Connect with us

Today News

پاک-بنگلہ دیش وزرائے خارجہ کا دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق

Published

on



پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ نے علاقائی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے آج بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بننے والی صورت حال اور خطے میں اس کے پھیلاؤ اور اس کے علاقائی امن و استحکام پر پڑنے والے اثرات اور گھمبیر نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں فریق نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی‘ مجسمے کا معمہ حل

Published

on



کراچی: شہر قائد کے علاقے مہران ٹاؤن میں دکان سے برآمد ہونے والے ’شیطانی شکل‘ کے مجسمے کا معمہ حل ہوگیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر شیطان کی شکل کا مجسمے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس پر کورنگی صنعتی ایریا کی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مجسمے کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

پولیس کی کارروائی کے دوران دکاندار موجود نہیں تھا تاہم پولیس نے کچھ دیر بعد مجسمہ بنانے والے کاریگر کو پکڑ لیا۔

پولیس کے مطابق تھرمو پول سے بنا مجسمہ مذہبی اسکالر نے دکاندار کو بنانے کا ٹاسک دیا اور اسے یوم القدس کے لیے بنوایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دکاندار عمران نے بتایا کہ علامہ صاحب نے کہا جمعہ کے روز ہم نے یہ پتلا جلوس میں احتجاج کے طور پر نذر آتش کرنا تھا۔

پولیس نے مجسمہ ساز کا وضاحتی بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

اسٹیٹ بینک نے عارضی طور پر خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت  دے دی

Published

on



اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات اور ملک میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت کے پیش نظر عارضی طور پر 60 دن کے لیے سی آئی ایف  کی بنیاد پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سرکلر میں مجاز ڈیلرز اور کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کی شق 5 کے تحت درآمدات کے لیے مقررہ قابل قبول انکوٹرمز میں اس عارضی نرمی کا نوٹس لیں۔

سرکلر کے مطابق موجودہ حالات اور ملک کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اجازت ہوگی۔

مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس عارضی اقدام سے متعلق اپنے تمام صارفین اور درآمد کنندگان کو آگاہ کریں اور نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

مینوئل کے تحت بعض شرائط کے ساتھ ای ایکس ورکس بنیاد پر بھی درآمدات کی اجازت دی جاتی ہے، اس صورت میں درآمدی ادائیگی شپنگ دستاویزات درآمد کنندہ کے بینک میں پیش کیے جانے پر کی جاتی ہے، جبکہ انشورنس کا انتظام درآمد کنندہ کو سپلائر کے گودام سے کرنا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج مینوئل میں درج انکوٹرمز کے علاوہ کسی اور بنیاد پر درآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فارن ایکسچینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ سے قبل از منظوری درکار ہوتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اس عارضی اجازت سے توقع ہے کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران پاکستانی تیل درآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور انشورنس سے متعلق خطرات کو زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالنے میں مدد ملے گی اور اس اقدام کا مقصد سپلائی میں ممکنہ تعطل کو روکنا اور ملکی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، پی ایس او

Published

on



پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں حالانکہ 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے۔

پی ایس او نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورت حال کے تناظر میں وزارت پیٹرولیم اور حساس اداروں کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی ہے۔

پی ایس او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت سے متعلق جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف سرکاری ملکیت میں پیٹرول اور ڈیزل کا 20 دن سے زائد کا ذخیرہ موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس موجود اسٹاک اس کے علاوہ ہے، ملک میں ڈیزل کی تقریباً 80 فیصد ضرورت مقامی ریفائنریز کی پیداوار سے پوری کی جا رہی ہے، جس سے سپلائی کی صورت حال مستحکم ہے۔

پی ایس او کے مطابق رواں ماہ کے لیے عمان سے پیٹرول کے دو کارگوز خریدے جا چکے ہیں جو شیڈول کے مطابق پاکستان پہنچ چکے ہیں، جبکہ حکومتی معاونت سے سعودی عرب کی کمپنی آرامکو سے بھی پیٹرول کا ایک کارگو حاصل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کا ایک اور جہاز اپریل کے پہلے ہفتے کے لیے خریدا جا چکا ہے جبکہ 10 مارچ کو کھولے گئے ٹینڈر کے تحت 25 اپریل تک پیٹرول کا ایک اور کارگو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

پی ایس او نے بتایا کہ مختلف ٹینڈرز پر بولیاں 13 مارچ تک کارآمد ہیں اور اپریل کے لیے پیٹرول کا ایک اور ٹینڈر 16 مارچ کو کھولا جائے گا، ملک میں ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورت حال کے مطابق کارگوز کی تعداد کا فیصلہ کیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آنے والے زرعی سیزن اور اسٹریٹجک اسٹاک کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل آپشنز پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائی میں کسی ممکنہ رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

پی ایس او نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش تیار پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور مقامی ریفائنریز کے لیے خام تیل کی سپلائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، موجودہ حالات کے باعث کویت پیٹرولیم کے دو تیار شدہ کارگوز بھی پاکستان نہیں پہنچ سکے۔



Source link

Continue Reading

Trending