Today News
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔
حکومت نے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کرنے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی 34روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
Source link
Today News
کراچی، بادلوں کی گرج چمک اور موسلا دھار بارش نے شہریوں کو دسمبر کی یاد دلا دی
کراچی:
شہر قائد میں اپریل کا مہینہ اچانک دسمبر جیسا محسوس ہونے لگا جہاں بادلوں کی خوفناک گرج چمک کے ساتھ مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق بلدیہ، مواچھ گوٹھ، ناظم آباد اور اورنگی ٹاؤن میں بارش نے موسم سرد بنا دیا، جبکہ لیاقت آباد، گولیمار، گلشن اقبال اور واٹر پمپ کے علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔
سرجانی ٹاؤن میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش نے شہریوں کو حیران کر دیا، جبکہ لیاری، صدر، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ پر بھی بادل خوب برسے۔
اسی طرح منگھوپیر، سائٹ اور پاک کالونی کے اطراف میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ حب اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید بارش کا امکان ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Today News
یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، مریم اورنگزیب کا پیغام
لاہور:
مسلم لیگ ن کی رہنما اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا۔ یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔…
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) April 2, 2026
سینئر وزیر کے مطابق وزیراعظم نے نہایت دانشمندی کے ساتھ فِسکل اسپیس پیدا کی، کفایت شعاری کے اقدامات اختیار کیے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کی، اور ہر ممکن طریقے سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔
یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ عالمی سطح پر جہاں مختلف ممالک میں پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، وہاں پاکستان کو اس بحران سے محفوظ رکھا گیا، یہ مضبوط پالیسی اور مؤثر سپلائی چین مینجمنٹ کا ثبوت ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ فرق ہوتا ہے ایک ذمہ دار قیادت اور ایک ایسی قیادت میں جس نے اپنی جھوٹی اور مصنوعی سیاست کو بچانے کے لیے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔
مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ آج ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کی قیادت شہباز شریف جیسے ذمہ دار اور سنجیدہ رہنما کے ہاتھ میں ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
آج بھی جب قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، تو اسے عام عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے متوازن کیا گیا۔
2 ویلرز استعمال کرنے والے محنت کش طبقے، چھوٹے کسانوں (25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے)، اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو خصوصی ریلیف دے کر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔
یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ ہر ممکن حد تک سہارا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔
میں اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو وفاق کی اکائیوں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونے پہ مبارکباد دیتی ہوں اور تمام وزرائےاعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
ہم انشااللہ ایک قوم بن کر ان مشکل حالات کامقابلہ کریں گے انشاءاللہ
انشاءاللہ، جیسے جیسے عالمی حالات بہتر ہوں گے، اسی عزم اور حکمت کے ساتھ مزید ریلیف بھی فراہم کیا جائے گا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
Today News
دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی، جو تینوں بڑے شعبوں کی کارکردگی کے باعث قومی پیداوار میں معقول اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم مرکزی بینک نے نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس کے دوران فصلوں، خصوصاً گندم کی اصل پیداوار کے اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔
اسی اجلاس میں ان اعدادوشمار کی منظوری دی گئی۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں معیشت کی شرح نمو 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی شرح نمو میں کمی آئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔زرعی شعبہ 1.8 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہے۔
صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس، خدمات کے شعبے نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’’بلا روزگار ترقی‘‘ (Jobless Growth) پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ 11 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔این اے سی نے نوٹ کیا کہ سیلاب کے اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی آئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 1.87 فیصد کم ہوئی۔
سبز چارے میں کمی کے باعث دیگر فصلوں کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اجلاس کے دوران مرکزی بینک کے نمائندے نے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے دعووں پر وضاحت طلب کی۔
گندم کی پیداوار کے حوالے سے بار بار سوالات اٹھائے گئے، تاہم پی بی ایس نے اس بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے۔چیف اسٹیٹسٹیشن نے وضاحت کی کہ ملک کے کئی حصوں میں ابھی فصل کی کٹائی شروع نہیں ہوئی، اس لیے اصل پیداوار کا تعین ممکن نہیں۔
تاہم گندم کی کاشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس کے شعبوں میں جاری سرگرمیاں ہیں۔
این اے سی کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.8 فیصد اور 0.8 فیصد رہی۔
بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ آٹو موبائل، ٹرانسپورٹ آلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہتر کارکردگی ہے۔
بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور ڈیفلیٹر میں کمی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 10.53 فیصد رہی، جس کی وجہ تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں اضافہ ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals