Connect with us

Today News

ٹرمپ کا سعودی ولی عہد سے ہنگامی رابطہ، سعودی حمایت کا اعادہ کر دیا

Published

on


واشنگٹن / ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شامی صدر احمد الشرع سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ احمد الشرع نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام سعودی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔

ادھر خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق شمالی عراق میں اربیل ائرپورٹ کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہوگیا، جس کے بعد علاقے سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ نقصان سے متعلق فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کاٹن ایئر 2025-26، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار مقررہ ہدف سے 45 فیصد کم

Published

on



کراچی:

ملک میں کاٹن ایئر2025-26 کے دوران کپاس کی مجموعی پیداوار کا حجم 1.5فیصدکے اضافے سے 56لاکھ 7ہزارگانٹھوں پرمشتمل رہی، تاہم یہ پیداوار مقررہ ہدف کے مقابلے میں 45لاکھ 93ہزار بیلز (45فیصد)کم رہی ہے۔

پی سی جی اے کی رپورٹ میں دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ و بلوچستان میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں پیداواری ہدف تقریباً 17فیصد کم ہونے کے باوجودوہاں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں  تقریباً 7.60فیصد زائدہوناہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر نے کاٹن ایئر2025-26 کیلیے کپاس کامجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ 2لاکھ گانٹھ مقررکیا تھا،جس میں سے پنجاب کیلیے 55لاکھ53ہزارگانٹھ ،جبکہ سندھ وبلوچستان کیلیے 46لاکھ 27ہزارگانٹھ مقررکیاگیاتھا۔

تاہم پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونیوالی زیرتبصرہ سال کی حتمی پیداواری رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران کپاس کی کل پیداوار 56لاکھ 7لاکھ گانٹھ رہی، جوکہ ہدف کے مقابلے میں ریکارڈ 45فیصد کم رہی۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار 26لاکھ 93ہزار بیلزرہی جوکہ ہدف کے مقابلے میں 28لاکھ 60ہزارگانٹھ (51.50فیصد) کم رہی، جبکہ سندھ و بلوچستان  میں اس سال کپاس کی پیداوار29لاکھ 15ہزارگانٹھ رہی جوکہ ہدف کے مقابلے17لاکھ 12ہزارگانٹھ (37فیصد) کم رہی۔

انہوں نے بتایاکہ رواب سال ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 51لاکھ 88ہزار روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی جبکہ برآمدکنندگان نے جننگ فیکٹریوں سے ایک لاکھ 78گانٹھیں خریدیں۔

جننگ فیکٹریوں، برآمد کنندگان،غلہ منڈیوں اور کاشت کاروں کے پاس روئی کی کل ملا کر تقریباً 4لاکھ گانٹھوں کے ذخائرموجود ہوسکتے ہیں، جن میں سے توقع ہے کہ معیاری روئی کے اسٹاکس تقریباً ایک لاکھ 25گانٹھوں کے لگ بھگ ہوسکتے ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ٹیکسٹائل ملوں مالکان کی جانب سے معیاری روئی کی درآمدات میں خاصی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان میں روئی کی درآمد میں متوقع غیر معمولی تاخیر کے باعث اندرون ملک روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان متوقع ہے۔

انہوں نے بتایاکہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے رواں سال روئی کی 40لاکھ سے زائد روئی کی گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر برازیل اور امریکاسے کیے گئے ہیں، تاہم عالمی منڈیوں کے حالات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستانی ملزروئی کی درآمد بارے مزید معاہدے کر سکتے ہیں۔

پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق  فروری کے مہینے کے دوران جننگ فیکٹریوں میں  روئی کی 62ہزار 300گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے جوکہ فروری 2025 کی نسبت ریکارڈ 348فیصد زائد ہے۔

جبکہ پنجاب میں اس وقت 67جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ جننگ فیکٹریوں میں ابھی تک کپاس کی آمد جاری ہے اس لیے پی سی جی اے کو چاہیے تھا کہ وہ کپاس کے حتمی پیداواری اعدادوشمار 31مارچ تک کے تین اپریل کو جاری کرتی جس سے کپاس کی پیداوار بارے بہترصورتحال واضح ہوسکتی۔

احسان الحق نے بتایاکہ ایف سی اے کپاس کا پیداواری ہدف 170کلو گرام فی گانٹھ کے حساب سے مقررکرتی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

برطانوی پارلیمنٹ میں تاریخی افطار تقریب، وزیر اعطم کیئر اسٹارمر کی شرکت

Published

on


برطانیہ کی پارلیمنٹ میں منعقدہ ایک بڑی افطار تقریب میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے شرکت کی اور روزہ افطار کرنے کے بعد شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں مسلمانوں کے کردار کو سراہا۔

اپنے خطاب میں کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ایران پر کسی جارحانہ حملے میں شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے اور وہ خود عراق جنگ کے مخالف رہے ہیں۔ ہم تاریخ سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں صرف اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے دفاع کیلئے اقدامات کر رہا ہے، کسی جارحانہ پالیسی کا حصہ نہیں۔

کیئر اسٹارمر نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ مساجد کی سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے 40 ملین پاؤنڈ مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ عبادت گاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

تقریب میں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔





Source link

Continue Reading

Today News

turkiye will contribute to the reestablishment of the ceasefire between pakistan and afghanistan

Published

on


ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں نے ترکیہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا، جو ترکیہ کی کوششوں سے ہی طے پائی تھی۔

ترک صدر نے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والے تنازعات کے حوالے سے خطے میں ایک بار پھر سفارت کاری اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عمل انتہائی مفید ثابت ہوگا اور ترکیہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوس ناک حملوں کی شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending