Connect with us

Today News

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، فیلڈ مارشل

Published

on



راولپنڈی:

آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا، انہیں مغربی سرحد اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، آپریشن غضب للحق میں تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے مادر وطن کے دفاع میں لازوال قربانیاں دینے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔ دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو سیکیورٹی صورتحال، انٹیلی جنس بیسڈ جاری آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

فیلڈ مارشل کو جاری آپریشن غضب للحق اور پاکستان افغانستان سرحد پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سید عاصم منیر نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں کے ساتھ بات چیت کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی غیر متزلزل پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور بلند حوصلے کو سراہا۔

انہوں نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ان کے ثابت قدم عزم کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے اور سرحد پار سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔

پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل نے پاکستان افغانستان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، ہم آہنگی مکمل اعتماد کا اظہار کیا، وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے؛ اسرائیل کی نئی دھمکی

Published

on


فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک اور دھمکی دیدی۔ 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے جانشینوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی شخص ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی نئی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

ان کے بقول اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ امریکا کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کی عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اقدامات کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیل نے ایک ایک زیر زمین بنکر کو فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔

حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شریک تھی۔

اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای، اہلیہ، خاندان کے دیگر افراد اور اجلاس میں شامل تمام شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل ابھی ہونا ہے جس کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں آیت اللہ کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی نظام درہم برہم ، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سامان کے انبار لگ گئے

Published

on



ایران امریکا جنگ نے فضائی نظام درہم برہم کردیا، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے ایئرپورٹس کے گوداموں میں سیکڑوں ٹن سامان کے انبار  لگ گئے جبکہ بڑی ایئر کار گو سروس فرام کرنے والی کمپنیوں نے چارجرز ڈبل ٹرپل کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق ایران امریکا جنگ نے مسافروں کے ساتھ ساتھ ایئر کاگو سروس بھی شدید متاثر کر دی، مشرقی وسطی کے لیے کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر پھل سبزیاں گوشت سمیت دیگر سامان گزشتہ پانچ روز سے روانہ نہ ہو سکا۔

 پاکستان کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ سے ایئر کارگو کے ذریعے جانے والا سامان بھی ایئرپورٹ کے گوداموں میں پڑا ہوا ہے جو کمپنیاں لے کر جا رہی ہیں انہوں نے اپنے ریٹ بھی ڈبل کر دیے ہیں، سب سے زیادہ متاثر گوشت پھل سبزیوں بھجوانے والے ایکسپورٹر ہو رہے ہیں۔

 لاہور ایئرپورٹ کی بات کریں تو روزانہ 200 سے 300 ٹن کے قریب سامان ایئر کاگو کے ذریعے دبئی، ابوظیبی، شارجہ، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو جاتا تھا لیکن  ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے سامان نہیں پہنچ پا رہا، ایکسپورٹر بھی پریشان ہیں  جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ بھی بے روزگار ہو چکے ہیں۔

 لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہ 60 سے 70 کے قریب کلیئرنگ ایجنٹ ہیں جو روزانہ 200 سے 300 ٹن  کے قریب بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ سامان کلیئر کراتے تھے، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ریاض کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے ایک بھی شپمنٹ نہیں گئی نہ کوئی شپمنٹ آئی نہ کوئی شپمنٹ  گئی ۔

روزانہ اس آس پر آتے ہیں کہ شاید آج فضائی روٹس بحال ہو جائیں اور کچھ سامان چلا جائے تو دو وقت کی روٹی کما لیں مگر ایران امریکا جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور دور دور تک کوئی چانس بھی نظر نہیں آرہا۔

دوسری طرف ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ڈائریکٹر منصور  کے مطابق ان کا مال ان کے دفاتر اور ایئرپورٹ کے شیڈ میں گزشتہ پانچ روز سے پڑا ہے بکنگ ہو چکی تھی لیکن پروازیں عین ٹائم پہ منسوخ ہو گئیں جس کی بنا پر سامان نہ تو سعودی عرب جا سکا نہ عرب امارات جو تھوڑی بہت فضائی کمپنیاں  ایئر کارگو سروس فرام بھی کر رہی ہیں تو انہوں نے بھی اپنے ریٹس میں ڈبل ٹرپل   اضافہ کر دیا ہے ان کے ریٹ اس قدر زیادہ ہو گئے ہیں کہ اس پر سامان بھجوانا ممکن ہی نہیں رہا یعنی کہ سامان کی قیمت سے بھی زیادہ ریٹ ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے کم از کم ایئر کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر ایئرپورٹ پر ہزاروں ٹن کے حساب سے جو سامان پڑا ہے وہ روانہ ہو سکے اگر یہ سامان نہ گیا جس میں پھل سبزیاں کھانے پینے کی دیگر اشیاء سمیت کپڑے اور دیگر اشیاء شامل ہیں نہ گیا تو  ان کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

 انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد ایئر لائن کے ساتھ مشاورت کر کے کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ ایئر  کارگو سے جڑے ہزاروں خاندان بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔

 منصور کے مطابق صرف یورپ کے کچھ ممالک اور امریکا کینیڈا شپمنٹ گئی ہیں اور وہ بھی ڈبل ریٹس پر مجبوری میں بھجوائیں ہیں، اگر چند روز میں صورتحال ٹھیک نہ ہوئی تو حالات  بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے جہاں نقصان ایئرلائن ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہو رہا ہے وہیں کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں حکومت کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، گارمنٹس اور دیگر اشیاء تو ایک دو ہفتے روکی جا سکتیں ہیں مگر پھل سبزیوں اور گوشت کا کیا کریں گے، گوشت کو شپمنٹ سے پہلے دس سے بارہ گھنٹے کے لیے خصوصی ٹمپریچر پر رکھا جاتا ہے مگر یہاں تو بات گھنٹوں سے نکل کر دنوں تک پہنچ گئی ہے، سبزیاں، گوشت، پھل تو سڑ جائیں گے۔

 ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر سے ملکی وغیر ملکی ایئر لائینز کی سات سو سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر سامان ان پروازوں کے ذریعے ہی کار گو ہوتا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

بحرہند میں ایران کے جنگی جہاز کو غرق کردیا؛ امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ

Published

on


امریکی وزیر دفاع  پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ میں ایران جنگ سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر دفاع نے پینٹاگون میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے بحر ہند میں تیرتے ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔

امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کی تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں لیکن سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے جس میں تقریباً 180 افراد سوار تھے۔

سری لنکا کے سیکرٹری برائے وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 30 سے زائد افراد کو بحفاطت بھی نکالا گیا جب کہ بقیہ کی تلاش کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔

تاحال ایران کی جانب سے اپنے بحری جہاز سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی امریکا نے تصدیق کی آیا یہ وہی جہاز ہے جس کو غرق کرنے کا دعویٰ امریکی وزیر دفاع نے کیا۔

یاد رہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والے ایرانی بحری جہاز کے غرق ہونے کی کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز وہی ہے جسے امریکی دفاع نے نام لیے بغیر غرق کا دعویٰ لیا ہے۔

سری لنکا میں ممکنہ امریکی حملے میں سمندر برد ہونے والے ایران کے جنگی بحری جہاز کی تفصیلات درج زیل ہیں۔

حادثے کا شکار بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا

حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔

نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔

یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔

اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





Source link

Continue Reading

Trending