Connect with us

Today News

پاک افغان کشیدگی اور دہشت گردی کا چیلنج

Published

on


افغان طالبان نے ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، پاک فوج کے غضب للحق کے تحت آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اب تک 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد کارندے زخمی ہیں، جب کہ متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بناکر تباہ کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سر زمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ برسوں میں اس میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں کھلے عام سرگرم ہیں، تربیتی مراکز چلا رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سفارتی سطح پر مذاکرات، مشترکہ کمیشنوں کے اجلاس اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

افغان حکام کی جانب سے مسلسل انکار یا خاموشی نے نہ صرف شکوک و شبہات کو بڑھایا بلکہ عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ اس وقت ہو جاتی ہے جب وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، معاشی بوجھ برداشت کیا اور عالمی دباؤ کے باوجود ہمسایہ ملک کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس پس منظر میں اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو اسے احسان فراموشی سے کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوستیاں یا دشمنیاں نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں، مگر ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ کم از کم ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

 افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جو پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھارت کا کردار اور پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کابل نئی دہلی کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون بڑھاتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، تو یقیناً اسلام آباد اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی یاترا کے موقع پر نیتن یاہو اور مودی کے بیانات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اگرچہ ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے، لیکن علاقائی حساسیتوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جس خطے میں واقع ہے وہاں طاقتوں کی کشمکش پہلے ہی پیچیدہ ہے، کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کا تاثر خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔

 افغان طالبان نے اگست 2021 میں کابل کا اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں عمومی تاثر یہ تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سرحدی نظم و نسق بہتر ہوگا، دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا اور باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھے گی، لیکن تین برس گزرنے کے بعد حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔

پاکستان نے طالبان حکومت کے قیام کے بعد عالمی برادری میں افغانستان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد کا مؤقف تھا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑ دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگا۔ پاکستان نے انسانی امداد، خوراک، ادویات اور سفارتی سطح پر سہولت کاری کے ذریعے ہمسایہ ملک کا ساتھ دیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی پاکستان میں مقیم تھے اور نئی لہر کے خدشات کے باوجود پاکستان نے سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی۔ اس پس منظر میں اسلام آباد کی یہ توقع بجا تھی کہ کابل کی عبوری حکومت پاکستان کی سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لے گی۔تاہم زمینی حقائق نے اس امید کو دھندلا دیا۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور حکام کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کیا۔ پاکستان نے متعدد سفارتی رابطوں، پرچم ملاقاتوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے افغان عبوری حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی، مگر اسلام آباد کا شکوہ ہے کہ کابل نے ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ افغانستان خود بھی دہائیوں سے بدامنی اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے، اگر کوئی گروہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے تو اس کے اثرات بالآخر افغانستان کے داخلی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا غیر منطقی نہیں کہ کابل حکومت ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

سرحدی کشیدگی کے تناظر میں عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ یہ بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ کشیدگی محض دو ممالک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور سماجی ڈھانچے پرگہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے میں سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت کرنا ریاست کے لیے ممکن نہیں۔

افغان عبوری حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسے داخلی استحکام، معاشی بحران، انسانی حقوق کے سوالات اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے چیلنجز درپیش ہیں، اگر وہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے تو اس کے سفارتی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور زمینی راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا کلیدی ذریعہ بھی۔ دونوں ممالک کی معیشتیں کسی نہ کسی درجے میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے تصادم کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔

عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ سرحد کے آرپار آباد قبائل، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور مذہبی ہم آہنگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دشمنی مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ سرحدی جھڑپوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نقل مکانی، مکانات کی تباہی، کاروبار کی بندش اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل انسانی المیے کو جنم دیتا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور شہریوں کا تحفظ محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔خطے کی بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔

اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنی داخلی سلامتی ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اس کے خلاف کابل حکومت کو واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہوگی۔ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی بحالی کے لیے بھی یہ قدم ناگزیر ہے۔ افغانستان کو دہشت گرد عناصر کی سرپرستی سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دینا ہوگا ۔ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہمسائیگی ایک مستقل حقیقت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس حقیقت کو دشمنی کے بجائے تعاون کی بنیاد بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال خطے میں زندگی گزار سکیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

Published

on


غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔

 آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔

یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔آج میں اسے سیر پر لے گیا۔بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گذر رہا ہوں۔

کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں رہنے والی خاتون امل السامری اور ان کے شوہر نے تین بچوں کی خاطر رمضان کا ’’ ماحول ‘‘ محسوس کروانے کے لیے اچھے سے جھونپڑی کی صفائی کی اور پانی کی شدید قلت کے باوجود یکم رمضان کو بچوں کو دھلے ہوئے کپڑے پہنائے۔

امل السامری کو تین برس پہلے کا پرامن رمضان ایسے لگتا ہے گویا تین صدیوں پہلے کی بات ہو۔تب کیسے سب مل کے بازار جاتے تھے۔آرائشی قمقمے خریدتے تھے۔رمضان میں ہی بننے والی روائیتی مٹھائیاں کھاتے بھی تھے اور رشتے داروں کو بھی بھیجتے تھے۔ فجر کی اذان تک چہل پہل اور پھر آرام۔پچھلے ماہ طوفانی بارشیں جھونپڑی اڑا لے گئیں۔نئی بنانے میں بہت وقت لگا۔بجلی اور صاف پانی تو مدت سے ایک خواب ہیں۔روایتی قمقموں کی قیمت دوگنی تگنی ہے۔پھر بھی اکا دکا تباہ شدہ گھروں اور خیموں کے باہر گھپ اندھیرے میں اپنی چمکیلی پٹیوں کے سبب یہ قمقمے روشنی کا گمان پیدا کرتے ہیں۔اردگرد کے بچے ان کے گرد پتنگوں کی طرح جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو بھی چھوٹا موٹا بازار ان خیمہ بستیوں اور کھنڈروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔بچے وہاں کا چکر لگا کے من بہلا لیتے ہیں۔

غزہ میں کرسمس ہو یا رمضان ، خوشیاں مشترک ہیں۔ماہر ترزی فلسطینی مسیحی ہیں اور عمر کی پچھتر چھہتر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ شام گئے زاویہ مارکیٹ میں نکل آتے ہیں۔بچے ان کو گھیر لیتے ہیں اور پھر سب مل کے گیت گاتے ہیں ’’ کیسی خوبصورت روشن رات ہے ، ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بھی مسکرا رہا ہے…

ماہر ترزی کہتے ہیں کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ زندہ رہنا شرط ہے۔یہ دن بھی گذر ہی جائیں گے۔

غزہ میں بنیادی خوراک کے نرخ نامے کا ڈھائی سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو تصویر واضح ہو جائے گی کہ رمضان کیسا گزر رہا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق مرغی کا گوشت اسی فیصد ، فروزن مچھلی ایک سو نوے فیصد ، فروزن بیف پچھتر فیصد ، انڈہ ایک سو ستر فیصد ، کھیرا تین سو فیصد ، ٹماٹر سو فیصد ، آلو سڑسٹھ فیصد ، چاول پچاس فیصد ، زرد پنیر سو فیصد اور خوردنی تیل اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں سو فیصد مہنگا ہے۔یعنی چھ نفوس پر مشتمل کنبے کو مناسب افطار تیار کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم درکار ہے۔یہ بجٹ ڈھائی برس پہلے کے مقابلے میں نوے فیصد زائد ہے۔

لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا حالت ہے ؟ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے بارہ سو ڈالر تھی جو اب ایک سو اکسٹھ ڈالر ہے۔کاروبار ، ماہی گیری اور زراعت برباد ہو چکے لہذا بے روزگاری کا تناسب پچانوے فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ۔مگر لوگ روزگار کے امکانات بھول بھال کر اس فکر میں ہیں کہ کل بچوں کے لیے کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں۔

غزہ کو اس وقت خوراک اور رسد سے بھرے کم ازکم ایک ہزار مال بردار ٹرک روزانہ درکار ہیں۔دس اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل چھ سو ٹرکوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔مگر روزانہ دو سو سے ڈھائی سو ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں ۔ صرف دس مقامی تاجروں کو چار اسرائیلی کمپنیوں سے سامانِ خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کا سامان خریدنے کی اجازت ہے۔اب یہ اجارہ دار کمپنیاں اور تاجر جتنی چاہیں قیمت وصول کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اسرائیل بار بار کے بین الاقوامی مطالبات کے باوجود پانچ مہینے سے غزہ کی گذرگاہیں پوری طرح نہیں کھول رہا۔کیونکہ پھر رسد کی مقدار بڑھ جائے گی اور مسابقت کے سبب چیزیں سستی ہوں گی۔جب فلسطینیوں کا پیٹ بھرے گا تو وہ زیادہ شدت سے آزادی اور غلامی کا موازنہ کرنے لگیں گے اور فلسطینیوں کی گردن پر گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑ جائے ، یہ نہ تو اسرائیل کو منظور ہے اور نہ ہی اس کے مددگاروں کو۔ان حالات میں اہلِ غزہ کی عید کیسے گذرے گی۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے سماج میں بے سروسامانی کے باوجود جو حرکتیں قابِل نفرین سمجھی جاتی ہیں ان میں سب سے اوپر بھکاریوں کی طرح کسی کا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ہے۔ان بے آسرا بستیوں کے رمضان میں شائد ہی کہیں ایسا کوئی منظر نظر آئے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

پاک ترکیہ زرعی تعاون اور کسانوں کی امید

Published

on


پاکستان، ترکیہ زرعی معاہدہ بہ ظاہر ایک روشن تصویر ہے، ترکیہ کا زرعی تجربہ واقعی قابل رشک ہے۔ گرین ہاؤس فارمنگ، ڈرپ ایری گیشن، ہائی ویلیو سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور یورپی معیارکی برآمدات اور بہت کچھ ترکیہ کی زراعت کے پاس ہے اور پاکستان کے پاس زمین تو ہے زرخیز، مگر ناکافی پانی کے ساتھ اور کبھی شدید پانی کی طلب کے ساتھ محنت ہے لیکن وہ صحیح جگہ استعمال نہیں ہو رہی۔ غیر پیداواری کاموں میں محنت ضایع ہو رہی ہے اور پاکستان میں زراعت کا مسئلہ کم پیداوار نہیں بلکہ کم انصاف یا ناانصافی ہے، یہاں فصل کسان پیدا کرتا ہے اور آڑھتی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ یہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے لیکن مافیا کے میدان میں قید ہو جاتی ہے۔ کہیں سرکاری گوداموں میں ضایع ہو جاتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، اکثر چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے کہ اتنے ہزار ٹن گندم بارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یا نامعلوم وجہ سے ضایع ہوگئی۔

ہم زراعت کو ریڑھ کی ہڈی توکہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریڑھ کی ہڈی اب جھک گئی ہے کیونکہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں غریب کسانوں کی زندگی کا حساب یوں عذاب میں بدل چکا ہے یعنی بیج، قرض، کھاد، قرض، ڈیزل، ٹیوب ویل، فصل کی قیمت آڑھتی طے کرے گا اور منافع جس کا خواب اب اگلے سال کے لیے کسان دیکھے گا اور کسان کے پاس حسرت ناکامی ہے۔

البتہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کی باتوں سے اسے کامیابی کی امید نظر آنے لگی ہے،کیونکہ ترکیہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستانی کسانوں کے لیے ایک موقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خدشہ بھی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے پاس رہی تو یہ موقع ایک نئی طبقاتی دیوار بن جائے گا،کیونکہ یہاں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آئے گی اس کے لیے سرمایہ چاہیے، بڑی رقم چاہیے وہ غریب کسان کے پاس ہے نہیں۔ اس کے ہاتھ خالی ہیں، ایسے میں پھر سرمایہ دار اس کا حق چھین کر لے جائے گا۔ یہ تعاون کا منصوبہ بہت زیادہ احتیاط طلب کرتا ہے کیونکہ بڑے زمیندار سرمایہ کی بدولت جدید فارمنگ کریں گے۔ ملکی پیداوار تو بڑھے گی لیکن چھوٹا زمیندار پرانی کھیتی کرتا رہ جائے گا۔ اس کی پیداوار کم ہوگی اور زرعی عدم مساوات بڑھ جائے گی، لہٰذا حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوٹے اور اصلاح احوال کس طرح کی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں زرعی مارکیٹ کا آزاد نظام نہیں بلکہ ایک طاقتور گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ، سپلائی سے نہیں بلکہ گودام کی چابی سے زیادہ طے کی جاتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ زرعی تعاون کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور خوراک کی مہنگائی کم ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی برقرار رہی تو مہنگائی برقرار رہے گی۔ پاکستان اس وقت خام مال زیادہ بیچ رہا ہے اور کم ڈالر کما رہا ہے۔ پاکستان اپنی سبزیوں پھلوں وغیرہ کو ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرکے برآمد کرے۔ ترکیہ اس میدان میں ماہر ہے اگر پاکستان نے اس سے سیکھ لیا تو یہ معاہدہ ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زرعی منصوبے کو ترقیاتی منصوبہ کہا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ سرمایہ کے بل بوتے پر مشینری کی درآمد بڑھے گی اور چند گروہ فائدے میں رہیں گے اور کسان کی فصل، سبزیاں، پھل وغیرہ کی قیمتیں وہی طے کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔

پاکستان کا کسان موسم کی سختی، پانی کی کمی بیشی، کھاد کے کم یا زیادہ ڈالنے، بیج ناقص ہو یا اصلی ہو، وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ فصل کم ہو یا زیادہ قیمت کا تعین کرنے والا اپنا فائدہ دیکھتے دیکھتے اسے شدید نقصان سے دوچار کرجاتے ہیں کیونکہ یہاں کا نظام بے حس ہو چکا ہے۔

پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔ یہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت کی بقا سے جڑا ہوا ہو۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ عوام کے لیے مہنگائی میں کمی بھی لے کر آئے، اگر حکومت نے اسے عوام دوست اور کسان کے لیے فائدے کی شکل میں ڈھال دیا تو چھوٹے کسانوں کی حالت بدلی جا سکتی ہے، اگر یہ منصوبہ دیگر مافیاز کے پاس چلا گیا تو قوم کو صرف ایک اعلان ملے گا اور کسان کے سر پر مزید قرض کا بوجھ۔ لہٰذا مجوزہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کو بہت زیادہ چھوٹے کسان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں زیادہ عمل دخل سرمائے کا ہے، لہٰذا چھوٹے کسانوں کے فائدے کے لیے جب ہی ڈھالا جا سکتا ہے جب ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ تعاون ایک شاہکار تعاون میں اسی وقت بدل سکتا ہے جب مہنگائی بھی کم ہو اور کسان جو امید لگائے بیٹھا ہے اس کی امید بھی پوری ہو۔

یہ معاہدہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، غریب کسانوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام ہے جہاں کھیتوں سے امید کی کرن پھوٹے گی اور خوشحالی کے سبز خواب حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ یہ ان تھکے ہارے ہاتھوں کو تھامنے والا سہارا ہے۔ اب انھیں ترکیہ کے ساتھ مل کر پیداوار سے بھرپور ایک روشن صبح کی امید نظر آ رہی ہے لیکن خدشات بھی بہت ہیں شاید وہ حکومت کو نظر آ جائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

سوات؛ غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن، 79 افراد کو حراست میں لیا گیا

Published

on



سوات میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ضلعی پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف علاقوں سے 79 غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد قانونی دستاویزات کے بغیر ضلع میں مقیم تھے۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

حکام کے مطابق زیرحراست افغان مہاجرین اور ان کے اہلخانہ کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کیا جائے گا جبکہ ضلع بھر میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 



Source link

Continue Reading

Trending