Today News
پرویز حمید ، لاہور کا البیلا صحافی
نام تو ان کا عبدالحمید تھا، مگرکہلاتے پرویز حمید تھے۔ وہ پہلے باقاعدہ صحافی تھے، جن سے صحافت میں ورود کے بعد لاہور میں میری جان پہچان پیدا ہوئی۔ وہ ان دنوں ہفت روزہ ’ندا‘ میں جز وقتی کام کرتے تھے۔ بھاری جسم، گورا چٹا رنگ، موٹے موٹے گال، صفا چٹ چہرہ، پھیلی ہوئی گول ناک، خوابیدہ آنکھیں، جن پر نظر کے شیشے چڑھے ہوتے، مگر ’ندا‘ کے زمانے میں وہ صرف لکھتے اور پڑھتے وقت ہی عینک لگاتے تھے، درمیانہ قد، سر کے بال تقریباً سفید، جب کہ بیچ میں خال خال ہی کوئی بال نظر آتا تھا۔ سردیوں میں گرم افغانی ٹوپی پہنے ہوتے، تو پہلی نظر میں’علاقہ غیر‘ سے خشک میوہ جات کا ٹرک لے کر لاہور پہنچنے والے کوئی پٹھان بیوپاری معلوم ہوتے تھے۔ صحافت میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے تھے۔ جوانی میں رسالہ’’ دھنک‘‘ کی ’رنگین صحافت‘ کے مزے بھی کر چکے تھے، بلکہ شاید اسی رسالے سے بطور فیچر رائٹر صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔ لیکن، دیکھنے میں اب بھی ویسے ہی سیدھے سادھے، بھولے بھالے دکھائی دیتے، جیسے کوئی نووارد صحافی نظر آتا ہے۔
معمول یہ تھا کہ روزانہ صبح سر پر قلم رکھ کر سلورکلر کی پرانی ویسپا اسکوٹر پرگھر سے نکلتے، تو رات گئے شہر کی تمام سیاسی، غیر سیاسی محفلیں بھگتا ہی کے واپس لوٹتے۔ وہ اور ان کی ویسپا ہر وقت ہوا کے دوش پر نظر آتے، دفتر اورگھر کے آس پاس سمن آباد کی سڑکوں پر، گلبرگ علی زیب روڈ پر، ’نوائے وقت‘ کے مقابل کوئنز روڈ سے گزرتے ہوئے، مال روڈ پر رواں دواں، اورکبھی اس حال میں کہ سڑک کنارے کھڑے ہیں، پسینہ سے شرابور، اسکوٹر کو کک پرکک مار رہے ہیں، اس مشق کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا، تو اسکوٹر کی بغل سے کٹ نکال کر پلگ کا کچرا صاف کرتے، اسے دوبارہ فٹ کرتے، چہرے سے پسینہ پونچھتے، اور فیضؔ صاحب کا کوئی شعرگنگناتے ہوئے پھر سے عازم سفر ہو جاتے۔ وہ اپنے محبوب شاعر کی اداکار محمد علی کے گھر کی چھت پر ہونے والی مسحورکن شبانہ محفلوں سے بھی فیض یاب ہو چکے تھے، بلکہ ان کے خوابناک اثرات اب تک ان کی شخصیت پر موجود تھے، وہی ٹھیرا ٹھیرا لہجہ، سوئی سوئی مخمور دھیمی آواز اور رومانی طبع،’ زندگی جزوِ خواب ہے گویا، ساری دنیا سراب ہے گویا‘۔ منیرؔ نیازی سے بھی ان کا ملنا جلنا تھا۔ ایک بار ان کے گھر گئے، تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ اس خوب صورت ملاقات کی اب صرف ایک دھندلی سی یاد باقی رہ گئی ہے۔
پرویز حمید صاحب ایسے باغ و بہار آدمی تھے کہ ان کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف خوشگوار ہلچل مچ جاتی۔ چپڑاسی سے لے کر چیف ایڈیٹر تک سبھی سے ان کا دوستانہ تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب جنرل ضیاء کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیراعظم بنی تھیں۔ پرویز حمید، بھٹو صاحب کے پرستار، بلکہ دیوانے تھے۔ اس نسبت سے پیپلزپارٹی کے راہنماؤں اور وزیروں سے ان کی کافی شناسائی تھی۔ چنانچہ، دفتر میں جس کسی کو سرکاری دفتر میں کوئی کام ہوتا، تو انھی سے رجوع کرتا تھا۔ کچھ دنوں میں، مجھے بھی ان کی برادرانہ شفقت حاصل ہو گئی۔
ایک روز مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے، جو دفتر کے قریب ہی تھا، اور شاید ان کے بچوں کا ننھیال بھی تھا۔ مجھ سے اپنے بچوں ارشد، عادل اور شائستہ کا تعارف کرانے کے بعد، جو ان دنوں اسکول میں پڑھتے تھے،کہا،’’ آج سے یہ تینوں آپ کے شاگرد ہیں۔‘‘ چنانچہ، اس کے بعد روزانہ دفتر سے چھٹی کے بعد ان کے گھر جانا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ بھی انھی کی طرح خوش اخلاق، خوش گفتار اور مہمان نواز ہیں۔ ایک روز ان سے ملنے گیا، تو دیکھا کہ نیوز روم میں سرجھکائے خبروں کی ایڈیٹنگ میں مصروف ہیں۔ چائے کا آرڈر دے کر انھوں نے رسیور رکھا ہی تھا کہ چار پانچ بپھرے ہوئے سب ایڈیٹر اندر داخل ہوئے اور آتے ہی پھٹ پڑے، ’’ پرویز صاحب، یہ ناانصافی ہے، فلاں فلاں کو کب کی تنخواہ مل چکی، جب کہ ہمیں مسلسل ٹرخایا جا رہا ہے۔
جب ہمیں نہیں ملی تو ان کو کیوں ملی؟ ‘ مجھے یاد ہے، اس آخری جملہ پر انھوں نے سر اٹھایا، عینک اتار کے میز پر رکھی، اور قدرے سرزنش کے انداز میں کہا، ’’بندہ پرور، تنخواہ تو مجھے بھی نہیں ملی، مگر دیکھو، یہ مت کہو کہ فلاں کو کیوں ملی، یہ کہو کہ ہمیں بھی ملنی چاہیے۔‘‘ ’بندہ پرور‘ ان کا تکیہ کلام تھا۔ یہ تھے پرویز حمید، تسلیم ورضا کے پیکر، سب کا بھلا، سب کی خیر چاہنے والے۔ان کی صحافت کا آخری دور ’نوائے وقت‘ میں گزرا، بلکہ کچھ عرصہ وہ میرے ساتھ ہی میگزین روم میں بیٹھتے رہے، اور سنڈے میگزین کے لیے باقاعدگی سے لکھتے بھی رہے۔ اس زمانے میں، انھی کے ہمراہ اداکار محمد علی سے پہلی ملاقات ہوئی۔
ان کے گھر جاتے ہوئے اچھی خاصی’ فلمی صورتحال‘ پیدا ہوگئی۔ سخت گرمی، دو سوا دو بجے کا عمل، ان کے اسکوٹر پر ہم دفتر سے روانہ ہوئے۔ تھوڑا آگے جا کر، جب انھوں نے ایک دوبار سرکو زور سے جھٹکا، تو میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ نیندکے ساتھ ان کی آنکھ مچولی شروع ہو چکی تھی۔ مین مارکیٹ کے پاس سڑک پر مجھے موبل آئیل گرا ہوا نظر آیا۔ میں نے چیخ کر کہا، پرویز صاحب، آگے، موبل آئیل، مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔ انھوں نے بریک لگائی تو اسکوٹر موبل آئیل کے عین اوپر تھا۔ یکدم بریک لگنے سے اسکوٹر کے پہیے جو پھسلے، تو وہ ہمارے نیچے سے نکل کر گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ کی طرف جا رہا تھا، اور پیچھے پیچھے پرویز حمید اور میں بھی۔ قسمت اچھی تھی کہ عقب سے کوئی تیز رفتارگاڑی نہیں آ رہی تھی۔
گرنے سے چوٹیں تو آئیں اور کچھ راہگیر ہماری مدد کو بھی لپکے، مگرہم فلمی انداز میںکپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔’بندہ پرور، بریک تو لگائی تھی‘، انھوں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگا، علی بھائی کے گھر پہنچنا اب مشکل ہے، مگر ان کے جی میں نجانے کیا آیا کہ ایک دم اسکوٹر اٹھایا، اورکک لگاتے ہوئے کہا،علی بھائی کا گھر زیادہ دور نہیں، چلتے ہیں‘ ، اورکچھ ہی دیر میں ہم علی بھائی کے عالی شان ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ انھیں پتا چلا کہ ہم ایک حادثہ سے بال بال بچے ہیں، تو کہا کہ’ آج یہ انٹرویو رہنے دیتے ہیں۔‘ پرویز حمید مسکرائے، مگرکچھ بولے نہیں، بس ان کی طرف ایک ٹک دیکھتے رہے۔ اس پر علی بھائی کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں، ’’زمانہ بدل گیا، مگرآپ نہیں بدلے حمید صاحب۔‘‘
آج پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں، تو سوچتا ہوں کہ یہ سارا وقت کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ انھیں آخری بار اس طرح دیکھا کہ پریس کلب کے باہر انتخابی پنڈال میں ایک کرسی پرگم صم بیٹھے ہیں۔ کہنے لگے، فالج کے حملہ کے بعد گھر سے کم ہی نکلتا ہوں۔ ادھر ادھر گھوم کے دوبارہ انھیں دیکھنے کو جی چاہا، مگر واپس آیا تو ان کی کرسی خالی تھی۔ پھر خبر ملی کہ گھر میں پھسلے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی پر زخم آیا ہے۔ چند روز بعد ارشد کا دوسرا ایس ایم ایس آیا، تو اس میں ان کے جنازے کا وقت اور مقام درج تھا۔ـ یہ علامہ اقبال ٹاؤن میں ان کے کسی عزیز کا گھر تھا، جس کے بیرونی صحن میں ایک چارپائی پر پڑے ابدی نیند سو رہے تھے۔ ایک لحظہ کے لیے لگا کہ ابھی کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے، مگر نہیں ۔ اس روز ان کو الوداع کہنے کے لیے سبھی آئے تھے، سوائے ان کے، جن کے مسخ شدہ سیاسی چہرے صاف کرنے، تراشنے، سنوارنے اور نکھارنے کے لیے وہ عمر بھر قلم کی مزدوری کرتے رہے۔ شاعر نے کہا تھا،
حافظؔ ابنای زمان را غم مسکینان نیست
زین میان گر بتوان بہ کہ کناری گیرند
Today News
ایران امریکا مذاکرات؛ فیلڈ مارشل نے آگ کے شعلے بجھانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا، وزیراعظم
ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آگ کے شعلے بجھانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ آج میں آپ سے ایک تاریخ ساز موقع پر بات کر رہا ہوں، ایسے موقع پر جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہاں جنگ نہیں بلکہ امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ فریقین جو کل تک جنگ میں آمنے سامنے تھے اور خطہ تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا، آج الحمدللہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ایران اور امریکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے میری تجویز پر ناصرف عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا بلکہ میری پُرخلوص دعوت پر دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد تشریف لانے پر رضامند ہوگئی اور اب اسلام آباد میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا مذاکراتی وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پہنچ گیا ہے،ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے کیا۔
Source link
Today News
ایران میں حکومتی سطح پر انٹرنیٹ کی بندش کا دورانیہ ایک ہزار گھنٹوں سے تجاوز کر گیا
ایران میں حکومتی سطح پر انٹرنیٹ کی بندش کا دورانیہ ایک ہزار گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے جسے عالمی مانیٹرنگ ادارے NetBlocks نے ریکارڈ کی طویل ترین ملک گیر بندش قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد ہیں جس کے باعث شہری عالمی نیٹ ورک سے تقریباً منقطع ہو چکے ہیں، عالمی مانیٹرنگ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی ملک میں اب تک کی سب سے طویل اور وسیع پیمانے پر نافذ کی جانے والی پابندی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بندش فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی اور اب مسلسل کئی ہفتوں سے جاری ہے جس دوران انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی انتہائی کم سطح تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے باعث نہ صرف شہریوں کی معلومات تک رسائی متاثر ہوئی ہے بلکہ کاروبار، مواصلات اور روزمرہ زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات جنگی حالات میں سیکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔
Today News
شالیمار ایکسپریس کو حادثہ، بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، بوگیوں میں آگ لگنے کی بھی اطلاعات
27 اپ شالیمار ایکسپریس شاہدرہ آؤٹر سگنل کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی جس کے نتیجے میں ٹرین کی کچھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرین کی کچھ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور بعد ازاں انہی بوگیوں میں آگ لگنے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاکستان ریلوے کے حکام، ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ صورتحال کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach