے تھا جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا ۔
وزیراعظم کے دورے میں کوئی سرکاری پروگرام نہیں تھا، بس وہ سینیٹر شیری رحمن کے گھر ان کی صاحبزادی کی وفات پر اظہار تعزیت اور پی پی رہنما فریال گوہر کی صاحبزادی کی شادی کی مبارک باد کے لیے کراچی آئے تھے اور چلتے چلتے ایئرپورٹ پر ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی ملاقات کا شرف بخشا ۔
پی پی رہنماؤں سے ملاقات وزیراعظم کے دورے کے شیڈول کا حصہ تھی ۔میرے خیال میں وہ کراچی آئے تھے تو شہر کے نمائندوں کو بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرکے کراچی شہر کی ابتر حالت سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اگر ملاقات ہوتی تو کراچی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے جاری منصوبوں میں بہت زیادہ تاخیر اور شہریوں کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہی دی جاتی مگر کسی نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی ،لگتا ہے کہ عوامی نمائندوں کو شہر کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ وزیراعظم مہینوں بعد کراچی کا یہ سیاسی دورہ کرکے واپس اسلام آباد لوٹ گئے ۔
جہاں ترقیاتی منصوبے ہفتوں میں مکمل کرلیے جاتے ہیں اور کراچی میں منصوبے سالوں سے زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل کی سندھ حکومت کو ہی فکر نہیں تو وفاقی حکومت کو کیوں ہوگی اور نہ کراچی کے منصوبوں کی تکمیل وفاقی وزراء کی ذمے داری ہے۔ وزیر داخلہ کو جب پنجاب کی ذمے داری ملی تھی تو انھوں نے پنجاب میں اپنی کارکردگی دکھائی تھی اور اب وہ اسلام آباد میں اپنی ذمے داری پوری کرکے وہاں وفاقی منصوبوں کو قبل از وقت تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
ملک میں عشروں سے جاری وی وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کم ہونے پر کوئی سرکاری توجہ نہیں ہے۔ صرف 1985 میں ملک میں مارشل لاء کے باوجود وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس کلچر کے خاتمے پر توجہ دی تھی اور ملک کے ہر شعبے کے اعلیٰ افسران کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی پالیسی دی تھی جس پر خود بھی عمل کیا تھا اور سرکاری عہدیداروں سے بھی عمل کراکر دکھایا تھا مگر 1988 میں ان کی حکومت ختم کردی گئی تھی کیوں کہ ملک کے وزیراعظم سے بڑوں کو وہ پالیسی پسند نہیں تھی جس کے بعد سے سرکاری طور پر مہنگے سے مہنگی کاریں فروغ پا رہی ہیں اور سندھ و پنجاب وکے پی میں سب سے زیادہ اور بلوچستان میں کچھ کم وی وی آئی پی کلچر بڑھ رہا ہے اور 17گریڈ تک کے افسروں کو بھی مہنگی گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں جن میں نمایاں اسسٹنٹ کمشنر ہیں جب کہ ملک بھر میں ڈپٹی کمشنروں کی رہائش گاہیں ان کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں سہولتیں اور مراعات ہر دور میں عوام دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔
جن کی زندگی عوامی ٹیکسوں پر شاہانہ گزر رہی ہے۔ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول گیس کے بحران کے باعث حکومت پاکستان نے بھی کفایت شعاری کا اعلان اور سرکاری و عوامی تقریبات کے انعقاد پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں مگر ملک کے تاجروں کے آگے وفاقی و صوبائی حکومتیں اتنی مجبور بے بس ہیں کہ کاروباری اوقات مقرر یا ان پر عمل نہیں کرا پا رہی کیوں کہ تاجروں کو ملک سے زیادہ اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں جس کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن بھی نہیں لگا پا رہیں اور وفاقی حکومت کا بھی صوبائی حکومتوں پر بھی اثر نہیں اور وفاقی حکومت صوبوں پر حکم نہیں چلاسکتی۔ صرف صوبوں سے درخواست ہی کرسکتی ہے۔ صوبائی حکومتیں مالی طور پر وفاق سے زیادہ مستحکم ہیں جہاں کے حکمران اپنے اپنے صوبوں میں کمال بااختیار اور شاہانہ اخراجات میں آزاد اور وی وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کررہے ہیں۔
خواہ پنجاب حکومت اربوں کا جہاز خریدے یا کے پی حکومت اپنے مال سے اپنے ورکروں میں کروڑوں روپے بانٹے اور سندھ کی حکومت ہر محکمے میں اپنے جیالے ضرورت سے زیادہ بھرے اور جس کو چاہے حکومتی عہدوں سے نوازے۔ بلوچستان حکومت بھی دیگر صوبوں کے ہی نقش قدم پر چل رہی ہے۔ایران جنگ کی وجہ سے حکومت پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کے باعث کفایت شعاری کا خیال آیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے متعدد اعلانات تو کیے مگر وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور سرکاری پروٹوکول میں کمی کا کوئی اعلان نہیں ہوا جس کے بغیر کفایت شعاری ممکن ہی نہیں اور حکمرانوں کی سادگی کی صرف باتیں ہیں کیوں کہ ان کی سادگی دکھاوے کے لیے صرف اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دکھائی جاتی ہے اور اقتدار میں آتے ہی انھیں نئی سرکاری گاڑیاں اور زیادہ سے زیادہ پروٹوکول مطلوب ہوتا ہے، البتہ نئے نئے سوٹ انھیں خود سلوانے پڑتے ہیں اور ان کی سادگی ختم ہوجاتی ہے۔
Today News
islamabad talks not an event but process irani ambassador
پاکستان میں تعینات ایرانی سفری رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ تمام فریقین کے مفاد کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کرنے کے لیے سفارتی عمل کی بنیاد ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ یہ مذاکرات کسی ایک وقتی ایونٹ کے بجائے ایک مسلسل سفارتی عمل کی حیثیت رکھتے ہیں، مذاکرات نے مستقبل میں پیش رفت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے، جو باہمی اعتماد اور سنجیدہ سیاسی عزم کے ذریعے تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برادر ملک پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکرات کے انعقاد میں نیک نیتی اور مثبت کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت، افواج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی انتھک کاوشوں کے باعث مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہوئے جہاں دونوں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں اور مہمانوں کے لیے باوقار ماحول یقینی بنایا گیا۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایرانی اعلیٰ سطح کے مذاکراتی وفد نے وقار، خوداعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور باوقار انداز میں گفتگو کی۔
The Islamabad Talks is “not an event but a process.”
The Islamabad Talks laid the foundation for a diplomatic process that, if trust and will are strengthened, can create a sustainable framework for the interests of all parties.I would like to express my gratitude to the… pic.twitter.com/qzCb1xYzPh
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 12, 2026
خیال رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر پرمشتمل تھا، جنہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں وفد کے ساتھ مذاکرات کیے تاہم حتمی معاہدہ نہیں ہوپایا۔
ایرانی وفد دو روزہ دورے کے بعد واپس ایرانی روانہ ہوگیا جبکہ امریکی وفد ان سے قبل امریکا واپس گیا تھا۔
Today News
جے ڈی وینس سمجھتے ہیں ایران سے معاہدہ ممکن ہے، امریکی عہدیدار
امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ بدستور ممکن ہے لیکن ایران نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نتیجہ خیز بنائے بغیر واپسی کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان بدستور موجود ہے۔
عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذاکرات کا خلاصہ بتایا کہ امریکی وفد کی سربراہی کرنے والے جے ڈی وینس نے مذاکرات کیے تھے اور ان کا خیال ہے کہ ایران نے مذاکرات میں لین دین کے حوالے سے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران وسیع مسائل پر حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ان مسائل میں ایران کی یورینیم افزودگی کا خاتمہ، وسیع پیمانے پر امن کا فریم ورک بشمول خطے میں اتحادیوں اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایک حل شامل ہے، جس میں ٹول فیس کی وصولی شامل نہ ہو۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے تھے، امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے علاوہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف شامل تھے جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر شامل تھے۔
Today News
پشاور؛ 24 گھنٹوں کے دوران دو پولیس اہلکار اغوا کے بعد قتل
پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران دو پولیس اہلکاروں کو قبائلی سرحد کے قریب سے اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جن کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔
ایکسپریس نیو کو ذرائع نے بتایا کہ پشاور کے علاقے حسن خیل میں گاؤں کے راستے میں نامعلوم افراد نے پولیس اہلکار کو اغوا کیا، جس کی چند گھنٹوں بعد ان کی لاش مل گئی جبکہ اس سے قبل ہفتے کو بھی نواحی علاقے حسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس جوان کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکارں کو مبینہ طور پر دہشت گردوں نےشہید کیا ہے تاہم محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پولیس ٹیموں نے کیس کی تفتیش شروع کردی ہے۔
پولیس اہلکاروں کے اغوا کے واقعے پر بتایا گیا کہ گزشتہ روز تھانہ حسن خیل کی حدود ایف آرپشاور میں نامعلوم افراد نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس کانسٹیبل مقتدر خان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پرہی جام شہادت نوش کرگئے، واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا،
بعد ازاں شہید مقتدر خان کی نمازجنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، کمانڈر 102 بریگیڈ بریگیڈیئر مبشر، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک فوج کے اعلیٰ حکام، ڈویژنل ایس پیز اور پولیس افسران سمیت جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدخاکی کو سلامی پیش کی، اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر خان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے عزم دہرایا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach
-
Today News2 weeks ago
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئی
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka sinks Gauff to clinch second straight Miami Open title
-
Sports2 weeks ago
England Test captain Stokes sidelined as he recovers from injury