Connect with us

Today News

پی ایس ایل  میں ایک میچ کی میزبانی ملنے پر پختونخوا حکومت کا پی سی بی سے رابطے کا فیصلہ

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کے شیڈول میں پشاور کو صرف ایک میچ کی میزبانی ملنے پر خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

مشیر کھیل خیبرپختونخوا تاج محمد کے مطابق پی ایس ایل میں پہلی بار پشاور کو ایک میچ کی میزبانی دی گئی ہے جو 28 مارچ کو کھیلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پی سی بی سے کم از کم پانچ میچوں کی میزبانی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم دو میچوں کا وعدہ کرنے کے باوجود صرف ایک میچ دیا جا رہا ہے۔

تاج محمد کا کہنا تھا کہ پشاور کو طویل عرصے بعد صرف ایک میچ دینا ناانصافی ہے، اس معاملے پر پی سی بی سے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا تاکہ مزید میچز کی میزبانی پشاور کو دی جا سکے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کی ضرورت

Published

on


افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ جاری رہے گا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں افغانستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، البتہ افغانستان حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہے، یوں تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو مکمل حل کرنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔کچھ مبصرین اپنے تبصروں میں اس نکتے کو اہمیت دے رہے ہیں کہ افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے، مگر یہ حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب، چین اور روس ،افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوجائے مگر یہ جنگ بندی پھر عارضی ہوگی۔

طالبان حکومت کے قیام کے وقت اسلام آباد پر تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو عظیم فتح قرار دیا تھا۔ سابقہ حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں ہتھیاربند لوگوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی تھی، یوں ان لوگوں کو سابقہ فاٹا کے مختلف شہروں میں اپنی رٹ قائم کرنے کا موقع دیا گیا، اس بناء پر ان دہشت گردوں نے اس علاقہ میں متوازی حکومت قائم کرلی تھی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں خودکش حملے شروع ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بہت سے افسران اور جوان طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ کے تمام شہر مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں کا شکار ہیں۔ وادئ تیراہ میں آپریشن کے لیے آبادی کا انخلا کرایا گیا ۔ ان طالبان دہشت گردوں نے خیبر پختون خوا میں تو دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہی تھے، اب مسلح افواج کے جوابی حملے میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتارکر کے سرحد پار پہنچانے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ اب تک کئی ہزار افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے تجارت بند ہے۔ افغانستان نے 1948ء میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہوئیں۔ امریکا اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی، یوں سوویت افواج واپسی پر مجبور ہوئیں اور افغان مجاہدین کابل پر قبضے میں کامیاب ہوئے مگر یہ افغان مجاہدین وار لارڈ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا کی افغانستان سے دلچسپی ختم ہوگئی۔ افغانستان میں وار لارڈ کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ طالبان کی اس حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ طالبان کے پہلے دور میں خواتین کو گھروں میں بند کیا گیا۔

ان سے تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی حکومت کو ریگولیٹ کرنا شروع کیا۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا اور اتحادی فوجوں نے طالبان کی پہلی حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کیا۔ حامد کرزئی کو کابل کی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے دوسرے صدر بنے۔ان کی صدارت کا خاتمہ موجود طالبان حکومت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی افغان پالیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے حق میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارآباد کر کے اور افغان طالبان کی حکومت کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان کے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے طالبان حکومت کی مدد کرنا شروع کی۔ چین اور روس نے بھی افغانستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔

روس پہلا ملک ہے جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی بناء پر افغانستان کی معیشت کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ پاکستان روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کو اس بات پر قائل کرے کہ طالبان کی حکومت کی جارحیت روکنے کے لیے اس کی سرزنش ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس بیانیے کے ساتھ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، بھارت کی رائے عامہ کو یہ بات باور کروانی چاہیے کہ اگر طالبان کے طوفان کو نہ روکا گیا تو پاکستان کے علاوہ بھارت بھی اس طوفان کی زد میں آجائے گا۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر پاکستان ڈپلومیسی کے جدید طریقے استعما ل کرے اور افغانستان کو تنہا کردیا جائے تو افغانستان میں پیدا ہونے والے طوفان کے دباؤ سے طالبان کی حکومت خود ہی گرجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت کسی گروہ کو دہشت گردی کے لیے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کی سرزنش بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کا اولیت ایجنڈا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں بیوی سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے زہر کا انجکشن لگالیا

Published

on



کراچی: نارتھ ناظم آباد میں ڈاکٹر شوہر نے بیوی سے جھگڑے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر خود کو انجیکشن لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک سی مییں گھر کے اندر مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے ایک شخص کو شدید تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

 متوفی کی شناخت 36 سالہ عزیز ولد معیز کے نام سے ہوئی۔

ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد شاہد بلوچ نے بتایا کہ متوفی اینستھزیا کا ڈاکٹر اور متعدد نجی اسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔

متوفی کے ورثا نے پولیس کو بیان دیا کہ گزشتہ صبح معیز کا اپنی اہلیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی اور جب کچھ دیر کے بعد واپس آئی تو معیز نے اسے بتایا کہ اس نے خود کو بے ہوش کرنے والا انجیکشن لگالیا ہے اور وہ 2 سے 3 منٹ کا مہمان ہے جس کے بعد اس کی زندگی ختم ہوجائیگی۔

اہلیہ نے فوری طور پر مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد معیز کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پولیس موبائل کے ذریعے ہی عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

شاہد بلوچ نے مزید بتایا کہ متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی اور اس حوالے سے مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرول کے بعد 23 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی کے بھی دو جہاز پاکستان پہنچ گئے

Published

on



پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ہزاروں ٹن ایل پی جی گیس کے دو بحری جہاز پورٹ قاسم بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگئے جبکہ مزید 2 جہاز عید الفطر سے پہلے آنے کی توقع ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک میں مائع پیٹرولیم گیس کے وافر ذخائر دستیاب ہیں، پورٹ قاسم کی بندرگاہ پر اریس نامی بحری جہاز 11 ہزار میٹرک ٹن جبکہ اٹلانٹک نامی جہاز 12 ہزار میٹرک ٹن گیس لے پر پہنچا اور لنگر انداز ہوگیا۔

اس کے علاوہ ULLSWATER نامی بحری جہاز کے ذریعے 3700ٹن اور MD23 نامی بحری جہاز کے ذریعے 3500ٹن مزید دو ایل پی جی کنسائمنٹس عیدالفطر سے قبل پاکستان پہنچ جائیں گے۔

یہ بات ایل پی جی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ فی کلو گرام ایل پی جی کی مقررہ سرکاری قیمت اگرچہ 225 روپے ہے لیکن گیس مافیا امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو جواز بناکر 350روپے سے 450روپے فی کلوگرام کے حساب سے ایل پی جی فروخت کررہے ہیں، جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

عرفان کھوکھر نے بتایا کہ امریکا ایران جنگ سے مشرق وسطی کی غیر یقینی صورتحال سے عالمی مارکیٹ میں فی ٹن ایل پی جی کی قیمت میں 200ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے شپنگ لائنز کے فریٹ بھی بڑھ گئے ہیں، ملک میں ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گیس مافیا منفی افواہیں پھیلاکر صارفین کو گھبراہٹ میں وسیع پیمانے پر ایل پی جی کی خریداری کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی سے متعلق ملنے والے اشاروں اور مزید ایل پی جی کے کنسائمنٹس کی آمد سے آئندہ چند دنوں میں ایل پی جی کی قیمت معمول پر آجائیں گی۔



Source link

Continue Reading

Trending