Today News
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو متنازع ٹوئٹ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حیدر سعید کے خلاف متنازع ٹوئٹ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے حیدر سعید کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حیدر سعید کے خلاف مقدمہ آج ہی درج کیا گیا ہے، جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور احتجاج کے حوالے سے کیے گئے ٹویٹ پر قائم کیا گیا ہے۔
Today News
کیا سلمان علی آغا کپتان نہیں رہیں گے؟بڑی پیشگوئی سامنے آگئی
سابق کرکٹر محمد عامر نے پیشگوئی کی ہے کہ سلمان علی آغا ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد کپتان نہیں رہیں گے۔
گزشتہ روز انگلینڈ سے شکست کے بعد سابق کرکٹر محمد عامر نے ایک پروگرام میں پیشگوئی کی ہے کہ سمان علی آغا کی کپتانی جانے والی ہے۔
میزبان کے سوال کے جواب میں محمد عامر نے کہا کہ میرے خیال میں سلمان علی آغا اس ورلڈ کپ کے بعد ٹی 20 کے کپتان نہیں رہیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری نظر میں اس وقت کوئی اور اس کا حقدار بھی نہیں ہے، جیسا کہ حالات ہیں مجھے اس وقت کوئی مناسب متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔
سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے یہ ٹی 20 ورلڈ کپ آخری ہوگا۔پروگرام میں راشد لطیف نے کہا کہ بابر اعظم اب چھوٹے فارمیٹ کے کھلاڑی نہیں رہے ہیں، انہیں اسٹرائیک ریٹ کم ہونے پر ڈراپ کرنے کے چھ ماہ بعد واپس کیوں بلایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ نے پہلے کہا تھا کہ بابر کا اسٹرائیک ریٹ بہتر ہوگا تو واپسی ہوگی، اس میں کہاں بہتری آئی اور اسے واپس کیوں لائے؟
سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ جو بیٹر 20 سے 25 گیندیں کھیل کر اتنے ہی رن بناتا ہے تو دوسرے آنے والے بیٹر کو ہائی رسک اسٹروک کھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔
Today News
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری بھرپور مہم کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تیز رفتار اور مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 34 دہشت گرد جہنم واصل کردئے، کاروائیوں کا ہدف بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان تھے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے، 24 فروری کو خیبر پختونخوا میں چار علیحدہ کارروائی میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 26 خارجی ہلاک کیے گئے۔
بیان کے مطابق جبکہ بلوچستان کے علاقے سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی سے وابستہ 8 دہشت گرد مارے گئے، شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل کے بالمقابل پاک–افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خارجیوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت پکڑ لی، مؤثر کارروائی میں ایک خارجی ہلاک ہوا،خارجی کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لکی مروت میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 خارجی ہلاک کیے گئے، اسی دوران بنوں کے علاقے نرمی خیل میں دو علیحدہ جھڑپوں میں 10 خارجی مارے گئے، جبکہ میر علی، شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 12 خارجی ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقوں میں کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جبکہ قومی ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” وژن کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
Today News
ڈاکٹر جب بھی نئی دوا تجویز کریں، آپ سوال پوچھیں
ہم جسے ’ثبوت‘ سمجھتے ہیں، وہ کبھی کبھی منتخب سچ بھی ہو سکتا ہے۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ ڈاکٹر کوئی دوا تجویز کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں کہ یہ ’ثبوت پر مبنی‘ ہے۔ یعنی سائنسی ٹرائلز سے ثابت شدہ ہے کہ یہ دوا موثر اور محفوظ ہے۔ لیکن کئی آزاد تحقیق، مشہور جرنلز اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام اب بہت حد تک مخدوش ہوچکا ہے۔
بڑی ادویہ ساز کمپنیاں پیسہ دے کر تحقیق، سائنسی رسالوں اور ڈاکٹروں کو اپنے کنٹرول میں رکھ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مریضوں کو ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو درحقیقت زیادہ موثر نہیں ہوتیں یا نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔ ایک بڑی مثال افسردگی کی ادویات (ڈپریشن کی گولیوں) کی ہے۔
2008 میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق میں بتایا گیا کہ 74 ٹرائلز میں سے، جنہیں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے مثبت سمجھا تھا ان میں سے تقریباً سب ٹرائلز کی رپورٹس شائع ہوئیں۔ لیکن منفی یا مشکوک رزلٹس والے ٹرائلز کی رپورٹس زیادہ تر چھپا دی گئیں۔ نتیجہ؟
شائع شدہ مقالوں سے لگتا تھا کہ 94 فیصد ٹرائلز مثبت ہیں جبکہ حقیقت میں صرف 51 فیصد مثبت تھے۔ اس طرح ان ادویات کی اثر انگیزی 32 فیصد زیادہ دکھائی گئی۔ 2022 میں اسی تحقیق کی اپ ڈیٹ میں بھی بتایا گیا کہ یہ تعصب اگرچہ تھوڑا کم ہوگیا ہے لیکن اب بھی موجود ہے۔
ایک اور بڑی تحقیق (2003 ۔ بی ایم جے) نے دیکھا کہ جب دوا کی کمپنی خود ٹرائل کرتی ہے تو مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ 2023 کی ایک حالیہ اسٹڈی میں دنیا کے سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لیا گیا تو 89 فیصد انڈسٹری فنڈڈ ٹرائلز کمپنی کے حق میں نکلے۔
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ دنیا میں ٹرائل رجسٹریشن لازمی ہونے سے پہلے (2000 سے پہلے) مثبت نتائج 57 فیصد آتے تھے۔ جب رجسٹریشن لازمی ہوئی تو یہ صرف 8 فیصد رہ گئے۔ یعنی پہلے منفی نتائج آسانی سے آنکھوں سے اوجھل رکھے جاتے تھے۔ اب سائنسی جرنلز (رسالوں) کا حال دیکھیے۔
لانسٹ جرنل کی 41 فیصد آمدنی ادویاتی کمپنیوں سے آرٹیکلز کے ری پرنٹس (دوبارہ چھاپنے) سے آتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن اور امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی بھی بڑی آمدنی اسی سے ہے۔ یعنی جو آرٹیکل کمپنی کے حق میں ہو وہ زیادہ پیسہ دے کر اسے شائع کروا لیتی ہے۔ جرنل کے ایڈیٹرز بھی اس میں شامل ہیں۔ 2017 کی ایک تحقیق میں 52 بڑے جرنلز کے 50.6 فیصد ایڈیٹرز کو دوائی کمپنیوں سے پیسہ ملا۔
حالیہ اسٹڈیز میں وہ لوگ جو آرٹیکلز چیک کرتے ہیں (پیئر ریویورز)، ان میں سے بھی 59 فیصد سے زیادہ کو انڈسٹری سے لاکھوں ڈالر مل چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا ادویاتی انڈسٹری تعلق بھی عام ہے۔ تقریباً 94 فیصد ڈاکٹروں کا دوائی کمپنیوں سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے، کانفرنسز، فیس یا تحائف کی شکل میں۔ اس مسئلے کو خود جرنلز کے سابق ایڈیٹرز نے بھی تسلیم کیا ہے۔
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی سابق ایڈیٹر ڈاکٹر مارسیا اینجل کا کہنا ہے کہ ’’اب کلینیکل ریسرچ پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ لانسٹ کے ایڈیٹر رچرڈ ہارٹن نے 2015 میں لکھا کہ ’’سائنسی ادب کا شاید آدھا حصہ جھوٹا ہے۔‘‘
اب تک یہ واضح ہے کہ ثبوت پر مبنی ادویات کا نظام جب تک آزاد اور شفاف نہیں ہوتا ہمیں اس پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ عام آدمی کے لیے کیا لکھوں، بس اگلی بار جب ڈاکٹر کوئی نئی مہنگی دوا لکھیں تو پوچھیں کہ یہ کس آزاد تحقیق پر مبنی ہے۔
دوسری رائے ضرور لیں۔ اپنی صحت کا بہترین خیال خود رکھیں۔ متوازن کھانا، روزانہ ورزش، تناؤ کم کرنا اور سگریٹ، شراب سے پرہیز۔ یہ پرانی چیزیں اب بھی سب سے محفوظ اور موثر ہیں۔ آخری لائن یاد رکھیے جب منافع اور مریض روبرو ہوں تو احتیاط لازمی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch