Connect with us

Today News

پاکستان مخالف دعویٰ الٹا پڑ گیا، سوشل میڈیا دباؤ پر اسکائی نیوز پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور

Published

on


برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کی پاکستان سے متعلق مبینہ گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹ پاکستانی صارفین کی شدید تنقید کے بعد حذف کر دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسکائی نیوز نے افغانستان ایئرفورس کے ذریعے پاکستان پر حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے سوشل میڈیا پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا گیا۔

پاکستانی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں باقاعدہ ایئرفورس کا وجود نہیں، جس کے باعث اسکائی نیوز کی پوسٹ پر ہزاروں افراد نے ردعمل دیتے ہوئے خبر کی درستگی پر سوالات اٹھائے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اسکائی نیوز ماضی میں بھی پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف متنازع رپورٹس کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے، جبکہ چینل کی اینکر یلدہ حکیم پر بھی پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر جھڑپوں کی اطلاعات

Published

on



کابل:

افغان دارالحکومت کابل میں طالبان وزارت دفاع کی عمارت کے اندر مبینہ طور پر اندرونی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا ادارے آماج نیوز کے مطابق پاکستان کے آپریشن ضرب للحق میں جاری فضائی حملوں کے دوران وزارت دفاع کے احاطے میں فائرنگ اور کشیدگی کی صورتحال دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق جھڑپوں کی وجوہات، ملوث گروپوں اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، جبکہ واقعہ کو ایک جاری اور ابھرتی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مزید معلومات کے انتظار میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کابل اور پکتیا میں پاک فوج کے فضائی حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی

Published

on


گزشتہ رات افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں افواج پاکستان کی بھرپور اور موثر کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب للحق کے تحت اب تک 72 افغان طالبان کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے جبکہ دشمن کی 16 چیک پوسٹیں تباہ اور 7 پر قبضہ کر لیا گیا، جبکہ موثر جوابی کارروائی میں 30 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیا گیا۔

آپریشن ضرب للحق میں پاک فضائیہ کے طیاروں کے حملے بھی جاری ہیں، فضائی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کی مختلف اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔    

ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے جس کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کابل کے ایک حصے میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پکتیا میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے افغان طالبان رجیم کے ایک کور ہیڈ کوارٹر کو تباہ کر دیا ہے، جو مکمل طور پر آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

افغان صوبے ننگرہار میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی قیادت، بیانیہ اور بدلتا توازن

Published

on


عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس سے طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہے جس میں دعوؤں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ اور غیر مشروط حمایت کا اعلان، جو عالمی سفارتی توازن کے لیے کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان دونوں تقاریر اور اقدامات کو محض سیاسی بیانات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اس بدلتی ہوئی عالمی ترتیب کی عکاسی کرتے ہیں جہاں طاقت کی سیاست، قومی مفاد اور داخلی سیاسی تقاضے بین الاقوامی اصولوں پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے پہلے دس ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کیں، پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی، ملکی معیشت کو تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر پہنچایا، مہنگائی کو کم کیا اور روزگار کو ریکارڈ سطح تک بڑھایا۔ بظاہر یہ ایک فاتحانہ بیانیہ ہے، مگر تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان دعوؤں کی نوعیت، شواہد اور عملی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

سب سے اہم دعویٰ پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے سے متعلق تھا۔ جنوبی ایشیا دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خطہ ہے جہاں معمولی سرحدی جھڑپ بھی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے، اگر واقعی واشنگٹن نے کسی سفارتی مداخلت کے ذریعے تناؤ کم کیا تو اس کی تفصیلات، بیک چینل رابطوں، عالمی دباؤ اور علاقائی کرداروں کا تجزیہ ضروری ہے۔ عالمی سفارت کاری میں اکثر ایسی کوششیں پسِ پردہ ہوتی ہیں، مگر جب انھیں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو شفافیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت کا دارومدار صرف بیرونی مداخلت پر نہیں بلکہ داخلی سیاسی استحکام، عسکری حکمت عملی اور عوامی بیانیے پر بھی ہوتا ہے۔

ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ تہران واضح ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ، جو عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پایا، بعد ازاں امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باعث متاثر ہوا۔ آج اگر دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی حکمت عملی ہے یا سابقہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل؟ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو یورپی ممالک اور خطے میں امریکی اڈوں کے لیے خطرہ قرار دینا ایک اہم نکتہ ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف پابندیوں اور دھمکیوں میں نہیں بلکہ اعتماد سازی، علاقائی سلامتی کے فریم ورک اور باہمی ضمانتوں میں پوشیدہ ہے۔

امریکی معیشت کے حوالے سے کیے گئے دعوے بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ بے روزگاری کی شرح، افراطِ زر کے اعداد و شمار، شرحِ نمو اور صنعتی پیداوار جیسے عوامل کسی بھی معیشت کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ انتخابی سیاست میں معاشی کامیابیاں ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اور ہر حکومت اپنی کارکردگی کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ تاہم معاشی استحکام صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر متوسط طبقے کی قوتِ خرید، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور سماجی مساوات پر بھی پڑتا ہے، اگر معاشی ترقی کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک نہ پہنچیں تو مضبوطی کا دعویٰ محض رسمی رہ جاتا ہے۔خارجہ پالیسی کے میدان میں وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کا ذکر، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے اور صومالی برادری پر اربوں ڈالر کے فراڈ کا الزام ایک سخت گیر بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ لاطینی امریکا میں امریکی کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ اسی طرح داخلی سطح پر کسی مخصوص کمیونٹی کے بارے میں عمومی الزامات معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک ذمے دار قیادت کے لیے ضروری ہے کہ داخلی اتحاد کو کمزور کیے بغیر قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔

ادھر بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ بھی عالمی سفارت کاری میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد بھارت نے کھل کر اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہر اس جان کے ضیاع پر تعزیت پیش کرتا ہے جو اس حملے میں ہوئی اور بھارت مکمل یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا واضح ذکر نہ ہونا عالمی مبصرین کے لیے قابلِ توجہ تھا۔اسرائیلی اور غزہ کی موجودہ صورتِ حال بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے تناظر میں انتہائی حساس ہے۔ حماس کے حملے کی مذمت اپنی جگہ، مگر جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموشی ایک سفارتی توازن کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔ بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی غیر جانبداری اور فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت پر مبنی رہی ہے، اگر اس پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے تو اس کے اسباب، علاقائی مفادات اور اسٹرٹیجک شراکت داریوں کا تجزیہ ضروری ہے۔بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی، تکنیکی اور زرعی شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ جدید دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں اشتراک دونوں ممالک کو قریب لایا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس اسٹرٹیجک قربت کے نتیجے میں بھارت اپنی روایتی سفارتی توازن کی پالیسی سے دور ہو رہا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، غیر مشروط حمایت بھارت کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرسکتی ہے۔

 عالمی سیاست میں امریکا اور بھارت کا ابھرتا ہوا اسٹرٹیجک اشتراک بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ بحرِ ہند و بحرالکاہل کی حکمت عملی، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ اور دفاعی تعاون کے معاہدے دونوں ممالک کو قریب لا رہے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کی قربت اور ایران کے بارے میں امریکا کا سخت مؤقف خطے میں ایک نئی صف بندی کا اشارہ دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان طاقت کا توازن نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا موجودہ عالمی قیادت طاقت کے مظاہرے کو سفارت کاری پر فوقیت دے رہی ہے؟ اگر’’ امن بزورِ طاقت‘‘ ہی اصول بن جائے تو کیا عالمی ادارے، کثیرالجہتی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون اپنی افادیت برقرار رکھ سکیں گے؟ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا کردار اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب بڑی طاقتیں انھیں کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کریں۔تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ عالمی بیانیہ زیادہ تر داخلی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ امریکا میں انتخابی ماحول، بھارت میں قومی سلامتی کا بیانیہ، اسرائیل میں داخلی سیاسی چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی رقابتیں، یہ سب عوامل تقاریر اور بیانات کو متاثرکرتے ہیں۔ جب خارجہ پالیسی داخلی سیاسی ضرورت بن جائے تو اس کا عالمی استحکام پر اثر پڑتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ تمام پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست پاکستان کی سلامتی، معیشت اور سفارتی پوزیشن کو متاثر کرتی ہے، اگر امریکا پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر خطے کا مستقل امن صرف بیرونی ثالثی سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور اقتصادی تعاون سے ممکن ہے۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک پر ہوتا ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا تصادم کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔آخرکار، عالمی قیادت کا اصل امتحان خطابات کی طوالت یا دعوؤں کی شدت میں نہیں بلکہ عملی نتائج میں ہے، اگر جنگیں واقعی ختم ہو رہی ہیں، معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور عالمی امن کو فروغ مل رہا ہے تو یہ دنیا کے لیے خوش آیند ہے، اگر بیانیہ حقیقت سے متصادم ہو تو اس کے اثرات دیرپا اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔دنیا کو اس وقت ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو طاقت اور ذمے داری کے درمیان توازن قائم کر سکیں، جو داخلی سیاست کے تقاضوں کو عالمی اصولوں پر غالب نہ آنے دیں اور جو سفارت کاری، انصاف اور انسانی وقار کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت عارضی ہو سکتی ہے، مگر انصاف اور توازن ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں، اگر عالمی قیادت اس اصول کو پیشِ نظر رکھے تو موجودہ بحرانوں سے نکل کر ایک زیادہ مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل ممکن ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending