Connect with us

Today News

پاکستانی کی جوابی کارروائی میں 415 افغان طالبان ہلاک، 580 زخمی ہوگئے

Published

on



وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی کی افغانستان میں موثر جوابی کارروائی کے دوران اب تک 415 افغان طالبان ہلاک اور 580 زخمی ہوچکے ہیں۔

آپریشن غضب للحق کے حوالے سے ایکس (ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں  انہوں ںے بتایا کہ افغان طالبان کی 182 چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ 31 چیک پوسٹس پرقبضہ کرلیا گیا ہے، افغان طالبان کے 115 ٹینکس، آرمڈ وہیکلز، آٹلری گنز مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے 46 مقامات کو فضائی کارروائی میں موثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دہشت گردی کی علانیہ جنگ

Published

on


پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ اور دوسری طرف بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر سامنے کھڑا ہے ۔اسی بنیاد پر حالیہ دنوں میں پاک افغان سطح پر دونوں اطراف سے جنگ اور کشیدگی کا ماحول یا جنگ جاری ہے۔ حالیہ جنگی ماحول دونوں ممالک سمیت خطہ کے لیے نئے خطرناک رجحانات کو جنم دیتا ہے ۔روسی وزارت خارجہ کی ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے23ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں ۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریبا تین ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔اسی طرح القائدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلارہے ہیں ،افغانستان القائدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔القائدہ کے تربیتی مراکز غزنی،لغمان،کنٹر، ہار، نورستان ،پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔ داعش خراسان سمیت دیگر افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاو کے زریعے نام نہاد خلافت کا قیام ہے ۔

بنیادی طور پر اس وقت پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں سخت بداعتمادی کی لہر پائی جاتی ہے ۔حالیہ دنوں میں جس طرح سے دہشت گردوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے علاقوں پر حملے کیے ہیں اور جس انداز میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کھیل کے پیچھے جہاں اس کے سیاسی مقاصد ہیں وہیں یہ کام دہشت گردوں کی بغیر سہولت کاری کے ممکن نہیں ۔اس کا مقصد جہاں پاک افغان تعلقات کو متاثر کرنا ہے وہیں خطہ کی مجموعی صورتحال میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔اس کے لیے بطور ہتھیار افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے ۔لیکن ان معاملات میں افغان طالبان حکومت کا مسلسل پاکستان کی حمایت نہ کرنا یا اس کے تحفظات کو نظرانداز کرکے تحریک طالبان پاکستان کی عملی سرپرستی کی وجہ سے معاملات میں اور زیادہ کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستان نے معاملات کی بہتری کے لیے سعودی عرب، قطر،ترکی ،چین ،روس سمیت امریکا کی جو سفارتی سطح پر مزاکرات کی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی جو کوشش کی اس کے بھی ابھی تک بہتر نتائج نہیں مل سکے ہیں۔پاکستان کی کوشش تھی کہ افغان حکومت تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی ،مگر افغان حکومت نے اس طرز کی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے پاکستان دشمنی پر مبنی تعلقات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی قیمت پر دہلی کی طرف دیکھ رہی ہے اور اس کا مقصد مسلسل ہمیں غیر مستحکم رکھنے کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ایک طرف پاکستان کو اپنے سیاسی دشمنوں کے ساتھ روائتی جنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اب جو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اس میں جدیدیت کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔اسی طرح جب دشمن اکیلاہی نہ ہوبلکہ اس کے ساتھ اس کی معاونت میں پاکستان دشمنی میں بڑے بڑے سہولت کار ہو ں جو ان کی مکمل سرپرستی کررہے ہوں تو جنگ لڑنا اور بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔

اس وقت اگر ہم پاک افغانستان تناظر میں دیکھیں تو ہمیں چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ان میں سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ڈیورنڈ لائن کی متنازع سرحد اور اس کی موثر نگرانی،اب تک صورتحال میں مسلسل ہمارے جوانوں کی شہادتیں،سرحد پار بندشیں، علاقائی اسٹرٹیجک صورتحال میں بڑھتا ہوا تناؤ اور کشیدگی یا بداعتمادی کا ماحول جیسے امور شامل ہیں ۔ یہ بات تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ اس خطہ میں دہشت گردی کی جنگ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر خطہ اور خطہ میں شامل تمام ممالک کا مشترکہ مسئلہ یا ایجنڈا ہونا چاہیے۔اس لیے اس جنگ سے نمٹنے کے لیے تمام علاقائی اور عالمی ممالک اور ان کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے جو اعتماد سازی اور ایک دوسرے پر بھروسہ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ علاقائی ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے اور بالخصوص اس میں اس وقت بھارت اور افغانستان کا مجموعی کردار دوستی سے زیادہ دشمنی پر مبنی نظر آتا ہے ۔

اسی طرح ہمیں اس محاذ پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔بھارت ایک طرف ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتا ہے تو دوسری طرف اس بات کے شواہد بھی ہیں کہ بی ایل اے کو بھی بلوچستان کے تناظر میں بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔یہ جو حال ہی میں پاکستان کی سینیٹ سے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ قرار داد منظور ہوئی ہے اسے بھی اسی تناظر میں جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور وہاں اربوں ڈالر کے جنگی معاہدوں کے امکانات بھی ان کے خطہ میں جنگی عزائم کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان کو اس وقت داخلی سطح کی سیاست میں خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سرحد پار کاروائیوں کا سامنا ہے اور اس پر پاکستان کو عملی طور پر دو محاذی خطرات یعنی بھارت اور افغانستان کی صورت میں موجود ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے وفاقی حکومت اور کے پی حکومت میں اعتماد کا پہلو دیکھنے کو ملا ہے اور وزیر اعظم، وزیر اعلی ملاقات ،اپیکس کمیٹی میں سب کی شرکت کچھ مثبت اشارے ہیں لیکن اس پر مزید سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر کام کرکے اعتماد سازی کے ماحول کو اور زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ حالیہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا بلکہ اس میں زیادہ تدبر اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ٹکراو سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ یہ ہی حکمت عملی ہمیں کسی نہ کسی سطح پر بلوچستان میں بھی اختیار کرنا ہوگی اور اس میں کچھ نئی جہتوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عالمی دنیا یا علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان پر کوئی بڑا دباو ڈالنے میں ناکامی سے دوچار ہیں مسئلہ محض ناکامی کا ہے یا ان کی طرف سے سخت دباو کی پالیسی کے نہ ہونے کا بھی ہے ۔یہ نقطہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اس جنگ سے نمٹنے میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذپر نہ صرف سرگرم اور متحرک ہونا ہوگا بلکہ کچھ غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر سفارت کاری کے محاذ پر اپنا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ہمارے لیے یہ بات زیادہ تشویش کا پہلو ہے کہ ماضی کے مقابلے میں گزرے برس2025میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 34فیصد اضافہ ہوا ہے ۔یہ ہی وہ چیلنج ہے جو مسلسل پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کررہا ہے اور اس کا براہ راست اثر سیاست اور معیشت کے عدم استحکام کی صورت میںسامنے آرہا ہے ۔کیونکہ بنیادی بات ہے جس ریاست میں دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہویا ہمارے سروں پر کھڑی ہوتو وہاں بیرونی سرمایہ کار تو کجا خود ہمارے اپنے سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہونگے ۔ایک طرف معیشت کا بحران اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام یا سیاسی رسہ کشی یا سیاسی کشیدگی یا سیاسی دشمنی کے کھیل نے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں اور زیادہ چیلنجز کو مشکل بنادیا ہے۔اس لیے ہمیں موجودہ دہشت گردی کی صورتحال میں جو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اس کے لیے سیاست اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر غیر معمولی سیاسی ،انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا ۔کیونکہ یہ جنگ ہماری داخلی سلامتی کے لیے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے

Published

on


محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔آخری برسوں میں وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر تک محدود کر دیے گئے اور چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

احمدی نژاد اسرائیل کے کھلے نظریاتی دشمن تھے۔دو ہزار پانچ میں انھوں نے اپنے اس بیان سے بین الاقوامی شہرت پائی کہ اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔وہ نازی ہالوکاسٹ ( یہودی نسل کشی ) کو ایک صیہونی ڈرامہ قرار دیتے تھے جس کے ذریعے اسرائیل برس ہا برس سے دنیا کو بلیک میل کرتا آیا ہے۔

دو ہزار نو میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو ایک نسل پرست عالمی ناسور قرار دیا۔چنانچہ اسرائیل کے حامی کئی ممالک اس اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

اکتوبر دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو زوم پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی اداروں میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور قلع قمع کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔ان میں سے بہت سے دو ہزار اکیس میں بھانڈا پھوٹنے کے بعد فرار ہو گئے اور اسرائیل نے انھیں پناہ دے دی۔

ان ایجنٹوں نے اسرائیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حساس ترین معلومات پہنچائیں۔بالخصوص دو ہزار اٹھارہ میں موساد جوہری پروگرام سے متعلق سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب رہی۔اس ڈیٹا کو صدر ٹرمپ نے دو ہزار پندرہ میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا بہانہ بنایا اور حساس مواد کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بطور حوالہ شامل کیا۔

نومبر دو ہزار بیس میں موساد ایجنٹوں نے ایران کے اعلی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک کمپیوٹرائزڈ مشین گن کے ذریعے قتل کیا۔اس کے بعد اس مشین گن کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کر دیا گیا۔

 جولائی دو ہزار چوبیس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔انھیں جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا اسے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس واردات میں سوائے اپارٹمنٹ کے باقی عمارت محفوظ رہی۔یہ عمارت پاسدارانِ انقلاب کا ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاؤس تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے عملے سمیت درجنوں انٹیلی جینس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

ستمبر دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو شدید بمباری کر کے قتل کیا۔اس واردات کے بعد فرانسیسی اخبار ’’ لا پیریسیاں ‘‘ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ حسن نصراللہ کی اس مقام پر موجودی کی رئیل ٹائم انفارمیشن اسرائیل کو بیروت میں ایک ایرانی ذریعے نے فراہم کی تھی۔

جون دو ہزار پچیس میں بارہ روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے دس جوہری ماہرین اور فوج کی اعلی قیادت صاف ہو گئی۔جنگ کے بعد سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔متعدد افغان پناہ گزین پکڑے گئے چنانچہ لاکھوں پناہ گزینوں کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔مگر موساد اور سی آئی اے کا جال پھر بھی نہ ٹوٹ سکا۔

اس کا ثبوت رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی رحلت سمیت وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادے ، فوجی کونسل کے سربراہ علی شمخانی ، ڈپٹی انٹیلی جینس منسٹر محمد شیرازی ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور پاسداران کے فضائی ونگ کے سربراہ ماجد موسوی سمیت ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے چالیس سے زیادہ اعلی اہلکاروں کا خاتمہ ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اصولی طور پر اسرائیل اور امریکا نے دسمبر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل نظام بھی ختم کرنا ہے۔فروری میں جب ایران میں سرکار مخالف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں پرتشدد انداز میں دبایا گیا تو ’’ رجیم چینج ‘‘ کی کوشش بھی منصوبے کا حصہ بن گئی۔چنانچہ امریکا نے دو طیارہ بردار اسٹرائیک فورسز کو علاقے میں پہنچنے کا حکم دیا۔

ایران میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد اسرائیل اور امریکا کے اعلی فوجی و سیاسی منصوبہ سازوں کی تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ایران مذاکرات کی میز پر لایا گیا مگر اس کے سامنے ایسی شرائط رکھی گئیں جنھیں وہ یکسر مسترد کر دے۔یعنی مذاکرات کا مقصد مطلوبہ فوجی قوت کے اجتماع اور منصوبہ بندی مکمل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔

ایرانیوں کو اچھے سے معلوم تھا کہ ان کے اعلی ترین اہلکاروں کی نقل و حرکت کی زمین ، فضا اور خلا سے پل پل کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسی طرح کی کارروائی ہو سکتی ہے جس طرح اچانک بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ فرض کر لیا گیا کہ کم ازکم ایران کی اعلی ترین سیاسی قیادت کو دن دہاڑے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔کیونکہ آج تک دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا لہذا اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔

شائد اسی سوچ کے تحت علی خامنہ ای صاحب کو کسی محفوظ بینکر میں منتقل نہیں کیا گیا اور سنیچر کی صبح انھی کے دفتر میں اعلی قیادت کا اجلاس رکھ لیا گیا۔جیسے ہی یہ اطلاع تل ابیب پہنچی۔اس نے واشنگٹن سے رابطہ کیا کہ ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔چنانچہ باہمی رضامندی سے حملے کے پلان میں ہنگامی تبدیلی کی گئی اور اسرائیلی فضائیہ اور خلیجِ اومان میں موجود ایر کرافٹ کیریر کے جہازوں کو اڑان بھرنے کا اذن دے دیا گیا۔اور پھر رہبرِ اعلی کے کمپاؤنڈ میں ان تین مرکزی کمروں پر دو دو ہزار پاؤنڈ کے بینکر بسٹر میزائل داغے گئے جہاں ایران کی اعلی قیادت کو بیٹھ کر اگلا ’’ مذاکراتی ‘‘ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی شہر یا بارود کا ڈھیر؟

Published

on


کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔ صرف فروری کے مہینے میں دو گیس دھماکوں میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق 22 فروری کو عین سحری کے آخری لمحات میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع ایک رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔

قریبی فلیٹ اور کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس واقعے سے قبل 19 فروری کی خبر کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، حادثے میں ایک بچی سمیت 16 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کا متاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں صرف ان دو واقعات میں کئی خاندانوں کا رمضان اور عید کا تہوار بھی غارت ہوگیا۔

کراچی شہر میں سلنڈرز سے دھما کے ہونے کے واقعات اب تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً ایک وجہ گیس کی معمول کی سپلائی میں کمی اور لوڈشیڈنگ ہے، لٰہذا جن شہریوں کے گھروں میں گیس کے کنکشن موجود ہیں، انھیں بھی پکانے کے لیے الگ سے سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اب تقریباً تمام شہریوں کو ہی سلنڈرز استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے، اس طرح سے بازار میں ان کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کے سبب بازار میں غیر معیاری سلنڈرز کثرت سے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بازار میں جو غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں، ان کی لائف تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی کوئی توجہ اس طرف نہیں دی گئی، نہ کوئی مہم چلائی گئی کہ یہ غیر معیاری سلنڈر کیسے بازار میں فروخت ہو رہے ہیں؟

 بات یہ ہے کہ عوام تو سلنڈر کے حوالے سے اتنی آگہی نہیں رکھتے اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، لہٰذا اگر وہ ایک سستا سلنڈر فروخت ہوتا دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ پھر اس کی ہر سال مینٹیننس اور چیکنگ پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے کو روکا جاتا، حکومتی ادارے اس کو چیک کرتے، لیکن ہمارے ادارے اس اہم معاملے پر بھی خاموش ہیں جب کہ عوام کو شعور بھی نہیں۔

 دوسری ایک اہم خطرناک بات یہ ہے کہ اب رہائشی عمارتیں کراچی شہر میں انتہائی اونچی تعمیر ہو رہی ہیں، کہیں کئی منزلہ پورشن ہیں تو کہیں بلند وبالا فلیٹ ہیں۔ اب ظاہری سی بات ہے، ان تمام عمارتوں میں کھانا پکانے کی ضرورت تو ہے اب چونکہ گیس کی سپلائی مستقل نہیں ہے تو لوگوں نے فلیٹ کے اندر بھی سلنڈر رکھ لیے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جیسا کہ حال ہی میں حیدری کے قریب دسویں فلور پہ دھماکے سے فلیٹ کو نقصان پہنچا، ہلاکتیں ہوئی اور آگ لگ گئی۔ خدانخواستہ یہ اگر نیچے کی منزل میں واقعہ ہوتا تو اوپر جتنے بھی فلیٹ تھے وہ اس کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خطرناک معاملہ شہر میں چل رہا ہے، جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

جب سے شہر کراچی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں مثلاً مذکورہ بالا واقعات میں گیس کی لیکیج کا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے بعد جب گیس اچانک تیزی کے ساتھ آئی تو دھماکے کا باعث بنی۔ عموماً اس قسم کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ گیس بند تھی لیکن جب لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی تو اچانک سے گیس آنے سے، گیس گھر میں بھر گئی اور گھر کے افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ شہریوں کو ابھی اتنی آگاہی نہیں ہے، کوئی بھی غلطی سے چولہا کھلا چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی جب گیس آتی ہے تو پتہ نہیں چلتا جس کے باعث گیس گھر میں بھر جاتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔ یہ معاملات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔

ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بڑا خطرناک ہے کہ کراچی میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اب بھی جاری ہے اور اب بھی ہم مغرب کی نقالی میں (یا صرف پیسہ کمانے کی خاطر) اونچی اونچی رہائشی عمارتیں تیزی سے تیار کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان عمارتوں میں مناسب طریقے سے گیس بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ہم کمانے کے لیے مغرب کی نقالی تو کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مغرب میں تو عوام کی ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدگی سے شہریوں کا میڈیکل چیک اپ بھی ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں غیر معیاری سلنڈر فلیٹوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں یہ کس طرح سے فروخت ہو رہے ہیں؟ کون ان کو فروخت کر رہا ہے؟ اور اگر بلند و بالا عمارت بنائی ہیں تو ان میں مناسب سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ گیس کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟ ایمرجنسی گیٹ کہاں ہیں؟ فائر بریگیڈ کی کیا صورتحال ہے؟ ان عمارتوں میں ایمرجنسی آلات کس حد تک ہیں؟ کیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے؟

کس قدر احمقانہ بات ہے کہ فلیٹوں میں بھی رہنے والے گیس کے سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور یہ حال اب صرف لیاری یا موسیٰ کالونی جیسے غریب علاقوں کا نہیں۔ نارتھ ناظم آباد، حیدری جہاں دھماکے میں فلیٹ میں آگ لگ گئی وہ کراچی کا ایک بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ افسوس ہم ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے قبل کے اسی طرح کے مزید واقعات آیندہ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی رہیں، فوری طور پہ اس حوالے سے حکومت سخت ایکشن لے اور حکومتی ذمے دار ادارے تمام مارکیٹ کا سروے کریں۔ تمام مارکیٹ میں چیکنگ کی جائے کہ کہاں کہاں غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ گیس کو بھی پابند کیا جائے کہ جہاں جہاں انھوں نے قانونی کنکشن دیے ہیں وہاں بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے یا گیس کی جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ضروری ہو، وہاں ایک یونیفارم پالیسی کے تحت ہی لوڈ شیڈنگ کی جائے اور یہی پالیسی سب کے لیے ہو، کیونکہ عموماً لوڈ شیڈنگ کے بدلتے شیڈول سے شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور انھیں اس کی ٹائمنگ بھی یاد نہیں رہتی جس کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔

ہماری صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور خاص کر منتخب نمائندوں کو اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ شہریوں کی جان اور مال کا مسئلہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending