Today News
پاک،افغانستان اور ایران ،امریکا و اسرائیل جنگ
کچھ دن پہلے پاکستان کو اطلاع ملی کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر وزیرستان اور بنوں پر قبضہ کرنے کا کہا۔ٹی ٹی پی نے کہا کہ ایسا ہو جائے گا، یہ ہمارے لیے بہت آسان ہے۔اسی طرح افغان طالبان نے انڈیا کی شہ پا کر پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے قبائلی علاقوں کا خیبر پختون خواہ میں انضمام ختم کر کے واپس آزاد علاقے نہ بنایا اور ٹی ٹی پی کو وہاں کھلی چھٹی نہ دی تو ان کے پاس دس ہزار خود کش بمبار ہیں۔
طالبان ان خود کش بمباروں کو پاکستان کے طول و عرض میں کارروائیوں کے لیے پھیلا دیں گے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترلائی شیعہ مسجد میں خود کش دھماکہ کر کے اور معصوم عبادت گزاروں کو شہید کر کے اپنی سنجیدگی کا ثبوت پیش کر دیا۔انھوں نے ایک اور ایسے ہی دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل شہزادہ گلفراز کو بھی شہید کر دیا۔ان حالات میں پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے۔
افغانستان نے بدلہ لینے کے بہانے ایک ہفتہ پہلے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ کم و بیش 53 مقامات پر گولہ باری کی۔پاکستانی افواج اس حملے کے جواب کے لیے تیار تھیں۔پاک فضائیہ اور زمینی دستوں نے کابل، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی کمین گاہوں و ہیڈکوارٹروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔پاکستان کے ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں خوارج ہلاک و زخمی ہوئے۔بہت سے افغان ٹینک ، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔پاکستان نے کئی افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کیا اور کئی ایک کے اوپر قبضہ کر لیا۔
پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر افسر اور جوان شہادت کا متمنی ہے۔شہادت کے جذبے سے لبریز ہونے کے ساتھ بہترین تربیت یافتہ بھی ہے لیکن کسی بھی افغان پر حملہ کرنا اسے پسند نہیں کیونکہ فریقِ مخالف مسلمان ہے۔بہر حال اس کا کیا کیا جائے کہ افغان، مملکت پاکستان کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔ان کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور ہاتھوں میں اسلحہ ہے۔پاکستان نے افغانوں کی سوویت یونین کے خلاف مدد کی۔امریکا اور اتحادیوں کے خلاف سیاسی،سفارتی اور جنگی مدد فراہم کی۔
چالیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو کئی دہائیوں تک پاکستان میں رکھا البتہ افغانوں کو جب بھی موقع ملا وہ انڈیا کی گود میں جا بیٹھے تاکہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو ایکسپلائٹ کرسکیں۔ پاکستان نے بہت لمبے عرصے کے بعد دیر آید درست آید پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا کہ افغان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھنی ہے۔آپریشن غضب للحق ابھی تک جاری ہے۔خدا کرے اس مرتبہ یا تو افغان طالبان سمجھ جائیں کہ پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی سے رہنے میں بھلائی ہے اور یہ کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،یا پھر پاکستان کسی وقتی مصلحت کا شکار نہ ہو اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
جنیوا میں امریکا ایران مذاکرات ہورہے تھے۔ بظاہر اچھی پیش رفت ہو رہی تھی۔ایران کے پاس اس وقت 60فی صد یورینیم افزودگی کی صلاحیت ہے۔ابتدا میں افزودگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن 60فی صد سے ویپن گریڈ افزودگی صلاحیت حاصل کرنے میں سالوں نہیں بلکہ چند ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ایرانی قیادت نے شاید یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ویپن گریڈ صلاحیت حاصل نہیں کرنی۔اسی لیے ایران جنیوا مذاکرات میں یہ تجویز دے رہا تھا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے یورینیم افزودگی کو 30فی صد پر لے جائے گا لیکن یہ دوسری بار ہوا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں الجھا کر جنگ شروع کر دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے بارہا یہ کہا کہ وہ کوئی نئی جنگ نہیں شروع کریں گے اور پرانی جنگوں کو ختم کریں گے۔ صیہونی یہودی لابی امریکا میں اتنی طاقتور اور اتنی با اثر ہے کہ امریکی انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہے۔ ٹرمپ خود اس جنگ سے ہچکچا رہے تھے لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے زور دیا کہ 2025کی جنگ کے نامکمل ایجنڈے کو ضرور پورا کیا جائے۔جنگ شروع ہوتے ہی ٹرمپ کے پہلے بیان کو دیکھیں تو وہ نتن یاہو کی زبان بولتا نظر آتا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم اس جنگ میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کو ختم کرنا،ایرانی میزائل پروگرام کو ملیامیٹ کرنا اور ایران میں امریکا و اسرائیل کی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل اور امریکا نے اپنا پہلا ہدف بآسانی حاصل کر لیا ہے۔جناب خامنہ ای اپنی فیملی کے کچھ افراد کے ساتھ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں شہید ہوئے۔ان کے ساتھ ایرانی آرمی،انقلابی گارڈز کے اعلیٰ عہدیدار بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ٹرمپ کے بقول ایران کی تمام اعلیٰ قیادت موت کے گھاٹ اتار دی گئی ہے۔ایران نے پچھلے سال کی جنگ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہر شعبے کی Chain of Command کو کافی نیچے تک آرگنائز کر دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کے بعد اب متبادل قیادت فیصلے کر رہی ہے۔اس ایک ہدف کے حصول کے علاوہ امریکا و اسرائیل ابھی تک کچھ اور حاصل نہیں کر سکے۔ان کا خیال تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکا و اسرائیل کی مرضی کی قیادت اقتدار سنبھال لے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اور ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔
صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔یہ اس وقت بھی ایک دیوانے کی بڑ لگتی تھی اور چند دن پہلے ایران،امریکا مذاکرات نے ثابت کر دیا کہ وہ دعویٰ بالکل غلط تھا۔اگر بقول ٹرمپ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم ہو چکی ہے تو پھر کاہے کے مذاکرات اور ایران سے کیا مطالبہ۔ بہرحال نتن یاہو اپنے Un finishedایجنڈے یعنی ایران میں رجیم چینج اور ایران کو بے دست و پا کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ہیمر لاک لگایا ہوا ہے۔نتن یاہو کے سامنے جتنا بے بس ٹرمپ ہے اتنا کوئی دوسرا امریکی صدر نہیں تھا۔امریکا اور اسرائیل کو ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران ایک وسیع رقبے والا بڑا ملک ہے۔ایران پر جتنے بھی بم مار لیں پھر بھی ایران کا ایک بہت بڑا حصہ محفوظ رہے گا جب کہ اسرائیل چند بموں سے ہی شدید زخمی ہو جائے گا۔
اسرائیل کے اندر ایرانی حملوں سے جو تباہی ہو رہی ہے وہ رپورٹ نہیں ہو رہی۔آبنائے ہرمز وقتی طور پر کچھ بند ہے جس سے تیل کی آزادانہ نقل و حرکت رک گئی ہے۔اس سے پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں متاثر ہو رہی ہیں۔امریکا و اسرائیل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے جتن میں ایرانی نیوی کو تباہ کر رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاء صرف کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ان کالموں میں بارہا لکھا گیا ہے کہ ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کے انٹیلی جنس ادارے کی ناکامی ہے۔جناب خامنہ ای کو بھی اسی کمزوری نے مروایا۔پاکستان کو بھی اپنی انٹیلی جنس کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں بھی کمزوریاں ہیں۔دہشت گرد افغانستان یا قبائلی علاقوں سے چل کر اسلام آباد اور کراچی تک پہنچ رہے ہیں۔وہ کئی چیک پوسٹوں سے گزر کر پہنچتے ہیں ۔آج ٹیکنالوجی بھی بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ایران اور پاکستان دونوں ممالک اپنی صفوں میں گھسے فارن ایجنٹوں سے پاک ہو جائیں تو بہت محفوظ اور طاقتور ملک بن سکتے ہیں۔
Today News
بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ
1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔
اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔
جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔
ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔
1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔
صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔
Today News
کراچی والوں کیلئے اچھی خبر، مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ کا ایک ٹریک چند دن میں کھولنے کا اعلان کر دیا
کراچی:
میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور شہریوں کے لیے اچھی خبر دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایک ٹریک کو آئندہ چند دنوں میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔
معائنے کے دوران میئر کراچی نے کہا کہ انہیں عوام کو درپیش مشکلات اور تکالیف کا مکمل اندازہ ہے، اسی لیے وہ ہر ہفتے خود ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے آتے ہیں تاکہ کام کی رفتار کو تیز رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پورا شہر ان کی ذمہ داری ہے اور اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جو ان کی جماعت کی قیادت اور چیئرمین سے کیے گئے وعدوں کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں شہر بھر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور اب ہر کام شفافیت اور عوامی جوابدہی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کام میں سستی ہوئی تو ایسے افسران کی ضرورت نہیں، وہ کوئی اور کام تلاش کر لیں۔
میئر کراچی نے مزید اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے عوام سے براہِ راست تجاویز بھی حاصل کرے گی تاکہ شہریوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی جا سکے۔
بعد ازاں میئر کراچی نے سر غلام حسین ہدایت اللہ روڈ پر جاری کارپٹنگ کے کام کا بھی دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی ٹی ایس بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
Today News
چینی کمپنی کی 10ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی
اسلام آباد:
چینی ایرو اسپیس کمپنی نے پاکستان میں 5 سے 10 ارب ڈالر مالیت تک کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ سے چینی کمپنی ایرو اسپیس ڈیولپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد نے لو جنہائی کی قیادت میں ملاقات کی۔
وفد نے پاکستان میں 5 تا 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔چینی وفد نے معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو خواہش کا اظہار کیا۔
انھوں نے پاکستان میں ہنر مندی کی ترقی کے پروگراموں پر کام کرنے اور ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں طویل المدتی شراکت کے اپنے وژن پر بھی زور دیا۔
وفاقی وزیر نے چینی وفد کو سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کرینگے ۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade