Today News
پاکستان اسپورٹس بورڈ کا دو ویٹ لیفٹنگ آفیشلز پر تاحیات پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹ اینٹی ڈوپنگ ڈویژن کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے سابق صدر حافظ عمران بٹ اور کوچ عرفان بٹ پر ڈوپنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر تاحیات پابندی عائد کی گئی ہے۔
پی ایس بی کے نزدیک یہ فیصلہ کھیلوں کے وقار کے تحفظ اور منظم ڈوپنگ میں ملوث عناصر کے احتساب کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے نومبر 2025 میں ہی ڈوپنگ میں ملوث افراد کے خلاف مکمل قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے سخت کارروائی کی تھی اور متعلقہ افراد کو معطل اور پابند کیا تھا۔
سی اے ایس کا حالیہ فیصلہ پی ایس بی کے مؤقف کی مکمل توثیق کرتا ہے، پی ایس بی اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ گزشتہ سال ڈوپنگ کے خلاف واضح اور سخت پالیسی نافذ کی گئی تھی جس کے تحت کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اسی پالیسی کے تحت سی اے ایس کے فیصلے میں نامزد افراد کو پاکستان میں کسی بھی سطح پر کسی بھی کھیل سے متعلق سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان اسپورٹس بورڈ اس بات کی بھی یقین دہانی کراتا ہے کہ سی اے ایس کے فیصلے پر سو فیصد اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
Source link
Today News
جنگ کے منفی اثرات – ایکسپریس اردو
خطے کے کچھ ممالک نے امریکا سے مل کر آبنائے ہرمز بطور طاقت کھلوانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی ایران کے خلاف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کسی بھی مسلم ملک کا ہمدرد نہیں بلکہ وہ اپنی چال بازیوں سے مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کا خواہشمند ہے ، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے دونوں نے مل کر ایران پر حملے کیے اور ایران کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکا، ایران سے بہت دور جب کہ اسرائیل ایران کے قریب ہے جو ایران کی رینج میں ہے۔
اس لیے ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے اور اسرائیل کو زبردست مالی نقصان پہنچایا اور امریکا کو بھی جواب دیا اور خطے میں واقع امریکی اڈوں اور ممکنہ اہداف پر حملے کیے اور وہاں بھی زبردست نقصان پہنچایا جس میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا مگر یہ جانی نقصان مقامی عرب باشندوں کا کم اور وہاں موجود ایشیائی باشندوں کا زیادہ ہوا جو وہاں حصول روزگار کے لیے رہ رہے تھے، جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے ۔
ایک عشرے قبل راقم کو دبئی میں ملازمت کرنے والے ایک بھارتی ہندو نے بتایا تھا کہ یو اے ای میں عربوں سے زیادہ بڑی تعداد بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے عوام کی ہے مگریو اے ای میں غیر ممالک سے آنے والے غیر مسلم ٹیکنالوجی میں زیادہ ماہر اور زیادہ دولت مند ہوتے ہیں اس لیے ان کو وہاں عزت بھی زیادہ دی جاتی ہے۔ کیوں کہ وہ باہر سے ڈالر اور دیگر یورپین کرنسی لے کر آتے ہیں جو وہ وہاں سیر وتفریح پر خرچ کرتے ہیں اور واپسی میں شاپنگ بھی کرتے ہیں جس سے وہاں کاروبار کو فروغ ملتا ہے ،دبئی نے غیر ملکیوں کی سہولیات کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور تفریح کے متعدد خوبصورت مقامات بنا رکھے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ دبئی آتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم دبئی کی بہت بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے ۔
دبئی سیاحوں کے لیے انھیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرتا ہے اور دبئی کو سیاحت کا اہم مرکز بنا چکا ہے۔راقم کو متعدد بار دبئی جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ بھارت و بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی مہارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہیں ۔ دبئی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران بنگلہ دیش سے آنے والوں کو پاکستانیوں کے مقابلے میں جلد فارغ کیا گیا ۔ پاکستانیوں کی یو اے ای میں اہمیت کم ہونے کے ذمے دار پاکستان کے حکمران رہے ہیں جن کی امارات میں ذاتی جائیدادیں اور کاروبار ہیں اور حکومت سے فارغ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست دان دبئی میں رہتے آئے ہیں اور یہ ہی اقتدار میں رہ کر یو ترقی یافتہ ملکوں سے امداد و قرضے مانگ مانگ کر پاکستان کی بے عزتی کے ذمے دار ہیں کیونکہ بھکاریوں اور مقروضوں کی کہیں عزت نہیں ہوتی بلکہ ان کی توہین کی جاتی ہے۔
پاکستان امیر عرب ملکوں کا مقروض ہے جب کہ یو اے ای کی بھارت سے قربت بڑھ رہی ہے۔ یو اے ای نے بھارت سے دفاعی معاہدے بھی کیے۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کئی ملکوں کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر پر بھی تحفظات ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ گوادر کی ترقی سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا اور دنیا کو تجارت کے لیے نئی بندرگاہ میسر آجائے گی۔ بعض ملکوں کو یہ بھی خطرہ ہے کہ گوادر ان کی بندرگاہوں کی جگہ نہ لے لے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گوادرکبھی دنیا میں کسی کی جگہ اس لیے نہیں لے سکتا کہ پاکستان کا مقصد گوادر بندرگاہ کی ترقی ہے مگر گوادر میں دیگر ملکوں جیسی سہولیات ،امن اور روزگار کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یو اے ای بھارت کو ترجیح اور اہمیت دیتا ہے کیونکہ بھارت یو اے ای کا محتاج ہے۔
یو اے ای کے حکمران اپنی چھٹیاں گزارنے اور موسمی شکار کے لیے پاکستان ضلع رحیم یارخان کے علاقے میں نجی طور پر آتے ہیں، یہ ان کا نجی دورہ ہوتا ہے سرکاری نہیں ۔ یو اے ای کے حکمران پاکستان کے سرکاری دورے بھی کم کرتے ہیں جب کہ پاکستانی حکمران آئے دن یو اے ای جاتے رہتے ہیں۔حالیہ ایران جنگ سے دبئی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور جو لوگ دبئی جانے کو اعزاز سمجھتے تھے‘ وہ بھی اس وقت پریشان ہیں۔ یواے ای کی کوشش ہے کہ ہرمز بندرگاہ کھول دی جائے کیونکہ اس سے اس کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ یو اے ای ایران جیسی دفاعی صلاحیت کا ملک نہیں وہ کاروباری اور سیر و تفریح کا ملک ہے ۔
Today News
ملکی دولت چند ہاتھوں تک محدود، معاشی نظام کی تشکیل نو ناگزیر
اسلام آباد:
پاکستان میں جاری معاشی بحث عموماً شرح سود، مالی خسارے، ٹیکس نظام اور قرضوں کے گرد گھومتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔
ایک ایسی معیشت جو بنیادی طور پر قرض اور یقینی منافع پر قائم ہو، نہ صرف دولت کو چند ہاتھوں تک محدود کر دیتی ہے اور طویل مدتی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل فریم ورک موجود ہے جو اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے اور جس میں استحصالی قرضوں کی حوصلہ شکنی، رسک شیئرنگ کی حوصلہ افزائی، مشکلات کا شکار قرض داروں کیلیے نرمی اور مالی معاملات میں شفافیت پر زور دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق دولت میں اضافہ صرف پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی نظام میں زیادہ تر بوجھ قرض لینے والوں پر ہوتا ہے جبکہ قرض دینے والے محفوظ رہتے ہیں، معاشی سست روی کی صورت میں کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کو حقیقی پیداواری سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے، جب سرمایہ بغیر کسی عملی شراکت کے منافع پیدا کرتا ہے تو معیشت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس، شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کاروبار کو فروغ دیتی اور معیشت کو مستحکم بناتی ہے، سخت قرض کی شرائط اکثر دیوالیہ پن اور بے روزگاری کا باعث بنتی ہیں، جبکہ ری اسٹرکچرنگ اور مہلت دینے جیسے اقدامات معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شفافیت، دستاویزی معیشت اور مضبوط قانونی نظام سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان کو درپیش چیلنجز میں بلند عوامی قرضہ، کم سرمایہ کاری، کمزور صنعتی ترقی اور دولت کا ارتکاز شامل ہیں، پاکستان کو قرض پر مبنی نظام سے نکل کر ایک شفاف، منصفانہ اور شراکت داری پر مبنی معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
Today News
پی ٹی آئی کی 9 اپریل جلسے کیلیے پاور شو کی تیاری، ہر رکن کو 500 کارکن لانے کا ٹاسک
پشاور:
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 9 اپریل کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کرلی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اپریل کو وزیراعلیٰ کی قیادت میں پشاور سے ایک بڑا قافلہ راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگا جو جی ٹی روڈ کے ذریعے پنڈی پہنچے گا۔
حکمت عملی کے تحت اگر قافلے کو کسی مقام پر روکا گیا تو وہیں جلسہ کیا جائے گا، تاہم پارٹی نے تصادم سے گریز کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں پارٹی کے ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم از کم 500 کارکنوں کو جلسے میں شرکت کے لیے لائیں تاکہ بھرپور پاور شو کیا جا سکے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash