Today News
پیدائش اورموت (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘
یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے
دیر وحرم میں رہنے والو
رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو
پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔
یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے
احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند
پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے
’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘
اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔
ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے
شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند
ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش
ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔
یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ
امور مملکت خویش خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔
جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔
(جاری ہے)
Today News
حملہ نہ کرتے تو 2 ہفتوں میں ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ حملہ نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آجاتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی امریکی افواج کو مضبوط بنانے پر کام کیا اور آج انہیں اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر ہے۔
ان کے بقول ایران کے خلاف کارروائی میں طاقت کا بہترین مظاہرہ کیا گیا اور ایرانی میزائلوں و لانچرز کو تباہ کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین نیوکلیئر ڈیل کی تھی جسے انہوں نے چار سال قبل ختم کر دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں نے ایران کو جوہری پروگرام میں کافی پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب امریکہ ایران میں مستحکم پوزیشن میں ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہا، تاہم امریکی کارروائی نے اس سلسلے کو روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاگل لوگوں کے پاس ایٹم بم ہونا دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں عوام کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور امریکہ کو وہاں سے تیل کی فراہمی بھی جاری ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور جنگ میں امریکہ کو برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔
Today News
اگلی باری کس کی ؟
ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل بھی وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔لیکن ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی سیز فائر کا کوئی اعلان نہیں۔ نہ ایران کو ابھی کوئی فتح ملی ہے اور خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکا اور اسرائیل کو بھی کوئی فتح نہیں ملی ہے۔ ایران کے میزائل ابھی چل رہے ہیں۔ یہی اس کی فتح ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ لیکن کوئی راستہ ابھی نظر نہیں آرہا ۔
ایک سوال جو بہت پوچھا جا رہا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری کس کی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ سعودی عرب کی باری ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ ترکی کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا جواب بھی آیا ہے کہ پاکستان ایک نیو کلئیر ملک ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ اس لیے یہ تھیوری کہ اس کے بعد پاکستان کی باری ہے غلط ہے۔ اسرائیل کو علم ہے کہ پاکستان دفاعی طو رپر بہت مضبوط ہے۔ بھارت اسرا ئیل سے بڑا ملک ہے۔ دفاعی طور پر بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جب بھارت پاکستان سے نہیں لڑ سکتا تواسرائیل کیا لڑے گا۔
میں اس وقت ایران کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان دنیا میں کوئی تنہا بھی نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان کی باری کے حوالہ سے جتنی بھی گفتگو ہو رہی ہے وہ فضول ہے۔ اس میں کوئی دلیل نہیں۔ البتہ اس بات کے حق میں کافی دلائل موجود ہیں کہ پاکستان کی باری نہیں آسکتی۔ ہم دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ دنیا کے نظام میں ہمارا ایک فعال کردار ہے۔ ہم اسلامی دنیا میں بھی کوئی تنہا نہیں ہیں پھر ہماری فوجی طاقت بے مثال ہے۔ جہاں تک ترکی کی بات ہے۔ میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان اور اسرائیل کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن ترکی نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا ہو اہے۔ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ بلکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تو تجارت بھی موجود رہی ہے،آجکل معطل ہے۔
ترکی کا فلسطین کے لیے موقف قابل قدر ہے۔ ترکی غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں بھی آواز بلند کرتا ہے، ترکی بورڈ آف پیس کا بھی ممبر ہے لیکن ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ میں ترکی پر تنقید نہیں کر رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات غزہ کے بحران کے دوران بھی قائم رکھے۔صرف تجارت معطل کی ہے اور اب ایران تنازعہ میں بھی ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ ترکی نیٹو کا بھی ممبر ہے۔ اس طرح ترکی امریکا کا اتحادی بھی ہے، ترکی کی امریکا سے بھی کوئی لڑائی نہیں، بلکہ نیٹو ممبر کی وجہ سے ترکی پر حملہ تمام نیٹو ممالک پر حملہ تصور ہوگا ۔ اس لیے ترکی پر اسرائیل کا حملہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد پر تشویش ہے ۔ اسرائیل سے کچھ ایسے بیان آئے ہیں کہ یہ اتحاد اسرائیل کے لیے تشویشناک ہے۔ لیکن ابھی نہ تو یہ اتحاد بنا ہے۔ ابھی ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ اس لیے یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارتی راہداریوں پر بات چیت ر ہتی ہے۔ ترکی دفاعی طور پر بھی ایک مضبوط ملک ہے۔
اس کی دفاعی طاقت بہت زیادہ ہے۔ اس کے پاس نیو کلئیر پاور نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا دفاع بہت مضبوط ہے۔اگر ایران کے ساتھ جنگ اتنی مشکل ہے تو ترکی کے ساتھ تو بہت مشکل ہوگی۔ ترکی خطے کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، اس لیے اسرائیل کا ترکی کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہے۔اسرائیل اور ایران کی جنگ کی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر غلط حملہ کیا ہے، یہ حملہ ناجائز ہے، اس کی کوئی قانونی وجہ نہیں ہے، یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ ایران حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے ذریعے مسلسل اسرائیل کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ اسرائیل اور امریکا بھی معاشی پابندیوں اور دیگر حربوں سے ایران کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اب حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فائنل جنگ ہے، اس کے بعد ایران اسرائیل اور امریکا کی کوئی جنگ نہیں ہو سکے گی۔ دنیا میں جنگیں جاری رہتی ہیں۔ امریکا کو جنگوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے لیکن موجودہ جنگ امریکا کے لیے آسان نہیں ہے۔ آج بھی زیادہ تر دفاعی تجزیہ نگار امریکا کی جیت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ لیکن جیت کیا ہوگی، سوال یہی ہے فوج کس کی اور کب داخل ہوگی۔ اسرائیل کے پاس ایسی کوئی فوج نہیں جو وہ ایران میں داخل کر سکے۔
امریکا بھی کوئی بڑی فوج ایران کے پاس لے کر نہیں آیا ہوا کہ ہم کہہ سکیں کہ امریکی فوج داخل ہو جائے گی۔ اس لیے جہاں امریکی جیت کی بات ہو رہی ہے وہاں یہ سوال موجود ہے کہ فوج کس کی اور کب جائے گی۔ ابھی تک اس کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی۔ ابھی تک دنیا کا کوئی بھی ملک ایران میں فوج بھیجنے کو تیارنہیں۔ نیٹو بھی ساتھ نہیں۔ اس لیے یہ سوال موجود ہے کہ رجیم چینج فوج بھیجے بغیر ممکن نہیں اور فوج بھیجنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگلی باری کس کی ہے یہ ایک ثقیل بحث ہے۔ ہر جگہ نظر آرہی ہے ۔ پاکستان اور ترکی کو ایران کے ساتھ کھڑے ہوکر اس جنگ میں شامل ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اگلی باری آپ کی ہے۔ امریکا نے پہلے عراق کو گرایا، شام کو گرایا، لیبیا کو گرایا، اب ایران کو گرا رہا ہے پھر آپ کی باری ہے۔ اس لیے آج ہی اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن دوسری طرف یہ دلیل بھی ہے کہ ایک مفروضہ پر تو کسی جنگ میں شامل نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن آج کل یہ بحث ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔
Today News
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت
جنگ سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے جینیوا اور پھر عمان میں مذاکرات ہوئے تھے تو عمان کے وزیر خارجہ جو امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان مصالحت کنندہ کا کردار ادا کررہے تھے کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات میں امریکا کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا۔
عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق ایران ایٹم بم کی تیاری کے مراحل کو صفر کی سطح تک لے جانے پر تیار ہوگیا تھا لیکن امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا۔ ان حملوں میں 1989ء سے سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والے آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم رہنما شہید ہوگئے، ان کے علاوہ سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک اسکول کی عمارت میں موجود 46 کے قریب طالبات بھی شامل ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے 19 میل چوڑی آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے خلیجی ممالک میں غذائی بحران پیدا ہوگا۔ خلیجی ممالک کی تیل کی ایکسپورٹ بند ہوجائے گی اور پوری دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوجائے گی جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوگئے ہیں۔
امریکا، ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے پاس اس رجیم کا متبادل سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا ہے۔ سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی معاہدہ ابراہیمی کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت کی مخالف اور بھی کئی ایرانی تنظیمیں ہیں، ان میں تودہ پارٹی اور مجاہدین خلق ہیں لیکن امریکا کے لیے سب سے پسندیدہ رضا پہلوی ہے مگر رضا پہلوی کو ایران کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ مجاہدینِ خلق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم بائیں بازو کے عناصر پر مشتمل ہے اور اپنے لبرل خیالات کے لیے معروف ہے مگر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس تنظیم کی بھی حمایت کررہے ہیں۔ اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے حمایتی گزشتہ برسوں سے ایران کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں۔ تودہ پارٹی کمیونسٹ پارٹی ہے ۔ مجاہدین خلق اور تودہ پارٹی نے شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آیت اللہ خمینی اور ان کی جماعت کی حمایت کی تھی مگر جب انقلابی حکومت قائم ہوگئی تو ان اتحادیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کیا۔ ہزاروں افراد جلاوطن ہوئے۔
ایران کی سرزمین پر یہ کھلی جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب گزشتہ ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی ثالثی سے مذاکرات جاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکا کے ایران پر وسیع فوجی حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو ختم کرنا اور ساتھ ہی ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) ہے۔
ایران نے اسرائیل اور بحرین، قطر، ابوظہبی، کویت، اردن اور سعودی عرب میں میزائل حملے شروع کیے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور عراق میں بغداد کے نزدیک علاقوں پر بھی حملے کیے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی یہ فوجی جارحیت ایک کٹھ پتلی اور آمرانہ حکومت قائم کرنے کی کوشش ہے۔جلاوطن ایرانیوں کا ایک گروپ امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کررہا ہے حالانکہ وہ موجودہ ایرانی رجیم کا بھی مخالف ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ان نازک اور فیصلہ کن لمحات میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ امن کے قیام اور اسرائیل و امریکی سامراج کی اس جارحیت کے خاتمے کے لیے متحد ہوں۔ ایران کی تباہی موجودہ رجیم سے نجات کا راستہ نہیں ہے۔ یہ مقصد صرف عوام کی جدوجہد اور قومی و آزادی پسند قوتوں کی منظم کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔ امریکا کا استعماریت کا نیا کردار ایسا ہی ہے جیسا صنعتی انقلاب کے وقت تھا۔ (18ویں صدی میں برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور یہ صنعتی انقلاب 19ویں صدی میں پایہ تکمیل ہوا۔) برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب مکمل ہونے کے بعد ان ممالک نے اپنے کارخانوں کے مال کی کھپت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنی شروع کیں، اس طرح سرمایہ داری سامراجیت میں تبدیل ہوئی۔
برطانیہ، ہالینڈ، پرتگال، اسپین اور اٹلی وغیرہ نے ایشیائی اور افریقی ممالک پر قبضے کرنے شروع کیے اور اپنی سلطنتوں کو بڑھانے کے لیے ایشیائی اور لاطینی امریکا کے عوام پر بدترین تشدد کے طریقے استعمال کیے۔ ان ممالک میں معدنیات اور خام مال کو سستے داموں خرید کر برطانیہ اور یورپی ممالک کی ملز میں ان سے نئی مصنوعات تیار کر کے دوبارہ ان ممالک کے غریب عوام کو فروخت کیں اور نوآبادیات سے لوٹی ہوئی رقم یورپی ممالک کی ترقی پر خرچ ہوئی۔ سابق سوویت یونین کے قیام کے بعد برطانیہ اور امریکا کے سامراجی کردار میں فرق آیا۔ سابق سوویت یونین کی مدد سے 40 سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے مگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پھر سامراج اپنی بدترین شکل میں سامنے آرہا ہے۔
امریکا نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے پہلے لیبیا اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹا، شام کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اب ایران کی باری ہے اور پھر لاطینی امریکا میں جس حکمران نے آزادانہ فیصلے کیے، امریکا نے ان کو قتل کرا دیا۔ وینز ویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغواء اسی منصوبے کی کڑی ہے۔ روس یوکرین کی جنگ کی بناء پر ایران کی مدد نہیں کرسکتا۔ چین اپنی پالیسی کی بناء پر دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی دے کر انھیں اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے پر اکساتا ہے مگر چین کی پالیسی میں کسی ملک سے جنگ کا ایجنڈا شامل نہیں۔ امریکا کے کردار کو شکست دینے میں آمرانہ حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report