Connect with us

Today News

ٹرمپ کے اہداف! – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت کے بعد ’’رجیم چینج‘‘ کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ نہ ہی ٹرمپ کے مطالبے پر ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضے کا ٹرمپ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرانی عوام اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔

گزشتہ دس روز سے جاری جنگ کے دوران امریکا و اسرائیل نے ایران پر شدید بمباری کرکے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کا دفاعی نظام تباہ کر دیا ہے، سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور جلد ایران یہ جنگ ہار جائے گا، لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیوں کہ ایرانی میزائل نظام اب بھی پوری سرعت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ایران نے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملے کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا اس کی میزائل قوت کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی فوجی ماہرین کے مطابق ایران کے ہائپر سونک میزائل 9,000 سے 11,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جا سکتا اور یہ میزائل ٹرکوں سے داغے جاتے ہیں۔ امریکی ماہرین اس جنگ کو مشکل قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔

امریکا نے گزشتہ ربع صدی کے دوران افغانستان سے لے کر عراق تک اور لیبیا سے لے کر شام تک غیر ضروری جنگوں کا آغاز کیا۔ صدر ٹرمپ اپنے مختلف انٹرویوز میں خود ان جنگوں کو امریکی صدور کے غلط فیصلے اور پاگل پن قرار دے چکے ہیں۔ 2001 ء میں سانحہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر عالمی جنگ میں ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘ بننے پر مجبور کیا۔

یہ جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ 20 سال جاری رہنے والی اس جنگ میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور امریکا کو ڈھائی کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی، اس کے باوجود امریکا کو افغانستان سے پسپا ہو کر عالمی رسوائی و بدنامی کا داغ لیے نکلنا پڑا۔ صدر بش نے 2003 میں عراق میں صدام حسین پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے عراق پر حملہ کر دیا جس میں تین لاکھ کے لگ بھگ لوگ مارے گئے، صدام حسین کو معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ امریکا نے لیبیا میں مداخلت کرکے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کیا اور شام میں مداخلت کرکے اسد حکومت کا خاتمہ کیا۔ اب ایران کو تختہ مشق بنا لیا ہے۔امریکا اور اس کے بغل بچہ ملک اسرائیل کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ملکوں میں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ان کے تیل کی ذخائر پر قابض ہو جائیں اور عرب ممالک کے حکمران ان کے مطیع و فرماں بردار بن کر ان کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔

ٹرمپ کا فلسطین کے حوالے سے امن بورڈ اسی صیہونی منصوبے کی کڑی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پر ابووو نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امن بورڈ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے پیچھے ہٹا تو امن بورڈ سے نکل جائیں گے۔ اس ضمن میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے ابھی اپنا پالیسی موقف واضح نہیں کیا تاہم صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ پاکستان اور دیگر عرب ممالک بطور احتجاج ٹرمپ کے امن بورڈ سے نکل جائیں۔ بالخصوص ٹرمپ کو امن بورڈ دینے کی سفارش کا کوئی جواز نہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد اب کیوبا کو اپنا اگلا ہدف بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا وہ اپنے دعوے کے مطابق دنیا میں جنگیں رکوانے کی بجائے نئی جنگوں کا آغاز کر رہے ہیں اور اس کا اتحادی اسرائیل قدم قدم پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔

ایران کے بعد اسرائیل نے اب لبنان پر حملے شروع کر دیے ہیں جو اس امر کا عکاس ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے دائرہ کو وسیع کر رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئی ہیں۔ ایران نے دنیا کو 40 فی صد تیل فراہم کرنے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ قطر نے ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے۔ خلیجی ممالک کی قومی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک امریکا سے اپنے تجارتی معاہدے ختم کرنے اور سرمایہ نکالنے پر غور کر رہے ہیں جس کے باعث امریکا میں تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پاکستان پر بھی جنگ کے منفی اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور ملک میں توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ حکومت نے فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے اور ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی پاکستان کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئی تھیں اور امریکا ایران جنگ رک گئی تھی، لیکن اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ بقول صدر ٹرمپ کچھ ممالک اگرچہ ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں تاہم جنگ میں ایران کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، ایران غیر مشروط ہتھیار ڈال دے تو معاہدہ ہوگا ورنہ نہیں۔ ٹرمپ ایران میں اپنی مرضی کی قیادت لانا چاہتے ہیں، انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای کسی صورت قبول نہیں۔ ایران کو اپنے نئے رہنما کے انتخاب میں مجھے شامل کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ کشیدگی کو ہوا اور جنگ کو طول دے گا جس کے باعث پوری دنیا کو نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی، چین، روس، برطانیہ، فرانس، پاکستان اور دیگر عالمی برادری کو سفارتی سطح پر مشترکہ اور عملی طور پر جوہری کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا پر پوری قوت کے ساتھ ایران کے خلاف کشیدگی کے خاتمے اور جنگ رکوانے کے لیے سخت دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بصورت دیگر مشرق وسطیٰ کا امن برباد اور ٹرمپ کے قدم اپنے اگلے اہداف کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بڑھتے حکومتی اخراجات کا عوام پر مزید بوجھ

Published

on


ایک آزاد تھنک ٹینک کے مطابق حکومت پاکستان عوام پر مسلسل مالی بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے توگزشتہ تین برس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات پرکنٹرول نہیں کر رہیں بلکہ اپنے حکومتی اخراجات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

نان انٹرسٹ اخراجات میں 70 فی صد اور عملے سے متعلق اخراجات میں 59 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے مطابق GCDA میں بدعنوانی کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حکومت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں، انھیں تھنک ٹینک نے کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سیاسی طور پر حساس اصلاحات اور ادارہ جاتی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 56 فی صد کے برابر بنیادی سرپلس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ایڈجسٹمنٹ ہے اور اس میں 73 فی صد بوجھ محصولات کے ذریعے ڈالا گیا ہے جس کا زیادہ تر اثر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ کاروباروں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر پڑا ہے اور عوام پر بھی اثر پڑا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق 2022 سے حکومت نے مسلسل مالی استحکام ضرور حاصل کیا ہے جس سے آئی ایم ایف کسی حد تک ضرور مطمئن ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کی منظوری میں تاخیر پہ تاخیر ضرور کرتا ہے مگر انکار نہیں کرتا۔ تاخیر بھی جان بوجھ کر کی جاتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف جانتا ہے کہ اپنے فالتو اخراجات پورے کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی برائے نام ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان ہماری ہر شرط تسلیم کرے گی اور اپنے عوام پر محصولات کا بوجھ بڑھائے گی مگر قرضہ لینے سے انکار کبھی نہیں کرے گی کیونکہ اپنے شاہانہ حکومتی اخراجات پورا کرنے ، اپنوں کو مسلسل نوازنے اور غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بنانے والوں کے لیے سخت سے سخت شرائط مان کر بھی قرض لینا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے۔

حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں قرض کے لیے آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں بیٹھنا اور ہر شرط ماننا پڑتی ہے تب کہیں وہ اپنی شرط منوا کر اور تاخیری حربے اختیار کرکے قرض کی منظوری دیتا ہے مگر انکار نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض ضرور دینا ہے اور قرضوں پر ملنے والے سود کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف کا کاروبار چلتا ہے۔

آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی شرائط سے پاکستانیوں پر مہنگائی مسلط کراتا اور محصولات بڑھوانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پر تو کمی نہیں کرے گی تاکہ قرض ادا کرسکے، اس لیے آئی ایم ایف اپنے قرض کی وصولی کے لیے حکومت کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھواتا ہے اور بے بس عوام ہر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی احکامات ماننے سے انکار کی طاقت نہیں ہے۔

وہ حکومت کا ہر عوام دشمن فیصلہ ماننے پر مجبور ہیں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لیے موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر محصولات کا بوجھ ہی بڑھایا ہے اور عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہر بجٹ میں بوجھ بڑھا دیتی ہے اور محکمہ خزانہ اس واویلے کا عادی ہو چکا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت نے تو بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔

حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے مسلسل بڑھا رہی ہے جس کی تقلید صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے اٹھارویں ترمیم میں وفاق اور صوبوں میں کابینہ ارکان کی تعداد کم کرنے کا ذکر ضرور ہے مگر وفاق میں اس پر عمل ہو رہا ہے نہ صوبوں میں بلکہ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے علاوہ بھی بے شمار کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھے ہیں اور اپنوں کو مختلف تخلیق کیے گئے عہدوں پر تعینات کرکے نواز رکھا ہے۔

وفاق نے صوبوں میں اپنے خصوصی نمایندے مقرر کر رکھے ہیں۔ سندھ میں محکمہ اطلاعات موجود ہے مگر لاتعداد حکومتی ترجمان مقررکر رکھے ہیں اور ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے مگر عوام کے لیے ان حکومتوں کے پاس ریلیف یا سہولتیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومتی اخراجات بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر پڑا ہوا ہے اور عوام حکومتوں کے سرکاری حکام کو ہی نہیں بلکہ سیاسی حامیوں کو بھی پال رہے ہیں۔

صدر مملکت ہوں یا وزیر اعظم اور صوبوں میں بادشاہ بنے ہوئے وزرائے اعلیٰ کوئی عوام کی بات نہیں کرتا، نہ کبھی بے روزگاری اور مہنگائی کا ذکر ان کی زبانوں پر آتا ہے۔ وفاق اپنے مالی وسائل کم ہونے اور صوبوں کے وسائل کم ہونے کا رونا روتا ہے مگر وزیر اعظم اپنے غیر ملکی دورے کم کرنے پر تیار ہیں نہ حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے کی روادار ہیں جس کا واضح ثبوت حکومتی اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہے۔ کاش! حکومتیں قرضے لینا چھوڑیں اپنے وسائل میں رہ کر خرچ کریں تو عوام پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، وزیر داخلہ سندھ کی علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ آمد، یوم قدس ریلی پر تبادلہ خیال

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے خطیب پاکستان علامہ شہنشاہ نقوی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یوم قدس ریلی کے منتظمین سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ، ریاض شاہ شیرازی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کی المناک شہادت پر دعا کی گئی جبکہ 21 رمضان المبارک کو نکالی جانے والی یوم قدس ریلی کے سیکیورٹی انتظامات پر تفصیلی گفتگو بھی کی گئی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے اور ریلی کے شرکاء کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کو موجودہ نازک صورتحال میں باہمی افہام و تفہیم اور مذہبی رواداری کی اشد ضرورت ہے۔

اس موقع پر علامہ شہنشاہ نقوی اور یوم قدس ریلی کے منتظمین نے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریلی اپنے طے شدہ روٹس پر نظم و ضبط کے ساتھ نکالی جائے گی۔

دوسری جانب میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے ریلی کے موقع پر صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا اور اسلم بھائی کا دبدبہ

Published

on


اور جناب ٹرمپ صاحب نے آٹھ جنگیں رکواتے رکواتے اپنے کندھے اسرائیل کے حوالے کر کے نویں جنگ چھیڑ لی۔اسے کہتے ہیں خرچے ساڈے تے نخرے لوکاں دے ( یعنی اسرائیل کے )۔

 سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی برملا اعتراف کیا ہے کہ امریکی سرزمین کو فوری ایرانی خطرہ نہیں ، چونکہ اسرائیل نے جنگ شروع کر دی تو امریکا بھی مروتاً اس کا حصہ بن گیا۔مگر ایران کا غصہ گھوم پھر کے امریکیوں پر ہی نکلنا تھا لہذا ہم بھی انھیں بچانے کے لیے احتیاطاً اس جنگ کا حصہ بن گئے۔سی آئی اے نے بھی امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی کو یہی شہادت دی کہ ایران امریکا کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگراں ادارے آئی اے ای اے کی بھی یہی رائے ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ چار پانچ ہفتے میں نتیجہ سامنے آ جائے گا۔اب ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگزتھ کہہ رہے ہیں کہ معاملہ ستمبر تک بھی طول پکڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ساہوکاروں نے حساب کتاب لگایا ہے کہ اگر یہ جنگ تین ماہ چلتی ہے تو امریکی ٹیکس دھندگان کے کم ازکم ڈھائی سو ارب ڈالر چولہے میں چلے جائیں گے۔ابھی امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے نقصان کی پیمائش باقی ہے جو تیل اور گیس کی رکی ہوئی پیداوار اور سرمایہ کاری میں انجماد کی شکل میں کھرب ہا ڈالر میں جا سکتا ہے۔

ہمارے محلے میں ایک اسلم بھائی ہوا کرتے تھے۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اچھے وقتوں میں پانچ چھ قتل کیے تھے۔اس مشہوری کے سبب آخری وقت تک اتنی دھاک تھی کہ اسلم بھائی سے علاقے کے لوگ فیصلے کرواتے تھے۔اسلم بھائی کی پرچی بازار میں چلتی تھی اور تھانے والے اسلم بھائی کے حجرے میں جوتے باہر اتار کر داخل ہوتے تھے۔

کم ازکم ہم بچوں نے اسلم بھائی کو کبھی چیخ کر بات کرتے یا کسی کو گالیاں دیتے نہیں دیکھا۔اصلی ڈان کو نہ تو آواز اونچی کرنی پرتی ہے اور نہ ہی کسی ایرے غیرے سے ترکی بہ ترکی الجھنا پڑتا ہے۔ شخصیت اور پراسراریت کا دبدبہ ہی پیشاب خطا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

مگر امریکا کیسا عالمی دادا ہے جسے اپنی عظمت منوانے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی چھوٹے بڑے یا راہ چلتے سے گتھم گھتا ہونا پڑتا ہے۔القاعدہ جیسے گروہ نے نائن الیون کو چماٹ مار دی اور امریکا اس کی تلاش میں اتنا باؤلا ہوا کہ ہر آتے جاتے کو چھریاں مار دیں۔جو بھی ملک پاؤں تلے آیا روند ڈالا مگر ویسی دھشت پھر بھی قائم نہ ہو سکی۔

گمشدہ دبدبے کی تلاش میں پچھلے چھبیس برس میں امریکا چار جنگیں لڑ چکا ہے اور دس ممالک پر بمباری کر چکا ہے ( افغانستان ، ایران ، یمن ، عراق ، پاکستان ، صومالیہ ، لیبیا ، شام ، وینزویلا ، نائجیریا)۔ اس دوران ہر آڑے ٹیڑھے سے دھول دھپا اور ماں بہن تو خیر روزمرہ کا معمول ہے۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیرز کے تحقیقی ریکارڈ کے مطابق نائن الیون کے بعد سے اب تک افغانستان ، پاکستان ، عراق ، شام ، یمن سمیت متعدد بحرانی علاقوں میں امریکی پالیسیوں کے سبب ساڑھے نو لاکھ انسان ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں وہ لاکھوں اموات شامل نہیں جو ان بحرانوں کے نتیجے میں بھوک ، بیماری اور نقلِ مکانی کی شکل میں ہوئیں۔

ان مہمات پر امریکا کے لگ بھگ پانچ اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔اگر اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ دو اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر اسلحے اور فوجی نقل و حرکت کی مدد میں پینٹاگون نے خرچ کیے۔اس دوران پینٹاگون کو آٹھ سو چوراسی ارب ڈالر اضافی خرچے کی مد میں دیے گئے۔ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر داخلی سلامتی کے ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی پر خرچ ہوئے۔چار سو پینسٹھ ارب ڈالر مختلف معرکوں میں بیمار ، زخمی اور اپاہج ہونے والے فوجیوں کے طبی و تیماری اخراجات کی مد میں صرف ہوئے جب کہ ایک ٹریلین ڈالر جنگی قرضوں کے سود اور واپسی کی مد میں ادا ہوئے۔ اگلے تیس برس میں جو جنگیں لڑنی ہیں ان میں حصہ لینے والے فوجیوں کی طبی دیکھ بھال کے لیے ابھی سے دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر الگ سے رکھ دیے گئے ہیں ( اسے کہتے ہیں جنگجویانہ دور اندیشی )۔

اگر ہم نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی چار بڑی جنگوں کو الگ الگ دیکھیں تو اس میں جنگِ افغانستان سرِ فہرست ہے۔اس مہم کا نام آپریشن اینڈیورنگ فریڈم ( دائمی آزادی کا معرکہ) رکھا گیا۔آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افغانستان کس قدر ’’ دائمی‘‘ آزاد ہے۔ امریکی تاریخ کی اس سب سے طویل ( بیس برس ) بیرونی مہم میں سرخروئی کے لیے چار امریکی صدور نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔دو لاکھ اکتالیس ہزار انسانی جانیں گئیں پھر بھی آخر میں سرپٹ بھاگنا پڑ گیا۔

اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر یوں بنتی ہے کہ بیس برس میں اکہتر ہزار تین سو چوالیس سویلین مارے گئے۔ان میں چوبیس ہزار ننانوے پاکستانی سویلینز بھی شامل ہیں۔تین ہزار پانچ سو چھیاسی امریکی اور ناٹو فوجی ، اٹھہتر ہزار تین سو چودہ افغان فوجی اور پولیس اہلکار ( بشمول نو ہزار تین سو چودہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ) جان سے گئے۔ چوراسی ہزار ایک سو اکیاون مخالف چھاپہ مار ہلاک ہوئے (اکیاون ہزار ایک سو اکیانوے افغانستان میں اور تینتیس ہزار پاکستان میں )۔ مگر بیس برس میں افغانستان پر دو اعشاریہ چھبیس ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ جن طالبان سے حکومت چھینی تھی انھیں ہی امانت لوٹا کر رخصت ہونا پڑا۔

عراق کو جمہوریت کا گہوارہ بنانے کی جنگ آٹھ برس تک لڑی گئی۔عراق گہوارہ تو کیا بنتا البتہ دو لاکھ دس ہزار عام شہریوں کو تابوت میں بند کر دیا گیا۔

اس عرصے میں پاکستان ، صومالیہ اور ایران ڈرون جنگوں کا نشانہ بنے۔دو ہزار گیارہ میں لیبیا کو ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے لیے ناٹو نے امریکی قیادت میں ملک کا تیاپانچا کر دیا۔آج لیبیا میں دو متوازی حکومتیں ہیں اور خانہ جنگی بھی جاری ہے۔شام کی شکل بگڑ چکی ہے۔صومالیہ تین ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور یمن برادر ممالک کی جنگی شطرنجی بساط پر دنیا کا سب سے دربدر ملک بن چکا ہے اور امریکا خلیج میں نئے اسائنمنٹ پر اسی پرانے جذبے سے لگا پڑا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending