Connect with us

Today News

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلیے بڑا اقدام

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی کی طرف سے پاکستان میں ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا گیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے طاہر زمان کی قیادت میں انتظامی ٹیم کے ایک وفد نے ملاقات کی۔حالیہ مختلف ممالک کے دوروں سمیت ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور سے آگاہ کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے کے دوران وفد نے صدر پی ایچ ایف کو قومی ہاکی ٹیم کے حالیہ دوروں جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں،اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور میں کوتاہیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس عمل سے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم نکات اور نئی سمت متعین کرنے میں مدد ملی۔

صدر پی ایچ ایف نے ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ قاہرہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے جاری دورے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے۔ تاہم وفد نے درخواست کی کہ انہیں مستقبل کے دوروں میں بہتری اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و ترقی پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

صدر محی الدین احمد وانی نے وفد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں موجودہ دورے کے ساتھ جانے کے بجائے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی رہنمائی کے لیے مفصل رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دے دی۔

 ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے ہاکی کے انتظامی اور کھیل سے متعلق امور الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت  پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دو اہم کمیٹیوں کے قیام کا اعلان 
کیا گیا۔

آٸندہ دو روز میں گورنینس مینجمنٹ اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی تشکیل دی جائیں گی، نئی کمیٹیوں کے قیام سے قومی کھیل ہاکی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا،
گورننس مینجمنٹ کمیٹی پی ایچ ایف کے انتظامی امور کو بہتر کرے گی،کمیٹی میں ایچ آر، مالیاتی امور، ریسورس موبلائزیشن،کمیونیکیشن، رابطہ کاری کے ماہر شامل ہونگے۔

کمیٹی اسکولوں، کالجوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے رابطہ کاری بھی کرے گی، پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی میں سابق اولمپینز، اسپورٹس کوچز، ٹرینرز ، اسپورٹس میڈیسن ایکسپرٹس شامل ہونگے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ممنوعہ مواد تک رسائی کیلئے امریکا کا نئے پورٹل پر کام جاری

Published

on



امریکا ایک ایسا آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جو صارفین کو ممنوعہ کانٹینٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس پورٹل پر ممکنہ طور پر نفرت انگیز اور دہشتگردوں کے پروپیگنڈے سے متعلقہ ویب سائٹس شامل ہو سکتی ہیں۔

Freedom.gov نامی یہ سائٹ ایک پورٹل ہوگا جو یورپ سمیت ان تمام جگہوں پر کھولا جا سکے گا جہاں پر ریگولیٹرز نے کچھ مخصوص ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس پورٹل کو آزادی اظہار رائے کو لوٹانے اور سینسرشپ سے نمٹنے کے ایک اہم طریقے کے طور پر دیکھتا ہے۔

رپورٹ کےمطابق Freedom.gov لوگوں کو ایسے براؤز کرنے کی سہولت دے گا جیسے کہ وہ امریکا میں ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی ٹریک نہیں کیا جا سکے گا۔

اس ویب سائٹ کا ایک ورژن لائیو کردیا گیا ہے جس پر ایک بینر آویزاں ہے اور اس پر لکھا ہے ’معلومات طاقت ہے۔ اپنا آزادی اظہار رائے حق واپس لیں۔ تیار ہوجائیں۔‘



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی فوج کی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر بمباری؛ 3 افراد ہلاک

Published

on


امریکی فوج نے ایک بار پھر بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کشتی بحرالکاہل کے ایک ایسے حصے میں سرگرم تھی جہاں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔

فوجی حکام نے بتایا کہ نشانہ بننے والی کشتی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھی اور مبینہ طور پر اسے ایسی تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں جنہیں امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کشتی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ امریکی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات آپریشنز تیزی سے جاری ہیں اور اسی دوران ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سدرن کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کی جانب سے کی گئی۔ جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل روکنا اور مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بحرالکاہل میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف منشیات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ گروہوں کی مالی معاونت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں میں جانی نقصان پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں پولیس اہلکاروں کا رشوت نہ دینے پر شہری پر بہیمانہ تشدد

Published

on



شہر قائد کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لاقانونیت کی انتہا ہوگئی، شاہین فورس کے اہلکاروں نے بے گناہ شہری کو روکا اوررشوت نہ دینے پر تھانے لے جاکر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر اُسے ہاف فرائی کی دھمکیاں بھی دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بنائی گئی شاہین فورس کے اہلکاروں نے غریب آباد پھاٹک کے قریب لگائے گئے ناکے پر شہری کو روک کر مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔

شہری نے رشوت دینے سے انکار کیا تو اسے شریف آباد تھانے لے جاکر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے مقابلے میں ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

شہری کی شکایت پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے متاثرہ شہری پر کیے جانے والے تشدد کی انکوائری ڈی ایس پی لیاقت آباد کو سونپ دی۔

 شہری اپنے اوپر کیے گئے تشدد کے باعث 2 روزے بھی نہیں رکھ سکا جبکہ پولیس کے ہاتھوں بلاجواز پکڑ کر تشدد کرنے کی اطلاع ملتے ہی شہری کے اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد شریف آباد تھانے پہنچی۔

 شہری نے سی پی ایل سی سے ایم ایل لیٹر حاصل کر کے عباسی شہید اسپتال میں اپنا جسمانی معائنہ بھی کرایا ہے۔

اس حوالے سے متاثرہ شہری انور علی نے بتایا کہ وہ گلبرگ فیڈرل بی ایریا بلاک 4 کا رہائشی ہے اور مرغیوں کی فیڈ بنانے کے کارخانے کا مالک ہے، پہلے روزے بروز جمعرات کو وہ تروایح کے بعد ورزش کیلیے جم گیا اور وہاں سے الکرم کے قریب بریانی سینٹر سے گھروالوں کے لیے بریانی لیکر جا رہا تھا کہ شریف آباد کے علاقے میں ریلوے پھاٹک کے قریب سنسان مقام پر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 اہلکاروں نے اُسے روکا۔

انور علی کے مطابق بعد میں پتہ چلا کہ وہ شاہین فورس کے اہلکار تھے انھوں نے ناکہ لگایا ہوا تھا اور وہاں سے گزرنے والوں کو روک کر چیکنگ کر رہے تھے۔

شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ جب میں وہاں پہنچا تو اہلکاروں نے مجھے روکا اور مجھے سے مبینہ طور پر 2000 روپے طلب کیے جبکہ میرے پاس 58 ہزار روپے نقد موجود تھے تاہم شہری نے پیسے دینے سے انکار کیا تو اس کے موٹر سائیکل کے دستاویزات طلب کیے جسے دیکھ کر اہلکاروں نے کہا کہ یہ چوری کی موٹر سائیکل ہے جس پر اس تھانے لیجایا گیا،

شہری انور علی نے بتایا کہ تھانے میں ڈیوٹی افسر آصف ، سنتری اور دیگر افراد نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر بلاجواز تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث میں شدید خوفزدہ ہوگیا جبکہ کمرے میں دیگر 2 سے 3 افراد بھی پہلے سے موجود تھے اور انھیں خوفزدہ کرنے کے لیے مجھے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

انور علی نے بتایا کہ پولیس کے مبینہ تشدد سے اس کے دو روزے بھی چھوٹ گئے جبکہ تشدد کرنے والے ایک اہلکار نے کسی کو کال پر لیکر میری ویڈیو بھی بنائی اور یہ بات ایس ایچ او شریف آباد کو پتہ چلی تو انھوں نے اس اہلکار کے موبائل فون سے ویڈیو دیکھ کر اس پر غصہ بھی کیا۔

شہری نے بتایا کہ ایس ایچ او کی جانب سے تعاون کیا گیا لیکن دیگر پولیس اہلکاروں نے مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کہا کہ اس کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے اور اسے مقابلے ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی اس دوران ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹ جائیگا اور میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ انھیں 2000 دیکر جان چھڑا لیتا۔

پولیس گردی کا شکار شہری نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے میرا آئی فون 14 پرو موبائل بھی توڑ دیا جبکہ میرے پکڑے جانے کی اطلاع پر اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد تھانے پہنچ گئی جس کے بعد مجھے رہائی ملی۔

بعدازاں سی پی ایل سی کا ایم ایل لیٹر لیکر عباسی شہید اسپتال سے اپنا ایم ایل او بھی کرایا جبکہ میرے جسم پر بلاجواز تشدد کے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔

شہری نے بتایا کہ اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے دفتر بھی گیا اور انھوں نے معلومات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس پی لیاقت آباد کو واقعے کی انکوائری دی ہے۔

شہری نے بتایا کہ اس کی گلبرگ موسیٰ کالونی میں بھی مرغیوں کی ویسٹیج کی فیکٹری قائم ہے جس کا میں مالک ہوں۔ شہری کا کہنا تھا کہ پولیس نے اسے اتنا خوفزدہ کیا تھا کہ اس کا ہارٹ فیل بھی ہوسکتا تھا۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ شہری کی شکایت پر ڈی ایس پی لیاقت آباد کو انکوائری کا حکم دیدیا ہے جبکہ انکوائری افسر ڈی ایس پی وسیم احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ متاثرہ شہری سے واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے دفتر بلوایا ہے جبکہ اس کی جانب سے جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ان کی بھی غیرجانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ مرتب کی جائیگی۔



Source link

Continue Reading

Trending