Today News
پاک افغان کشیدگی پر سعودیہ اور ترکیہ متحرک، اہم سفارتی رابطے سامنے آگئے
اسلام آباد / انقرہ: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اہم سفارتی رابطے کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ حاکان فیدان نے جمعہ کے روز پاکستان، افغانستان، قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں پاک افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ترک ہم منصب سے گفتگو میں حالیہ علاقائی پیش رفت، خصوصاً پاکستان اور افغانستان کے درمیان صورتحال پر بات کی۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں پاکستان افغانستان سرحدی کشیدگی سمیت دیگر علاقائی امور زیر بحث آئے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر مختلف ممالک رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Today News
PM Shahbaz visit GHQ – ایکسپریس اردو
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے پاک افغان جھڑپوں پر بریفنگ دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کابینہ اراکین کے ہمراہ جی ایچ کیو پہنچے جہاں عسکری قیادت نے افغانستان کی صورت حال پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے گٹھ جوڑ اور شر پسند کاروائیوں کیلئے زیرو ٹالرنس اپنائی جائے، افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کیلئے ہر دم تیار ہیں، پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔
شہباز شریف نے افغان طالبان رجیم کے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے پر اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ارض وطن کی حفاظت کیلئے اپنی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
Today News
ایپسٹین کا لڑکیوں کی اسمگلنگ کیلیے برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کا استعمال؛ ہوشربا انکشاف
کم عمر لڑکیوں اور خواتین کا جنسی ریکٹ چلانے والے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے مجرم جیفری ایپسٹین نے ممکنہ طور پر برطانوی ایئربیس کا بھی استعمال کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ جیفری ایپسٹین اپنے نجی طیاروں کے ذریعے خواتین کو برطانیہ لاتا تھا اور ممکنہ طور پر رائل ایئر فورس کے اڈوں پر لینڈنگ بھی کی ہو۔
ان رپورٹس کے مطابق ایک اہم واقعہ دسمبر 2000 کا بتایا جا رہا ہے جب ایپسٹین کا نجی گلف اسٹریم جیٹ برطانیہ کے علاقے نورفوک میں واقع ایک فوجی ایئر بیس پر اترا تھا۔
اس کے بعد ایپسٹین نے برطانیہ کے شہزادے پرنس اینڈریو کے ساتھ شاہی رہائش گاہ سندرنگھم ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔
ان رپورٹس کے سامنے آنے پر برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے جیفری ایپسٹین کے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے لیے برٹش رائل ایئر فورس (RAF) کے اڈے استعمال کرنے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے گزشتہ دو دہائیوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور ہر ممکن ثبوت تلاش کیا جائے۔
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھی مطالبہ کیا کہ پولیس اس بات کی چھان بین کرے کہ آیا شہزادہ اینڈریو نے سرکاری فنڈز سے چلنے والی پروازوں یا برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کو ایپسٹین سے ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا تھا۔
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو کو حال ہی میں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور برطانوی تجارتی نمائندہ کام کرتے ہوئے خفیہ سرکاری دستاویزات ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
ادھر برطانیہ کی انٹیلی جنس و سکیورٹی کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ جلد ایسی دستاویزات جاری کرے گی جن سے یہ واضح ہو سکے گا کہ سابق وزیر پیٹر مینڈلسن کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کا سفیر کیوں مقرر کیا جب کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات پہلے سے سامنے آچکے تھے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران پیٹر مینڈلسن کو مختصر طور پر گرفتار بھی کیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
دوسری جانب یورپی یونین کے انسدادِ فراڈ ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے 2004 سے 2008 کے دوران یورپی کمیشن میں تجارتی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے کہیں ایپسٹین سے متعلق کوئی غیر قانونی سرگرمی تو نہیں کی۔
Today News
مغربی کنارے میں اسرائیلی کی مسماری مہم جاری، 6 ہفتوں میں 312 انفراسٹرکچر منہدم، 21 ہزار فلسطینی متاثر
مقبوضہ مغربی کنارے میں 2026 کے آغاز سے اسرائیلی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فلسطینی حقوق تنظیم Jerusalem Center for Legal Aid and Human Rights نے کہا ہے کہ سال کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران اسرائیلی حکام نے 312 فلسطینی رہائشی اور زرعی ڈھانچے مسمار کیے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے 18 فروری تک کی گئی انہدامی کارروائیوں سے تقریباً 21 ہزار فلسطینی متاثر ہوئے۔
زیادہ تر مسماری ایریا سی میں کی گئی، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 سے 23 فروری کے درمیان غیر قانونی آبادکاروں کے 86 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 60 فلسطینی کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں 186 افراد بے گھر ہوئے، 64 زخمی ہوئے، 39 گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں اور 800 زیتون کے درخت اکھاڑ دیے گئے۔
تنظیم نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں، جو مقبوضہ علاقوں میں نجی املاک کی تباہی سے روکتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ مسماری اور جبری بے دخلی کا سلسلہ روکا جائے اور فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News1 week ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا