Connect with us

Today News

پی ایس ایل11؛ 20 میچز مکمل، پوائنٹس ٹیبل پر کونسی ٹیم کس پوزیشن پر ہے؟

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 میں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلے جاری ہیں اور ابتدائی مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل نے واضح شکل اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے 20 میچز مکمل ہو چکے ہیں جن میں سے شروع کے 14 میچز لاہور میں کھیلے گئے جبکہ باقی میچز کراچی میں کھیلے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین پوائنٹس ٹیبل کے مطابق پشاور زلمی سرفہرست ہے جس نے اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 میچز میں 4 فتوحات حاصل کیں اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا، اس وقت پشاور زلمی 9 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔

ملتان سلطانز بھی 5 میچز میں 4 کامیابیوں کے ساتھ 8 پوائنٹس لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہیں کیونکہ ایک میچ میں سلطانز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ 7 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

کراچی کنگز نے 5 میچز میں 3 فتوحات حاصل کر کے 6 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی پوزیشن سنبھال رکھی ہے، جب کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز 4،4 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں۔

پوائنٹس ٹیبل کے نچلے حصے میں حیدرآباد کنگز اپنی پہلی فتح کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے جبکہ ٹیم راولپنڈیز تاحال کوئی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور بغیر کسی پوائنٹ کے آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 میں اس بار 8 ٹیمیں شریک ہیں اور ٹورنامنٹ 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جا رہا ہے جبکہ ٹاپ 4 ٹیمیں پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران اور اسکی پراکسیز کیخلاف ہماری فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے؛ اسرائیل

Published

on


اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کے خلاف ہماری فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے عوام سے خطاب میں کیا۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اسرائیل کی کارروائیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔

نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تاریخی نتائج حاصل کیے ہیں، ایرانی قیادت کو ختم کیا، فوجی طاقت تباہ کی لیکن یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو یا تو کسی معاہدے کے ذریعے ختم کیا جائے گا یا پھر دیگر طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی کے لیے بے چین ہے اور اس کی حکومت کمزور ہو چکی ہے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

نیتن یاہو نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی منظوری دے دی ہے جو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں متوقع ہیں۔

تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو دور رس ہونا چاہیئے جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا سب سے اوّل ایجنڈا ہوگا۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں جاری ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ جھوٹا ہے؛ ایرانی فوج

Published

on


ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔

ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

یاد رہے کہ چند گھنٹوں قبل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کے مشن کو شروع کرنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بھی اتفاق ہوا تھا لیکن اب بھی کئی بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے سے قاصر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں کے علاوہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں کا خطرہ بھی ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

نزار آمیدی عراق کے نئے صدر منتخب

Published

on



عراق کی پارلیمنٹ نے پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے نزار آمیدی کو ملک کا چھٹا صدر منتخب کرلیا۔

خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے امیدوار نزار آمیدی نے عراقی پارلیمنٹ میں 249 میں سے 227 ووٹ لے کر صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی اور 2003 سے شروع ہونے والے حکومتی نظام میں ملک کے چھٹے صدر منتخب ہوگئے۔

عراق کے سابق صدر عبداللطیف راشد کی سبکدوشی کے بعد منتخب ہونے والے نئے صدر نزار آمیدی نے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی تھی، صدارتی انتخاب کے لیے عراقی پارلیمنٹ میں پہلا مرحلہ 29 دسمبر کو منعقد ہوا تھا۔

نزار آمیدی نے رن آف الیکشن میں مخالف امیدوار مثنا امین پر 15 ووٹ کی برتری سے کامیابی سمیٹ لی اور 7 ووٹ مسترد قرار دیے گئے، پہلے مرحلے میں پارلیمنٹ کے 329 میں سے 252 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔

پارلیمنٹ میں کامیابی کے اعلان کے بعد نئے صدر کو آئینی حلف اٹھانے کے لیے دعوت دی گئی۔

عراقی آئین کے تحت صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے لیے دو تہائی اکثریت (329 میں سے 220) درکار ہوتی ہے، مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کی صورت میں انتخاب دوسرے مرحلے میں چلا جاتا ہے جہاں 165 ووٹ درکار ہوتےہیں۔

دوسرے مرحلے میں دو امیدواروں کے درمیان اکثریت کی بنیاد مقابلہ ہوا اور سادہ اکثریت کی بنیاد پر کامیابی کا اعلان کیا گیا۔

یاد رہے کہ عراق کی پارلیمنٹ نے مرکزی کردش پارٹی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) اور پی یو کے کے درمیان صدارتی امیدوار کے حوالے سے عدم اتفاق کے باعث رواں برس فروری میں دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب ملتوی کردیا تھا۔

سیاسی جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ نظام کے تحت صدارت کرد امیدواروں کے لیے ریزرو ہے اور اس کے لیے کے ڈی پی اور پی یوکے کا مقابلہ تھا۔

آئین کے مطابق پارلیمنٹ کی بڑی جماعت کے نامزد صدر انتخاب کے دن کے بعد 15 روز کے اندر وزرا کی کونسل تشکیل دے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending