Connect with us

Today News

پی ایس ایل میچز کی وجہ سے پولیس کی عیاشیاں شروع ہو گئیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

Published

on



لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے پی ایس ایل میچ کے دوران سڑکیں بند کرنے اور ملزم کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

لاہورہائیکورٹ میں فراڈ کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ملزم علی امیر کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ پولیس نے ملزم  کو کیوں عدالت میں پیش نہ کیا؟ پی ایس ایل میچز کی وجہ سے پولیس کی عیاشیاں شروع ہوگئی ہیں۔

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور ہوم سیکرٹری کو فوری طلب کر لیا۔

وکیل مدعی اعجاز بھٹی نے دلائل میں کہا کہ ملزم علی امیر کے خلاف لیاقت اباد میں مقدمہ درج ہوا، ملزم نے مدعی کی 4 کروڑ کی پراپرٹی ہتھیا لی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے درخواست ضمانت پر روزانہ کی بنیاد پر کیس ٹرائل کا حکم دیا۔ پی ایس ایل میچوں کے دوران سیکیورٹی بنیاد پر ملزم کو عدالت پیش نہیں کیا جاتا، اس بنا پر ٹرائل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ملزم کی رہائی کی درخواست ضمانت منظور کرے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تکبر کا نتیجہ خواری – ایکسپریس اردو

Published

on


تکبر کا شکار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یو ٹرن لینے اور گیڈر بھبکیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور خود جنگ شروع کرکے یا کرا کر پھر خود ہی جنگ بند کرانے کا از خود ریکارڈ بناکر عالمی شہریت کا حامل نوبل پرائز کا خواب دیکھنے والے سپرپاور کے دعویدار ملک امریکا کے صدر کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور کرنا کیا ہے؟ شاید انھیں خود بھی نہیں پتا مگر ان کے تبدیل ہونے والے فیصلے دنیا کو حیران ضرور کردیتے ہیں شاید وہ شر میں خیر کی توقع کی بجائے خیر میں سے شر نکال لیتے ہیں۔

انھوں نے شر کی بجائے خیر کے لیے ایران سے مذاکرات شروع کرائے مگر جب انھیں لگا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوجائیں انھوں نے خیر کا انتظار کیے بغیر ایران پر حملہ کرکے شر انگیزی کی اور کئی دن جنگ جاری رکھ کر ایران کو 48گھنٹے کا نوٹس دیا اور نوٹس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی خود اپنی شروع کردہ جنگ میں پانچ دنوں کا وقفہ کرلیا۔

دنیا اور امریکی خود حیران ہیں کہ جنگ کی بجائے مفاہمت کے لیے ایران سے مذاکرات کرانے والے امریکی صدر کو ہوا کیا تھا کہ اپنے تکبر پر ناز کرتے ہوئے انھوں نے مذاکرات چھوڑ کر ایران پر حملہ کرادیا اور تکبر کا شکار گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے سازشی ذہن کو پڑھے اور دیکھے بغیر اسرائیل کے کہنے پر دونوں نے ایران پر یہ سوچ کر حملہ کیا کہ چار عشروں سے عالمی پابندیوں کا شکار کمزور ملک ایران گھنٹوں میں ہتھیار ڈال دے گا اور پھر اسرائیل محفوظ اور امریکا وینزویلا کی طرح ایران کے آئل کا بھی مالک بن کر آئل کی بھی سپر پاور بن کر اپنی مرضی سے دنیا بھر میں آئل فروخت کرنے کا ٹھیکیدار بن جائے گا۔امریکی صدر کے تکبر نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ امریکا دنیا میں جو چاہے کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ چاہے تو رات کی تاریکی میں وینزویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کراکر امریکا لاکر قید کرا دے یا دنیا پر مرضی سے ٹیرف مسلط کردے کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم بھی امریکی صدر کی طرح تکبر اور رعونیت میں مبتلا ہوکر خواب دیکھ رہا تھا کہ وہ اور امریکا دونوں مل کر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے اور ایرانی عوام بھی وینزویلا کے عوام کی طرح اپنے صدر کے اغوا پر خاموش رہنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس لیے اسرائیل اور امریکا نے پہلے مرحلے میں ایران کے مذہبی پیشوا اور سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جو دھمکیوں کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر بیٹھے اور نہ انھوں نے کسی محفوظ بنکر میں پناہ لی بلکہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات پر غیر محفوظ جگہ پر شہادت کے منتظر رہے اور اپنی خواہش کے مطابق شہادت سے ہمکنار ہوئے جس کا ایرانی عوام پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے باہمی اختلاف بھلاکر متحد ہوگئے اور بمباری کے خوف سے چھپنے کی بجائے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور اپنے سپریم لیڈر سے محبت و عقیدت کے لیے ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

امریکا کی توقع کے برعکس اپنے دیگر رہنماؤں کی شہادت کے بعد بھی ایرانی متحد، پرعزم اور دلیر ثابت ہوئے اور ان کے ملک نے تقریباً ایک ماہ کی جنگ میں ہتھیار ڈالے نہ امریکی خواہش پوری ہونے دی بلکہ اسرائیلی حملوں کا وہ جواب دیا کہ جس کی دنیا کو توقع نہیں تھی۔ ایران نے 48گھنٹوں کی دھمکی دی نہ پانچ روز کے لیے جنگ روکی مگر اسرائیل اور امریکی اہداف پر اپنے حملے جاری رکھ کر دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا۔

اسرائیل فلسطین اور لبنان کو تباہ کرنے کے بعد ایران کو چند گھنٹوں کی مار سمجھ رہا تھا اور تکبر کے مارے اسرائیلی شیطان نے ایران کے ساتھ لبنان پر حملہ کرکے لبنان کے بعض علاقے مکمل تباہ کردیے اور پہلی بار ایران کی بمباری سے اپنے بعض شہر اور دس ہزار املاک بھی تباہ کرا بیٹھا کیونکہ اس سے قبل اسرائیل کو کہیں سے اپنے حملوں کا خوفناک جواب نہیں ملا تھا۔ امریکا واقعی سپر پاور ہے اور اسرائیل امریکا کا بغل بچہ ہے جو امریکا کی گود میں بیٹھ کر خود کو بھی سپرپاور سمجھ بیٹھا تھا جو اب اتنا مجبور ہوگیا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے گھروں میں چھپ کر محفوظ ہونے کا کہہ رہا ہے۔

امریکا ایران سے بہت دور اور محفوظ تو ہے مگر اس نے خلیجی ممالک میں لیے گئے اپنے اڈوں پر ایرانی حملوں میں قابل ذکر جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے اور اس کا تکبر بھی خاک میں ملا اور اسے اپنی شروع کی گئی جنگ خود روکنا پڑی جب کہ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ روکنے کے لیے ایران کو یہ کہنا پڑا کہ جنگ ایران کی مرضی سے ختم ہوگی، امریکا کی مرضی جنگ نہیں رکوا سکتی۔

امریکا اور اسرائیل کو اپنی جنگی طاقت اور صلاحیتوں پر بڑا ناز اور اس کے حکمرانوں کو تکبر تھا مگر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ کے بقول اب ایران سے جنگ میں امریکا اور اسرائیل فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ یہ اگر حقیقت ہے تو امریکا اور اسرائیلی حکمرانوں کے بے پناہ تکبر نے امریکا و اسرائیل کو یہ دن دکھا دیے ہیں جس میں امریکا تو تباہی سے محفوظ رہا مگر اسرائیل خود تباہ ہوا مگر امریکا نے خلیجی ممالک کو بھی مکمل تباہ کرانے کی سازش کی جو دونوں کی خواہش تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز کی لہریں اور سورج کا راستہ

Published

on


اسلام آباد کی بلند عمارتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہو رہے تھے۔ دوسری طرف شہر کے مضافات میں ایک بیوہ ماں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے مٹی کا تیل ڈال رہی ہوگی، کیونکہ جب اس نے سنا ہوگا کہ مٹی کا تیل 70.73 روپے مہنگا کرکے 428.74 روپے کا کر دیا گیا ہے۔

اس خبر سے تو امیروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہائی اوکٹین پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے لیٹر مقرر کرنے کے بعد نئی قیمت 533.88 روپے ہو گئی ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ اس طرح ماہانہ 9 ارب روپے بچ جائیں گے اور اس طرح سالانہ 108 ارب روپے۔ پاکستانی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عالمی مالیاتی ادارے کی خوشنودی اور دوسری طرف غریب کی بدحالی۔ ان کی قوت خرید کی شکستگی، چند روز قبل ہائی اوکٹین فی لیٹر اضافے سے متمول طبقے کی جیب پر کوئی خاص اثر تو نہیں پڑا۔لیکن مہنگائی کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی سطح بلند ہو کر رہ گئی ہے اور اس نے پاکستان کی اکثریت کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کی قوت خرید جواب دے رہی ہے۔

ایک غریب مزدور کی بیوی جو ایک ماں بھی ہے اپنے بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے شاید اسے ناشتہ دینے کی خاطر اپنے حصے کی ایک روٹی کم کر رہی ہو۔ شاید مزدور اپنے دوپہر کے لذت کام و دہن کے لیے بچے کچھے ٹکڑے اپنے رومال میں باندھ رہا ہو۔

حکومت 200 روپے اضافہ کرے یا 400 روپے امیر کی فکر نہ کرے، کیونکہ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ انسانی رویوں اور ان کی حالت کا نام ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پاکستان کے غریب متاثر ہوئے ہیں اور اب امیروں کے لیے ہائی اوکٹین اور غریبوں کے لیے مٹی کا تیل دونوں کی قیمت میں اضافہ کرکے حکومت نے شاید جتایا ہو کہ اس کے نزدیک امیر و غریب سب برابر ہیں۔ سب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے اہلکاروں کی آنکھیں دور افق پر جمی ہو ئی ہو سکتی ہیں اور ان کے کان بحیرہ عرب کی لہروں کی سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی لہریں اچھل اچھل کر پیغام دے رہی ہیں کہ تمہارے بڑے بڑے دیوہیکل تیل بردار جہاز جن میں کروڑوں بیرل تیل لدا ہوا ہے بس پہنچ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی جہاز کے لنگرانداز ہونے کی خبر متعلقہ دفاتر میں پہنچتی ہے تو قیمتوں کا تعین، لیوی کا حساب اور مہنگائی کے نئے گراف تیار ہونے لگتے ہیں۔ اس مرتبہ ایک طرف ہائی اوکٹین کی لیوی میں اضافہ کیا ہی تھا کہ معیشت کا ترازو جھکنے لگا لہٰذا انصاف کا تقاضا تھا کہ برابر ناپ تول کر دیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور فیصلہ صادر ہوا کہ مٹی کا تیل بھی تقریباً 71 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ شاید لالٹین جلانے والے، مٹی کے تیل کا چولہا جلانے والے سوچ رہے ہوں گے کہ سمندر کی لہروں کا بھی یہی انصاف ہے۔ کسی کے لیے موتی لاتے ہیں اور کسی کے لیے صرف جھاگ۔ اسی لیے میرے گھر کی لالٹین اب بہت جلدی بجھ جایا کرے گی۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں ایک طرف بڑی گاڑیوں کا دھواں غریب کے پھیپھڑوں میں اترتا ہے اور دوسری طرف گزشتہ 7 ماہ میں 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کا درآمدی تیل منگوایا جاتا ہے۔

ایران امریکا جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے مد و جزر کے اثرات تیل کی قیمتوں پر زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ کبھی کوئی لہر قیمت بڑھاتی ہے اور کوئی لہر دو چار ڈالر کم کر دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ماہرین کا خیال ہے کہ صورت حال بتا رہی ہے کہ تیل کا درآمدی بل 20 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔

سمندر کی لہریں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ ہم نے آبنائے ہرمز کے مد و جزر سے اپنی تقدیر وابستہ کر لی ہے اور تُو ہائی اوکٹین کے دھوئیں میں 9 ارب روپے کی بچت کرکے اپنی منزل ڈھونڈتا ہے۔ شام ہونے سے پہلے ذرا لالٹین کی لُو تیز کر تو معلوم ہوگا کہ تیرا رب تیرے سر پر روزانہ سورج کی صورت میں سخاوت کا سمندر مد و جزر کے مراحل طے کراتا ہوا شاید پیغام دے رہا ہو کہ تُو نے تیل بردار دیو ہیکل جہازوں کا انتظار کرتے کرتے اس روشنی کو بھلا دیا جو مفت میں تیری چھت پر روز برستی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ تیل کی اس غلامی کا بوجھ کم کریں، کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سولر سسٹم ہی ہمارا مستقبل ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو خاص طور پر مراعات دینا ہوں گی۔ خصوصاً ان تاجروں کو ’’محسن قوم‘‘ کا خطاب دینا ہوگا جنھوں نے اس وقت دھوپ کو بجلی میںبدلنے کا خواب بیچا جب لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے۔

ان تاجروں نے اس وقت مارکیٹ بنائی جب نیٹ میٹرنگ کا تصور تھا نہ گرین انرجی کی اتنی پکار تھی۔ آج ان لوگوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، سولر پینلز، انورٹرز، لیتھیم بیٹریوں کی درآمد کو آسان کرنا ہوگا، جس طرح 1969 میں اپالو الیون نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اسی طرح آج بھی ہمیں ایسے ’’اپالو‘‘ مشن کی ضرورت ہے اور ’’سولر کا اپالو‘‘ تلاش کرنا ہوگا جو ہمیں تیل کے بوجھ سے نجات دلا کر خودکفالت کے آسمان تک لے جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے اسرائیلی شہروں پر حملے، کیمیکل پلانٹ سمیت اہم تنصبیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

Published

on



پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 86 ویں لہر کے دوران خطے کے مختلف مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی اور ڈرون انفرا اسٹرکچر اور ان کی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4" کی 86ویں لہر اتوار کی علی الصبح کئی مراحل پر مشتمل انداز میں شروع کی گئی، جس میں پاسداران کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ کی جانب سے مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا ہدف خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات تھیں۔

بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے پہلے مرحلے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امریکی اڈوں پر فضائی اور ڈرون آپریشنل انفرا اسٹرکچر اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وکٹوریہ، عریفجان اور الخرج شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس دوران امریکی اور اسرائیلی افواج کے مبینہ ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ کوملہ گروپ سے وابستہ عناصر کو بھی مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں اراد، نقب (نیگیو)، تل ابیب، اربیل، امریکی پانچویں بحری بیڑا اور الظفرہ شامل ہیں۔

غیرملکی میڈیا نے رپورٹس میں بتایا کہ ایرانی میزائل حملے میں جنوبی اسرائیل میں ایڈاما کیمیکلز پلانٹ متاثر ہوا ہے، اسی طرح جنوبی اسرائیل میں قائم ماختشیم پلانٹ بھی ایرانی میزائل سے متاثر ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

اسرائیل کی فائر اور ریسکیو سروس نے کہا کہ جنوبی اسرائیل کے صنعتی علاقے میں آگ لگی ہے، جہاں متعدد کیمیائی اور صنعتی پلانٹس موجود ہیں اور یہ ممکنہ طور پر ایرانی میزائل یا روکے گئے میزائل کے ملبے کی وجہ سے پیش آیا۔

اسرائیلی فائر بریگیڈ نے عوام سے کہا کہ وہ نیوٹ ہوواب صنعتی علاقے سے دور رہیں کیونکہ وہاں خطرناک مواد موجود ہے جبکہ 34 فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم صنعتی علاقے سے 800 میٹر کے فاصلے یا اس دور عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پلانٹ کے قریب مقیم شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ وہ اندر رہیں، کھڑکیاں اور وینٹیلیشن بند کریں اور سیکیورٹی اور ایمرجنسی فورسز کی ہدایات پر عمل کریں جب تک واقعے پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا۔

اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ صنعتی زون میں اثر ممکنہ طور پر میزائل کے ملبے کی وجہ سے ہوا، اس کے فوراً بعد ایران کی جانب سے نئے حملوں کا پتا چلا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ میزائل کے ملبے کا اثر ہےجبکہ اسرائیلی ٹی وی چینلز نے جنوبی اسرائیل کے رامات ہوواب صنعتی زون سے بلند سیاہ دھوئیں کی تصاویر دکھائیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

فوج نے بتایا کہ اتوار کو ایران کی جانب سے پانچ لہروں پر مشتمل میزائل حملوں  کا علم ہوا ہے اور ہر بار دفاعی نظام خطرے کو ناکارہ بنانے کے لیے فعال ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنوبی اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں اور دو میزائل روکے گئے جبکہ تیسرا کھلی جگہ پر گر گیا، ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل بھر میں 40 بار سائرن بجے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending