Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے ریکارڈ ساز اعداد و شمار
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 ریکارڈ ساز اعداد و شمار کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا۔
رواں ورلڈکپ میں پہلی مرتبہ 20 ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں اور مجموعی طور پر 55 میچز کھیلے گئے۔
ایونٹ میں 7 سنچریز اور 86 نصف سنچریز سمیت مجموعی طور 17582 رنز بنے جن میں سے 3270 رنز اننگز کے آخری تین اوورز میں بنے۔
پہلے پاور پلے میں 5411 رنز بنے جبکہ فری ہٹ کے اوپر 101 رنز بنے۔
ایونٹ میں 780 چھکے اور 1434 چوکے لگائے گئے یعنی مجموعی طور پر 10416 رنز باؤنڈریز کی مدد سے بنے۔
جن میں سے 5736 رنز چوکوں اور 4680 رنز چھکوں کی مدد سے بنائے گئے۔
پاکستان کے صاحبزادہ فرحان 2 سنچریز کی مدد سے 383 رنز بناکر نہ صرف ٹاپ اسکورر رہے بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے ایک ایڈیشن میں دو سنچریز بنانے والے پہلے بلے باز بھی بن گئے۔
رواں ایونٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگ کا اعزاز کینیڈا کے یوراج سامرہ کو حاصل ہوا جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف 110 رنز کی اننگز کھیلی۔
رواں ایونٹ میں 95 مرتبہ بلے باز صفر پر آؤٹ ہوئے۔
بولنگ ریکارڈز کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر 12059 گیندیں کرائی گئیں جن میں 46 نوبالز اور 429 وائیڈ گیندیں بھی شامل ہیں۔
بولنگ میں 53 فیصد فاسٹ بولرز اور 47 فیصد اسپنرز کا استعمال کیا گیا۔ بولرز نے مجموعی طور پر 14 میڈن اوورز کروائے اور 699 وکٹیں حاصل کیں۔
بھارت کے جسپریت بمراہ اور ورون چکرورتھی 14، 14 وکٹیں حاصل کرکے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں کی فہرست میں تاپ پر رہے۔
ایک اننگ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز ویسٹ انڈیز کے روماریو شیفرد کو حاصل ہوا جنہوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف 20 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔
فیلڈنگ پر نظر ڈالی جائے تو 485 کیچز پکڑے گئے جبکہ 110 ڈراپ کیے گئے۔ اس کے علاوہ 123 بلے باز بولڈ ہوئے، 32 ایل بی ڈبلیو، 39 رن آؤٹ اور 20 دیگر طریقے سے آؤٹ ہو
Today News
کراچی، پولیس افسر کا بائیک رائڈر پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر معطل
کراچی:
شہر کے علاقے کھارادر میں ایک پولیس افسر کی جانب سے بائیک رائڈر پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عاصم کو معطل کر دیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اے ایس آئی پٹرول پمپ پر موٹرسائیکل پر بیٹھے بائیک رائڈر پر تشدد کر رہا ہے۔
معطل سب انسپکٹر عاصم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے بائیک رائڈر کو پٹرول پمپ پر گٹکا کھاتے دیکھا تھا، جب اس سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
Today News
پیغام شہادت حیدر کرار کرم اﷲ وجہہ
تاریخ اسلام شہادتوں سے بھری پڑی ہے لیکن جیسی شہادت کا منظر مسجد کوفہ نے خیر البشر محمد مصطفی ﷺ کی محبوب ہستی حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے سر اقدس پر ضرب لگنے کے بعد دیکھا، اس کی مثال تاریخ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ وہ علیؓ جو اپنی ولادت سے رسولؐ کی رحلت تک آزمائش کے ہر گھڑی، جنگ کے ہر میدان اور امور مملکت میں ہادی برحق محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ رہے۔ جس علیؓ کے عدل کے بارے میں حضرت عمرؓ نے گواہی دی کہ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی زندگی اس بہترین زندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، جس کا تجربہ دنیائے بشریت آغاز حیات سے اب تک کرتی رہی ہے۔
یہ حیات طیبہ اس انسان کامل کی حیات ہے جو دنیائے انسانیت میں بندگی کا حقیقی مینار ہے، اور ان نایاب انسانوں میں سے ہیں جسے صفحۂ ارضی پر خلیفہ کا خطاب زیب دیتا ہے۔ یہ زندگی کس قدر جاذب و پُرکشش ہے جو دوستوں کو محبت کی بالا ترین حد اور دشمنوں کو ان سے دشمنی کی منتہیٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ علیؓ وہ ذات ہے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ کا فرمان ذی شان ہے: ’’اے علیؓ! تمہارے سلسلے میں دو طرح کے گروہ ہلاک ہوں گے، ایک وہ جو تم سے دوستی میں افراط و تفریط و زیادتی سے کام لے گا اور دوسرا گروہ وہ ہے جو تم سے بے انتہا دشمنی رکھے گا۔‘‘
علیؓ وہ وا حد ہستی ہیں جو بیت اﷲ میں تشریف لائے اور خانۂ خدا میں سجدہ خالق کے دوران شہادت کی ضرب کھائی۔ اس وقت تک آنکھ نہ کھولی جب تک آنحضورؐ نے اپنی آغوش میں نہ لے لیا اور علیؓ کو اپنا لعاب دہن دیا اور یوں اپنی ولادت سے رسول کریم ﷺ کی رحلت تک آزمائش کے ہر گھڑی، جنگ کے ہر میدان اور امور مملکت میں علیؓ، خیر البشر محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ رہے۔ آپؓ کی پیشانی کبھی کسی بُت کے سامنے نہیں جھکی، اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ ’’کرم اﷲ وجہہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کے فضائل و کمالات کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ امام احمد بن حنبلؒؒ نے فرمایا: ’’ علیؓ کے لیے جتنے فضائل و مناقب ہیں اور کسی کے لیے نہیں۔‘‘
آپؓ نے امت میں سب سے پہلے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ عبادت کا شرف حاصل کیا۔ (سیرت حلبیہ) دعوت ذوی العشیرۃ میں رسول کریم ﷺ کی تائید و نصرت کا اعلان کیا۔ شب ہجرت کفار مکہ کی پروا نہ کرتے ہوئے کمال جرأت مندی کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے بستر پر سوئے۔ مواخات میں رسول اکرم ﷺ نے انھیں اپنا بھائی قرار دیا۔ اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد اس کے تحفظ میں بھی سب سے آگے رہے۔ بدر کے میدان میں کفار کے سرداروں کے غرور کو خاک میں ملایا۔ جنگ احد میں رسولؐ کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ رسول اﷲ ﷺ کے زخموں کا علاج کیا، جنگ خندق میں عمر ابن عبدود جیسے جری کو پچھاڑا۔ خیبر کے ناقابل تسخیر قلعہ کو تسخیر کرکے مرحب جیسے بہادر کو جہنم کی راہ دکھائی۔ علیؓ ہی نے فتح مکہ کے روز رسول ﷺ کے کندھوں پر سوار ہوکر خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرکے بت شکن کا اعزاز حاصل کیا۔
سخی ایسے کہ رات بھر باغ میں مزدوری کرکے حاصل ہونے والی جَو سے پکنے والی روٹیوں کو عین افطار کے وقت سوالی کو دے دیا اور تین دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ آپ ؓ اور اہلِ خانہ بھوکے پیاسے رہے۔ جس پر سورہ ہل اتیٰ نازل ہوئی۔
حضرت علیؓ کی زندگی کے اہم ترین نمونوں میں سے ایک آپ کا علم ہے۔ چناں چہ یہ بات زبان زد خاص و عام ہے کہ قرآن مجید اور فرمودات پیمبرؐ کے بعد علیؓ کے کلام سے بہتر کوئی کلام نہیں۔ اور کیوں نہ ہو رسول ﷺ نے فرمایا: ’’میں شہر علم ہوں، علیؓ اس کا دروازہ ہے۔‘‘ اور پیمبر ﷺ کو علیؓ پر اس قدر انحصار تھا کہ علیؓ کو حکم دیا اے علی! تم لوگوں کو وضو اور سنت کی تعلیم دو۔ (طبقات البریٰ)
خاتم الانبیاء ﷺ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’علم قضا کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا نو حصے علیؓ کو اور ایک حصہ پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا۔‘‘ (حلیۃ اولیا جلد اوّل) یہی وجہ تھی کہ خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطابؓ اپنی خلافت کے دوران علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ سے مرجع و منبع علم سمجھتے ہوئے مشکل ترین امور میں ان سے مشاورت حاصل کرتے، اسی لیے کہا کہ خدا عمر کو اس مشکل سے رُو بہ رُو ہونے کے لیے باقی نہ رکھے جسے حل کرنے کے لیے علیؓ موجود نہ ہوں۔ (طبقات جلد 2)
خود علیؓ کا فرمان ہے کہ ہم اہل بیت اﷲ و رسولؐ کے پیغام سے سب سے زیادہ آگاہ ہیں۔ ایک موقع پر فرمایا کہ جو میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا، چاہے حدیث ہو یا کچھ اور، اسے فراموش نہیں کیا۔ (انساب الاشراف) جناب علیؓ کا فرمان ہے کہ خدا کی قسم! کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ کہاں نازل ہوئی اور کس سلسلے میں نازل ہوئی۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں اگر سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنا چاہوں تو 70 اونٹوں کے برابر ہو جائے۔ ( التراتیب الاداریہ) علماء کے درمیان عہد قدیم سے یہ بات مشہور ہے کہ علیؓ کے علاوہ کسی اور میں سلونی قبل ان تفکدونی کہنے کی جرأت نہ ہوئی۔ (جامع بیان العلم جلد1) علی ابن طالبؓ کا فرمان ہے: ’’خدا کی قسم یہ پیوند دار جوتیاں میرے نزدیک تم جیسے لوگوں پر حکومت کرنے سے زیادہ بلند ہیں۔ مگر یہ کہ اس حکومت کے ذریعے کسی حق کو اس کی جگہ قائم کروں یا کسی امر باطل کو اکھاڑ پھینکوں۔‘‘
اسلام کی یہ عظیم و نمایاں شخصیت جہان علم و فکر اور تاریخ بشری میں ہمیشہ باقی رہنے والی شجاعت، عفت، طہارت اور جرأت و عدالت کی تاب ناک روشنی کا یہ آفتاب و ماہ تاب21 رمضان کو کوفہ میں غروب ہوگیا۔ مگر اس کے نظریات و فرمودات و ارشادات آغاز شہادت سے لے کر جب تک دنیا ہے، تب تک حیات انسانی کے مراحل اور راہوں میں جاری و ساری رہیں گے۔ آج بھی علیؓ کا طرز زندگی ظلم و بربریت اور کفر و نفاق کے لیے موت ہے۔ مسلم دنیا جو اس وقت مصائب و آلام میں گرفتار ہے، علیؓ کی زندگی اختیار کرکے مصائب و آلام پر قابو پا سکتی ہے اور دنیائے شیطانی کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ سیرت امیر المومنین علی ابن ابی طالبؓ پر چلتے ہوئے استعماری قوتوں کے مقابل خیبر شکن جرأت کا مظاہرہ کرے۔ عدل و انصاف کی راہ اپنائے اور علم و حکمت کے ساتھ ٹوٹا ہوا رشتہ مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کے لیے مدینہ العلم محمد مصطفی ﷺ کے در پر اپنا سر جھکالے تو کوئی طاقت کلمۂ توحید کے پرستاروں کو زیر کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکے گی۔
Today News
آئی ایم ایف کا ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض
اسلام آباد:
عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف ) نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے کی قانونی ترمیم پر اعتراض کر دیا ہے اور اسے واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ کمیشن کسی صورت شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کریگا۔
لاء ڈویژن نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ابھی تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے، جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے نجی قانون سازی کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے لاء ڈویژن سے واضح موقف اختیار کرنے کو کہا ہے ۔ قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کے عوامی افشا کو محدود کرنے کے لیے صرف اس وقت منظور کی جب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ان ترامیم کے بارے میں استفسار کیا ہے ۔ بتایا گیا کہ یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بنیں کیونکہ سینیٹ نے بل پر ووٹ نہیں دیا ہے۔
بل قومی اسمبلی میں گزشتہ سال مئی میں ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے پیش کیا تھا، قومی اسمبلی نے دفعہ 138 میں ترمیم کی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری گزٹ میں ہونے والے انکشافات کی حد کا تعین سرکاری گزٹ میں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے این اے او میں حالیہ ترامیم کے بارے میں بھی بریفنگ لی۔ صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے این اے او (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی تھی جس کے تحت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔
نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کی مدت ملازمت گزشتہ ہفتے ختم ہونے والی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ 2022 کی حکومت نے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع سے متعلق اصل شق کو حذف کیا تھا تو آئی ایم ایف نے اس پر اعتراض کیا تھا اس وقت آئی ایم ایف کا خیال تھا کہ توسیع سے پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم اب آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین سمیت اہم تقرریوں کے لیے زیادہ شفاف طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus