Connect with us

Today News

پی ایس ایل 11؛ پنڈیز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا میچ بارش کے باعث تاخیر کا شکار

Published

on



پاکستان سپر لیگ  11 کا بارہواں میچ اسلام آباد یونائیٹڈ اور راولپنڈیز کے درمیان ہونا تھا، تاہم خراب موسم کے باعث میچ تاخیر کا شکار ہوگیا۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کے لیے ٹاس بارش کے باعث نہ ہوسکا ، موسم کی صورتحال بہتر ہوتے ہی ٹاس کیا جائے گا۔

تاخیر کے بعد اب ٹاس 7 بج کر 20 منٹ پر کیا جائے گا اور 7 بج کر 40 منٹ پر میچ بغیر کوئی اوور کم کیے شروع ہونے کا امکان ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

فی من روئی 20 ہزار روپے کے ساتھ بلند سطح پر پہنچ گئی، قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

Published

on



کراچی:

بارشوں کے تازہ ترین لہر، پہلے سے کاشت شدہ کپاس کی فصل متاثر ہونے، خلیج جنگ کے باعث بیرون ملک سے روئی کی درآمدی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹس میں گزشتہ ہفتے فی من روئی 20ہزار روپے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

رواں ہفتے روئی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں ،تاہم چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں افغانستان سے روئی کی درآمد بحال ہونے سے قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سے قبل فروری کے وسط میں درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے سندھ کے ساحلی علاقوں میں کپاس کی بوائی کا بڑی تیزی سے آغاز ہوتے ہی تصور کیا جارہا تھا کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی بوائی پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہوگی، ساتھ ہی امریکا اور برازیل سے روئی کی بڑھتی ہوئی درآمدی سرگرمیوں سے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت گھٹ کر 16ہزار 500روپے کی سطح پر آگئی تھیں۔

بعدازاں بیشتر کاٹن زونز میں بارشوں کے باعث کپاس کی بوائی  اور خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمد معطل ہونے سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان سامنے آیا، جس سے فی من روئی کی قیمت دو سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جس میں مزید تیزی کے امکانات بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات ہیں جس سے پاک افغان بارڈر کھلنے سے افغانستان سے روئی کی درآمدات بحال ہوسکتی ہے اور اسکے نتیجے میں روئی کی قیمت میں کمی بھی ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے روئی کی ڈھائی سے تین لاکھ گانٹھوں تک پاکستان آسکتی ہیں جس سے کاٹن مارکیٹ میں نئے رحجانات بھی سامنے آنے کے خدشات ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

خلیج کا بحران اور پاکستان کے مقدر کا بلند ستارہ

Published

on


ایک جنگ مشرق وسطی میں لڑی جا رہی ہے اور ایک جنگ پاکستان لڑ رہا ہے۔ دونوں جنگوں میں ایک بڑا فرق ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا مقصد تباہی ہے جب کہ پاکستان کی جنگ امن کے لیے ہے۔ اتنی بڑی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان کو توانائی کہاں سے ملی؟ ملین ڈالر سوال یہی ہے۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد شہزادہ خالد بن عبد العزیز السعود خادم الحرمین الشریفین کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تو فوراً ہی ان کے شہید پیشرو اور ان کے درمیان موازنہ شروع ہو گیا۔

اس موقع پر کسی دانش مند نے کہا کہ شاہ فیصل جیسی بھاری بھرکم شخصیت کے جانشین کی مشکل دوہری ہے۔ ایک اپنے عہد کے چیلنجوں کا سامنا اور دوسرے اپنے پیش رو سے موازنہ۔ اتفاق سے وزیر اعظم شہباز شریف بھی اسی قسم کی صورت حال سے دوچار رہے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، وہ اس قسم کے موازنے سے اوپر اٹھ رہے ہیں۔

کسی سیاست داں کی صلاحیت کا اندازہ کئی پیمانوں سے کیا جا سکتا ہے، ان میں ایک اچھی ٹیم بنانا اور اسے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ قومی امور اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے ضمن شہباز شریف کا طرز عمل کیا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ مجھے وزیر اعظم سے کئی ملاقاتوں کا اعزاز حاصل ہے۔ اہم قومی امور میں ان کی گفتگو سننے کے مواقع بھی اکثر ملے ہیں۔

میں پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ یہ شخص اجتماعیت پر یقین رکھتا ہے، تنہا پرواز اس کے مزاج میں نہیں۔ مئی کی جنگ کے بعد عالمی منظر نامے پر پاکستان کا پروفائل یک دم بلند ہوا تو ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے وزیر اعظم کی تعریف کی۔ اس قسم کے مواقع پر جیسا ہوتا ہے، بعض لوگ وزیر اعظم کی نگاہ میں آنے کے لیے زیادہ تعریف کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسی گفتگو سن کر وزیر اعظم نے اپنے مخصوص انداز میں انگشت شہادت لہرائی یعنی اپنی بات میں زور پیدا کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان کی کامیابیوں کا راز ٹیم ورک میں ہے۔ یہ حقیقت کبھی نظر انداز نہ کی جائے۔‘‘

وزیر اعظم کا ٹیم ورک کیا ہے؟ پاکستان کی موجودہ ہیئت حاکمہ پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے تین مراکز ہیں، ایک وہ خود یعنی وہ اور ان کی کابینہ، دوسرے ایوان صدر اور تیسرے راول پنڈی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بعض عوامل ہمارے یہاں ایسے رہے ہیں جن کی وجہ سے راول پنڈی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی سبب سے بعض اوقات راول پنڈی اور اسلام آباد میں اختلاف رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے بہت سے تکلیف دہ مناظر گزشتہ دہائیوں اور خاص طور پر گزشتہ برسوں میں ہم دیکھتے رہے ہیں۔

راول پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اختلاف رائے دیگر وجوہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے جیسے مفادات کا تصادم لیکن اس کی کچھ وجوہات دوسری بھی ہو سکتی ہیں جیسے پیشہ ورانہ انداز فکر کی وجہ سے تجزیے میں اختلاف کا پیدا ہو جانا۔ اس قسم کی صورت حال میں قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اختلاف رائے کے باوجود سب کو ساتھ لے کر چلے۔

شہباز شریف کی قیادت میں حکومت قائم ہوئے دو برس ہوتے ہیں، اس عرصے میں داخلی اور خارجی معاملات میں بہت سے ایسے مراحل پیدا ہوئے جو طاقت کے ان تینوں مراکز کے راستے جدا کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کو عالمی منظر نامے میں جو توانائی میسر آئی ہے، اس کا راز یہی ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر جانتے ہیں لیکن اتنا کافی نہیں۔ ایسی صورت میں دیگر فریقوں کا تعاون اور خوش دلی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ تاریخ کے اس مشکل عہد میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلح افواج چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں حکومت کے ساتھ ہر قومی معاملے میں خوش دلی سے تعاون کر رہی ہے۔ یہ وطن عزیز کی خوش قسمتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے، اس کا راز بھی یہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تنہائی کا شکار کر دیا گیا تھا لیکن پی ڈی ایم کی حکومت نے ذمے داری سنبھالتے ہی اس مسئلے کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور چند ماہ کے عرصے میں ہی صورت حال بدل گئی۔ اس میں جہاں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی محنت کو دخل تھا، وہیں بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنے حصے کی خدمت انجام دی۔ پاکستان کو ملنے والی اہمیت کی ایک اور وجہ جنوب مشرقی ایشیا کے اندر اور افغانستان کے ساتھ امن کیلیے پاکستان کی سنجیدہ خواہش اور کوششیں ہیں۔

اس کے مقابلے میں بھارت اور اس کی سیاسی اور فوجی قیادت نے روگ یعنی کسی غنڈے کا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان نے اس کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ اس پر برتری بھی حاصل کی۔ اس موقع پر پاکستان چاہتا تو بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا لیکن اس مرحلے پر دوستوں اور خاص طور پر امریکا نے جنگ بندی کے لیے کہا تو پاکستان نے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ امن کے لیے مخلص کسی سنجیدہ طاقت کا طرز عمل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی یہی سنجیدگی ہے جس کی عالمی برادری نے قدر کی اور مشرق وسطی کے خوف ناک تنازعے میں پاکستان پر اعتماد کیا۔ دوسرے خلیج کے بحران میں بھارت کی طرح منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے امن کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ان تھک کوشش کی۔یہی اسباب ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی قیادت میں دنیا امن کی تلاش میں نکلی ہے۔

اسلام آباد میں ترکیہ، سعودیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی ہے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ساتھ حادثہ پیش آ جانے کے باوجود کانفرنس کو متاثر نہیں ہونے دیا پھر وہ زخمی حالت میں چین بھی روانہ ہو گئے۔

ایک عالمی بحران میں پاکستانی قیادت کا یہی احساس ذمے داری ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے اور ایران جیسا برادر ملک بھی جو اپنی تاریخ کی غیر معمولی آزمائش سے دوچار ہے۔ایران، امریکا اور سعودی عرب کا اعتماد پاکستان کو حاصل ہے۔ عالمی سیاست کا یہ غیر معمولی واقعہ ہے جو خطے میں امن کی خواہش کو توانا بنا رہا ہے۔ اس سفر میں چین کی شمولیت کے بعد ابھی کچھ اور ملک بھی اس قافلے میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے؟ بعض حلقوں نے ان دنوں یہ بے پر کی اڑائی کہ پاکستان کی امن کوششوں سے ایران نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان آنے سے انکار کیا ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس کی دوٹوک تردید کر کے اس پروپیگنڈے کا غبارہ پنکچر کر دیا ہے۔

پاکستان کی کوششیں جاری تھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کردی ۔یہ تقریر سن کر ایک بھولا بسرا شعر یاد آ گیا  ؎

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

خواجہ حیدر علی آتش کو بھی کسی ڈونلڈ ٹرمپ سے واسطہ پڑا ہو گا کہ وہ ایسا شعر کہنے پر مجبور ہوئے۔ اس تقریر سے پہلے لگتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یو ٹرن لے چکے اور جنگ کا کانٹ ڈان شروع ہو چکا۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد امریکی صدر کے مزاج میں جیسا ہوتا ہے، Premenstrual Syndrome جیسی کیفیت پیدا ہوئی اور انھوں نے ٹروتھ سوشل پر دھمکی دینی ضروری سمجھی کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے پتھر کے زمانے میں لوٹا دیا جائے گا۔ جنگ مخالف نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو دھمکی لگانی ضروری سمجھی۔

ان بیانات کے بعد ٹرمپ کی تقریر میں نیا کیا تھا؟ کیا یہ کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کا لینا دینا کچھ نہیں، ہاں کسی کو تیل کی ضرورت ہے تو وہ اس راستے کو کھلوا لے یا پھر ہم سے تیل خریدے۔ یہ بات بھی وہ پہلے کہہ چکے تھے۔کیا یہ کہ آئندہ دو تین ہفتوں تک ایران پر تابڑ توڑ حملے کیے جائیں گے۔ یہ دھمکی بھی وہ پہلے دے چکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ پھر تقریر کیوں کی؟

اس سوال کا جواب بھی امریکا سے آیا ہے۔ امریکی مذاکرات کاروں نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور امریکی خصوصی نمائندگان اسٹیو ویٹکوف اور جیراڈ کشنر نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور اسے آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا کے چند مطالبات پورے کیے جائیں۔اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ کانفرنس اور پاک چین بیجنگ اعلامیے کے بعد جنگ بندی کے ضمن میں جو پیش رفت ہوئی تھی، وہ جاری ہے لیکن اس طرح جنگ بندی میں امریکا ہزیمت محسوس کرتا ہے لہذا اسے کچھ فیس سیونگ دی جائے تا کہ انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کے لیے چاند میسر آ سکے۔

کیا پاکستان اور چین اور پاکستان اور چار ملکی اتحاد اور خود ایران اس کا اہتمام کریں گے؟ ثالث کیا کریں گے؟ یہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن ایران کا ایسا کوئی موڈ دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کیوں ایسے دشمن کو کوئی رعایت دے جو خود اپنے ہی جال میں پھنس چکا ہے۔ دشمن داری کا اصول بھی یہی ہے لیکن امن کی خواہش ہو تو کچھ اور بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ کچھ اور کیا ہے؟ آئندہ دو تین ہفتوں میں ہمیں یہی ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ جنگ اب بھی الٹی گنتی گن رہی ہے اور پاکستان نے جو امن مشن شروع کیا تھا، برگ و بار لا رہا ہے۔ان کامیابیوں کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسحاق ڈار کا سعودی وزیرخارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، کشیدگی میں کمی پر زور

Published

on



نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود نے خطےمیں امن و استحکام یقینی بنانے اور کشیدگی کی کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارت خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔

وزارت خارجہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور فیصل بن فرحان السعود نے امن اور استحکام یقینی بنانے اور  کشیدگی میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دیا اور  قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔



Source link

Continue Reading

Trending