Today News
پی ایس ایل11؛ صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری، پلیئر آف دی میچ قرار
پاکستان سپر لیگ 11 میں ملتان سلطانز کے صاحبزادہ فرحان کو ان کی شاندار سنچری کی بنیاد پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے پی ایس ایل کے 8ویں میچ میں ملتان سلطانز نے حیدرآباد کنگز مین کو شکست دے کر شاندار فتح اپنے نام کرلی جبکہ میچ کے ہیرو صاحبزادہ فرحان رہے جنہوں نے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی۔
صاحبزادہ فرحان نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 57 گیندوں پر ناقابلِ شکست 106 رنز اسکور کیے جس میں 7 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔
Sahibzada Farhan is named player of the match for his exceptional century.#HBLPSL11 | #NewEra | #MSvHK pic.twitter.com/7TbVkUJOgU
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 1, 2026
ابتدائی اوورز میں فرحان نے برق رفتاری سے رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی جبکہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
حیدرآباد کنگز مین کے بولرز بڑے ہدف کے باوجود ملتان کی بیٹنگ لائن کو روکنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹیم کو مسلسل تیسری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس فتح کے ساتھ ملتان سلطانز نے نہ صرف اہم پوائنٹس حاصل کیے بلکہ ایونٹ میں اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرلی جبکہ صاحبزادہ فرحان کی شاندار اننگز کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
Source link
Today News
بااختیار بلدیاتی نظام اور پیپلز پارٹی کا منشور
نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی ادارے شہروں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی نظام کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔ جب 1988 میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو بے نظیر بھٹو کی خصوصی دلچسپی کی بناء پر منشور کو تحریری طور پر شائع کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے 1988 کے انتخابات کے موقع پر جاری ہونے والے منشور میں بااختیار بلدیات کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس منشور کے حصہ دوئم کے باب پانچ میں تحریر کیا گیا کہ ’’پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی اداروں کے دائرہ کار میں اضافہ کرکے ان کی سائنسی بنیادوں پر تنظیم نو کی جائے گی تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہوجائے۔‘‘پیپلز پارٹی کے بانی و سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین میں بلدیاتی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شق 140-A شامل کی، مگر اس ملک کی بڑی بدقسمتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
جب میاں شہباز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری نے کامران ٹیسوری کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ کامران ٹیسوری اسی وقت ایم کیو ایم میں شامل ہوئے تھے۔ انھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے تھے۔ گورنر ہاؤس میں نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کے کورسز شروع کیے گئے جس سے بلاتفریق نسل و مذہب لاکھوں نوجوانوں نے استفادہ کیا۔
کامران ٹیسوری نے کراچی کو صوبہ بنانے کا ایجنڈا سنبھال لیا۔ ان کی سرگرمیوں اور بیانات سے لسانی رنگ زیادہ جھلکنے لگا۔ اگرچہ صدر آصف زرداری کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے گورنر صاحبان بھی سیاسی بیانات دیتے ہیںمگر کامران ٹیسوری ریڈ لائن عبور کرگئے جس کی بناء پر وہ قوتیں جنھوں نے کامران ٹیسوری کے لیے گورنر ہاؤس جانے کا راستہ ہموار کیا تھا شاید ان سے مایوس ہوگئیں، یوں کامران ٹیسوری سندھ کے پہلے گورنر ہیں جو برطرف ہوئے۔ ایم کیو ایم جس کا ماضی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے اس طرح کے فیصلے پر یہ جماعت آسمان سر پر اٹھا لیتی تھی اور کراچی اور حیدرآباد میں زندگی معطل ہوجاتی تھی لیکن اس بار یہ جماعت اپنے گورنر کی برطرفی کا صدمہ خاموشی سے برداشت کرگئی۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ ایم کیو ایم کی قیادت میں شامل تمام رہنماؤں نے اس بار ے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کسی ٹی وی چینل سے یہ خبر نشر ہوئی کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف جو ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کی بناء پر مسلسل بیرون ملک کے دوروں پر رہے مگر وزیر اعظم جب گزشتہ ہفتے کراچی آئے تو ایم کیو ایم کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی مگر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس ملاقات میں اپنے گورنر کی برطرفی کا ذکر کرنے کے بجائے آئین میں 28ویں ترمیم کرنے پر زور دیا۔ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کراچی آئے۔ محسن نقوی نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدر آصف زرداری سے ملاقات کا راستہ نکالا، یوں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کراچی میں صدر زرداری سے ملاقات ہوگئی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے اس ملاقات کی تفصیلات تو ظاہر نہیں کیں مگر یہ مختصر خبر اخبارات کی زینت بنی کہ صدر زرداری جو بالحاظ عہدہ وفاقی یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ان سے اس تناظر میں ملاقات کی اور کراچی میں کچھ وفاقی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کے قیام پر بات چیت کی تھی۔
ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے عیدالفطر کی تعطیلات کے خاتمے پر کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی کے سندھ کے طرزِ حکومت کے ماڈل پر سخت اعتراضات ہیں۔ پھر بھی ایم کیو ایم ایک مضبوط اور مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ علی خورشیدی نے صحافیوں کے سامنے اپنا بیانیہ یوں ترتیب دیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل بااختیار اور نچلی سطح تک اختیار کے بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے بات چیت کرنی چاہیے، انھوں نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی مگر اس بات کی وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آئین کی شق 140-A میں ترمیم کرنا ہے۔
علی خورشیدی نے کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کی زبوں حالی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میں روزانہ خوف ناک حادثات رونما ہورہے ہیں۔ پانی کے ٹینکر اور سامان لے جانے والے ٹرالر موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیتے ہیں۔ سندھ حکومت نے تین ماہ قبل ای چالان کی مہم شروع کی تھی اور شہر کی اہم شاہراہوں پر کیمرے نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ کیا گیا مگر گزشتہ مہینے کے ٹریفک کے حادثات کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے نظام کے نفاذ سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکی۔ علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ جب تک ان حادثات کی حقیقی وجوہات کا خاتمہ نہیں ہوگا، شہر میں ٹریفک کے حادثات کی شرح کم نہیں ہوگی۔
سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل میمن نے فوری طور پر ایم کیو ایم کی مذاکرات کی مشروط پیشکش پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا مگر سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے کہاکہ ایم کیو ایم بااختیار اور نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کا نعرہ کراچی صوبہ کے لیے لگا رہی ہے۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں ایک سپر بلدیہ کراچی جس کے دائرہ کار میں کنٹونمنٹ بورڈ، ہاؤسنگ اتھارٹیز، ہوائی اڈے اور کراچی پورٹ وغیرہ شامل ہوں، سول سوسائٹی کا متفقہ مطالبہ ہے۔ ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کراچی کی اکثریت ان کی جماعت کی حامی ہے، یہی وجہ کراچی کے میئر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔
اگر ایم کیو ایم کے تجویز کردہ مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے بعد پیپلز پارٹی اپنا میئر کامیاب کراتی ہے تو پھر شہر کی ترقی کا عمل تو بہتر ہوگا ہی مگر کراچی کو صوبہ بنانے کا معاملہ بھی پس پشت چلا جائے گا۔ ایک اور محقق ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی نے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ 10 دن قبل کراچی میں صرف 20 سے 30 منٹ یا اس سے بھی کم دورانیہ کی زبردست آندھی آئی اور چند گھنٹے موسلا دھار بارش ہوئی مگر اس مختصر ترین دورانیہ میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈاکٹر عثمانی کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کراچی کے انفرااسٹرکچر کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا تو کسی قدرتی آفت میں کتنا نقصان ہوگا اس کا اندازہ ان ہلاکتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ لیاری کے ایک کارکن اقبال عمیر خان سوشل میڈیا پر لیاری میں ہونے والی بارشوں کے درمیان تباہی پر مسلسل ماتم کررہے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پر کہا کہ تہران پر امریکا کی مسلسل بمباریوں سے وہاں اتنی تباہی نہیں ہوئی ہوگی جتنی تباہی عید کے موقع پر ہونے والی بارش کے نتیجہ میں لیاری کی سڑکوں کی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ گیس کمپنی نے سڑکوں کی مرمت کے لیے لیاری ٹاؤن کو 150 کروڑ روپے دیے ہیں مگر یہ رقم اب تک خرچ نہیں ہوسکی، آندھی کے ساتھ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی۔ یہ آندھی رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں آئی تھی۔ کچھ علاقوں میں 6بجے بجلی بحال ہوئی۔ کچھ علاقوں میں دوسرے دن شام تک بجلی کی سپلائی بحال ہوسکی۔ بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی معطل رہی۔ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے مچھروں کی نئی فوج پیدا ہوئی۔
پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچے براہِ راست متاثر ہوئے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں لندن، نیویارک، واشنگٹن، بمبئی اور کلکتہ وغیرہ کا نظام بااختیار بلدیاتی نظام کا مرہونِ منت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں وزیر اعظم کے بعد سب سے بااختیار شخص لندن میئر ہوتا ہے۔ ظہران ممدانی کے نیویارک کا میئر منتخب ہونے اور صدر ٹرمپ کی مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک کا میئر کتنا بااختیار ہے۔ پیپلز پارٹی کے اکابرین کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے تیار کردہ 1988 کے انتخابی منشور کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔
Today News
پاکستان چین مذاکرات اور امن کی امید
چین اور پاکستان نے امریکا اور ایران سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے فوری خاتمے اور جلد از جلد امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، دونوں ممالک نے ایران کی صورتحال پراسٹرٹیجک رابطے اور ہم آہنگی مضبوط بنانے اورامن کی وکالت کے لیے نئی کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بیجنگ میں چینی ہم منصب سے مذاکرات کیے، دونوں ممالک نے مشرق وسطی میں امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کا خواہاں ہے تاہم انھیں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں درکار ہیں، یورپی کونسل کے صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں تہران کے اہم مطالبے کو دہراتے ہوئے پزشکیان نے کہا ہم اس تنازع کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، بشرطیکہ بنیادی شرائط پوری کی جائیں بالخصوص جارحیت دوبارہ روکنے کے لیے مطلوبہ ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کے اثرات سفارتی، عسکری، معاشی اور انسانی سطحوں پر بیک وقت محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال میں چین اور پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات کی اپیل محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک جامع اور دور رس سفارتی حکمت عملی کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کو اب تصادم کے بجائے مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔چین اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی منصوبہ دراصل اسی تاریخی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، آبی گزرگاہوں کا تحفظ، اہم تنصیبات کی حفاظت اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال سے گریز جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ نکات بظاہر سادہ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت ایک جامع امن فریم ورک کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی سلامتی کا معاملہ انتہائی حساس ہے، کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی عدم استحکام کا شکار بنا دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، وہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جب کہ توانائی کے شعبے میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں کمی اور دیگر اقسام کے تیل میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ ابھی تک کسی واضح سمت کا تعین نہیں کر سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں آنے والی عارضی بہتری بھی اسی امید سے جڑی ہوئی ہے کہ شاید یہ بحران جلد ختم ہو جائے، تاہم یہ امید ابھی تک غیر یقینی کے سائے میں ہے۔
عالمی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحران صرف ایران اور امریکا کے درمیان ایک محدود تنازع نہیں بلکہ ایک بڑی جیو پولیٹیکل کشمکش کا حصہ ہے۔ امریکا اپنی عالمی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جب کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ روس بھی اس کھیل کا ایک اہم کھلاڑی ہے جو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن چکا ہے۔
امریکی قیادت کے بیانات اس بحران کی پیچیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، جب کہ دوسری طرف یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس طرح کے متضاد بیانات نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں، اگر واقعی مقصد صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ ہے تو پھر اس کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ عسکری اقدامات عارضی کامیابی تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ ایک حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔ کوئی بھی ملک اس بات کو یقینی بنائے بغیر ہتھیار نہیں ڈال سکتا کہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت محفوظ رہے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی سفارت کاری کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور ایک ایسا معاہدہ ترتیب دینا ہوگا جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
پاکستان کا کردار اس پورے بحران میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک خود اقتصادی مشکلات کا شکار ہے، اس نے نہ صرف سفارتی میدان میں سرگرمی دکھائی بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات، مشترکہ سرحد اور ثقافتی ہم آہنگی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اسے ایک متوازن کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
معاشی اثرات کے حوالے سے یہ بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل کو بڑھاتا ہے بلکہ مہنگائی کو بھی ہوا دیتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام پر بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں خلل بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔عالمی مالیاتی منڈیوں میں آنے والی تیزی بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ سرمایہ کار امن کی کسی بھی خبر کو فوری طور پر مثبت انداز میں لیتے ہیں، مگر اگر صورتحال دوبارہ بگڑ جائے تو یہی مارکیٹس تیزی سے منفی رجحان اختیار کر سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عارضی بہتری کو مستقل استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
خلیجی ریاستوں اور دیگر علاقائی قوتوں کا کردار بھی اس بحران میں اہم ہے۔ یہ ممالک ایک طرف اپنی سلامتی کے حوالے سے فکر مند ہیں تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک نازک توازن ہے، جسے برقرار رکھنا آسان نہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک بھی اس بحران کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ان کی معیشت اور سلامتی پر پڑتے ہیں۔انسانی پہلو اس تنازع کا سب سے دردناک رخ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں، جس سے ایک طویل المدتی انسانی بحران جنم لیتا ہے۔ ایسے میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
مستقبل کے حوالے سے مختلف امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں، جو نہ صرف موجودہ بحران کو ختم کرے بلکہ مستقبل کے تنازعات کو بھی روکنے میں مدد دے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کشیدگی کم تو ہو جائے مگر مکمل طور پر ختم نہ ہو، جس سے ایک مسلسل غیر یقینی صورتحال برقرار رہے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔ یہ وقت عالمی قیادت کے لیے ایک امتحان ہے۔ فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ دانشمندی، صبر اور دور اندیشی کے ساتھ کرنے ہوں گے۔
چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششیں ایک مثبت قدم ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں کس حد تک ان کا ساتھ دیتی ہیں۔دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا چاہتی ہے یا ایک نئے راستے کا انتخاب کرنا چاہتی ہے۔
جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے، جب کہ امن ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اگر اس موقع پر درست فیصلے کیے گئے تو یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک طویل اور تباہ کن دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا موڑا جا سکتا ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے، اگر دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تو نہ صرف یہ بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور پرامن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
Today News
کراچی؛ سپر ہائی وے پر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ ناکام، 2 خواتین سمیت 4 ملزمان گرفتار
پولیس نے سپر ہائی وے پر خواتین کو ڈھال بنا کر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ نام بنا کر 2 خواتین سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ، ملزمان سوزوکی پک اپ میں گٹکا اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے۔
اس حوالے سے ڈی ایس پی سہراب گوٹھ اورنگزیب خٹک اور ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے چوہدری نواز نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر ایک سوزوکی پک اپ کو روکا جس کے عقب میں 2 خواتین سوار تھیں جس میں سے ایک مریض بن کر پک اپ میں بچھائے گئے بستر پر لیٹی ہوئی تھی جس کے نیچے بڑی تعداد میں انڈین گٹکا چھپایا ہوا تھا۔
ملزمان حب چوکی سے لایا جانے والا انڈین گٹکا براستہ ناردرن بائی سے اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے ، پولیس نے انڈین گٹکا اسمگلنگ کرنے میں ملوث سوزوکی پک میں سوار 2 خواتین صالحہ اور سلمیٰ کو دیگر 2 ساتھیوں عمران اور شمن علی سمیت گرفتار کر کے مجموعی طور پر 390 پیکٹ انڈین گٹکا اور تیار گٹکا ماوا برآمد کر کے اسمگلنگ میں استعمال کی جانے والی سوزوکی پک اپ کو بھی قبضے میں لیکر مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے ۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper