Connect with us

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ

Published

on



اسلام آباد:

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے قائم کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا ہے کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں قومی سطح پر تیاریوں اور اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم مصنوعات کے لیے مناسب مقدار میں ذخیرہ دستیاب ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے فوری طور پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے، صورتحال بدستور غیر یقینی اور متغیر ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے، عالمی سپلائی چینز اور بحری راستے بڑھتے ہوئے خطرات اور لاگت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اجلاس کو بین الاقوامی تیل منڈی کی صورتحال، عالمی تیل منڈی میں نرخوں کے اتار چڑھاؤ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بحری راستوں میں تبدیلی اور اہم گزرگاہوں پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ وار پریمیم کے باعث عالمی توانائی منڈی میں لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کے لیے بڑھتا مقابلہ برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کمیٹی نے سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ دوست ممالک اور سپلائر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری ہیں ایسے راستوں کی کوششیں جارہی جو زیادہ خطرناک سمندری گزرگاہوں سے باہر ہوں۔

کمیٹی نے شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا جن کے ذریعے وقت کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، پٹرولیم مصنوعات کی رسد برقرار رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی غور کیا گیا، صوبائی حکومتوں کی جانب سے اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مشترکہ نفاذی کارروائیوں پر زور دیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ سرحد پار اسمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی، فیلڈ انٹیلی جنس کی مدد سے مسلسل نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا اولین مقصد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے، حکومت ایک منظم گورننس نظام کے تحت صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھال رہی ہے، حکومت  روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، منصوبہ بندی اور مربوط فیصلے کررہی ہے، اگر عالمی قیمتوں میں تبدیلیوں کے باعث ناگزیر دباؤ پیدا ہوا تو حکومت قائم شدہ اور قابل پیش گوئی نظام کے تحت ردعمل دے گی ، ایسا اس لیے ضروری ہو گا تاکہ مارکیٹ میں بگاڑ سے بچا جا سکے اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمد و رفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز سے متعقل امور  بھی زیر غور آئے۔

شرکا نے کہا کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں، ترجیحی شعبوں کا تحفظ اور منڈی کا نظم برقرار رکھا جائے۔

اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات کل تک حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی سفارشات کے ساتھ ایک جامع عمل درآمدی منصوبہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔

منصوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی یقین دہانی اور مؤثر نفاذی اقدامات شامل ہوں گے، قیمتوں کے تعین اور گورننس کے نظام کو مستحکم بنانے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی، ضرورت پڑنے پر ایندھن کے تحفظ اور استعمال میں بچت کے اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔

صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا،  متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا تنویر حسین، جام کمال وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی سیکریٹریز، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور سینئر سیکریٹریز سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حیدرآباد، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان و ایس آر اے کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

Published

on



حیدرآباد:

حیدرآباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان اور سندھ رویولیشن آرمی (ایس آر اے) سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق قاسم آباد کے علاقے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ملزم کو حراست میں لیا گیا۔

کارروائی کے دوران علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تاکہ کسی ممکنہ ساتھی کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ، جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں تکنیکی سامان برآمد ہوا ہے، جسے مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق موقع پر موجود بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ برآمد ہونے والے دھماکا خیز مواد اور سامان کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا جا سکے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے تفتیش جاری ہے اور اس سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کلام غالب میں تلمیحات کا استعمال (پہلا حصہ)

Published

on


کسی بھی تاریخی، مذہبی یا سیاسی واقعے کو شعر میں استعمال کرنا ’’تلمیح‘‘ کہلاتا ہے۔ بیشتر شعرا نے اپنے اشعار میں تلمیح کا استعمال کیا ہے، تلمیح اردو ادب اور علم بیاں کی ایک اہم صنف ہے جس کے لغوی معنی ’’اشارہ کرنا‘‘ ہے۔ تلمیح کے استعمال سے کلام میں حسن، معنویت، وسعت اور بلاغت پیدا ہوتی ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شاعر ایک مختصر سے لفظ یا ترکیب کے ذریعے قاری کے ذہن میں پورا پس منظر یا واقعہ بیان کر دیتا ہے۔

غالب کے کلام میں تلمیحات کا استعمال محض ایک شعری روایت نہیں ہے بلکہ ان کے فلسفیانہ افکار اور معنی گہرائی کو بیان کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ غالب نے اپنی شاعری میں قدیم تاریخی، مذہبی اور اساطیری واقعات کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ ایک مختصر اشارے سے معنی کی پوری کائنات روشن ہو جاتی ہے۔ غالب کی تلمیح نگاری میں معنی آفرینی اور فنی گرفت نمایاں ہے۔ مرزا کا کلام تو اک بحر ذخار ہے جس میں در نایاب نکالنا اور سمجھنا آسان نہیں، محاوروں، تشبیہوں، ترکیبوں، رمز وکنایہ اور تلمیحات کا استعمال جس طرح غالب نے کیا ہے، دوسروں کے ہاں ناپید ہے۔ غالب کے بعد تلمیحات کا استعمال اقبال نے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا

ایران میں دستور تھا کہ بادشاہ یا حاکم وقت کے سامنے فریادی کاغذی لباس پہن کر آتے تھے جن کو دیکھتے ہی بادشاہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ مظلوم ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جیسے خون آلود کپڑا بانس پہ لٹکانا تاکہ مظلومی فوراً ظاہر ہو جائے۔ کاغذی پیرہن کی تلمیح بے چارگی ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ کنایتاً ہستیٔ مصمم کی طرف اشارہ ہے۔ ایرانی شعرا نے ’’کاغذی پیرہن‘‘ کی تلمیح کو بہت استعمال کیا ہے، غالب نے بھی وہیں سے لیا ہے۔

کیا کہا خضر نے سکندر سے

اب کسے رہنما کرے کوئی

٭……٭

لازم نہیں کہ خضرکی ہم پیروی کریں

مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

٭……٭

تو سکندر ہے، مرا فخر ہے ملنا تیرا

گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے

غالب نے اپنے کلام میں سب سے زیادہ خضر اور سکندر کی تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ سکندر اور خضر کا نام ساتھ ساتھ لیا ہے، سکندر اعظم یونان کا رہنے والا تھا، ارسطو کا شاگرد تھا، مقدونیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے کم عمری میں ہی آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، سکندر کی لڑائی ایران کے بادشاہ دارا سے بھی ہوئی تھی جس میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔ اس نے ہندوستان اور چین پر بھی حملے کیے اور کئی نئے شہر بھی بسائے۔ کہتے ہیں قوم یاجوج ماجوج نے زمین پر بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس لیے سکندر نے ’’سد سکندری‘‘ تعمیر کروائی جس کے مسالے میں لوہے اور تانبے کی آمیزش کروائی تاکہ یاجوج ماجوج کے فتنے کو روکا جا سکے۔ حضرت خضر آب حیات پی کر امر ہو گئے۔ چشمہ آب حیات کو چشمہ زندگانی اور چشمہ آب حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ ہندی دیومالا میں آب حیات کو ’’ امرت‘‘ کہا جاتا ہے جسے پی کر دیوتا امر ہو گئے۔ اسی تلمیح کے حوالے سے سکندر خوش قسمت آدمی کو کہا جاتا ہے۔ ایسا خوش نصیب انسان جس پر خدا مہربان ہو، ایک اور خوبصورت شعر خضر کے حوالے سے:

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے

اس شعر میں غالب کہتے ہیں اب انسان کسے رہ نما کرے اور کس پر بھروسہ کرے۔

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، ہر زنان مصر سے

ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہو گئیں

اس شعر میں حضرت یوسف ؑ اور زلیخا کی تلمیح استعمال کی گئی ہے، ’’ماہ کنعاں‘‘ حضرت یوسف کا لقب تھا۔ مرزا غالب نے اس حوالے سے کئی شعر کہے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اور حضرت یوسف ؑ کا قصہ قرآن پاک کی سورہ یوسف میں موجود ہے۔ حضرت یوسف ؑ لاثانی حسن کے مالک تھے، جب وہ مصر پہنچے تو زلیخا ان پر عاشق ہو گئی، لیکن حضرت یوسف ؑ نے کبھی اس کی ہمت افزائی نہیں کی۔ زلیخا کی اس معاملے میں بڑی ذلت و رسوائی ہوئی، مصر کی عورتوں کو معلوم ہوگیا کہ زلیخا حضرت یوسف ؑ پر دل رکھتی ہے اور جب زلیخا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئی تو اس نے حضرت یوسف ؑ پر الزام بھی لگا دیا۔ شاہی خاندان اور امیران شہر کی عورتوں میں زلیخا ایک غلام کے عشق میں بہت بدنام ہو چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ایک دن عمائدین شہر کی بیگمات اور دیگر معزز خواتین کو اپنے محل میں جمع کیا اور تمام خواتین کے ہاتھ میں ایک ایک لیموں اور ایک چھری دے دی اور ان سب سے کہا کہ جیسے ہی میں ایک شخص کو اندر بلاؤں، آپ لوگ اس لیموں کے دو ٹکڑے کر دینا۔ چنانچہ جوں ہی زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو اندر بلایا تو تمام خواتین حضرت یوسفؑ کا حسن بے مثال اور ان کی دلکش شخصیت کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں اور بجائے لیموں کاٹنے کے اپنی انگلیاں زخمی کر لیں۔ مندرجہ بالا تلمیح اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

اس شعر میں غالب نے مصر کے بادشاہ نمرود کی طرف اشارہ کیا ہے جس طرح مصر کے بادشاہ فرعون، چین کے بادشاہ فغفور، روم کے شاہ قیصر، ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے۔ اسی طرح عراق کے بادشاہ کا لقب ’’نمرود‘‘ تھا۔ کہتے ہیں نمرود نے اپنے باپ کو قتل کرکے بادشاہت پر قبضہ کیا تھا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کے توحید کے پیغام کے بعد نمرود ان کا دشمن بن گیا اور انھیں جلتی ہوئی آگ میں ڈلوا دیا۔ لیکن حکم خداوندی سے آگ گلستان بن گئی اور حضرت ابراہیمؑ آگ سے محفوظ رہے۔ بعد میں ایک مچھر کے ناک میں گھس جانے کی وجہ سے نمرود کی موت واقع ہو گئی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے گا اور توحید کا پیغام بھی پھیلائے گا، بت پرستی کو ختم کر دے گا، چنانچہ اس پیش گوئی پر فرعون نے ہزاروں نوزائیدہ بچے قتل کروا دیے لیکن حکم خداوندی سے حضرت موسیؑ محفوظ رہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاک،افغانستان اور ایران ،امریکا و اسرائیل جنگ

Published

on


کچھ دن پہلے پاکستان کو اطلاع ملی کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر وزیرستان اور بنوں پر قبضہ کرنے کا کہا۔ٹی ٹی پی نے کہا کہ ایسا ہو جائے گا، یہ ہمارے لیے بہت آسان ہے۔اسی طرح افغان طالبان نے انڈیا کی شہ پا کر پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے قبائلی علاقوں کا خیبر پختون خواہ میں انضمام ختم کر کے واپس آزاد علاقے نہ بنایا اور ٹی ٹی پی کو وہاں کھلی چھٹی نہ دی تو ان کے پاس دس ہزار خود کش بمبار ہیں۔

طالبان ان خود کش بمباروں کو پاکستان کے طول و عرض میں کارروائیوں کے لیے پھیلا دیں گے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترلائی شیعہ مسجد میں خود کش دھماکہ کر کے اور معصوم عبادت گزاروں کو شہید کر کے اپنی سنجیدگی کا ثبوت پیش کر دیا۔انھوں نے ایک اور ایسے ہی دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل شہزادہ گلفراز کو بھی شہید کر دیا۔ان حالات میں پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے۔

افغانستان نے بدلہ لینے کے بہانے ایک ہفتہ پہلے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ کم و بیش 53 مقامات پر گولہ باری کی۔پاکستانی افواج اس حملے کے جواب کے لیے تیار تھیں۔پاک فضائیہ اور زمینی دستوں نے کابل، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی کمین گاہوں و ہیڈکوارٹروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔پاکستان کے ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں خوارج ہلاک و زخمی ہوئے۔بہت سے افغان ٹینک ، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔پاکستان نے کئی افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کیا اور کئی ایک کے اوپر قبضہ کر لیا۔

پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر افسر اور جوان شہادت کا متمنی ہے۔شہادت کے جذبے سے لبریز ہونے کے ساتھ بہترین تربیت یافتہ بھی ہے لیکن کسی بھی افغان پر حملہ کرنا اسے پسند نہیں کیونکہ فریقِ مخالف مسلمان ہے۔بہر حال اس کا کیا کیا جائے کہ افغان، مملکت پاکستان کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔ان کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور ہاتھوں میں اسلحہ ہے۔پاکستان نے افغانوں کی سوویت یونین کے خلاف مدد کی۔امریکا اور اتحادیوں کے خلاف سیاسی،سفارتی اور جنگی مدد فراہم کی۔

چالیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو کئی دہائیوں تک پاکستان میں رکھا البتہ افغانوں کو جب بھی موقع ملا وہ انڈیا کی گود میں جا بیٹھے تاکہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو ایکسپلائٹ کرسکیں۔ پاکستان نے بہت لمبے عرصے کے بعد دیر آید درست آید پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا کہ افغان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھنی ہے۔آپریشن غضب للحق ابھی تک جاری ہے۔خدا کرے اس مرتبہ یا تو افغان طالبان سمجھ جائیں کہ پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی سے رہنے میں بھلائی ہے اور یہ کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،یا پھر پاکستان کسی وقتی مصلحت کا شکار نہ ہو اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

جنیوا میں امریکا ایران مذاکرات ہورہے تھے۔  بظاہر اچھی پیش رفت ہو رہی تھی۔ایران کے پاس اس وقت 60فی صد یورینیم افزودگی کی صلاحیت ہے۔ابتدا میں افزودگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن 60فی صد سے ویپن گریڈ افزودگی صلاحیت حاصل کرنے میں سالوں نہیں بلکہ چند ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ایرانی قیادت نے شاید یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ویپن گریڈ صلاحیت حاصل نہیں کرنی۔اسی لیے ایران جنیوا مذاکرات میں یہ تجویز دے رہا تھا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے یورینیم افزودگی کو 30فی صد پر لے جائے گا لیکن یہ دوسری بار ہوا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں الجھا کر جنگ شروع کر دی گئی۔

صدر ٹرمپ نے بارہا یہ کہا کہ وہ کوئی نئی جنگ نہیں شروع کریں گے اور پرانی جنگوں کو ختم کریں گے۔ صیہونی یہودی لابی امریکا میں اتنی طاقتور اور اتنی با اثر ہے کہ امریکی انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہے۔ ٹرمپ خود اس جنگ سے ہچکچا رہے تھے لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے زور دیا کہ 2025کی جنگ کے نامکمل ایجنڈے کو ضرور پورا کیا جائے۔جنگ شروع ہوتے ہی ٹرمپ کے پہلے بیان کو دیکھیں تو وہ نتن یاہو کی زبان بولتا نظر آتا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم اس جنگ میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کو ختم کرنا،ایرانی میزائل پروگرام کو ملیامیٹ کرنا اور ایران میں امریکا و اسرائیل کی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے اپنا پہلا ہدف بآسانی حاصل کر لیا ہے۔جناب خامنہ ای اپنی فیملی کے کچھ افراد کے ساتھ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں شہید ہوئے۔ان کے ساتھ ایرانی آرمی،انقلابی گارڈز کے اعلیٰ عہدیدار بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ٹرمپ کے بقول ایران کی تمام اعلیٰ قیادت موت کے گھاٹ اتار دی گئی ہے۔ایران نے پچھلے سال کی جنگ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہر شعبے کی Chain of Command کو کافی نیچے تک آرگنائز کر دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کے بعد اب متبادل قیادت فیصلے کر رہی ہے۔اس ایک ہدف کے حصول کے علاوہ امریکا و اسرائیل ابھی تک کچھ اور حاصل نہیں کر سکے۔ان کا خیال تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکا و اسرائیل کی مرضی کی قیادت اقتدار سنبھال لے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اور ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔

صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔یہ اس وقت بھی ایک دیوانے کی بڑ لگتی تھی اور چند دن پہلے ایران،امریکا مذاکرات نے ثابت کر دیا کہ وہ دعویٰ بالکل غلط تھا۔اگر بقول ٹرمپ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم ہو چکی ہے تو پھر کاہے کے مذاکرات اور ایران سے کیا مطالبہ۔ بہرحال نتن یاہو اپنے Un finishedایجنڈے یعنی ایران میں رجیم چینج اور ایران کو بے دست و پا کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ہیمر لاک لگایا ہوا ہے۔نتن یاہو کے سامنے جتنا بے بس ٹرمپ ہے اتنا کوئی دوسرا امریکی صدر نہیں تھا۔امریکا اور اسرائیل کو ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران ایک وسیع رقبے والا بڑا ملک ہے۔ایران پر جتنے بھی بم مار لیں پھر بھی ایران کا ایک بہت بڑا حصہ محفوظ رہے گا جب کہ اسرائیل چند بموں سے ہی شدید زخمی ہو جائے گا۔

اسرائیل کے اندر ایرانی حملوں سے جو تباہی ہو رہی ہے وہ رپورٹ نہیں ہو رہی۔آبنائے ہرمز وقتی طور پر کچھ بند ہے جس سے تیل کی آزادانہ نقل و حرکت رک گئی ہے۔اس سے پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں متاثر ہو رہی ہیں۔امریکا و اسرائیل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے جتن میں ایرانی نیوی کو تباہ کر رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاء صرف کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ان کالموں میں بارہا لکھا گیا ہے کہ ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کے انٹیلی جنس ادارے کی ناکامی ہے۔جناب خامنہ ای کو بھی اسی کمزوری نے مروایا۔پاکستان کو بھی اپنی انٹیلی جنس کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں بھی کمزوریاں ہیں۔دہشت گرد افغانستان یا قبائلی علاقوں سے چل کر اسلام آباد اور کراچی تک پہنچ رہے ہیں۔وہ کئی چیک پوسٹوں سے گزر کر پہنچتے ہیں ۔آج ٹیکنالوجی بھی بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ایران اور پاکستان دونوں ممالک اپنی صفوں میں گھسے فارن ایجنٹوں سے پاک ہو جائیں تو بہت محفوظ اور طاقتور ملک بن سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending