Today News
پٹرولیم مصنوعات کا بڑھتا قومی بوجھ
پٹرولیم مصنوعات کی مہنگی قیمتوں کے بوجھ تلے عوام پر وفاقی حکومت نے یہ مہربانی کی اور عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے مخالف سیاسی حلقے حکومت کی مسلسل مذمت کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے فاضل ذخیرے کی موجودگی کے دعوے کیے تھے اور اس پر پہلے دس روپے پھر 55 روپے لیٹر اضافہ ناجائز طور کیا۔
کیونکہ پرانے نرخوں پر موجود پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اضافے کا جواز پرانے مال پر نہیں بلکہ مہنگے مال کے منگوانے پر بنتا ہے اور حکومت نے لیوی میں بھی 20 روپے اضافہ کر کے خود اپنی آمدنی بڑھائی ہے جب کہ پڑوسی ملک بھارت نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جہاں کھپت پاکستان سے کہیں زیادہ مگر پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں۔
ملک میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد ضرورت سے بہت زیادہ اور مہنگی گاڑیاں بھی سرکاری محکموں میں ضرورت سے زیادہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتیں ہر محکمے میں نہ صرف غیر ضروری گاڑیاں فراہم کرتی آئی ہیں بلکہ سیاسی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے بیورو کریسی کو مہنگی گاڑیاں خرید کر نواز چکی ہیں جن پر سرکاری پٹرول بے انتہا استعمال ہوتا آ رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے وفاقی محکموں کے پاس جتنی سرکاری گاڑیاں ہیں ، یورپ کے کئی چھوٹے ملک ایسی ہوں گے، جن کے پورے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری گاڑیاں نہیں ہوں گی حالانکہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے ۔
سیلانی ٹرسٹ کے بانی و چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے حکومت وقت کا شکریہ ادا کیا ہے اور متوقع توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والے گھرانوں کے لیے پٹرول کوٹہ نافذ کرنے اورکار سواروں پر دفتری اوقات میں اکیلے سفر پر پابندی کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وزرا اور ماہرین معاشیات کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تجاویز کا جائزہ لیں اور پاکستان کو مزید مقروض ہونے سے بچائیں۔
انھوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ ان حالات میں بہتر قدم ہے کیونکہ 55 روپے لیٹر حالیہ اضافے نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور مہنگا پٹرول اسی تناسب سے غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ۔
حکومت اشرافیہ کے لیے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرے خواہ وہ سرکاری افسران ہوں یا تاجر و صنعت کار خاص طور پر زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والوں کے پٹرول کوٹے کو محدود کیا جائے اور سرکاری محکموں میں دستیاب ڈیٹا کی مدد سے ملک میں کوٹہ سسٹم بنایا اور فوری نافذ کیا جائے۔
ملک کے ایک بڑے فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ جو عالمی سطح پر خدمات انجام دے رہا ہے کہ چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے جو مشورہ دیا ہے وہ ایک بہترین اور بروقت مشورہ ہے۔
مگر یقین ہے کہ حکومت اس پر عمل کرے گی اور نہ وزیروں کی فوج اور سرکاری ماہرین معیشت ان تجاویز کی حمایت کریں گے کیونکہ مولانا کی تجویز سے حکومت، وزیر مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران خود متاثر ہوں گے اور یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے کہ انھیں ملنے والے سرکاری مفادات متاثر ہوں۔
بلکہ وہ تو یہ چاہیں گے کہ ان کی سرکاری مراعات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کے مزید اضافے کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے جو پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے سرکاری بوجھ کو برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ حکومت کا ہر فیصلہ مانیں گے۔
حکومت اور اس کے سیاسی و سرکاری حکام جانتے ہیں کہ غریب عوام مہنگائی کا بوجھ مجبوری میں برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری احکامات ماننے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ عشروں سے نام نہاد جمہوری حکومتوں کے فیصلے تسلیم کرتے آ رہے ہیں اور یہ وہی سویلین حکومتیں ہیں جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ عوام نے خود منتخب کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
پاکستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے جن پر روزانہ لاکھوں لیٹر پٹرول استعمال ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں پٹرول غیر سرکاری طور پر ضایع کیا جا رہا ہے۔
سرکاری گاڑیاں وزیر و مشیر اور سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دوست اور بچے تک استعمال کرتے ہیں مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سرکاری پٹرول کی پرچیاں رشوت کے طور پر بھی دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔
حکومتی ذمے دار اور سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول پر عیاشی اور غیر سرکاری استعمال کرتے ہیں جس کا بوجھ ملک کے عوام قومی بوجھ سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں اور حکومتوں نے پٹرولیم مصنوعات کو بجلی و گیس کی طرح اپنی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
وزیر اعظم نے کٹوتیوں کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دو ماہ کے لیے ہے جب کہ سب سے زیادہ ضرورت سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور سرکاری پٹرول بچانے کی ہے جس پر عمل سے ہی عوام پر پڑتا ہوا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
Today News
ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا دوٹوک اعلان کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق لاریجانی کا خون ایرانی عزت اور قومی بیداری کی علامت بن چکا ہے اور صہیونی طاقتوں کے خلاف حوصلہ مزید بلند کر رہا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کی قربانی کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔
اس بیان کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
دوسری جانب ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں بھی ڈرون کارروائیاں کیں، جبکہ بغداد میں ایئرپورٹ کے قریب امریکی سفارتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دیگر ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے ایران کے نزدیک جائز اہداف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں صرف امریکی تنصیبات کے خلاف ہیں۔
Today News
صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دے دی
صدر مملکت نے یومِ پاکستان 23 مارچ 2026 کی پریڈ اور تمام متعلقہ تقریبات نہ کرنے کی سمری کی منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات کے تحت 23 مارچ کی پریڈ اور تمام تقریبات منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔
صدر مملکت نے حکومت کی جانب سے بھیجی گئی سمری کو منظور کردیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ قومی وسائل کا محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب یومِ پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی اعزازات کی تقریب اب 28 اپریل 2026 کو منعقد ہوگی۔
Source link
Today News
سربیا میں 3000 سال قدیم اجتماعی قبر دریافت
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس میں درجنوں افراد کی باقیات پائی گئیں۔ یہ باقیات ’قدیم قتل و غارت‘ کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشیں ان افراد کی ہیں جو قریب 3000 ہزار برس قبل گاؤں پر ہونے والے حملے سے بچنے کے لیے بھاگے تھے۔
محققین کی ٹیم نے یہ خوفناک دریافت سربیا میں گومالوا نامی علاے کا دوبارہ جائزہ لینے بعد کی۔ اس کے علاوہ ماہرین کو بلی چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملیں۔
آسٹرین آرکیالوجی انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر ماریو گیورینووچ (جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) نے سائنس جرنل کو بتایا کہ یہ حیران کن دریافت ہے۔
یہ قبر سب سے پہلے 70 کی دہائی کی ابتداء میں دریافت کی گئی تھی جس کے متعلق محققین نے بتایا تھا کہ اس میں خواتین اور بچوں کی لاشیں تھیں جن کو 800 قبلِ مسیح کے قریب مارا گیا تھا۔
جبکہ جرنل نیچر ہومن بیہیویئر میں شائع ہونے والے مقالے میں، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایک ایسے گاؤں کی توقع تھی جو کسی بیماری کے سبب ختم ہو گیا ہو۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک قدیم قتلِ عام تھا۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business