Connect with us

Today News

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں فضائی حملے، ٹی ٹی پی کے سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے سات ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 80 سے زائد خوارج مارے گئے۔

عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ رات افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایئراسٹرائیک کی گئی ہیں جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جب کہ 80 سے زائد خوارجی  مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جب ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔

 

عسکری ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جو سات ٹھکانے تباہ ہوئے ان میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر دو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، رہائشی فلیٹس دھماکا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی فلیٹس میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی اصل وجہ گیس لیکج قرار دے دی۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے سلنڈر دھماکے کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ متاثرہ فلیٹس میں کسی پھٹے ہوئے سلنڈر یا اس کے پرزے بھی نہیں ملے۔

انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ عابد کا کہنا ہے کہ گیس کے پائپ لفٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، جس کے باعث شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا اور لفٹ بھی گر گئی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گھر میں گیس کا چولہا کھلا رہ گیا تھا اور اچانک گیس آنے سے فلیٹ میں گیس بھر گئی جس نے دھماکے کی شکل اختیار کرلی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد بلاک ای کے رہائشی اپارٹمنٹس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسکول – ایکسپریس اردو

Published

on


لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں ‘ جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔

جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی ‘ لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوںنے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی ۔ ابتدائی طور پر ‘ نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہو گی ، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔

محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر ‘ لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے ۔ والد صاحب‘ کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں ‘ وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال‘ اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب ‘ محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیںکرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔ جیل روڈ‘ کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹی سی سڑک کے گرد ‘ ان گنت ‘ ہرے بھرے درخت لگے ہوئے تھے۔

میری عادت تھی کہ دونوں اطراف کے درخت گنتا رہتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد‘ گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اور پھر بھول بھی جاتا تھاکہ کتنے درخت تھے۔ جناب!لائل پور میں مختلف شاہراہوں پر درخت ہی درخت تھے۔ چھوٹی چھوٹی بیلیں نہیں‘ بلکہ بڑے بڑے زندہ درخت ‘ بالخصوص ایگریکلچر یونیورسٹی کے شروع ہوتے ہی معلوم پڑ جاتا تھا کہ واقعی زرعی یونیورسٹی ہے۔ وہاں سے تو خیر سبزے کی ایک ایسی قطار شروع ہو جاتی تھی جو اسکول کے سامنے تک موجود رہتی تھی۔ اس لیے کہ یونیورسٹی کا رقبہ‘ اس قدر زیادہ تھا کہ پرانے اسکول کی عمارت سے بھی آگے تک موجود تھا۔ میں اس وقت بالکل بچہ تھا ۔ مگر آج تک تمام تر جزئیات ذہن پر نقش ہیں۔

ایک دن ‘ کلاس ٹیچر نے کوئی دس بجے اعلان کیا کہ اسکول کی نئی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ آج تمام بچے اپنا نیا تعلیمی ادارہ دیکھنے جائیں گے۔ گرمیوں کا آغاز تھا۔ دھوپ زیادہ نہیں تھی ۔شاید اپریل ہو گا۔ تمام بچوں نے نیلی قمیض اور خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ تمام طلبا اور طالبات ‘ لائن بنا کر نئے اسکول کی طرف پیدل گئے تھے۔ کوئی دس بارہ منٹ کی مسافت تھی۔ جب نئے اسکول کی عمارت دیکھی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی شاندار‘ اتنی بڑی ‘ بڑے بڑے کھیل کے میدان‘ جن میں گھاس لگی ہوئی تھی۔ شاید یہ مغربی پاکستان کے کسی بھی اسکول سے بڑا معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال جن جن سیاست دانوں اور سرکاری عمال نے اس طرح کے مایہ ناز اسکولوں کی داغ بیل رکھی تھی ‘ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کی نیکی کا ثمر ان کی اولاد کو بھی ملتا رہے۔

چوہدری ارشد اور ثاقب رزاق نے مجھے چند برس پہلے‘ کچھ نام بتائے تھے کہ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنھوں نے نئے اور سکہ بند اسکولوں کا جال بچھانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر میں بھول گیا ہوں۔ ارشد اور ثاقب‘ دونوں میرے پریپ اسکول کے کلاس فیلو ہے۔ آج بھی ان سے گہری وابستگی موجود ہے۔ نئے اسکول میں ہم چند ہی دنوں میں منتقل ہو گئے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ ہم ہمیشہ سے نئے اسکول میں موجود تھے پھر پرانی کوٹھی کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ نئے اسکول میں دو سیکشن تھے۔ جونیئر اور سینئر۔ لازم ہے کہ ہم جونیئر سیکشن میں تھے۔ ہیڈ مسٹرس حد درجہ شفیق مگر ڈسپلن کو قائم رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کا آفس جونیئر سیکشن کے شروع میں ہی تھا۔ ہاں‘ ایک واقعہ یاد آیا جس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر کافی شرارتی تھا۔ ایک دن‘ کلاس میں ایک بچے نے مجھ سے کسی بات پر لڑائی کی۔ اس نے مجھے ایک مکا مارا اور میرے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ گھر جا کر کسی کو نہیں بتایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پوچھا بھی کسی نے نہیں۔ میںنے کسی سے شکایت بھی نہیں کی۔ مگر پتہ نہیں کیسے‘ یہ بات کلاس ٹیچر کو معلوم ہو گئی۔

انھوں نے ہیڈ مسٹریس کو سارا واقعہ بتا دیا۔ میں ہر چیز سے بے خبر ‘ روزانہ ‘ کلاس میں آتا تھا۔ اور اسی ترتیب سے واپس چلا جاتا تھا۔ ایک دن چھٹی سے تھوڑا سا پہلے‘ مجھے ‘ ہیڈمسٹریس نے اپنے آفس میں بلوایا ۔ بچہ جس نے میرے دانت توڑے تھے ، وہ بھی موجود تھا۔ ہیڈمسٹریس کو پورا واقعہ معلوم تھا۔ انھوں نے ہم دونوںکو آفس کے باہر کھڑا کیا۔ اور مجھے حکم دیا کہ جس طاقت سے اس بچے نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا، اسی قوت سے اس بچے کے چہرے پر مکا ماروں۔ میں گھبرا گیا۔ ہیڈمسٹریس نے دوبارہ حکم دیا کہ فوراً مکا ماروں۔ میں نے آہستہ سے ‘ اس طالب علم کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مگر ہیڈ مسٹریس نے پوری طاقت سے ‘ اس شرارتی بچے کے مونہہ پر چار پانچ طمانچے مارے۔ وہ بچہ رونے لگ گیا۔ ہم دونوں واپس کلاس میں آ گئے ۔ اب جو بات عرض کر رہا ہوں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ وہ طالب علم‘ ہیڈمسٹریس کا بیٹا تھا۔ یہ بات مجھے کافی دنوں بعد معلوم ہوئی۔

تھوڑی دیر کے لیے سوچیئے کہ ہمارے مرد اور خواتین اساتذہ کتنے انصاف پسند اور عظیم لوگ تھے کہ اپنے بچوں کی غلطی کو بھی معاف کرنے سے گریزاں تھے۔ جناب ! حیرت ہوتی ہے ‘ کہ ایسے کمال انسان بھی ہمارے سماج میں موجود تھے۔ اب چاروں طرف دیکھتا ہوں تو عجیب سی مایوسی ہوتی ہے۔ نفسا نفسی‘ مال و زر کمانے کی دوڑ اور بگاڑ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ پہچانے ہی نہیں جاتے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں طاقتور درندہ ‘ کمزور جانوروں کے گوشت پر ضیافت کر رہا ہے۔ منافقت کا اتنا کثیف دھواں ہے کہ انسان کے اصلی چہرے ہی نظر نہیں آتے۔ دراصل ہمارا پورا سماج‘ اخلاقی مفلسی کا شکار ہے بلکہ قلاش ہو چکا ہے۔ نہ پچاس ساٹھ برس پہلے کی اقدار نظر آتی ہیں نہ وہ ہمدردی اور نہ ہی قناعت کی دولت۔ ہم نفسوں! زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ آج‘ ماضی کی طرف نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی خواب ہے۔ چھ دہائیوں میں سب کچھ ہی الٹ پلٹ ہو گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں رہا۔ اور شاید کچھ بھی صحیح نہیں موجود۔ دونوں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی ترتیب ختم ہو چکی ہے۔

 بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ جونیئر سیکشن میں جو بریک ہوتی تھی۔ اس میں ہم تمام بچے‘ میس جاتے تھے۔ جوجونیئر اور سینئر سیکشن کے درمیان میں تھا۔ وہاں لازم تھاکہ ہم دودھ کا ایک گلاس پئیں۔ ٹیچر نظر رکھتی تھی کہ کوئی بچہ بھی دودھ پیئے بغیر نہ جائے۔ مجھے‘ دودھ پینا کافی ناپسند تھا۔ مگر ٹیچر کی نگاہوں کے سامنے بچنا ناممکن تھا۔ اس لیے مجبوری میں ایک گلاس ضرور پینا پڑتا تھا۔ جس طرح لائن بنا کر ہم میس کی طرف جاتے تھے، اسی ترتیب سے واپس کلاس میں آ جاتے تھے۔ اور پھر تعلیم کا معمول شروع ہو جاتا تھا۔ بریک کے بعد شاید دو پریڈ ہی ہوتے تھے۔ ہمارا تمام نصاب انگریزی میں تھا ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پوری زندگی انگلش میڈیم اسکول اور کالجوں میں ہی زیر تعلیم رہا ہوں۔ اسکول کی ٹیچرز ‘ بچوں پر بہت محنت کرتی تھیں۔

شاید‘ انھیں کی جوتیوںکے طفیل زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ پایا ہوں۔ مسز خان ابھی تک یاد ہیں۔ ساڑھی زیب تن فرمایا کرتی تھیں۔ مسز چوہدری جو بعد میں ہیڈمسٹریس کے عہدے پر فائز ہوئیں ۔ حددرجہ شفیق انسان تھیں۔ چہرے پرایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے ‘ اظہر اور عامر آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔ جونیئر سیکشن کے سامنے کھیل کا میدان بھی تھا۔ بریک میں بچوں کے غل غپاڑے سے ‘ ایک ہنگامہ مچا ہوتا تھا۔ پتہ نہیں اب میرے اسکول کے کیا حالات ہیں؟ گمان ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ بہر حال مجھے تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ پتہ نہیں‘ خواب سے جاگ کیسے گیا؟





Source link

Continue Reading

Today News

جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟

Published

on


سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔

آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔

صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔

بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔

1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔

2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending