Connect with us

Today News

پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، فورسز کی کارروائی  میں 8 دہشتگرد ہلاک

Published

on



راولپنڈی:

سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اپریل 2026ء  کو شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔

سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے خارجیوں کے اس گروہ کو نشانہ بنایا۔ درست اور مہارت سے کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

اس جھڑپ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خارجی دہشت گردوں  کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ مہم  عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

وزیراعظم کا فورسز کو خراج تحسین

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرِ ستان میں پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے۔

انہوں نے کامیاب کارروائی میں 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خیبر پختونخوا میں شدید بارشیں، گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے جاں بحق افراد کی تعداد 25 ہوگئی

Published

on



خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 25 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71 گھروں کو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔

یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ،  لکی مروت ،کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ،  بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں کی انتظامیہ کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

ہی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشوں کا نیا سلسلہ یکم اپریل سے 4 اپریل تک  جاری رہنے کا امکان ہے۔

عوام سےاپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔



Source link

Continue Reading

Today News

صحافی مطیع اللہ جان کے کیس میں منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے پر عدالت برہم

Published

on



انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پولیس سے مطیع اللہ جان منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کیوں نہیں کی؟

جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مطیع اللہ جان کی منشیات فرانزک رپورٹ گم ہوگئی، جس پر عدالت نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے آج عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فرد جرم سے روکا ہے لیکن پولیس کی رپورٹ گم ہونے پر تحقیقات سے تو نہیں روکا، فرانزک رپورٹ گم ہونے پر پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کیوں نہیں کی۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نا کی یا خود ایس پی پیش نا ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔



Source link

Continue Reading

Today News

نیپرا کا سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی پر کروڑوں روپے جرمانہ

Published

on



نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کارروائی کرتے ہوئے سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

جرمانہ جنوری 2024 میں بھاری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے عائد کیا گیا۔

نیپرا فیصلے میں کہا گیا کہ جنوری 2024 میں اوسط فیول لاگت 14روپے 60 پیسے فی یونٹ رہی، فیول لاگت کے تخمینے کا ہدف 7 روپے 49 پیسے فی یونٹ مقرر تھا، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا گیا تھا۔

جنوری 2024 کے ایف سی اے کے تحت فی یونٹ بجلی 7 روپے 5 پیسے مہنگی کی گئی تھی، نیپرا نے اس بھاری اضافے کی وجوہات پر تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔

فیصلے کے مطابق جنوری 2024 میں سستی بجلی کی بجائے فرنس آئل اور ڈیزل پر مہنگی بجلی بنائی گئی جبکہ ایل این جی اور نیوکلئر پاور پلانٹس سے سستی بجلی کم پیدا کی گئی۔ ڈیزل اور فرنس آئل سے 31ارب 23 کروڑ روپے کی بجلی پیدا کی گئی۔

سی پی پی اے نیپرا اتھارٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی لہٰذا سی پی پی اے کو ایک کروڑ روپے جرمانہ اور نیشنل گرڈ کمپنی کو 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔ نیشنل گرڈ کمپنی جنوب سے شمال کی طرف بجلی ترسیلی نظام بروقت بنانے میں ناکام رہی۔ ترسیلی نظام کی عدم دستیابی کے باعث مقامی کوئلے سے سستی بجلی استعمال میں نہ لائی جا سکی۔

سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی جرمانہ 15 روز میں نامزد بینک میں جمع کرائیں۔



Source link

Continue Reading

Trending