Today News
چشم نَم سے آپ کو کہتے ہیں الوداع ۔۔۔۔۔!
رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں، ہم بھی دیدہ و دل فرش راہ ہوتے ہیں لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ رب تعالی کا یہ مہینا تو واقعی مہمان تھا، آیا اور پھر کس تیزی سے گزر گیا اور پھر ہم پھر سے ایک ناقابل بیان کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ کھو سا گیا ہے، وہ ماہ مبین آیا، اس نے ہمیں سرشار کیا اور دبے پاؤں رخصت بھی ہوگیا، الوداع۔۔۔۔۔۔۔!
رمضان کی آخری چند گھڑیاں ہی باقی ہیں جو ہمیں اپنے محاسبے اور جائزے کے لیے ملے ہیں۔
رمضان المبارک ہمارے گناہوں کو جلا ڈالتا اور ہمیں نئے سرے سے زندگی و توانائی دینے آتا ہے، تو کیا ہم اس میں کام یاب ہوئے۔۔۔ ؟
روزے کا اجر صرف رب تعالی کو معلوم ہے اور یہ بھی کہ ہمارے روزے قبول ہوئے کہ خدا نہ خواستہ ہم صرف بھوکے پیاسے رہ کر محروم ہوجانے والوں میں تو نہیں۔
آئیے! اس امید کے ساتھ کہ اﷲ تعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا اور ان سے درگزر کرتا ہے، اپنا احتساب و جائزہ لیں لیکن کیا جائزہ لیا جائے۔۔۔۔ ؟
اگر چند جملوں میں روزے کا مقصد سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ روزہ قُرب الہی کا ذریعہ ہے تو کیا ہم اﷲ کے قریب ہونے میں کام یاب ہوئے۔۔۔؟ اﷲ کے قُریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس تسبیح کے دانے گرتے رہیں، تلاوت جاری رہے، سجدوں سے پیشانی سیاہ ہوجائے، یہ سب تو قرب الہی کے ذرائع ہیں اور ان اعمال کا بجا لانا ازحد ضروری ہے، قُرب کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اﷲ کی محبّت میں اپنے نفس کی خواہشات کو مار ڈالا ہے۔۔ ؟ اگر ہماری خواہشات اﷲ کے حکم سے ٹکراتی ہیں تو ہم نے رب کی محبت میں اسے قربان کرنا سیکھا یا نہیں ؟ اور سب سے اہم یہ کہ یہ محبت چند روزہ ہے یا دائمی ؟ رمضان ختم ہوتے ہی کہیں ہم دوبارہ تو ان امور میں مبتلا تو نہیں ہوجائیں گے جس سے رب نے منع کیا ہے۔
رمضان میں تو اﷲ تعالی حلال کاموں پر بھی پابندی لگاتے ہیں، لوگ رک جاتے ہیں لیکن جو ممنوعات ہیں ان میں پورا سال مبتلا رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ شریعت میں تو یہ ویسے ہی منع ہیں۔ تو اپنا جائزہ لیں کہ ہم خود کو روک پائے ہیں کہ نہیں؟ روزہ محنت کی عادت ڈالتا ہے تو کیا ہم نے آرام طلبی کو اپنی زندگی سے نکالا ؟ ہم نے محنت و مشقت کرنا سیکھا ؟ روزہ ہم دردی ایثار پیدا کرتا ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر یہ صفات پیدا ہوئیں؟ روزہ برائیوں سے روکتا ہے تو کیا ہم رک گئے، آنکھ کان زبان کے گناہ سے خود کو بچا پا رہے ہیں ؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوئے تو ہمارے لیے مقام شکر ہے کہ اﷲ نے ہمیں توفیق دی اور شُکر کے نوافل و سجدے ادا کریں کہ شُکر اجر کو بڑھاتا ہے اور اگر ان مقاصد کے حصول میں کمی رہی، سستی و کاہلی دکھائی ہے جو کام اﷲ کو ناپسند ہیں وہ نہیں چھوڑے ہیں تو اب بھی وقت ہے یہ چند گھڑیاں بھی سچے دل سے مانگنے والوں کے لیے نعمت عظمی ہیں، سچے دل سے توبہ کی جائے اﷲ کی مدد و مغفرت طلب کی جائے، رحم مانگا جائے کہ ہمارا عمل تو نہیں اس قابل آپ دینے و عطا کرنے والے ہیں ہمیں خوش نصیبوں میں شامل فرما لیجیے۔
رمضان المبارک برکتیں لایا تھا تو جائزہ لیجیے اپنا کہ ہم نے ایسا کیا کچھ کِیا ہے جو بارگاہ الہی میں قبول ہو ؟ کہیں ہماری عبادت جھوٹ، دھوکا دہی، بددیانتی، دکھاوے و نمود و نمائش سے آلودہ تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہ ہے تو اترائیے بھی نہیں کہ یہ بھی بس توفیق الہی کے بنا ناممکن تھا، بس شکر کیجیے اور شُکر بھی خوف کے ساتھ کہ کہیں نیّت میں کوئی کھوٹ تو نہ تھی کہ رب کو ریا کاری و خودنمائی قبول نہیں۔ اب کمر کس لیجیے، جسمانی و مالی کسی عبادت سے نہ رکیے، ہاتھ تنگ کیجیے نہ دل کہ رب کو یہی مقصود ہے۔
Today News
صدقۂ فطر کی فضیلت – ایکسپریس اردو
صدقۂ فطر ادا کرنے سے جہاں ایک شرعی حکم کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے وہاں اس کے کئی اور فائدے بھی ہیں، جیسے صدقۂ فطر روزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔
روزے کی حالت میں جو فضول یا بیہودہ باتیں زبان سے نکلتی ہیں اس فطرانے کی ادائی سے روزے ان چیزوں سے پاک ہوکر اﷲ تعالی کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہوجاتے ہیں کہ ان کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اسی طرح صدقۂ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہوجاتا ہے اور عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔ اس کی ادائی سے اﷲ تعالیٰ مال اور رزق میں برکت اور کام یابی عطا فرماتے ہیں۔ اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اگر مسئلہ کی رُو سے کسی پر صدقۂ فطر واجب نہ بھی ہو تو اسے بھی صدقۂ فطر کے ٖفضائل اور فوائد کو سامنے رکھ کر ادا کرلینا چاہیے۔
صدقہ فطر کس پر واجب ہے اور کن افراد کی طرف سے واجب ہے۔۔۔ ؟
ہر وہ مسلمان جس کی ملکیت میں پانچ چیزوں (سونا، چاندی، نقد رقم، مال تجارت اور ضرورت سے زاید تمام اشیاء) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولا چاندی کی قیمت کے بہ قدر ہو جائے، خواہ اس نصاب پر پورا سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو، تو اس پر اپنی طرف سے اور زیر کفالت نابالغ بچوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اور ایسے شخص کے لیے جو اس مذکورہ نصاب کا مالک ہو زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں۔
٭ اگر باپ نہ ہو یا تنگ دست ہو تو دادا باپ کے قائم مقام ہوگا یعنی اس پر واجب ہوگا کہ اپنے نابالغ پوتے اور پوتیوں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے، اگر نابالغ پوتے اور پوتیاں مال دار نہ ہوں اور اگر وہ مال دار ہوں تو ان کے مال سے ادا کرے گا۔
٭ مرد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتے دار مثلا بیوی، بالغ اولاد، بہن، بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگرچہ یہ اس کے زیر کفالت ہوں مثلا چھوٹے بھائی، بہن وغیرہ، البتہ بالغ اولاد اور بیوی کا فطرانہ ان سے اجازت لیے بغیر ادا کر دیا تو ادا ہو جائے گا بہ شرطے کہ بالغ اولاد اس کے عیال میں ہو۔
٭ اگر عورت خود صاحب نصاب ہو (جو کہ عموماً زیورات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں) تو صدقۂ فطر کی ادائی کی خود ذمے دار ہے شوہر کے ذمے لازم نہیں، تاہم اگر شوہر بیوی کی طرف سے ادا کرے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا اور اگر عورت نصاب کی مالک نہیں تو اس پر صدقۂ فطر واجب نہیں۔
٭ اگر کوئی مقروض ہو تو ان پانچوں قسم کے مال کی قیمت لگائے پھر اس میں سے قرض کی رقم نکال کر دیکھے اگر بقیہ رقم مذکورہ نصاب کے برابر ہے تو صدقۂ فطر واجب ہوگا ورنہ واجب نہیں اور جو قرض دوسروں پر ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو اسے بھی نقد رقم میں شمار کیا جائے گا۔
٭ جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، صدقۂ فطر ان پر بھی واجب ہے اگر وہ صاحب نصاب ہیں۔
٭ جو بچہ عید کی رات صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقۂ فطر لازم ہے اور جو عید کی رات صبح صادق سے پہلے مرگیا تو اس کا صدقۂ فطر لازم نہیں۔
٭ ماں کے ذمے بچوں کا صدقۂ فطر لازم نہیں، خواہ ماں مال دار ہی کیوں نہ ہو۔
٭ صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت اگرچہ عید کے دن کا صبح صادق ہے لیکن اگر کوئی اس سے پہلے رمضان میں پیشگی دیدے تب بھی ادا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی نے نہ رمضان میں ادا کیا اور نہ عید کے دن تو بعد میں بھی اد ا کرنا ذمے میں واجب رہے گا معاف نہیں ہوگا خواہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے، عمر بھر یہ واجب اس کے ذمہ میں رہے گا اور عید کے دن سے تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ تاخیر ہونے پر استغفار کرنا چاہیے۔
صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہوگا اور ان کی واجب مقدار:
احادیث میں صدقۂ فطر وزن کے اعتبار سے چار اقسام کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک کشمش سے، دوسرے چھوارے سے، تیسرے جو سے اور چوتھے گندم سے۔ ان میں سے کسی بھی ایک چیز کو بعینہ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کو ادا کرنا درست ہے۔ گندم میں صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم (احتیاطاً دو کلو گندم) یا اس کی قیمت ہے اور جو، کشمش اور کھجور کے ان تینوں کے اعتبار سے ساڑھے تین کلو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت۔ مذکورہ چار اشیاء میں سے جس چیز کے ساتھ کوئی صدقۂ فطر اد اکرنا چاہتا ہے اور وہ چیز اعلی اور ادنی ہونے کے لحاظ سے مختلف مالیت کی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اعلی یا درمیانے درجے کی چیز یا اس کی قیمت کے اعتبار سے صدقۂ فطر ادا کرے لیکن اگر ادنی قسم کی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ (فتاوٰ ی محمودیہ)
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدقۂ فطر صرف گندم کے ساتھ خاص ہے۔ باقی تین چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا حالاں کہ جن لوگوں کو اﷲ تعالٰی نے وسعت اور توفیق دی ہے ان کو چاہیے کہ وہ ان چار چیزوں میں سے جو چیز مالیت کے اعتبار سے سب سے اعلی ہو اس کے ساتھ صدقہ فطر ادا کریں تاکہ غریب کی حاجت بھی پوری ہو اور اس کو خوب ثواب حاصل بھی ہو۔
٭ اگر کوئی شخص قیمت سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہتا ہے تو جہاں وہ شخص رہتا ہے وہیں کے اعتبار سے قیمت کا لحاظ ہوگا اور اگر وہ خود کسی اور جگہ رہتا ہے اور وہ کسی دوسری جگہ اس رقم کو بھیجنا چاہتا ہے اور دونوں جگہوں کی قیمت میں فرق ہے تو افضل یہ ہے کہ جس جگہ کی قیمت کا معیار زیادہ ہو اس لحاظ سے ادا کیا جائے اگرچہ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ وہ کسی بھی مقام کے اعتبار سے ادائی کر دے۔ (کمافی امداد الاحکام، فتاوٰی محمودیہ)
صدقۂ فطر کن لوگوں کو دیا جائے؟
صدقۂ فطر کو اس کے صحیح شرعی مصرف میں لگانا صدقۂ فطر ادا کرنے والے کی شرعی ذمے داری ہے۔ صدقۂ فطر صرف ان غریبوں کو دیا جاسکتا ہے جنہیں زکوٰۃ دینا درست ہو یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر سونا، چاندی، نقدی رقم، مال تجارت، اور ضرورت سے زیادہ سامان نہ ہو تو اسے صدقۂ فطر دیا جاسکتا ہے۔
٭ جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور اسی طرح جو اس کی اولاد ہیں جیسے بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ ان کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں، اسی طرح بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ باقی سب رشتہ داروں کو دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ مستحق ہوں۔
٭ ایک آدمی کا صدقۂ فطر کئی غریبوں کو اور کئی آدمیوں کا فطرانہ ایک غریب کو دینا جائز ہے۔
٭ مستحق غریب رشتے دار کو دینے کا دہرا ثواب ملتا ہے ایک صلۂ رحمی کا اور دوسرا ادائی کا۔
٭ زکوٰۃ اور دوسرے واجبات کی طرح اس صدقے کے ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی غریب کو مالکانہ طور پر دیا جائے۔
Today News
پانی کو ہتھیار بنانا انسانیت کے خلاف ہے، پاکستان کا عالمی فورم پر دو ٹوک مؤقف
اسلام آباد:
پاکستان نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، معاش اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے دیا
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری تہذیب، معاش اور ہمارے معاشی مستقبل پر حملہ ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان نے یہ خیالات عالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر کیے۔
یہ تقریب، جس کا موضوع “پانی اور صنفی مساوات” تھا، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی اور اس کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں تاجکستان کے مستقل مشن نے کیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ میزبانی کی۔
وفاقی وزیر نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم اپنے خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تنازعات کے گہرے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہمارے ہمسایہ ملک کا یکطرفہ طور پر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے جو تقریباً چھ دہائیوں سے قائم ہے کو معطل کرنا نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اس نوعیت کا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے لیے پانی فطرت ہے، پانی انسانیت ہے، پانی ہماری تہذیب ہے۔ ہمارے لیے پانی زراعت ہے۔ ہم ایک زرعی معاشرہ ہیں جو عملی طور پر پانی اور زراعت کے سنگم پر قائم ہے۔
انہوں نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں زراعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ قریباً نصف افرادی قوت اسی شعبے سے روزگار حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی مکمل طور پر زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کا مؤثر انتظام قومی بقا اور خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ خواتین کی مجموعی ملازمت کا 61 فیصد سے زائد حصہ زراعت سے منسلک ہے، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی بہتری کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں موسمیاتی آفات کے انسانی اور سماجی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی یا معذور ہوئے جبکہ تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔
ان میں تقریباً 2 کروڑ اسکول جانے والے بچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بچے کم از کم تین ماہ تک بے گھر رہیں تو اس کا مطلب تقریباً 1.8 ارب تعلیمی دنوں کا ضیاع ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی خواتین ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جب ہم پانی کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خواتین کے حقوق کی بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی پالیسی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی موسمیاتی حکمت عملیوں میں صنفی شمولیت اور مقامی سطح پر شرکت کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تازہ ترین قومی سطح پر متعین کردہ شراکتیں (NDC III) موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی میں خواتین کے کردار کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔
نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت “گرین ریولوشن” کے تحت متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں پانی کا مؤثر انتظام ایک کلیدی جزو ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کے لیے جدید خیالات اور کاروباری مواقع کو فروغ دے رہا ہے، خصوصاً زراعت، موسمیاتی مزاحمت اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ان اقدامات میں کم از کم 50 فیصد شرکت خواتین کی ہو۔
مزید برآں انہوں نے زراعت، پانی اور موسمیاتی امور پر مشترکہ تحقیقی فریم ورک کے قیام کا اعلان کیا، جسے گرین ورچوئل یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے اقوامِ متحدہ کی عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کا خیرمقدم کیا اور عالمی یومِ آب کی وسیع تر اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ دن محض پانی کا جشن نہیں بلکہ حقوق کی تجدید کا دن ہے—پانی کے حقوق، خواتین کے حقوق اور کمزور طبقات کے حقوق کا دن۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ آج ہم اپنی انسانیت، اپنی تہذیب اور سب سے بڑھ کر امن کی مشترکہ امید کا جشن منا رہے ہیں۔
Today News
جمعتہ الوداع، سندھ بھر میں ہائی الرٹ، سیکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت
کراچی:
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جمعتہ الوداع کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں اور بڑے اجتماعات کی سیکیورٹی کو ہر صورت فول پروف بنایا جائے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ نمازِ جمعہ کے اجتماعات کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے اور اضافی نفری کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے خاص طور پر حساس اضلاع میں خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کرنے، داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کرنے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی کہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے تاکہ آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک افراد یا اشیاء کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں، کیونکہ شہریوں کا تعاون سیکیورٹی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے جمعتہ الوداع کے تقدس کے پیش نظر علماء کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں رواداری، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport