Connect with us

Today News

پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اولین ترجیح، وزیر خزانہ

Published

on



اسلام آباد:

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ  حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ  ممکنہ حد تک کم رکھنا ہے۔

اپنی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگران کمیٹی کے وڈیو لنک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم سپلائی مستحکم ہے، اس کی وجہ بروقت منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ہے۔

اجلاس میں علاقائی کشیدگی اور عالمی نرخوں میں اتار چڑھائو کا تفصیلی جائزہ، ملکی ذخائر، درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ کارگوز کی بروقت آمد، ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے اور بلا تعطل سپلائی چین کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم، وزیرِ قومی غذائی تحفظ ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، گورنرسٹیٹ بینک اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دہشت گردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

Published

on


پاکستان کی افواج افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور آپریشن غضب للحق کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔

افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کو مسلسل پناہ بھی دیئے ہوئے ہے اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم دوحہ معاہدے سے بھی انحراف کر رہی ہے اور نہ صرف دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ دہشت گردی کو دوسرے ملکوں میں برآمد کرنے میں بھی ملوث ہے۔

اگلے روز بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کوششیں ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے اینٹی ڈرون سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 6 ڈرونز مار گرائے ہیں۔

وفاقی وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے راولپنڈی میں افغان طالبان کی زیرسرپرستی فتنہ خارج کی طرف سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکارہ بنا دیا۔

کسی فوجی تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ان ڈرونزکا ملبہ گرنے سے معمولی نقصان ہوا۔ یہ ڈرونز دیسی ساختہ بتائے جاتے ہیں۔ بہرحال افغان طالبان کی ان حرکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کی ماسٹر پراکسی ہیں۔

وہ جو دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ 2026 کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز استعمال کیے۔

سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے باعث وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے جب کہ تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔

افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کسی ذمے دار حکومت کا کام نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغانستان کے طالبان ہوش مندی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے لیکن افغان طالبان نے ان نازک حالات میں بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کو جاری رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔

انھوں نے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمے داریوں سے فرار ہورہی ہے اور افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔

اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔

صدر نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ انھوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

افغانستان میں چاہے کوئی بھی حکومت ہو، اس کے خمیر میں پاکستان کی مخالفت گندھی ہوئی ہے۔ موجودہ حالات میں افغان طالبان مکمل طور پر بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں۔

بلاشبہ افغانستان کی حکومت کو اپنے غیرملکی تعلقات بنانے میں آزادی حاصل ہے لیکن کسی کی پراکسی یا ایجنٹ بن کر ہمسایہ ممالک میں گڑبڑ پھیلانے کی انھیں کسی طرح بھی اجازت حاصل نہیں ہے۔ یہ شرپسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

اگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میںایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بم سڑک کنارے نصب کر رکھا تھا، پولیس حکام کے مطابق علاقے شادی خیل بیٹنی میں اس وقت پیش آیا جب پولیس موبائل رسول خیل چیک پوسٹ کے قریب معمول کے گشت پر تھی۔ اسی دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تھانہ صدر کے ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جن میں انسداد دہشت گردی فورس کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جو پولیس کے ساتھ گشت پر تھے۔

ضلع کوہاٹ کے ڈی پی او نے اگلے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، انتظامیہ اور پولیس نے افغانستان سے فتنہ خوارج کی طرف سے بھیجے گئے 4 ڈرونز کو جام کر کے ناکارہ بنادیا ، اینٹی ڈرون سسٹم اور فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت نہ صرف دشمن کے مضموم ارادے خاک میں ملے بلکہ کسی قسم کا نقصان بھی نہیں ہوا۔

سیکیورٹی حکام گرائے گئے ڈرونز کے ملبے کا تکنیکی جائزہ لے کر اس کی ساخت اور دیگر معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے ضلع باجوڑ سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا۔ یہ پولیس اہلکار چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے اشخیل میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ شہید اہلکار تراویح کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے اپنے گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مقامی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا کر بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ ادھر سی ٹی ڈی بنوں ریجن نے ضلع لکی مروت تھانہ گمبیلا کی حدود شاگئی کے علاقے میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اس آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 6دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی ٹیم کو شاباش دی۔

خیبرپختونخوا کی پولیس کی کارکردگی روزبروز بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم ابھی مقامی سطح پر بروقت انٹیلی جنس کے سسٹم کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

جب تک مقامی سہولت کاری کا خاتمہ نہیں ہوتا، دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ بہرحال پاک فوج کا آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کیے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور دہشت گردوں کے 4 ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا۔

قندھار میں تراوو دہشت گرد کیمپس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔

اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں۔

ادھر ایک اور فضائی حملے میں صوبہ پکتیا میں شیرِنا دہشت گرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک 663افغان طالبان کے کارندوں کو جہنم واصل کیا جاچکا ہے، 249افغان پوسٹیں تباہ کردی گئی ہیں، 44پوسٹیں افواج پاکستان کے قبضے میں ہیں جب کہ افغان طالبان کے 224ٹینک مسلح گاڑیاں اور آرٹلری گنز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان جس انداز میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے، اس سے پاکستان کی برتری واضح ہو جاتی ہے تاہم ابھی پاکستان کو بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی دن بہ دن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔

ایسے حالات میں پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے جب کہ پاکستان کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو بھی پاکستانی عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف دوٹوک اور غیرمبہم مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فطرت انسان اور فن اختلاف

Published

on


رب دو جہاں نے کائنات میں لاتعداد اشیا بنائی ہیں ۔ نظر نہ آنے والے بیکٹیریا وائرس سے لے کر تا حد نگاہ وسعت لیے آسمان تک ہر شے قدرت کی بے مثال کاریگری کی گواہ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء میں تنوع دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

صدیوں سے انسان کھوج میں لگا ہے اور قدرت کے نت نئے شاہکار متواتر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ پھر چاہے کھوج کی سمت افق کی بلندیاں ہوں یا سمندروں کی گہرائیاں، زمین کا حدود اربعہ ہو یا پہاڑوں کے اسرار۔

اور کھوج کا دائرہ کار اگر کرہ ارض سے بڑھ کر فضاؤں تک چلا جائے تو بلیک ہول (Black hole) جیسی اختراع حضرت انسان کے لیے کائنات کے اسرار و رموز کا احاطہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہیں۔

جاندار ہو یا بے جان اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو ایک علامتی خاصیت بخشی۔ کوئی چیز خوبصورتی کا استعارہ ہے تو کوئی طاقت کا۔ کوئی کمزوری کی علامت ہے تو کوئی شے سب سے بڑھ کر کار آمد۔

اسی تناظر میں انسان کا بحیثیت ابداع جائزہ لیا جائے تو یہ سپیشی(Specie) بیک وقت کئی متاثر کن خصوصیات کی حامل ہے۔ مالک دو جہان نے اپنی اس تخلیق کو دنیا میں بحیثیت نائب چنا اور آج وہ دنیا پر حکمرانی کرتا نظر آتا ہے۔

تاہم وہ خاص ودیعت الٰہی جس کی وجہ سے انسان دیگر تمام مخلوق سے ممتاز ہے وہ ’’سوچ کا اختیار، شعور یا آزاد مشیت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جینیاتی ساخت و ترکیب (Genotype) سے لے کر ظاہری خصائص (Phenotype) تک ہر انسان کو دوسرے سے الگ بنایا۔

انسان کو شعور دے کر اس شعور کے مطابق عمل سر انجام دینے کا ایک محدود مدت کے لیے محدود اختیار تفویض کیا اور دیگر اوصاف کی طرح اس خاصیت میں بھی ہر بشر کو انفرادیت بخشی۔

مقام افسوس یہ ہے کہ انسان درج بالا نعمتوں کا استعمال انتشار پھیلانے اور بے سکونی و تنگی پیدا کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ معاشرتی نظام کی سب سے چھوٹی اکائی یعنی گھر کی بات کی جائے تو اس کے افراد کے مابین بھی سوچ اور نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے یہاں تک کہ محض دو افراد کو بھی پرکھا جائے تو ان کا بھی ایک دوسرے کی ہر بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں۔

معاشرتی سطح پر عموماً کسی بھی نوعیت کے بحث و مباحثے میں اس حقیقت کو مطلقاً پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے تحت ہر فرد اپنی رائے رکھتا ہے۔

جب اختلاف میں اخلاقیات کو بلائے طاق رکھ دیا جاتا ہے تو گویا انسانی ذات میں ان اوصاف کی نفی کی جاتی ہے کیونکہ بصورت دیگر حقیقت تسلیم کر لینے پر دوسروں کی رائے کا احترام نہ کرنے یا اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے والے شدت پسند عمل کا کوئی جواز نہیں بچتا۔

اللہ پاک نے انسان کی فطرت جھگڑالو بیان کی ہے۔ سورہ الکہف کی آیت نمبر 54 میں فرمایا گیا ہے۔ اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔

اسی طرح اللہ پاک کا حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں نائب بنا کر بھیجنے کا فیصلہ جان کر فرشتوں نے بھی اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تو زمین میں فساد برپا کرے گا۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 30 ہے:

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟‘‘

حضرت ہابیل کے قتل سے شروع ہونے والا پراگندگی اور ظلم و ناانصافی کا سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ انسان ناشکری کی انتہا کرتے رب کی بہترین عطا یعنی اپنی صوابدید پر کام کرنے کی صلاحیت کا استعمال اپنی جدل کرنے والی فطرت کی تسکین کے لیے کر رہا ہے۔

اگر اختلاف رائے سیاست سے متعلقہ ہو تو معاملہ مزید گمبھیر ہو جاتا ہے۔ صورتحال کو بدتر پاکستانی عوام کی دل پسند سیاست دانوں کو سیاہ یا سفید دیکھنے کی عادت بناتی ہے جب کہ اس وقت اکثریت سرمئی ہے۔

عوام کے سیاسی نظریات میں حقائق سے زیادہ جذبات کا عمل دخل ہوتا ہے. وہ چرب زبان سیاست دانوں کے کھوکھلے لفظوں اور بناوٹی لہجوں سے متاثر ہو کر عقلی طور پر قائل ہونے سے زیادہ جذباتی وابستگی بنا لیتے ہیں۔

اس کی وجہ بھلے عوام کی سادہ لوحی، کم علمی یا سوچ کی ناپختگی ہو لیکن کسی کو سو فیصد غلطیوں سے مبرّا سمجھنے والا طرزِ عمل خطرناک ہے۔ اور اس سے زیادہ خطرناک اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف دوسروں کی رائے سننے کی برداشت نہ رکھنا ہے۔

اندھی عقیدت میں لوگ نہ اپنی منتخب کردہ پارٹی کی غلطیاں دیکھ سکتے ہیں اور نہ اپوزیشن کی اچھائیاں۔ حضرت انسان کی ذات کا ایک اہم پہلو اس کی تغیر کی دلدادہ ذات ہے۔

انسان سدا ایک سا نہیں رہتا۔ حالات و واقعات اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ باہر کسی خاطرخواہ تبدیلی کے بغیر بھی انسان کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔

سائنس انسان کی اس خصوصیت کی مداح ہے اور ہر لحظہ بدلتی کائنات میں انسان کی بقا کا سہرا اسی جبلت کے سر سجاتی ہے۔ لیکن لوگ شخصیت پرستی میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ بدلاؤ انسان کا خاصہ ہے۔

عین ممکن ہے جس لیڈر کے ایک اچھے عمل کی بنا پر اسے سراہا جاتا ہو وقت رہتے اس نے اپنی اس اچھائی کو کھو دیا ہو۔ ہر لمحہ بدلتی عالمی صورتحال اب بے یقینی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

گزرتا وقت چہروں سے نقاب اتارتے کسی کا مکروہ چہرہ عیاں کر رہا ہے تو یہی وقت کسی کو بے گناہ ثابت کر رہا ہے۔ سماج میں بہتری لانے کے لیے سماجی اکائیوں کا اس صورتحال میں اپنی ’’آئیڈیل‘‘ شخصیات کے نت نئے چہروں کو پہچاننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہنری کسنجر بمقابلہ پروفیسر جیانگ

Published

on


حالیہ مشرق وسطی جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ہنری کسنجر اور چینی پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے۔

دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں لیکن تیسری پیش گوئی دونوں کی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے اور اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دونوں میں سے کون درست ثابت ہوتا ہے۔

ہم پہلے ہنری کسنجرکی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اگر آپ کے کان تیسری عالمی جنگ کے نقارے نہیں سن رہے تو آپ بہرے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی اور ایران اس کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اب مشرق وسطیٰ سے جنگ تو شروع ہوچکی ہے اور اس کا آغاز بھی ایران سے ہوا ہے لیکن یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مشرق وسطی کے حالیہ فدویانہ بلکہ غلامانہ کردار کے بعد امید نہیں تھی کہ جنگ کا آغاز مشرق وسطیٰ سے ہوگا۔ ویسے تو اسرائیل کے قیام کے بعد جنگ کبھی بھی مشرق وسطی سے کی ہی نہیں تھی لیکن ایک ایسی جنگ کہ جس میں تقریباً پورا مشرق وسطیٰ جلنے لگے، اس کے آغازکی بھی امید نہیں تھی ویسے تو امن کو جنگوں کے درمیان وقفہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور لگتا ہے کہ ’’ تجارتی وقفہ‘‘ اب ختم ہوگیا ہے۔

اندازے تو یہ بھی تھے کہ امریکا کبھی بھی ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور ہنری کسنجر نے ان دو پیش گوئیوں میں جو کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا۔ ہنری کسنجر نے اپنی پیش گوئی میں آگے یہ بھی کہا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوجائے گا۔

اب ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی پیش گوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگا؟ یا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟اب ہم پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کی طرف آتے ہیں۔ یہ پروفیسر جیانگ وہی ہے کہ جنھوں نے پچھلے امریکی چناؤ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ پوری دنیا کو امید تھی کہ کملا دیوی ہیرس جیتے گی۔

پروفیسر جیانگ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چناؤ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہاں تک تو ان کی بھی دو پیش گوئیاں درست ہوچکی ہیں لیکن مستقبل قریب کی صورتحال پیچیدہ ہے۔

پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور پیٹرو ڈالر معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہنری کسنجر نے اس جنگ میں عربوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور اسرائیل کی بڑے حصے پر قبضے کی پیش گوئی کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ میری ذاتی رائے میں ہنری کسنجر اپنی آخری پیش گوئی میں یہودی مدبر سے صرف یہودی ہوگئے تھے اور ان کی پیش گوئی کے اس حصے کو آپ ان کی پیش گوئی سے زیادہ ان کی خواہش سمجھ سکتے ہیں۔

میرے خیال سے دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ آپ موجودہ جنگ کو تیسری عالمی جنگ سے پہلے آخری بڑی جنگ قرار دے سکتے ہے۔

چین دنیا کا سپر پاور بننا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا ایشیا اس کے لیے چھوڑ دے لیکن امریکا کو بھی پتہ ہے کہ اس کی ساری عیاشی عربوں کی مرہون منت اور عربوں کو ڈرانے کے لیے پہلے وہ اسرائیل کا استعمال کرتا رہا ہے اور بعد میں اس نے ایران کو بھی استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوا۔

ہم دوبارہ چین کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین اپنے اہداف تیسری عالمی جنگ کے بغیر زیادہ بہتر اور سرعت انداز میں حاصل کر رہا ہے تو اس کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ تیسری عالمی جنگ کے جھمیلے میں پڑے۔

چین کا مقصد امریکا کو معاشی اور عسکری طور پرکمزورکرنا ہے تاکہ اس کو نہ صرف ایشیا چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ اس پر بھی آمادہ کیا جاسکے کہ وہ چین کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے اس کے لیے جگہ چھوڑے اور وہ یہ سب جنگ کے بغیر ہی حاصل کر رہا ہے اور زیادہ بہتر انداز سے حاصل کررہا ہے۔

یہ تو دنیا جانتی ہے کہ امریکا یہ بات آسانی سے مانے گا نہیں تو خطرہ امریکا سے ہے کہ کہیں وہ اپنی حماقت یا بے صبری میں ایسا کچھ کرسکتا ہے کہ جو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

اس کے لیے چین، شمالی کوریا یا روس کے کسی شہر پر پرل ہاربر جیسا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ کون کرسکتا ہے، یہ میں آپ کے قیاس پر چھوڑتا ہوں۔ ویسے چین پر حملے والا کام اسرائیل اور ہمارا پڑوسی مل کر بھی کرسکتے ہیں، اگر ہمارے پڑوسی کو اس کی مناسب قیمت دی جائے اور قیمت پاکستان کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔

اس صورتحال میں تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز یقینی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نہیں نظر آرہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟

ایک بات تو طے ہے کہ امریکا نے نہ صرف اس جنگ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا اور وہ اب تک اپنے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس کے اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔

اب تک ایران بہت ہی موثر انداز میں یہ جنگ روسی انٹیلیجنس، چینی اورکورین میزائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑرہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ جنگ میں شمالی کوریا کو شامل کرنے کے لیے امریکا کے قومی سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے الزام لگایا ہے کہ ایران شمالی کوریا سے جوہری اسلحہ یا جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔

جنگ میں اسلحہ کس ملک کا ہوتا ہے یہ تو جنگ کے بعد پتا چلتا ہے۔ ہم دوبارہ جنگ کی طرف آتے ہیں۔ امریکا نے پہلے اسے دنوں کی جنگ قرار دیا پھر ہفتوں اور اب وہ مہینوں پرآگیا ہے۔ ان حالات میں اب امریکا ایران سے نکلنا چاہے گا اور وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی فتح کو اپنی فتح قرار دیکر یہاں سے نکل سکتا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو توڑ کرکسی حصے پر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر بھاگ جائے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ چاہے گا کہ ایران کو غیر مستحکم اور افراتفری کے ماحول میں چھوڑکر بھاگ جائے لیکن روس، چین اور ایرانی قوم ایسا ہونے نہیں دیں گی کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔

مشرق وسطیٰ کا مستقبل یقینی طور پر تاریک ہے اور اس جنگ کے بعد بھی مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں بن سکے گا۔ عربوں کی باہمی چپقلش آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوگی اور عربوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو مشرق وسطی کی حکومتوں کے غیر حقیقت پسندانہ عزائم کی قیمت چکانا ہوگی۔

جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور وہ کیا ہوگا؟ پروفیسر جیانگ نے تو بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں پیش گوئی بھی کی ہے لیکن حقیقت میں کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کے لیے آنے والے دن ہر لحاظ سے بہت مشکل ہیں کیونکہ ہم نے ڈالروں کے لیے کچھ ایسے معاہدے کیے ہوئے ہیں جو ہماری سالمیت اور بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ہر مشکل صورتحال کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لیے مواقع بھی ہے لیکن ہماری اشرافیہ ابھی تک ٹینکر بیچنے اور سڑکوں کی تعمیر میں کمیشن سے آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ دنیا کو اس وقت ایک محفوظ اور مضبوط سرمایہ کاری کے خطے کی ضرورت ہے اور پاکستان یہ کردار بآسانی اور بخوبی ادا کرسکتا ہے۔

اگر ہماری قیادت اس فراست اور تدبرکا مظاہرہ کریں جو اس کا متقاضی ہے۔ اب ہماری قیادت اس کی اہل ہے یا نہیں؟ یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آنے والے دن سب کے لیے بہت مشکل ہے، مہنگائی کا جن بے قابو رہے گا۔

مشرق وسطیٰ کے حالات کے بعد ہوسکتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوجائے کہ جس کے نتیجے امن و امان کی مخدوش صورتحال مزید مخدوش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)





Source link

Continue Reading

Trending