Connect with us

Today News

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قومی سلیکشن کمیٹی تشکیل، تینوں فارمیٹس کیلئے ہیڈ کوچز کا تقرر

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے اولپمیئن سمیع اللہ خان کی سربراہی میں قومی سلیکشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور سینئر، جونیئر اور انڈر-18 کے تینوں فارمیٹس کے لیے ہیڈ کوچز کا بھی تقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق ملک میں ہاکی کے ڈھانچے کی مضبوطی اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے قومی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سینئر، جونیئر اور انڈر-18 ٹیموں کے لیے ہیڈ کوچز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پی ایچ ایف پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اولمپیئن سمیع اللہ خان کی نگرانی میں سلیکشن کمیٹی اپنے فرائض سرانجام دے گی، جنہیں پہلے ہی چیئرمین سلیکٹرز مقرر کیا گیا تھا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لیجنڈری اولمپین سمیع اللہ خان کو قومی سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، سلیکشن کمیٹی کے دیگر اراکین میں نعیم اختر، کاشف جواد، محمد خالد، عاطف بشیر اور ناصر علی شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ اولمپیئن منظور الحسن کو پاکستان سینئر ہاکی ٹیم کا ہیڈ کوچ، ایاز محمود کو پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم کا ہیڈ کوچ اور قمر ابراہیم کو پاکستان انڈر-18 ہاکی ٹیم ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ نئے ضوابط اور طریقہ کار کے تحت ہیڈ کوچز کا تعینات کیا گیا ہے، متعلقہ ٹیم کا ہیڈ کوچ کھلاڑیوں کے انتخاب کے وقت سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوگا تاکہ میرٹ اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق بہترین کھلاڑیوں کا چناؤ ممکن ہو سکے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران نے امریکا کیساتھ مذاکرات منسوخ کر دیےے، پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا: نیویارک ٹائمز

Published

on


ایران نے امریکا کے ساتھ جاری آخری مذاکرات کو منسوخ کرتے ہوئے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ اب وہ امن معاہدے یا جنگ بندی کی کوششوں میں حصہ نہیں لے گا۔

یہ بات نیویارک ٹائمز کو تین سینیئر ایرانی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی تاہم ایران یا پاکستان کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ادھر ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی واحد شخص ہیں جو ایران کے حوالے سے اپنے منصوبوں سے واقف ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں اور وہ کیا کریں گے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آج رات تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی تو ایرانی تہذیب ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان نے آبنائے ہرمز کھولنے کی حمایت کردی

Published

on



اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی سے متعلق قرارداد کی حمایت کردی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر ان مشکل حالات میں برادر مملکت بحرین اور دیگر برادر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سلطنتِ عمان اردن کے ساتھ یکجہتی، غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے فریق تو نہیں، مگر اس کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ آبنائے ہرمز اشیا اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، پاکستان جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی، شہری جہازوں کی تیز رفتار اور محفوظ آمد و رفت، اور آبنائے میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے اس کے نتائج واضح طور پر سخت اور سنگین ہیں، جبکہ عام پاکستانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی آباد ہے، اس صورتحال کا بوجھ اٹھا رہا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جدید تاریخ کے بڑے توانائی سپلائی جھٹکوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اس کے اثرات صرف توانائی کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء تک بھی پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں غذائی تحفظ متاثر ہو رہا ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کی معاشی حالت مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ اگر فوجی کشیدگی اور رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ مشکلات خطے سے کہیں آگے بڑھ کر وسیع پیمانے پر معاشی بدحالی کا سبب بنیں گی۔

پاکستان نے کہا کہ مسودہ قرارداد پر بحرین کی انتھک محنت اور وسیع مشاورت پر ان کے شکر گزار ہیں، ہم صورتحال کی فوری نوعیت اور مسودہ قرارداد کے بنیادی مؤقف سے متفق ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ نہ صرف خلیجی تعاون کونسل کے ممالک بلکہ خطے اور اس سے باہر کے تمام ممالک، بشمول پاکستان، کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بھی منطقی امر ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بحث یا انتظام میں جی سی سی ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ بحرین کی جانب سے جی سی سی کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد 2817 کی حمایت کی تھی، اور ہم مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اس قرارداد پر حرف بہ حرف اور مکمل طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھولنے کی قرارداد ویٹو؛ متحدہ عرب امارات کا اظہارِ تشویش

Published

on


متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد ویٹو ہونے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ آج سلامتی کونسل نے ایران کے غیر قانونی حملوں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے واضح عالمی تعاون کا فریم ورک قائم کرنے میں ناکامی دکھائی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرِ ہرمز کو سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے اور آبی گزرگاہوں کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی ملک کو یہ طاقت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عالمی تجارت کی شریانوں کو بند کرے اور دنیا کو اقتصادی بحران کے کنارے پہنچا دے۔

بیان میں قرارداد پیش کرنے پر بحرین کی قیادت اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ یو اے ای عالمی کوششوں کے ذریعے بحرِ ہرمز کی حفاظت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے بہاؤ کو بحال کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جہاں سے دنیا بھر میں خام تیل ترسیل کیا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا می تیل کی قلت کا سامنا ہے اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending