Connect with us

Today News

وی شانتا رام – ایکسپریس اردو

Published

on


غیر منقسم برصغیر میں فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ تھیں، اس وقت پنجابی فلموں اور اردو ادب کا مرکز لاہور تھا، جب کہ اردو اور ہندی فلموں کا مرکز بمبئی (ممبئی) تھا، جب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا، سوہنی مہینوال پہلی پنجابی فلم تھی جس کا میوزک ماسٹر غلام حیدر نے دیا تھا، ابتدا میں بہت بڑے بڑے نام فلمی دنیا میں سامنے آئے جنھوں نے فلموں کو ایسے ایسے موضوعات دیے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، ان ابتدائی موسیقاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسر اور لکھاریوں کی ایک کہکشاں ہے جو کوندتی نظر آتی ہے۔

اس دور میں نتن بوس، دیویکا رانی، ستارہ دیوی، کے آصف، ڈائریکٹر محبوب، تارا چندر بھاٹیہ، طلعت محمود، راج کمار، ایس ایس واسن نمایاں تھے۔ اداکاروں میں پرنس آف منروا مودی ٹون صادق علی، پرتھوی راج کپور، مدھوبالا، دلیپ کمار، نرگس، نلنی جیونت، ثریا اور مینا کماری بہت خاص ہیں جنھوں نے لاجواب فلمیں شائقین کو دیں۔ کے آصف کی مغل اعظم، کمال امروہوی کی پاکیزہ، محبوب کی مدر انڈیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

فلمی ستاروں کی کہکشاں کا ایک چمکتا ستارہ تھا وی شانتا رام جو اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر اورکہانی کار تھے۔ یہ سب سے الگ اور منفرد تھے، انھوں نے بڑی شاہکار فلمیں فلم بینوں کو دیں۔ وی شانتا رام کا جنم کولہاپور میں 18 نومبر سن 1901 میں ہوا۔ ان کا پورا نام راجہ رام وانکوندرے رکھا گیا، شانتا رام کا من پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے گندھروا ناٹک منڈلی میں پردہ کھینچنے کے کام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ شانتا رام کافی وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ قد چھ فٹ تھا، یوں لوگوں کی نظروں میں جلد آگئے۔

تھیٹر کے زمانے میں وہ بابو راؤ پینٹر کے رابطے میں آگئے اور فلم بینی کی تربیت حاصل کی۔ شانتا رام نابغہ روزگار تھا، پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ کافی ذہین اور تیز تھے، وہ بہت جلد فلم کی باریکیوں سے واقف ہوگئے۔ 1925 میں بابوراؤ پینٹر نے انھیں اپنی فلم ’’ساوکاری پاش‘‘ میں ایک کسان کا رول دیا۔ وی شانتا رام فلمی افق پر ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ انھوں نے 1927 میں ایک فلم ’’ نیتا جی پالکر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم کی ہدایت کاری نے انھیں فلمی دنیا میں ایک سمت دی۔ انھوں نے چار ٹیکنیشنوں کو ساتھ ملا کر اپنی کمپنی ’’ پربھات فلم کمپنی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی میں چار افراد تھے یہ چاروں فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ تھے۔ 1932 میں شانتا رام نے ’’ایودھیا راجہ‘‘ نامی فلم بنائی جس کا مقصد دادا صاحب پھالکے کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا، اس فلم نے فلمی دنیا کو درگا کھوٹے جیسی خوبصورت اداکارہ دی۔

1934 میں انھوں نے ’’امرت نتھن‘‘ نامی فلم بنائی، 1935 میں انھوں نے ’’مہاتما‘‘ نامی فلم بنائی، یہ فلم ذات پات کی تقسیم کے موضوع پر تھی اور ایک جرأت مندانہ کاوش تھی جسے فلم بینوں نے بہت سراہا۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور شانتا رام کا قد بہ حیثیت ہدایت کار اور بھی بلند ہو گیا، یہ لوگ سینما کے معمار تھے۔

وی شانتا رام کی فلمیں موضوعاتی اعتبار سے اچھوتی ہوا کرتی تھیں، انھوں نے زیادہ تر سماجی فلمیں بنائیں جس میں ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ 1936 میں انھوں نے ’’ سنت تکارام‘‘ بنائی جو مہاراشٹر کے ایک مقبول شاعر تھے، اس کردار کو اداکار نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ فلم میں اس قدر سادگی اور نفاست تھی کہ 1937 کے وینس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازا گیا اور بڑی پذیرائی ملی۔ یہ پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بیرون ملک سراہا گیا۔

1936 میں ہی انھوں نے ایک فلم ’’ امر جیوتی‘‘ بنائی جو ایک عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے ایک اچھوتی فلم تھی۔ 1937 میں انھوں نے فلم ’’ دنیا نہ مانے‘‘ بنائی یہ فلم بھی عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، اس فلم کو پبلک نے بہت سراہا۔ 1939 میں انھوں نے فلم ’’آدمی‘‘ بنائی، یہ فلم شانتا رام کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے۔ 1941 میں انھوں نے فلم ’’ پڑوسی‘‘ بنائی، یہ فلم ہندو مسلم فساد پر بننے والی پہلی فلم تھی، اس فلم کو بھی عوام نے بے حد سراہا۔ یہ ایک شاہکار فلم تھی۔

شانتا رام نے پربھات فلم سے الگ ہو کر اپنی ذاتی فلم کمپنی بنائی اور اس کے تحت فلم ’’شکنتلا‘‘ بنائی۔ اس فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، یہ فلم 104 ہفتے چلی۔ 1946 میں انھوں نے ’’ڈاکٹر کوئنس کی امر کہانی‘‘ بنائی۔ یہ ایک سچی کہانی تھی جسے خواجہ احمد عباس نے فلم کے لیے لکھا تھا، اس فلم کی دیس بدیس خوب پذیرائی ہوئی۔ 1955 میں انھوں نے ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ 1959 میں ’’نو رنگ‘‘، 1963 میں ’’سہرا‘‘، 1971 میں ’’جل بن مچھلی نرتیہ بن بجلی‘‘ بنائی۔

یہ تمام فلمیں کلاسیکی رقص پر مبنی تھیں، ان فلموں نے شانتا رام کو شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ خاص کر ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ کی موسیقی، رقص اور جان دار کہانی کی وجہ سے آج تک شائقین کو یاد ہے۔ بقیہ تینوں فلموں کا موضوع بھی کلاسیکل رقص تھا جسے پبلک نے بے حد پسند کیا، خاص کر ’’ نو رنگ‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے بھی یادگار فلم تھی۔ ایک اور فلم تھی ان کی ’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ یہ ایک لاجواب فلم تھی۔ اس فلم کا ایک گیت برسوں بنا کا گیت مالا میں ریڈیو سیلون سے بجتا رہا، لتا کی آواز میں یہ کورس بہت مقبول ہوا۔

اے مالک تیرے بندے ہم

ایسے ہوں ہمارے کرم

نیکی پہ چلیں اور بدی سے بچیں

تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم

’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ ہر لحاظ سے ایک شاہکار فلم تھی، جسے پوری دنیا میں سراہا گیا، ہدایت کاری کے لحاظ سے، میوزک کے لحاظ سے، مکالمہ کی وجہ سے، فوٹو گرافی ہو یا پروڈکشن ہر لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ فلم تھی۔ اس فلم کو پہلی بار سان فرانسسکو کے فلمی فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ یورپ کے فلم سازوں نے اس فلم کو خوب سراہا۔ اس فلم کے لیے انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں 1958 میں نیشنل ایوارڈ، اس فلم کے لیے برلن ایوارڈ، OCIC فلم ایوارڈ، 1959 میں گولڈن گلوب ایوارڈ اور سمبل گولڈ گلوب ایوارڈ اور دو اور فلمیں بھی ایسی تھیں جو مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک فلم ’’پرچھائیں‘‘ جس میں شانتا رام نے ہیرو کا اور ان کی بیوی جے شری نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں سندھیا بھی تھی جو بعد میں شانتا رام کی بیوی بھی بنی۔ فلم ’’پرچھائیں ‘‘ شانتا رام کی اپنی کہانی بن گئی تھی، اس فلم کے دو گیت بہت مقبول ہوئے تھے، ایک طلعت محمود کا گایا ہوا یہ گیت:

محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیارکیا جانے

نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکارکیا جانے

اور دوسرا لتا کا گایا ہوا یہ گیت جو جے شری پہ فلمایا گیا تھا:

کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن پہلو بدل بدل کے

رہتے ہیں دل کے دل میں ارماں مچل مچل کے

شانتا رام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام وملا تھا جس سے ان کے کئی بچے ہوئے۔ دوسری بیوی جے شری سے ان کے تین بچے ہوئے اور سندھیا سے ان کے چار بچے ہوئے۔ ایک بیٹی نے ہندوستان کے نامی گرامی کلاسیکل گلوکار پنڈت جسراج سے شادی کی۔ انھیں اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ 1985 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 1992 میں پدم بھوشن ایوارڈ، 1992 میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی ’’صبح کا تارا‘‘، اس کی ہیروئن جے شری تھی، محبوب خان، کے آصف، کمال امروہوی اور شانتا رام جیسے لوگ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب بھی برصغیر کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس میں فلموں کا ذکر ہوگا تو یہ چار نام سرفہرست رہیں گے۔

 شانتا رام بڑے کھلے دل اور اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، ان کا کبھی کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے جس سے ان کی شہرت کو چار چاند لگے، لیکن وہ کبھی بد دماغ نہیں رہے۔ ہر ایک سے جھک کر ملنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت تھی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، لیاری لی مارکیٹ میں رکشہ گودام میں آگ، ریسکیو نے قابو پا لیا، ٹھیلے بھی متاثر

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے لیاری میں لی مارکیٹ کے قریب واقع رکشہ گودام میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں رکشوں کی پارکنگ ایریا اور متعدد ٹھیلے آگ کی زد میں آگئے۔

ترجمان ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول کو اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے خدشے کو ختم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق آتشزدگی کے باعث رکشوں کی پارکنگ ایریا اور متعدد ٹھیلے متاثر ہوئے ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پراکسی جنگ، خطے کا امن دائو پر

Published

on


کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 14 فتنتہ الخوارج کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید جب کہ تین زخمی ہوگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’’ پراکسی جنگ‘‘ کا نتیجہ ہیں۔

بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر کی تنگ گھاٹیوں تک پھیلا ہوا یہ خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے آشنا ہو رہا ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتیں اب محض اندرونی بے چینی کا مظہر نہیں رہیں بلکہ ایک منظم، کثیرالجہتی اور سرحد پار سے تقویت پانے والی پراکسی جنگ کا چہرہ اختیار کر چکی ہیں۔ کوئٹہ اور بارکھان میں حالیہ کارروائیوں نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت اپنی شکست کے باوجود مکمل طور پر نابود نہیں ہوا، بلکہ نئے چہروں، نئی حکمت عملیوں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے عناصر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے نام شامل ہیں۔ یہ محض اصطلاحات نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور عسکری رجحان کی علامت ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شہریوں میں خوف پھیلانے اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جب کسی صوبے کے دارالحکومت کے قریب اس نوعیت کے نیٹ ورکس سرگرم ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ دشمن محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری مراکز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کی حکمت عملی اب دیہی یا قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہی، یہ شہروں کی نفسیات، مارکیٹوں کی رونق اور تعلیمی اداروں کے سکون کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

 یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے سرحدی نظم و نسق کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا اگر اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ۔ ان کا یہ بیان محض سفارتی سختی نہیں بلکہ ایک اضطراب کی عکاسی ہے، وہ اضطراب جو ریاست کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی سلامتی کے خلاف منصوبہ بندی سرحد پار بیٹھ کر کی جا رہی ہے۔

 پراکسی جنگ کا مفہوم محض اسلحہ فراہم کرنے یا تربیت دینے تک محدود نہیں۔ یہ ایک مکمل بیانیہ کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، مذہبی جذبات، لسانی محرومیاں اور معاشی ناہمواریاں۔ سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس کا ہدف ریاست کی معیشت، سرمایہ کاری کا ماحول اور عالمی ساکھ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں بار بار دھماکوں اور حملوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں۔ یوں دشمن بغیر روایتی جنگ کے بھی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر امن قائم نہ رہے تو معدنی ذخائر، بندرگاہی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان نے داخلی سطح پر وہ تمام اصلاحات کر لی ہیں جو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہیں؟ نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ایک اہم سنگ میل تھا، مگر اس پر عملدرآمد کی رفتار اور تسلسل ہمیشہ بحث کا موضوع رہا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، مدرسہ اصلاحات، اور عدالتی نظام کی بہتری، یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے، اگر داخلی کمزوریاں برقرار رہیں گی تو بیرونی مداخلت کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسی کا تسلسل اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے۔

خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف معاشی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے خواب ہیں۔ دوسری طرف بداعتمادی، سرحدی کشیدگی اور پراکسی جنگوں کا سایہ۔ اگر دہشت گردی کا عفریت دوبارہ مضبوط ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ افغانستان پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، ایران کے ساتھ سرحدی معاملات حساس ہیں۔ کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

عالمی طاقتیں بھی اس منظرنامے سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔ اگر واقعی افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو یہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مؤثر سفارتی دباؤ اور نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے عالمی تعاون اور معلومات کا تبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن کا ہے۔ سختی اور حکمت، طاقت اور مفاہمت، خود مختاری اور علاقائی تعاون کے درمیان توازن۔ اگر فضائی کارروائیاں ناگزیر ہو جائیں تو ان کے سفارتی اور قانونی مضمرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا تاکہ وقتی فائدہ طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ سرحد پار کارروائی کی قیمت صرف عسکری نہیں، سیاسی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں، خاندان اجڑے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک جامع، غیر مبہم اور مستقل مزاج پالیسی اختیار کرے۔ وقتی سیاسی مفادات یا داخلی کشمکش اس قومی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمان کو اس موضوع پر متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو داخلی تقسیم کا فائدہ نہ مل سکے۔

بلوچستان کی خصوصی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت داری دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر عوام خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں گے تو بیرونی ایجنڈے کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔ احساسِ شمولیت دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔

اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔اس کے برعکس اگر ریاست دانشمندی، مستقل مزاجی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ داخلی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پالیسی میں ابہام نہ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے، سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرے، اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو آگے بڑھائے۔ پراکسی جنگوں کا انجام کبھی  فریقین کے حق میں نہیں ہوتا، وہ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اگر آج دانشمندی، جرات اور بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق کا نہیں، بیانیے، معیشت، انصاف اور قومی یکجہتی کا بھی ہے اور اسی ہمہ جہتی حکمت عملی میں پاکستان اور پورے خطے کا محفوظ اور مستحکم مستقبل مضمر ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جرم بصارت کی جسارت (حصہ اول)

Published

on


جب سے ہوش سنبھالا ہے ریاست و حکومت پر تنقید سنتا، پڑھتا آیا ہوں۔ ریاست و حکومت سے شکوے زبان زد عام تھے مگر جب تک کمانے کی مشقت سے آزاد اپنے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ کی کمائی پر گزر بسر ہو رہی تھی سوچتا تھا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے اور ماں اتنی بری کیسی ہوسکتی ہے؟ مگر جب اپنا اور بچوں کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا تو پتہ چل گیا کہ سیر سے کتنی پکتی ہے۔ مگر خدا گواہ ہے کہ کافی عرصے تک یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ریاست میرے ساتھ زیادتی کر رہی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میرا جیسا بندہ جو ریاست کو ماں کہہ کر پکارنے کا عادی تھا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ماں جیسی جان کی دشمن بن کر ظلم کرنے لگ گئی ہے آخر میرے جیسے کروڑوں پاکستانی یہ سوچنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ ریاست ہمارے ساتھ ظلم کرنے پر اتر آئی ہے۔

اگرچہ نابیناؤں کے شہر میں جرم بصارت اور جرم جسارت ناقابل معافی جرائم ہیں اور بسا اوقات تمام نابینا اس جرم کی پاداش میں صاحب بصارت و جسارت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر بصارت رکھنے والے نابینا شہر میں آئینہ بن کر بصارت و جسارت کا جرم کرنا پڑتا ہے۔

بقول و قلم احمد ندیم قاسمی:

زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں

دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے

سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے

آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے

کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے

سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر

زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے

اور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے

اے خداوندان ایوان عقائد

اے ہنر مندان آئین و سیاست

زندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئے

مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے

اس امید پر کہ شہر نابینا کے ایوان اقتدار میں بیٹھے نابیناؤں نے مجھے جرم بصارت و جسارت اجازت دینگے بات آگے بڑھاتا ہوں۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد، انوکھا اور بدقسمت ملک ہے جہاں عوام پر بین الاقوامی اور مقامی دہشتگردوں کے ساتھ اپنے حکمران بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ کبھی پٹرول، بجلی اور گیس بم گرا کر اور کبھی مہنگائی کی آگ بھڑکا کر۔ حکمران عوام کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے، عام عوام خصوصاً تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے عشرے میں نہ رکنے والے ریاستی معاشی دہشتگردی کی وجہ سے ہی ہانپنے لگتا ہے۔ تنخواہ دار اور اوسط درجے کا کاروباری طبقہ غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہتے اور عوام دشمن ترجیحات کی وجہ سے کاروبار کا پہیہ منجمد ہو چکا ہے، آخر کیوں عام عوام لاوارث ہیں ؟ اور وہ آخر جائیں کہاں؟

عام عوام ہر روز نئے نرخنامے کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور اور ہر مہینے بجلی کے بل عام عوام کی معاشی لاشوں پر دھما چوکڑی کرنے آجاتے ہیں۔

چھوٹا کاروباری سوچ رہا ہے کہ کاروبار جاری رکھے یا شٹر گرا کر فاقوں پر گزارہ کرے۔ ایک وقت کھانے والا دیہاڑی دار مزدور شیر خوار بچوں کے  “پانی میں دودھ ملانے” پر مجبورہے۔ ریاستی جبر کے ہاتھوں زندہ لاشوں کی دل چیرنے والی کہانیاں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں، عام عوام کو آج تک کبھی محسوس نہیں ہوا کہ موجودہ یا سابقہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عام عوام بھی ہیں۔ یہاں تو ہر پالیسی عام عوام کے گلے کا پھندا ثابت ہوتی ہے، مگر آج بجلی کے نہ ختم ہونے والے ریاستی جھٹکوں پر بات کرتے ہیں۔ بجلی کے بل پر نظر ڈالنے پر کئی جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ بجلی کی قیمت کے علاوہ پتہ نہیں کس کس نام سے سرچارج وصول کیے جاتے ہیں، بعض اوقات استعمال شدہ بجلی کی قیمت، واجب الادا رقم کے 30 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔

ٹیکسوں کی بھرمار کے علاوہ بروقت بجلی کا بل ادا کرنے کے جرم میں بجلی چوروں کی استعمال شدہ بجلی کو لائن لاسز کی ٹوپی پہنا کر عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ بجائے چور کو پکڑنے اور سزا دینے کے بل دینے والوں سے ان کا بل لیا جاتا رہا مگر عوام دشمن حکمرانوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی شاید اس لیے پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کو بھی عام عوام کے گلے کا پھندا اور بجلی کے جھٹکے دینے والی کرسی اس انداز میں بنائی گئی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ المیہ نہیں حکمرانوں کی نااہلی اور عوام دشمنی کا ثبوت ہے کہ ایٹمی پاکستان میں ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کے زہر آلود ماہانہ بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے اندھیروں نے عوام کا جینا دو بھر کیا تھا۔

لوڈشیڈنگ سے نجات اور سی پیک پروجیکٹ کے بیسیوں انڈسٹریل اسٹیٹس کے ضروریات پورا کرنے کے نام پر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر بدنام زمانہ آئی پی پیز کا ڈرامہ رچایا گیا۔ رئیس زادوں اور سرکاری دامادوں کو اربوں روپے کے قرضے آسان شرائط پر دلوائے گئے تو ہر ایک نے “حسب استطاعت و ضرورت” قرضے کی حاصل کردہ رقم سے خطیر رقوم ملک سے باہر اپنے بے نامی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردئے۔ 10-15 فیصد سے سرکاری مڈل مینز کی دوزخ کو بھر کر دو نمبر مشینری منگوائی اور حکومت نے آئی پی پیز کو لائسنس جاری کیے۔

گرمیوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو کل 22ہزار میگاواٹ اور سردیوں میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، آئی پی پیز سے پہلے گرمیوں کے موسم میں 8 ہزار میگاواٹ واٹ کے لگ بھگ بجلی کی کمی کا سامنا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور بیوروکریسی نے اپنی جیبیں بھرنے اور سرمایہ کاروں کو نوازنے کے لیے آئی پی پیز سے 46 ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کے لیے گارنٹیاں دے کر معاہدے کر لیے یعنی اس وقت کی ضرورت سے لگ بھگ 38 ہزار میگاواٹ زیادہ کے لیے معاہدے کیے گئے۔ اس وقت اور آج بھی ہماری ٹرانسمیشن لائنز میں 25 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ترسیل کی سکت نہیں اور گرمیوں میں مسلسل ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے ملک اندھیروں میں ڈوبتا رہتا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرانسمیشن کی ترسیلی سکت سے 35 ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی کے معاہدے کیوں کیے گئے؟ جس کی وجہ سے آئی پی پیز کو ایک یونٹ بجلی پیدا کیے بغیر فکسڈ چارجز کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔

ایک طرف عام عوام کے جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ہر ماہ ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف سرمایہ داروں بلکہ ان کی آیندہ آنے والی نسلوں کو بھی مالا مال کیا جا رہا ہے۔ یعنی ماں جسی ریاست اپنے سگے بچوں کی قومی خزانے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کی وصولی اپنی سوتیلی اولاد (عام عوام) سے کر رہی ہے۔ ریاست بجلی چوروں کی چوری، آئی پی پیز کی لوٹ مار اور کارخانہ داروں کو دی گئی رعایتی بجلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے اور اپنا حصہ لے کر ہر ذمے داری سے بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ جب بجلی کے بل عام عوام کے گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور کارخانو ں کے بجٹ کو نگلنے لگے تو حکومت و ریاست سے مایوس عام عوام نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات پانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کے چھتوں پر سولر پینل لگا کر ماحول دوست بجلی (گرین انرجی) بنانا شروع کیا تو حکومت نے عوام کے فلاح و بہبود اور آسانی کے نام پر سولر انرجی پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کو دن رات پروموٹ کیا تو عام عوام ان کے دھوکے میں آگئے، کسی نے اپنی جمع پونجی، کسی نے بیوی بچوں کے زیور بیچ کر اور کسی نے قرض لے کر اپنے گھر کے چھت پر منی آئی پی پی لگا لیے، آج تک کم و بیش 4 لاکھ 60 ہزار پاکستانیوں نے اپنی حلال کمائی کے اربوں روپے لگا کر یہ منی آئی پی پیز لگائے اور حکومت وقت نے ان کے ساتھ 7 سالہ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کیے۔

(جاری ہے)





Source link

Continue Reading

Trending