Connect with us

Today News

پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی

Published

on



قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جب مکالمے کا آغاز ہوتا ہے تو تاریخ رقم ہوتی ہے، اور پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

اس سے قبل بھی شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر  پیغام میں  کہا تھا کہ اسلام امن کا نام ہے اور پاکستان امن قائم کرنے والا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں ہو رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ بندی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا امریکی وفد پاکستان پہنچ چکا ہے جبکہ ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی گزشتہ رات اسلام آباد پہنچ گیا ہے جس کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلیے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Published

on



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مکالمے اور پرامن روابط کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے افغانستان تنازع کے دوران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوجی مداخلت سے پائیدار امن ممکن نہیں جبکہ دیرپا استحکام صرف مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں پر محیط افغانستان جنگ کے دوران عمران خان بارہا عالمی برادری سے “امن کو ایک موقع دیں” کی اپیل کرتے رہے اور خبردار کیا کہ جنگ صرف عدم استحکام میں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ نے عمران خان کے اس مؤقف کو درست ثابت کیا ہے، کیونکہ اس جنگ میں لاکھوں افغان جانوں کا ضیاع ہوا جن میں اکثریت شہریوں کی تھی، امریکہ کو 2.3 ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ 2400 سے زائد امریکی فوجی جان بحق ہوئے اور بالآخر یہ جنگ ایک مذاکراتی انخلا پر ختم ہوئی جس نے عسکری طاقت کی حدود کو واضح کر دیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس طویل جنگ کے اثرات آج بھی خطے میں انسانی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کی صورت میں موجود ہیںِ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عالمی برادری اب اسی نظریے کی جانب بڑھ رہی ہے جس کی وکالت عمران خان نے بہت پہلے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر درست ثابت ہونے کے باوجود عمران خان کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت قید رکھا گیا ہے، صرف اس لیے کہ انہوں نے سچ بولا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں، جن میں سے کئی اس قدر غیر منطقی ہیں کہ انصاف کا مذاق بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی بروقت سماعت نہیں کی جا رہی، جو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کی قید کو طوالت دینے کی کوشش ہے، جو اب 950 دن سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کو عام قیدیوں کو حاصل بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جن میں اہل خانہ، وکلاء، ذاتی معالجین اور بیٹوں سے ملاقات کا حق شامل ہے۔ انہوں نے ان کی تنہائی میں قید کو ذہنی تشدد اور دباؤ ڈالنے کی منظم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پنجاب حکومت و اڈیالہ جیل انتظامیہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے گریز کر رہی ہے، جو آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے، جبکہ عمران خان کی بہنوں، پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کو ریاستی دباؤ تشدد اور ہراسانی کا سامنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کے لیے عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی، آئینی ترامیم اور ادارہ جاتی مداخلت جیسے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید ایک منظم سیاسی انتقام ہے جس کا مقصد ملک کی مقبول ترین سیاسی آواز کو خاموش کرنا ہے، اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، کو منظم انداز میں جمہوری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اسے جلسے جلوس، مہم چلانے اور اظہار رائے کی آزادی سے روکا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانا ایک معمول بن چکا ہے تاکہ جمہوری اختلاف رائے کو دبایا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل شہید

Published

on



پشاور کے نواحی علاقےحسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیس اہلکار کو شہید کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیس کانسٹیبل کو شہید کیا۔ پولیس کی جانب سے خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ مبینہ دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے۔

واقعے کی سی ٹی ڈی اور پولیس ٹیموں نے تفتیش شروع  کردی ہے۔

پولیس کے مطابق کانسٹیبل کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ڈیوٹی پر تھا، فائرنگ کے وقت پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا اور اسپتال پہنچنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاسکا۔

واقعے کے بعد فورسز نے ملزمان کی گرفتاری کیلیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا،

بعد ازاں شہید مقتدر خان کی نمازجنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ادا کی گئی، جس میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، کمانڈر 102 بریگیڈ بریگیڈیئر مبشر، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک فوج کے اعلیٰ حکام، ڈویژنل ایس پیز اور پولیس افسران سمیت جوانوں اور لواحقین نے شرکت کی۔

اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے جسدخاکی کو سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر خان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے عزم دہرایا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کو بہت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

سندھ حکومت ٹیکس دینے والے شہر میں عالمی اداروں سے قرض لے کر منصوبے بنارہی ہے، ایم کیو ایم

Published

on


متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی اداروں کے فنڈز والے منصوبوں پر تختیاں لگاکر عوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مرکزی شاہراؤں کی ٹوٹ پھوٹ اور سندھ حکومت کی نمائشی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد سے جاری بیان میں متحدہ اراکینِ اسمبلی نے  کہا کہ کراچی کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر سندھ حکومت کے اپنے بجٹ سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں سے لئے گئے قرضوں اور گرانٹس کے مرہونِ منت ہے۔

انہوں نے کاہ کہ قرض کی پیالی اور اپنی واہ واہ کے مصداق سندھ میں یہ نظام چل رہا ہے، ملک کو پالنے والے شہر کے ساتھ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ کام عالمی بینک اور ایشین بینک کے پیسوں سے کام ہو رہا ہے جس کا بوجھ بھی بالآخر اسی عوام نے مزید ٹیکس کی صورت میں اتارنا ہے لیکن سندھ حکومت کے وزراء اس پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے یہ ان کا ذاتی کارنامہ ہو۔

متحدہ کے اراکین اسمبلی نے سوال اٹھایا کہ کراچی سے جمع ہونے والے اربوں روپے کے ٹیکس اور سندھ حکومت کا اپنا سالانہ ترقیاتی بجٹ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر مرکزی شاہراؤں کے چند کلومیٹر کے لئے بھی عالمی اداروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو صوبائی خزانہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟

اراکین نے مزید کہا کہ حکومت کاغذی شیر بننے کے بجائے ان منصوبوں کی شفافیت پر توجہ دے، عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والی سڑکوں پر تختیاں لگانے کی دوڑ تو لگی ہوئی ہے لیکن ان منصوبوں میں ہونے والی تاخیر اور معیار پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے اور نام نہاد مقامی، سندھ حکومت کی اپنی کارکردگی صرف ان گڑھوں تک محدود ہے جو ہر شاہراہ پر موجود ہیں اور میڈ ان سندھ گورنمنٹ کا اصل اشتہار ہیں۔

اراکینِ سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینکوں سے ملنے والے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ان اداروں سے لی گئی رقم کا کتنا حصہ واقعی زمین پر لگا اور کتنا کمیشن مافیا کی نذر ہو گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ صرف رنگ و روغن اور تختیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے انہیں معیاری اور پائیدار انفراسٹرکچر چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending