Connect with us

Today News

پاک ترکیہ زرعی تعاون اور کسانوں کی امید

Published

on


پاکستان، ترکیہ زرعی معاہدہ بہ ظاہر ایک روشن تصویر ہے، ترکیہ کا زرعی تجربہ واقعی قابل رشک ہے۔ گرین ہاؤس فارمنگ، ڈرپ ایری گیشن، ہائی ویلیو سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور یورپی معیارکی برآمدات اور بہت کچھ ترکیہ کی زراعت کے پاس ہے اور پاکستان کے پاس زمین تو ہے زرخیز، مگر ناکافی پانی کے ساتھ اور کبھی شدید پانی کی طلب کے ساتھ محنت ہے لیکن وہ صحیح جگہ استعمال نہیں ہو رہی۔ غیر پیداواری کاموں میں محنت ضایع ہو رہی ہے اور پاکستان میں زراعت کا مسئلہ کم پیداوار نہیں بلکہ کم انصاف یا ناانصافی ہے، یہاں فصل کسان پیدا کرتا ہے اور آڑھتی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ یہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے لیکن مافیا کے میدان میں قید ہو جاتی ہے۔ کہیں سرکاری گوداموں میں ضایع ہو جاتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، اکثر چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے کہ اتنے ہزار ٹن گندم بارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یا نامعلوم وجہ سے ضایع ہوگئی۔

ہم زراعت کو ریڑھ کی ہڈی توکہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریڑھ کی ہڈی اب جھک گئی ہے کیونکہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں غریب کسانوں کی زندگی کا حساب یوں عذاب میں بدل چکا ہے یعنی بیج، قرض، کھاد، قرض، ڈیزل، ٹیوب ویل، فصل کی قیمت آڑھتی طے کرے گا اور منافع جس کا خواب اب اگلے سال کے لیے کسان دیکھے گا اور کسان کے پاس حسرت ناکامی ہے۔

البتہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کی باتوں سے اسے کامیابی کی امید نظر آنے لگی ہے،کیونکہ ترکیہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستانی کسانوں کے لیے ایک موقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خدشہ بھی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے پاس رہی تو یہ موقع ایک نئی طبقاتی دیوار بن جائے گا،کیونکہ یہاں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آئے گی اس کے لیے سرمایہ چاہیے، بڑی رقم چاہیے وہ غریب کسان کے پاس ہے نہیں۔ اس کے ہاتھ خالی ہیں، ایسے میں پھر سرمایہ دار اس کا حق چھین کر لے جائے گا۔ یہ تعاون کا منصوبہ بہت زیادہ احتیاط طلب کرتا ہے کیونکہ بڑے زمیندار سرمایہ کی بدولت جدید فارمنگ کریں گے۔ ملکی پیداوار تو بڑھے گی لیکن چھوٹا زمیندار پرانی کھیتی کرتا رہ جائے گا۔ اس کی پیداوار کم ہوگی اور زرعی عدم مساوات بڑھ جائے گی، لہٰذا حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوٹے اور اصلاح احوال کس طرح کی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں زرعی مارکیٹ کا آزاد نظام نہیں بلکہ ایک طاقتور گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ، سپلائی سے نہیں بلکہ گودام کی چابی سے زیادہ طے کی جاتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ زرعی تعاون کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور خوراک کی مہنگائی کم ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی برقرار رہی تو مہنگائی برقرار رہے گی۔ پاکستان اس وقت خام مال زیادہ بیچ رہا ہے اور کم ڈالر کما رہا ہے۔ پاکستان اپنی سبزیوں پھلوں وغیرہ کو ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرکے برآمد کرے۔ ترکیہ اس میدان میں ماہر ہے اگر پاکستان نے اس سے سیکھ لیا تو یہ معاہدہ ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زرعی منصوبے کو ترقیاتی منصوبہ کہا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ سرمایہ کے بل بوتے پر مشینری کی درآمد بڑھے گی اور چند گروہ فائدے میں رہیں گے اور کسان کی فصل، سبزیاں، پھل وغیرہ کی قیمتیں وہی طے کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔

پاکستان کا کسان موسم کی سختی، پانی کی کمی بیشی، کھاد کے کم یا زیادہ ڈالنے، بیج ناقص ہو یا اصلی ہو، وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ فصل کم ہو یا زیادہ قیمت کا تعین کرنے والا اپنا فائدہ دیکھتے دیکھتے اسے شدید نقصان سے دوچار کرجاتے ہیں کیونکہ یہاں کا نظام بے حس ہو چکا ہے۔

پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔ یہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت کی بقا سے جڑا ہوا ہو۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ عوام کے لیے مہنگائی میں کمی بھی لے کر آئے، اگر حکومت نے اسے عوام دوست اور کسان کے لیے فائدے کی شکل میں ڈھال دیا تو چھوٹے کسانوں کی حالت بدلی جا سکتی ہے، اگر یہ منصوبہ دیگر مافیاز کے پاس چلا گیا تو قوم کو صرف ایک اعلان ملے گا اور کسان کے سر پر مزید قرض کا بوجھ۔ لہٰذا مجوزہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کو بہت زیادہ چھوٹے کسان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں زیادہ عمل دخل سرمائے کا ہے، لہٰذا چھوٹے کسانوں کے فائدے کے لیے جب ہی ڈھالا جا سکتا ہے جب ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ تعاون ایک شاہکار تعاون میں اسی وقت بدل سکتا ہے جب مہنگائی بھی کم ہو اور کسان جو امید لگائے بیٹھا ہے اس کی امید بھی پوری ہو۔

یہ معاہدہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، غریب کسانوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام ہے جہاں کھیتوں سے امید کی کرن پھوٹے گی اور خوشحالی کے سبز خواب حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ یہ ان تھکے ہارے ہاتھوں کو تھامنے والا سہارا ہے۔ اب انھیں ترکیہ کے ساتھ مل کر پیداوار سے بھرپور ایک روشن صبح کی امید نظر آ رہی ہے لیکن خدشات بھی بہت ہیں شاید وہ حکومت کو نظر آ جائیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پشاور، بنوں اور ہنگو میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں کے حملے، جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار

Published

on



خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں پشاور، بنوں اور ہنگو میں پولیس چوکیوں اور تھانوں پر دہشتگردوں نے حملے کیے تاہم پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آوروں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق پشاور میں تھانہ بڈھ بیر اور متنی سرہ خوارہ پولیس چوکی پر دستی بموں سے حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ دوسرے حملے میں ایک اہلکار سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر دو پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرہ خوارہ چوکی میں اس وقت جرگہ جاری تھا جب دستی بم حملہ کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے بھرپور جوابی فائرنگ کی جس پر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ادھر بنوں میں کاشو پُل پولیس چوکی پر بھی دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔ کنگر پولیس چوکی پر بھی فائرنگ کی گئی تاہم پولیس کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہوگئے۔

ڈی پی او یاسر آفریدی کے مطابق بنوں شہر میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ تمام اہم شاہراہوں اور چوکوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ہنگو میں قاضی تالاب کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا اور دہشتگرد فرار ہوگئے۔

مزید برآں کوہاٹ میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے تمام داخلی راستوں پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

سیاہ انقلاب ، سفید انقلاب اورسرخ انقلاب

Published

on


نام تو ان کا کوئی اورتھا لیکن لالہ کے نام سے مشہور تھا ، میں اسے کامریڈلالہ کہتا تھا، ہمیشہ ایک خاکی رنگ کا تھیلا اس کے کاندھے پرلٹکا ہوتا تھا یا کہیں جاتے ہوئے یاکہیں سے آتے ہوئے پوچھا جاتا کہ لالہ کہاں جارہے یا کہاں سے آرہے ہو، کہتا تنظیم کے کام سے جا رہا ہوں۔ تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا ، تھیلے میں اکثر اقوال ماوزئے تنگ اورمارکس و لینن یا انگلز سٹالن کے اقوال کے چھوٹے چھوٹے کتابچے ہوتے ، یہ وہ دن تھے جب فیشن ایبل سوشلزم کا فلو یا کرونا زوروں پر تھا ، روسی کتابوں کے اردو تراجم کی بھر مارتھی اورترقی پسند مصنفین بے تحاشا مزاحمتی ادب تخلیق کرنے میں لگے ہوئے تھے ،اکثر فارغ البال قسم کے سرمایہ دار وکیل، صحافی ،شاعر اورکالجوں کے اسٹوڈنٹ اس بخارمیں مبتلا تھے ، فیض اورساحر کے اشعار زبان زد خاص وعام تھے ۔

لالہ ایک ایسے محکمے میں ملازم تھے جس میں تنخواہ کے دن حاضری دیتے تھے ، آدھی تنخواہ لے کر آجاتا تھا اورباقی ’’حقدار ‘‘ آپس میں تقسیم کرلیتے ، ایسے ملازموں کو محکمے کی اصطلاح میں شش وپنج کہتے تھے ۔دوسری طرف لالہ کی بیوی نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ سنگل پھیرہ ہرگز نہیں لگائے گی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں کرکٹ ٹیم پوری کرلی تھی ، ایسے لوگ جب اولاد کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے تو لاڈلے پن کا مظاہرہ یوں کرتے ہیں کہ انھیں بے مہار چھوڑ دیتے ہیں چنانچہ لالہ کے بیٹے بھی ہر وہ کام کرتے اورسیکھنے لگے جو کرنے کے ہرگز نہیں ہوتے اورہر وہ ہنرسیکھتے رہے جو سیکھنے کے نہیں ہوتے ۔

پھر لالہ کی زندگی میں اچانک ایک انقلاب آگیا جو سرخ انقلاب تو نہیں تھا البتہ کالا انقلاب اسے ضرورکہہ سکتے ہیں، لالہ کی بیوی کسی دوسرے گاؤں کی تھی جہاں اس کا باپ اپنے باپ سے پہلے مرگیا تھا اس لیے چچاؤں نے اسے وراثت میں کچھ نہیں دیا ، اس کی ماں اسے لے کر یہاں آگئی اورمحنت مزدوری کر کے اسے پالا، پھر اس کی شادی لالہ سے ہوگئی، لالہ کو بھی کوئی اوراپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں تھا،  لیکن جب ایوب خان کے عائلی قوانین نافذ ہوگئے تو اس کے رشتہ داروں میں کچھ خداترس اوراچھے لوگ بھی پیدا ہوگئے اورانہوں نے خود ان سے کہا کہ آکراپنے حصے کی جائیداد لے لیں۔

لالہ گیا اس کاخیال تھا کہ تھوڑی زمین ہوگی لیکن وہ بہت بڑی جائیداد نکلی، اوپر سے بارانی کی جگہ اب نہری بھی ہوگئی تھی چنانچہ لالہ نے ایک ٹکڑا بیچ ڈالا جس کا اتنا روپیہ ملا کہ گھر کا سب کچھ بلکہ مکمل گھر بھی تیار ہوگیا اورایک بھینس بھی خرید لی، بھینس کاکچھ دودھ فالتو ہوجاتا تھا تو اسے بیچنے لگے ، دودھ کی آمدنی دیکھ کر ایک اوربھینس خریدی پھر چارہوگئیں تو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی ،چند بیٹے بڑے ہوگئے تھے اس لیے بھینس چرانے ، چارہ لانے اوردیکھ بھال کرنے کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا ، مسئلہ تھا تو جگہ کی تنگی کا چنانچہ لالہ نے اس زمین کا ایک اورٹکڑا بیچ کر گاؤں کے باہر زمین خرید لی اورچاردیواری ڈال کر فارم بنا لیااوربھینسوں کی تعداد بڑھاناشروع کردی کچھ ہی عرصے میں بھینسوں کی تعداد بیس پھر تیس پھر چالیس یہاںتک کہ اسی(80) ہوگئی، اتنا دودھ گاؤں میں تو کھپتا نہیں، اس لیے شہرکے دکانداروں کو بھی دودھ سپلائی کرنے لگے اوراس کام کے لیے ایک پک اپ بھی خرید لی ، پک اپ کا ڈرائیور بھی اپنا بیٹا تھا، ایک بیٹے کو جانوروں کا ڈاکٹر بھی بنایا۔ اب چونکہ گاؤں کے دوسرے سرے پر فارم کے ساتھ ہی گھر بنا کر رہنے لگے تھے اس لیے لالہ سے ملاقات کم ہوتی تھی لیکن اس کی دن دونی رات چوگنی ترقی کے بارے میں سنتا رہتا تھا ۔ ایک دن دیکھا تو لالہ ایک شاندار کار میں بیٹھا تھا ، خاکی تھیلے کی بجائے ہاتھ میں کالابریف کیس تھا ،بے رنگ کپڑوں کی سفید براق لباس میں تھا\ پوچھا تو بولا کہ فارم کا باقی کام تو بیٹے سنبھالے ہوئے ہیں اورلالہ کے ذمے شہر کے دکانداروں کے ساتھ حساب کتاب اور وصولی کرنا تھا اورکھل بورا وغیرہ پہنچانا تھا ۔ کلین شیو کی جگہ داڑھی نے لے لی تھی۔

 پھر کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ مسجد کا خزانچی اورمتولی بھی ہوگیا ہے، اذان بھی دینے لگا اورعشاء کی نماز کے بعد لاوڈ اسپیکر کھول کر رشد وہدایت کے مسائل بھی بیان کرنے لگا ہے ، پھر اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو ہاتھ میں سو دانے کی تسبیح، سر پر مخروطی ٹوپی جیب میں مسواک۔ پوچھا ، لالہ یہ کیا؟ بولا باقی تو خدا کا فضل ہے لیکن آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے بلکہ ساتھ ہی مجھے نماز کی تلقین بھی کی اورمیں حیران ہو رہا تھا، یہی لالہ تھا جو ہر وقت قسمت کا رونا روتا رہتا اور خدا کی ناشکری کرتا تھا ، دین اوردینی شعائر سے کوسوں دور تھااورآج وہ آخرت کی بات کررہا تھا اورمجھے اس نماز کی تلقین کررہا تھا جس سے وہ خود دور تھا۔

لیکن پھر بھی اس کی تبدیلی کے بارے میں سن سن کر خوش ہوجاتے تھے ، صبح کابھولا شام سے پہلے گھرآئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، پھر سنا کہ حج بھی کرلیا ہے اوراپنے ایک بیٹے کو دینی مدرسے میں بھی داخل کیا ہوا ہے اوراس لیے داخل کیا ہے کہ اپنا ایک دینی مدرسہ کھولنا چاہتا ہے جس کے لیے سڑک کے کنارے زمین بھی خرید لی ہے ۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ دولت آنے پر بھٹکا نہیں بلکہ اوربھی زیادہ دیندار ہوگیا ہے پھر کچھ دن بعد اس کی بیوی فوت ہوگئی ، تجہیز وتکفین میں تو عام لوگوں کی طرح حصہ لیا تھا لیکن سوچا اتنا عرصہ ایک محلے میں رہے ہیں اچھے تعلقات رہے ہیں تو خصوصی طورپر بھی تعزیت کے لیے جاناچاہیے ۔ بہت بڑا وسیع فارم تھا جس سے لگے ہوئے کھیت بھی تھے جن میں مختلف چارے کے کھیت بھی تھے اوراس کے دوبیٹے ان میں چارہ کاٹ رہے تھے ۔فارم کے گیٹ پر جو چوکیدار تھا وہ اپنے پرانے محلے کاتھا اس کی رہنمائی میں چل پڑا تو ایک وسیع وعریض احاطے میں چاروں طرف برآمدے اورکمرے تھے جن میں مختلف عمروں اوررنگوں کی بھینسیں کھڑی تھی اورچوکیدار مجھے بتا رہا تھا وہ دودھیل بھینس ہیں ، وہ سوکھی ہیں ایک طرف مختلف عمروں کی کٹڑیاں بھی تھیں ، کل تین سو بھینس تھیں ، اس احاطے کے پہلو میں ایک دروازہ تھا جو آدمیوں کے لیے، ضروری سامان کے لیے اورفارم سے متعلق آلات وغیرہ کے لیے، اس حصے میں تو برآمدے ہیں ، لالہ ایک پرتکلف چارپائی پر بیٹھا تسبیح پھیر رہا تھا اوربرآمدے کے دوسرے سرے پر کام کرتے ہوئے بیٹوں کو دیکھ رہا تھا ، وہ لوگ بڑے ٹبوں میں پانی اورکچھ چیزیں ملا کر ایک بڑی واشنگ مشین میں ڈال رہے تھے اورپھر واشنگ مشین سے نکلتا ہوا ’’دودھ‘‘ برتنوں میں بھر رہے تھے ، علیک سلیک اورعذر معذرت سے فارغ ہوئے تو میں نے اشارہ کرکے پوچھا لالہ یہ کیا ہے ، ہنس کر بولا دراصل مارکیٹ میں دودھ کی مانگ بڑھ گئی تو بھینس پورا نہیں کرپارہی ہیں اوراس میں کوئی خراب چیز نہیں ہے ،صاف پانی ہے اورکچھ مسالے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ طبیعت خراب ہوئی لیکن کچھ کہے بغیر اٹھ آیا، راستے میں دودھیل بھینسوں کابرآمدہ تھا ، برآمدے کے سامنے دو خون آلود بوریاں پڑی تھیں ، چوکیدار سے پوچھاکیا کوئی بھینس مرگئی ہے ؟ بولا نہیں یہ وہ کٹڑے ہیں جو پیدا ہوتے ہی ذبح کردئیے جاتے ہیں صرف مادہ کٹڑیاں زندہ رکھی جاتی ہیں ، ان کٹڑوں کے حصے کا دودھ بھی بچ جاتا ہے اورکٹڑے بھی فروخت کیے جاتے ہیں جو بازاروں اورہوٹلوں میں ’’چھوٹا گوشت ‘‘کے طورپر بیچے جاتے ہیں ۔

میں نے دل میں سوچا۔ پہلے بھینسوں کا سیاہ انقلاب پھر دودھ کا سفید انقلاب اوراب یہ سرخ انقلاب۔





Source link

Continue Reading

Today News

سندھ کی حکومت اور گورنر ہاؤس

Published

on


سندھ کے وزیر سعید غنی اور بعض پی پی رہنماؤں نے سندھ کے گورنر کو ہٹا کر وزیر اعظم سے مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کسی شخص کو گورنر بنانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی کہا ہے کہ سندھ کے گورنر ہاؤس کو سیاسی محاذ آرائی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کیا دو وفاقی وزراء خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کے بیانات وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس میں امید رمضان کے نام سے گرینڈ افطار کا انتظام کیا جاتا ہے اور شہریوں کو عمرے کے ٹکٹ اور پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ افطار ڈنر میں یہ بھی کہا تھا کہ کراچی کے مستقبل پر بحث شروع ہو چکی ہے۔

سندھ اسمبلی نے حال ہی میں سندھ کی تقسیم اورکراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے خلاف جو قرار داد منظورکی تھی، اس پر ایم کیو ایم کے دونوں وفاقی وزیروں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو غیر آئینی اور وفاق کے خلاف کھلا چیلنج قرار دیا تھا کہ کیا کسی صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئین سے متصادم قرارداد منظور کرے؟ وفاقی وزیروں کو جواب دیتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ متحدہ رہنما آئین کا مطالعہ کرتے تو غیر سنجیدہ بیانات نہ دیتے۔

سانحہ گل پلازہ کے بعد وفاق میں حلیف پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوئی تھی اور ایم کیو ایم نے وفاق سے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی کو وفاقی کنٹرول میں لیا جائے اور ایم کیو ایم کا کوئی مطالبہ بھی آئین سے باہر نہیں ہے اور وفاقی حکومت آئین کے تحت ایسا کر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے اس مطالبے کی پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی مخالف ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی ان دونوں پارٹیوں نے حمایت کی ہے۔

دو سال قبل فروری 2024 میں وفاقی حکومت کی تشکیل کے وقت دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی شامل تھیں۔ بڑی پارٹیوں نے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے عہدے خود لیے تھے اور حلیف پارٹیوں کو وفاقی وزارتیں دی تھیں۔ (ن) لیگ اور پی پی نے جو فیصلہ کیا تھا، اس میں پنجاب اورکے پی کے گورنر پیپلز پارٹی کو اور سندھ بلوچستان کی گورنر شپ مسلم لیگ (ن) کو دینا تھی۔ معاہدے کے تحت پنجاب اور کے پی میں پیپلز پارٹی کے اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے گورنر مقرر ہوئے تھے جب کہ سندھ کی گورنری 2022 میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کو دی تھی اور کامران خان ٹیسوری کو گورنر سندھ بنایا گیا تھا جو (ن) لیگی حکومت نے برقرار رکھ کر ایم کیو ایم کو دی تھی۔

1973 کے آئین میں پیپلز پارٹی نے سندھ کے مخصوص حالات کے تحت زیادہ تر اردو بولنے والے کو گورنری کے عہدے پر رکھا جب کہ ایم کیو ایم بعد میں بنی تھی۔ پی پی حکومت میں میر رسول بخش تالپور بھی گورنر سندھ رہے۔ جنرل پرویز نے متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر بنایا تھا جو بعد میں پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں بھی گورنر سندھ رہے جن کے بعد (ن) لیگ نے بھی اردو بولنے والوں کو گورنر کا آئینی عہدہ دیا تھا۔ پی پی حکومت نے گورنر سندھ کو بعض اختیارات سے محروم بھی کیا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ کامران ٹیسوری سندھ کے منفرد گورنر بنے جنھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے۔ گورنر ہاؤس میں عوام کے لیے مختلف تقریبات بھی منعقد ہوتی رہیں اور عوام کی شنوائی کے لیے مختلف اقدامات کیے اور متحدہ رہنما بھی گورنر ہاؤس میں مختلف پروگرام منعقد کرتے رہے۔

سانحہ گل پلازہ پر گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے وقوعہ پر پہنچے تھے اور وہ متاثرین کی مدد میں سرگرم بھی رہے جب کہ ان کے پاس متاثرین کی مدد کا کوئی اختیار نہیں تھا اور وزیر اعلیٰ سندھ ہی کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور سندھ حکومت نے ہی متاثرین اور شہید ہونے والوں کی امداد کا اعلان کیا اور سندھ حکومت نے گل پلازہ کی تعمیر نو کا اعلان کیا اور متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور کاروبار کے لیے اپنے میئر کراچی سے جگہیں بھی دلائی ہیں۔

گورنر ایک آئینی عہدہ ہے گورنر کے انتظامی اختیارات نہیں ہیں۔ سندھ کے گورنر کا تعلق ایم کیو ایم، پنجاب و کے پی کے گورنروں کا تعلق پیپلز پارٹی اور بلوچستان کے گورنر کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ گورنر بلوچستان کی سرگرمیاں تو میڈیا میں نہیں آتیں اور وہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت ہے جب کہ پنجاب و کے پی کے گورنر سیاسی طور پر متحرک ہیں اور صدر مملکت آصف زرداری اور بلاول بھٹو پنجاب کے گورنر ہاؤس میں سیاسی اجتماعات منعقد کرتے رہے ہیں۔

گورنر کے پی اور وہاں پی ٹی آئی حکومت میں سخت محاذ آرائی ہے جس پر کے پی حکومت نے گورنر کے پی پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں مگر سندھ میں تقریباً چار سال سے گورنر اور سندھ حکومت میں کوئی محاذ آرائی نہیں تھی اور گورنر سندھ بھی گورنر پنجاب کی طرح وہاں کی حکومتی کارکردگی پر زبانی تنقید ضرور کرتے ہیں مگر سندھ کا گورنر ہاؤس سیاست سے زیادہ عوامی معاملات میں سب سے آگے ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤسز میں تبدیلی لانے کے اعلانات کیے تھے مگر عملی طور کچھ نہیں کیا تھا صرف گورنر پنجاب سرور چوہدری نے اپنے طور پر کچھ تبدیلیاں ضرور کی تھیں۔ گورنر ہاؤس میں پی ٹی آئی دور میں یونیورسٹیاں تو نہ بنیں مگر گورنر ہاؤس کراچی میں نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دینے کے لیے جو پیش رفت ہوئی اس کی تقلید باقی صوبوں میں بھی ہونی چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending