Connect with us

Today News

پاکستانی چاول کی برآمدات میں کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت آدھی ہوگئی

Published

on



قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی اور عالمی مارکیٹ میں قیمت بھی آدھی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی برائے قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں جاوید حنیف نے کہا کہ رائس ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے 15 ارب روپے کس طرح جاری ہوئے۔

جاوید حنیف نے کہا کہ نئے بورڈ کے قائم ہونے سے دو دن پہلے کس نے منظوری دی، رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی۔

حکام نے کہا کہ پاکستان کے چاول کی تعداد اور قیمتوں میں آدھی کمی ہو گئی تھی، اس سال دنیا میں چاول کی پیداوار بڑھی، بھارت نے 2023-2024 میں چاول برآمد نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ اس سال بھارت نے برآمدات شروع کر دیں، بھارت کی برآمدات کے باعث عالی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی ہوئی، ہمارے اور انکے ریٹ میں 20 ڈالر کا فرق آ رہا تھا۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود ہیں، ریئل اسٹیٹ کا پیسہ بھی چاول کی خریداری میں اسٹاکسٹ نے استعمال کیا۔

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایران میں پاکستانی باسمتی نان باسمتی بنا کے بیچا جا رہا تھا۔

حکام نے بتایا کہ چاول کی برآمدات کیلئے ایکسپورٹرز کو مالی سپورٹ دی گئی جبکہ چاول سیکٹر کو کبھی ای ڈی ایف سے مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی، اس لیے بورڈ نے چاول ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا۔

حکام نے بتایا کہ ماضی میں ایسی امداد کئی مرتبہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہم کی گئی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جائیداد کے تنازعے پر روزہ دار حاملہ بہن سوتیلے بھائی کے ہاتھوں قتل

Published

on



مریدکے:

حسن پارک پرانا نارنگ روڈ کے علاقے میں حاملہ خاتون کے مبینہ قتل کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں مقتولہ کے سوتیلے بھائی کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر قاسم نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی بیوی کو مکان کے تنازعے پر سوتیلے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے گلا دبا کر قتل کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقتولہ چار ماہ کی حاملہ تھی جس کے باعث یہ دوہرے قتل کی واردات ہے۔

خاندان کے مطابق ملزم واقعے کے بعد مقتولہ کے طلائی کانٹے اور تقریباً ڈھائی لاکھ روپے نقدی بھی لے گیا۔

مقتولہ کی والدہ اقرا قاسم کا کہنا ہے کہ بیٹی کو سوتیلے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے قتل کیا جبکہ وقوعہ کے وقت مقتولہ کا چار سالہ بھتیجا گھر میں موجود تھا۔

پولیس نے شوہر کی مدعیت میں دو نامزد اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ورثا نے اسپتال میں ملزمان کی فوری گرفتاری کے مطالبے پر احتجاج بھی کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

عوام کا ناقابل برداشت صبر

Published

on


حکومت نے پہلے سوئی گیس کے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز مسلط کیے تھے اور اس زیادتی کو کوئی روکنے والا نہیں تھا اور گیس صارفین فکسڈ چارجز مہنگی گیس کے باوجود برداشت کرنے پر مجبور تھے جس سے حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ عوام پٹرولیم لیوی اورگیس فکسڈ چارجز برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں تو ٹیکسوں تلے صارفین مزید بوجھ بھی برداشت کر لیں گے۔ حکومت ہر الزام خود پر نہیں لیتی۔

 اس لیے اس نے پٹرولیم کی الگ وزارت اور توانائی کی الگ الگ وزارتیں بنا رکھی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کی ذمے داری سیاسی وزرائے خزانہ نے لی ہوئی تھی، اس لیے (ن) لیگی حکومت کے وزرائے خزانہ ہر پندرہ روز بعد ٹی وی پر نرخ بڑھانے کا اعلان کیا کرتے تھے اور متعلقہ وزیر خاموش رہا کرتے تھے اور عوام کی طرف سے برائیاں حکومت کو ملتی تھیں۔

اب ایک غیر سیاسی وزیر خزانہ ہیں جو سینیٹر ہیں اور انھوں نے کبھی الیکشن نہیں لڑا ۔ سابق وزیر مفتاح اسمٰعیل نے مجبوراً کراچی سے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی پر مجبوری میں الیکشن لڑا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔ مفتاح اسمٰعیل اب سیاسی ہو گئے ہیں اور (ن) لیگی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بنائی گئی سیاسی پارٹی میں جنرل سیکریٹری کے طور پر (ن) لیگی حکومت پر تنقید میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی کام ان کے نئے قائد کا ہے اور دونوں کو جو برائیاں (ن) لیگی حکومت میں پہلے نظر نہیں آئی تھیں، اب آ رہی ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھانے لگے ہیں۔

عوام سے تعلق نہ رکھنے والے وزرائے خزانہ کا ایف بی آر کی بجائے صرف عوام پر بس چلتا ہے اس لیے وہ عام لوگوں اور باقاعدگی سے ٹیکس کٹوانے پر مجبور تنخواہ دار ملازموں پر بوجھ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں احتجاج نہیں کرتے جس سے انھیں شے ملتی ہے اس لیے اب گیس کے بعد بجلی صارفین کو بھی پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ میں تقسیم کرکے ان پر بھی فکسڈ چارجز مسلط کر دیے گئے ہیں اور سوئی گیس میں نئے مالی سال میں فکسڈ چارجز بھی بڑھائے تھے اور ماہانہ 6 سو کو ایک ہزار اور ایک ہزار کو ڈیڑھ ہزار فکسڈ چارجز مسلط کر دیے تھے جب کہ گیس اور بجلی پر اصل قیمت کے علاوہ متعدد ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ بجلی و گیس پہلے ہی بہت مہنگی ہے اور پٹرول کو مہنگے سے مہنگا کرنے کے لیے لیوی بڑھا دی جاتی ہے تاکہ عوام کو عالمی سطح پر کم ہونے والی قیمتوں کا بھی ریلیف نہ مل سکے جو عوام کا حق ہے مگر نہیں ملتا۔

نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر مختلف فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عوام جو مہنگی بجلی سے پہلے ہی پریشان تھے، اب مزید پریشان کرنے کے لیے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ماہانہ سو یونٹ پر دو سو روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں پر تین سو روپے فکسڈ چارجز اور تین سو سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کو سہولت دی گئی جو متوسط طبقہ ہی استعمال کرتا ہے۔

نیپرا نے تین سو ایک سے چار سو یونٹ تک بجلی 1.53 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے پانچ روپے سستی کرنے کی منظوری دی ہے۔ پہلے ایک سو یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز نہیں تھے اور بجلی کا نرخ بھی کچھ کم تھا اور نہایت ہی غریب صارفین بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے تھے۔ سردیوں میں تو ان کا استعمال کم ہو جاتا تھا مگر گرمیوں میں پنکھوں کی وجہ سے سو یونٹ میں گزارا نہیں ہوتا اور ان کے یونٹ بڑھ جاتے ہیں۔

ہر حکومت ہر سال بجٹ میں ٹیکس ہی نہیں بڑھاتی بلکہ نئے ٹیکس بھی مسلط کرتی ہے اور سال کے دوران وعدے کر کے بھی ضمنی بجٹ کے ذریعے ٹیکس بڑھا دیتی ہے کیونکہ ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور ہاؤس کے اخراجات کے لیے بجٹ بڑھانا پڑتا ہے جب کہ اپنوں کو نوازنے کے لیے بھی نئے عہدے تخلیق کرکے حکومت اخراجات تو بڑھاتی ہے مگر عوام کو سہولت کبھی نہیں دیتی۔ شاید ہر حکومت عوام کو ریلیف دینے کو گناہ سمجھتی ہے اسی لیے کوئی بھی ریلیف نہیں دیتی اور عوام پر اتنے زیادہ ٹیکسوں سے بھی حکومت مطمئن نہیں ہوتی، اس لیے ہر 15 دن بعد پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس مہنگی کرتی رہتی ہے اور یہ آزماتی ہے کہ عوام مزید کتنا حکومتی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح عوام کے صبر و برداشت کا مسلسل امتحان لیا جاتا ہے کیونکہ عوام بھی مجبور ہیں۔

غیر ملکی قرضے عوام کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے لیے گئے قرضے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مسلسل لیے جا رہے ہیں اور قرضے دینے والے اپنی کڑی شرائط پر قرضے دیتے رہتے ہیں انھیں کوئی سروکار نہیں کہ یہ قرضے عوام کو ریلیف دینے پر خرچ ہونے کی بجائے حکومت کہیں اور خرچ کرکے عوام کو مقروض پر مقروض کر رہی ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری کو حکومت عالمی مسئلہ قرار دیتی ہے جب کہ حکومت کو پتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عوام سے ٹیکس لے کر عوام کو بے شمار سہولیات اور رعایت بھی دیتے ہیں مگر ہماری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے پر یقین ہی نہیں رکھتیں بلکہ عوام کو نئے نئے ٹیکسوں میں جکڑنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ عوام سے ٹیکس حکومت اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہے اور ٹیکس دینا عوام کا فرض بنا دیا گیا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ حکومت کے مسلسل جاری مظالم عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ عوام کے مسلسل صبر کا حکومت مزید امتحان نہ لے اور انھیں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کرے کہ ان کی برداشت ختم ہو جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خیبر، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق

Published

on



خیبر:

ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سلطان خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق ہو گئے۔

پولیس کے مطابق سپاہی سفیر خان کو گزشتہ شام اپنے حجرے کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ اپنے 7 سالہ بیٹے محمد طلحہ سمیت شدید زخمی ہو گئے۔

دونوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سپاہی سفیر خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ اس کا کمسن بیٹا محمد طلحہ بھی دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔

حکام کے مطابق حملہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل پیش آیا تھا اور واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے تھانہ لنڈی کوتل میں نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending