Today News
پاکستانی نوجوانوں کا مقدمہ – ایکسپریس اردو
یہ ایک پاکستانی نوجوان کی کہانی ہے جو ایک چھوٹے سے علاقے سے تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہر کا رخ کرتا ہے۔اس کے والدین نے مشکل حالات میں اسے اعلی تعلیم کے لیے بڑے شہر بھیجا تھا۔اس نے ایم ایس سی فزکس کیا اور فوری طور پر روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اس نے ایم فل میں داخلہ لے لیا۔اب وہ پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش میں ہے ۔لیکن اس کے بقول نہ صرف اسے پچھلے چند برسوں میں کوئی معمول کا روزگار یا ملازمت مل سکی اور نہ اس کے ساتھ پڑھنے والے دیگر لوگ ملازمت حاصل کرسکے ہیں ۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ ہمارے یہ نوجوان ٹیوشن ، کرائے پر ٹیکسی یا موٹر سائیکل چلا کر اس بڑے شہر میں گزارہ کررہے ہیں ۔یہ کہانی اس نوجوان تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے شہروں سے بڑے خواب لے کرآنے والے ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اب یہ تعداد لڑکوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پڑھی لکھی لڑکیوں کی سطح پر عدم روزگار کا معاملہ کافی سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے ۔بقول شاعر:
تم نے تو محض بس خواب دیکھے ہیں
ہم نے تو ان کے عذاب دیکھے ہیں
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں 15-29 برس یا 15-24برس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اکثریتی نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ اس وقت 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 241.1 میلن تھی جب کہ اب اس آبادی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ سالانہ کی بنیاد پر اس میں اضافہ ہورہا ہے۔اس وقت ایک اندازے کے مطابق 67فیصدنو جوان ملک میں موجود ہیں جن کی عمریں 30برس سے ہم کم کہہ سکتے ہیں۔جب کہ 26فیصد نوجوان 15-29برس کے ہیں۔ نوجوانوں کی یہ بڑھتی ہوئی یہ آبادی اس وقت ریاست اور حکومت کے نظام کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس میں وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جو اعلی تعلیم رکھتی ہیں اور ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو کم پڑھے لکھے یا ناخواندہ لڑکے اور لڑکیاں جو شہروں اور دیہی سطح پر رہتے ہیں ۔
ان کے لیے معاشی روزگار پیدا کرنا یا معاشی سطح پر سازگار حالات کا پیدا ہونا، نئے معاشی امکانات کا سامنے آنا، چھوٹی اور بڑی صنعتوں کا فروغ،چھوٹے کاروبار جیسے مواقع کا سامنے آنا ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت 2025ء کے مطابق 15-24 برس کے نوجوانوں میںبے روزگاری کی شرح 9.86 فیصد تک ہے جب کہ کچھ رپورٹس اس شرح کو 12.06 فیصد تک بتاتے ہیں۔ مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.01فیصد تک بھی بتائی جاتی ہے اور اس وقت بے روزگار افراد کی تعداد 4.5ملین سے بڑھ کر 5.9ملین تو ہوگئی ہے۔ جب کہ ایک اور رپورٹ کے مطابق تعلیم ، تربیت اور روزگار نہ ہونے کی تعداد 15ملین تک ہے۔
اعلی تعلیم یافتہ افراد جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ان میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے ۔یعنی ہم عورتوں میں بے روزگاری کی شرح23.9فیصد تک دیکھ سکتے ہیں ۔بے روزگاری کی وجہ سے نئی نسل میں مختلف نوعیت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں جن میں ملک چھوڑنے میں اضافہ، منشیات کے استعمال میں حد سے زیادہ اضافہ جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ، خود کشی کے رجحان میں اضافہ،سماجی تعلقات کی کمزوری،غیر یقینی صورتحال، مایوسی ،غصہ اور نفرت کا پیدا ہونا ،ذہنی دباؤ جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔یہ تعداد دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری اور بڑے علاقوں میں زیادہ ہے۔ ایک رپورٹس کے مطابق 18-31برس کے17ملین نوجوان منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔سماجی اور معاشی یا سیاسی ناانصافی کی وجہ سے بھی نئی نسل میں حکومت کے نظام پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔
ہم یہ بھول رہے ہیں کہ اگر ہمارے حکومتی نظام نے نئی نسل کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی اور ان کی ترجیحات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنا کر عملدرآمد کا موثر نظام نہ بنایا تو نئی نسل کی بڑی تعداد اس نظام کے خلاف ایک بڑے بم کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔یہ جو نئی نسل میں انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ سے بھی یہ سماج ایک مشکل سماج بنتا جارہا ہے۔ہم نئی نسل کے طرز عمل پر سخت تنقید تو کررہے ہیں مگران کو جو سیاسی ،سماجی اور معاشی مسائل درپیش ہیں ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جس سے نئی نسل کا مقدمہ اور زیادہ کمزور ہونے کا سبب بن رہا ہے۔
آپ حکومت کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں یا جو ترقیاتی منصوبے ملک میں بن رہے ہیں اس میں انفراسٹرکچر ترقی پر تو بہت توجہ دی جا رہی ہے ۔مگر اول، تو یہ ترقی بھی غیر منصفانہ ہے اور ترقی کا محور بڑے شہروں تک محدود ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کے نظام میں انسانی ترقی اور بالخصوص محروم اور کمزور طبقات کے مسائل کے حل میں نہ تو کوئی توجہ دی جا رہی ہے اور نہ نئی نسل کی ترجیحات حکومت کی پالیسیوں سے جھلک رہی ہیں۔چھوٹے اور بڑے شہروں میں سیاسی، سماجی اور معاشی تفریق بڑھ رہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہماری ترقی کا دائرہ کار محدود افراد یا علاقوں تک محدود ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی نسل چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا کم پڑھی لکھی ،یا ناخواندہ یا لڑکے اور لڑکیاں ان کا پرسان حال کون بنے گا اور کون سا نظام ان کی سرپرستی کرے گا۔
حکومت کا نظام جو طاقت ور افراد کی حکمرانی ہی کے گرد گھومتا ہے اس میں سب سے زیادہ سیاسی اور معاشی استحصال اس کمزور لوئیر اورلوئر مڈل کلاس کا ہو رہا ہے اور ان پر زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر ہم ان کی زندگیوں میں پہلے سے موجود مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اب صوبائی اور مقامی حکومتوں کا نظام اپنی بہتر گورننس کے نظام کی بنیاد پر نئی نسل کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گا۔لیکن آج اگر ہم دیکھیں تو یہ نئی نسل عملاً 18ویں ترمیم کے ثمرات سے فایدہ نہیں اٹھا سکی ۔اصل بحران یہ ہے کہ ہمارے حکومتی نظام میں جو نئی نسل کے مسائل ہیں ان پر کوئی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں مل رہی ۔ یہ جو دور دراز علاقوں میں رہنے والی نئی نسل ہے اس کا المیہ اس لیے بھی بڑا ہے کہ ان کے اپنے علاقوں میں نہ تو وسائل ہیں اور نہ معاشی امکانات اور اسی بنیاد پر ان کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔لیکن بڑے شہروں میں بھی روزگار کے نام پر جو ان کا معاشی استحصال ہو رہا ہے اس پر بھی حکومت بے بس یا خاموش نظر آتی ہے۔
اگرچہ حکومت نے کئی ناموں کے ساتھ نئی نسل کی ترقی اور بالخصوص معاشی ترقی کے مختلف نوعیت کے پروگرام شروع کیے ہوئے ہیں اول ان میں سے بیشتر پروگراموں کی نوعیت خیراتی پروگراموں تک محدود ہے ۔ اگر ہم نے واقعی حکومت کی سطح پر نئی نسل کو بنیاد بنا کر شفافیت اور ترقی کے نظام کو لے کر آگے بڑھنا ہے تو سب سے پہلے اپنی موجودہ سیاسی،معاشی اور ترقیاتی حکمت عملی کو ایک بڑی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ اس کی ایک شکل وسائل اور درست ترجیحات اور صلاحیت کی بنیاد پر نئی نسل کی سطح پر مالی سرمایہ کاری یعنی ان کے بجٹ میں بہت زیادہ اضافہ کرنا ہوگا۔
موجودہ حالات میں ہم جو وسائل وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائمری تعلیم یا ہائر ایجوکیشن یا ٹیکنیکل ایجوکیشن پر خرچ کررہے ہیں اس سے اس نئی نسل کی ترقی ممکن نہیں۔اسی طرح جب تک نئے روزگار پیدا نہیں ہونگے تو نئی نسل کا معاشی مقدمہ کیسے ترقی کی طرف آگے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے مسئلہ کا حل نئی نسل کو گالی دینے یا ان سے نالاں ہونا نہیں بلکہ حکومتی نظام کو اپنی ترجیحات کو نئی نسل کی ترجیحات کیساتھ جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔یہ کام روائتی اور فرسودہ خیالات سے نہیں بلکہ جدید حکمرانی کے نظام اور تصورات کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے اور یہ ہی نئی نسل کے مفاد میں ہوگا۔
Today News
ہری پور: شادی سے انکار پر فائرنگ سے خاتون قتل، ملزم کی خودکشی کی کوشش
ہزارہ موٹر وے پر دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک شادی شدہ مرد نے خاتون کی جانب سے شادی سے انکار پر کار کے اندر فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا، بعد ازاں ملزم نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ کی حدود میں پیش آیا، جہاں اسلام آباد سے ایبٹ آباد واپسی کے دوران گاڑی میں ملزم نے خاتون کو نشانہ بنایا۔ مقتولہ کی شناخت 25 سالہ انیلہ کے نام سے ہوئی ہے جو ایبٹ آباد کی رہائشی تھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مانسہرہ کے رہائشی ملزم شہزاد نے خاتون کے شادی سے انکار پر طیش میں آ کر کار کے اندر فائرنگ کی۔ واقعے کے وقت مقتولہ کی والدہ بھی گاڑی میں موجود تھیں تاہم وہ محفوظ رہیں۔ والدہ کے بیان کے مطابق ملزم نے انیلہ کو قریب سے گولیاں ماریں۔
واقعے کے بعد ملزم شہزاد نے اپنے گلے میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس اسپتال ریفر کر دیا گیا۔
موٹر وے پولیس نے مقتولہ کی لاش کو آر ایچ سی منتقل کر دیا جبکہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Today News
دانشمندی بھی ضروری ہے – ایکسپریس اردو
ایک ماہ کی جنگ میں ایران کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ایرانی حملوں میں خلیجی ریاستیں بھی اسرائیل سے زیادہ متاثر ہوئیں جب کہ اسرائیل کا بھی جانی سے زیادہ مالی نقصان ہوا جو وہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا جس کا ایران سے کوئی جھگڑا ہی نہیں تھا کا سب سے کم نقصان ہوا جو وہ اپنے وسائل سے پورا کرنے کی بجائے ان خلیجی ممالک کے ذریعے ہی پورا کرے گا جن کی حفاظت کے لیے وہ ان سے اربوں ڈالر وصول کرچکا ہے مگر اس نے جان بوجھ کر ان کی حفاظت نہیں کی اور انھیں ایرانی حملوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ امریکا ایران سے بہت دور واقع ہے جس کا نقصان ایران نے خلیجی ممالک میں ان امریکی اڈوں کو پہنچاکرلیا تو ہے مگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے بے شمار شہروں کو تباہ و برباد بھی کرالیا ہے اور ایران کے ہزاروں لوگوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جو سب سے زیادہ ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ایران ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے گا۔
سپرپاور ہونے کے دعوے دار امریکا نے اسرائیلی شیطان کے کہنے پر ایران پر اس وقت حملے کیے جب کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور ایران کے مثبت روئیے کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کا اسرائیل کو خوف تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی صدر کو گمراہ کن رپورٹ کی بنیاد پر امریکا کو ایران پر اچانک حملوں کے لیے آمادہ کیا اور خود بھی ایران پر حملوں میں امریکا کے ساتھ شامل ہوگیا۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا تاکہ ایران میں رجیم تبدیل ہوجائے، مگر اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانیوں نے امریکی صدر کی خواہش کے بالکل برعکس ردعمل دیا جس کی امریکا کو قطعی طور پر توقع نہیں تھی۔
ایران کے عوام نے اپنے اس سب سے بڑے نقصان پر اپنے ملک کی حفاظت کے لیے امریکی و اسرائیلی جارحیت کو اپنی غیرت پر حملہ سمجھا اور حملوں کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر حکومت کی حمایت میں نکل آئے اور ایرانی رجیم تبدیلی کا اپنے دشمنوں کا خواب خاک میں ملادیا اور کہیں رجیم تبدیلی کے حامی باہر نہیں نکلے اور انھوں نے متحد ہوکر اپنے سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے دنیا کو اور خاص کر امریکا و اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کا رویہ دیکھ کر بھی حقائق کا ادراک نہیں کیا اور ایران کے مزید اہم رہنماؤں کو بھی شہید کردیا جب کہ ایرانی صدر جان بچانے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ باہر آکر اپنے عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے جنھیں اپنے درمیان دیکھ کر ایرانی عوام کا حوصلہ مزید بڑھا اور عوام اور ایرانی حکومت نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم سب ایک، متحد اور اپنے دشمنوں کے خلاف کھڑے ہیں ۔
امریکا کا اس کے اتحادی ممالک اور نیٹو تک نے ساتھ نہیں دیا۔ نہ برطانیہ نے اپنی فوج ایران بھیجی جس پر امریکی صدر سخت برہم ہوکر دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور دنیا اس سے پوچھ رہی ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی اور امریکا کے مقاصد کیا تھے جس کے جواب میں امریکی صدر مختلف اعلان پر مجبور ہوا مگر اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں بلکہ جھوٹے وعدے کررہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ اور اس کی جنگی صلاحیت ختم کردی اور رجیم چینج کے اپنے مقاصد بھی حاصل کر لیے ہیں جب کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد ہوچکے ۔ ایرانی صدر بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں تو رجیم کہاں تبدیل ہوئی ہے۔
ایک ماہ کی جنگ سے ایران پسپا ہوا نہ ہی جنگ بندی مان رہا ہے اور امریکی صدر خود بار بار عارضی جنگ بندی کا اعلان کررہے ہیں مگر ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر مسلسل حملے کررہا ہے۔ امریکا یہ بھی واضح کررہا ہے کہ ہماری سعودیہ اور خلیج کے اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
ایران اپنا دفاع کرنے کے ساتھ اسرائیل کو منہ توڑ جواب بھی دے رہا ہے اور خلیج کے اپنے مسلم پڑوسیوں کو کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے امریکی فوج نکالیں اور وہ امریکی اڈے ختم کریں جہاں سے امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔اس جنگ میں ایران میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری و نجی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جو ایران کا بڑا مالی نقصان ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک ایرانی حملوں پر سخت برہم ہیں اور اپنا دفاع کررہے ہیں مگر ایران پر جوابی حملے نا کرکے برد باری کا مظاہرہ کررہے ہیں جب کہ امریکا و اسرائیل چاہتا ہے کہ ایرانی حملوں سے متاثرہ ممالک جوابی حملہ کریں تاکہ مسلم ممالک آپس میں جنگ شروع کردیں۔
سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں بہت بڑی تباہی پر اب ایران کو دانشمندی دکھانا چاہیے وہ اپنی طاقت تو دکھاچکا مگر موجودہ جنگ کا حل صرف مذاکرات ہیں جس پر اسلام آباد آنے والے وزرائے خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ جنگ کی مزید طوالت دانشمندی نہیں ہے۔ اب ایران مصالحت کے لیے مذاکرات پر راضی ہوجائے کیوں کہ ماضی میں ہندوستان کی ریاست میسور نے بھی جنگ کو ترجیحدی تھی جس سے ٹیپو سلطان کا مشہور اعلان کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے تو زندہ ہے اس کی ریاست میسور تباہ ہوکر ختم ہوچکی جس کا وجود بھی باقی نہیں۔ حالات بدل چکے اب جذبات نہیں دانشمندی سے فیصلوں کا وقت ہے۔
Today News
کراچی کنگز میں ڈیوڈ وارنر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے، سلمان علی آغا
سلمان علی آغا بطور عام کھلاڑی پی ایس ایل میں شرکت سے لطف اندوز ہونے لگے، ان کے مطابق کراچی کنگز میں ڈیوڈ وارنر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
’’ایکسپریس ڈیجیٹل‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ بطور کپتان کھیلتے ہوئے جو اضافی ذمہ داری ہوتی ہے وہ پی ایس ایل میں نہیں ہے،ایسے میں آپ کو بہت کچھ ایسا کرنے کا موقع ملتا ہے جو کپتان کی حیثیت سے نہیں کر پاتے، میں اس سے انجوائے کر رہا ہوں۔
کراچی کنگز کے قائد ڈیوڈ وارنر کے بارے میں سلمان علی آغا نے کہا کہ انھوں نے انٹرنیشنل اور پھر فرنچائز کرکٹ میں بہت اچھا پرفارم کیا ،وہ لیجنڈ ہیں، ان سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا بھی موقع مل رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کراچی کنگز کا ٹورنامنٹ میں بہت جلدی اچھا کمبی نیشن بن گیا، یہ کسی بھی ٹیم کیلیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، ہم تو پہلے میچ سے ہی عمدہ پرفارم کر رہے ہیں، کوشش کریں گے اس سلسلے کو برقرار رکھیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ لاہور قلندرز سے سنسنی خیز میچ میں مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ ہم ہدف حاصل نہیں کر پائیں گے،ہمارے پاس مضبوط بیٹنگ لائن موجود اور کئی ہارڈ ہٹرز کا ساتھ حاصل ہے، اسی لیے مقابلہ جیت بھی لیا۔
اپنی کارکردگی کے حوالے سے سلمان علی آغا نے کہا کہ میں نے پی ایس ایل کے پہلے میچ میں اچھا آغاز کیا لیکن اسے بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کر پایا، ابھی تو ٹورنامنٹ ابتدائی مراحل میں ہے،میری فارم ٹھیک ہے لیکن بڑی اننگز نہیں کھیل پا رہا، کوشش کروں گا اگلے میچز میں زیادہ بہتر پرفارم کروں۔
انھوں نے کہا کہ آپ جس طرز کے قومی کپتان ہوں تو اسی کے میچز ہونے پر ضرور دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نظر ہوتی ہے، میں جب بھی پی ایس ایل کے میچز دیکھوں تو چاہے بولر ہو یا بیٹر ہر کھلاڑی کی اچھی کارکردگی یا رویہ ضرور نظروں میں آتا ہے ۔
Source link
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports7 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final
-
Sports1 week ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash