Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ ناقص کارکردگی پر کوچ کیساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی
ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان بڑھ گیا ، کوچ کے ساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی،ٹیم میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت کئی پلیئرز کی جگہ خطرے میں پڑ گئی، نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو آزمانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ سیریز کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ادھر شاہد آفریدی نے شاداب خان کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا،سابق کپتان کے مطابق حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخر زمان کو ذمہ داری سونپنی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے ، ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دینے لگی۔
ذرائع کے مطابق قیادت اور کوچنگ اسٹاف کے مستقبل پر سنجیدہ غور جاری ہے،آئندہ چند ہفتے کئی اہم فیصلوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی پوزیشنز بھی زیر بحث ہیں جبکہ سلیکشن کمیٹی کارکردگی کی بنیاد پر اسکواڈ میں رد و بدل پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک تو رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تاہم سیمی فائنل میں جگہ نہ بناسکی،روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست اور پھر انگلینڈ کے ہاتھوں ہار نے پاکستان کی راہ مزید دشوار بنا دی۔ آخری میچ میں سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی درکار تھی لیکن مڈل آرڈر کی ناقص بیٹنگ کے باعث مطلوبہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا اور یوں گرین شرٹس کا سفر اختتام کو پہنچا۔
میگا ایونٹ میں ناقص اجتماعی کارکردگی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تجربہ کار کرکٹرز کو آرام دے کر نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غورہے۔ اس تناظر میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی بحث جاری ہے۔
پی سی بی حکام ٹیم کی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور دبائو میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔دوسری جانب سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اسپن بولنگ آل راونڈر شاداب خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے،فخرزمان کو کپتان بنایا جا سکتا ہے، ہیڈ کوچ مسلسل شاداب کو مواقع دے رہے ہیں لیکن بار بار چانس ملنے کے باوجود وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکیشاداب خان نے 6 میچز میں 118 رنز بنائے، ان کی بیٹنگ اوسط 23.60 اور اسٹرائیک ریٹ 153.25 رہا۔
بولنگ میں وہ صرف 5 وکٹیں حاصل کر سکے، بولنگ اوسط 30.40 اور اکانومی ریٹ 8.44 رہی۔ ناقدین کے مطابق شاداب اہم مواقع پرمیچ کا رخ موڑ سکے نہ ہی ٹیم کو درکار کامیابیفراہم کر پائے، ورلڈ کپ میں اگر کوئی نمایاں مثبت پہلو سامنے آیا تو وہ اوپنر صاحبزادہ فرحان کی شاندار کارکردگی تھی۔
انہوں نے 6 اننگز میں 383 رنز اسکور کیے، ان کی اوسط 76.60 اور اسٹرائیک ریٹ 160.26 رہا۔ وہ پورے ایونٹ میں پاکستان کے سب سے مستقل مزاج بیٹر ثابت ہوئے اور مشکل حالات میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا کی پوزیشنز محفوظ نہیں رہیں اور آئندہ چند دن ان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ پی سی بی کے اعلی حکام ٹیم کی مجموعی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور میدان میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں ، ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، قومی اسکواڈ میں ممکنہ رد و بدل کی بازگشت بھی تیز ہو چکی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ سلیکشن کمیٹی ٹیم کمبی نیشن میں بڑی تبدیلیاں کر سکتی ہے، بعض سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے اور نوجوانوں کو آزمانے کی تجویز زیر غور ہے، کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے ، جو پلیئرز تسلسل کے ساتھ نتائج دینے میں ناکام رہے انھیں ڈراپ کیے جانے کا امکان موجود ہے،اس تناظر میں بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں نام بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں،مسلسل دبائو اور غیر یقینی فضا کے باعث فیصلہ سازی متاثر ہو رہی ہے، اہم مواقع پر غلط حکمت عملی اور ناقص عمل درآمد ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کے خلاف مجوزہ سیریز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ، اسے کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لئے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے ۔
Source link
Today News
ایران امریکا جنگ فضائی حدود کی بندش کامعاملہ سنگین ہوگیا
ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے آج یو اے ای بحرین کویت، قطر سمیت دیگر مشرق وسطی کی 130 پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی ائیرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی قطر، شارجہ، کویت بحرین کی 30 پروازیں منسوخ، اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی ابو ظہبی دوحہ بحرین کویت شارجہ سمیت دیگر ایرپورٹس کی 36 پروازیں منسوخ اور لاہور ائیرپورٹ پر دبئی ابو ظہبی قطر کویت بحرین کی 22 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
پشاور ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ قطر ابو ظہبی کی 14 فلائٹس منسوخ، ملتان ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ راس الخیمہ بحرین دوحہ کویت کی 14 پروازیں منسوخ، سیالکوٹ ائیرپورٹ سے دبئی اور شارجہ ابو ظہبی سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کی 10 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
فیصل آباد ائیرپورٹ سے 4 مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کی گئیں۔ منسوخ پروازوں میں ایمریٹس،اتحاد،ائیر عریبیہ پی آئی اے،ائیر بلیو،قطر ائیرویز سمیت دیگر ملکی اور غیرملکی ائیرلائنز شامل ہیں۔
پاکستان سے مشرق وسطیٰ ملکوں کی منسوخ پروازوں کی تعداد 708 ہوگئی
28 فروری سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت، ایران کی فضائی حدود بند ہونے سے ائیرلائنز کی پروازیں متواتر منسوخ ہورہی ہیں،ذرائع
لاہور مجموعی طور پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے آٹھ ائیرپورٹ سے 167 پروازیں منسوخ ہو ئیں ہیں ائیرپورٹ زرائع
Today News
عمرہ اجازت کیلیے شیخ رشید کی درخواست پر ہائیکورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے
راولپنڈی:
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔
پٹیشن کی سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد ایک تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ جو شخص جب بھی عمرہ پر گیا ہو اور بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے سے روکنا کیا آئین میں دی گئی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کی خلاف ورزی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ سرکار واپسی کی گارنٹی لے کر سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اتھارٹی سے اس حوالے سے اجازت کا موقف معلوم کریں۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی وجہ سے روکا گیا ہے۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسے روکنے کے لیے کوئی واضح قانون موجود ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ عدالت اس کیس کو تفصیلی طور پر سن کر آئین کے آرٹیکل 28-A کے تحت فیصلہ کرے گی۔
شیخ رشید احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ 17 مرتبہ پاکستان کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں لیکن آج انہیں عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی مقدمات کے دوران وہ 8 مرتبہ بیرون ملک گئے اور ہر دفعہ 8 سے 10 دن کے اندر واپس آتے رہے، تاہم اس مرتبہ انہیں 6 ماہ سے عمرہ پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔
وکیل سردار عبدالرازق خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکال چکی ہے لیکن انہیں دوبارہ بغیر کسی وجہ کے سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کسی دفعہ کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران شیخ رشید احمد نے اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ عدالت میں پیش کی۔ اس موقع پر جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی سے پنسل بھی نہیں لے سکتے، اگر آپ کتاب ہائیکورٹ کو دینا چاہتے ہیں تو تحریری طور پر ہائیکورٹ کی لائبریری کو دے دیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو پورا دن سن کر مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔
Today News
مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا
لاہور:
ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد رجسٹرار کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج لاہور نسیم اختر ناز کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے جب کہ سول جج راولپنڈی محمد اسلم کو بھی مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کر دیا گیا۔
اسی طرح سول جج جہلم سرمد سلیم کو بھی عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سول جج سرمد سلیم ایک ماہ کی چھٹی لے کر بیرون ملک گئے تھے اور انہوں نے دوبارہ چارج سنبھالنے کے بجائے استعفا ٰ ارسال کر دیا تھا۔
اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سیشن جج جہلم کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ سول جج نے چھٹیوں کے بعد دفتر کا چارج سنبھالے بغیر استعفا بھجوایا تھا جس کے بعد انتظامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans