Today News
ڈاکٹر جب بھی نئی دوا تجویز کریں، آپ سوال پوچھیں
ہم جسے ’ثبوت‘ سمجھتے ہیں، وہ کبھی کبھی منتخب سچ بھی ہو سکتا ہے۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ ڈاکٹر کوئی دوا تجویز کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں کہ یہ ’ثبوت پر مبنی‘ ہے۔ یعنی سائنسی ٹرائلز سے ثابت شدہ ہے کہ یہ دوا موثر اور محفوظ ہے۔ لیکن کئی آزاد تحقیق، مشہور جرنلز اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام اب بہت حد تک مخدوش ہوچکا ہے۔
بڑی ادویہ ساز کمپنیاں پیسہ دے کر تحقیق، سائنسی رسالوں اور ڈاکٹروں کو اپنے کنٹرول میں رکھ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مریضوں کو ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جو درحقیقت زیادہ موثر نہیں ہوتیں یا نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔ ایک بڑی مثال افسردگی کی ادویات (ڈپریشن کی گولیوں) کی ہے۔
2008 میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق میں بتایا گیا کہ 74 ٹرائلز میں سے، جنہیں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے مثبت سمجھا تھا ان میں سے تقریباً سب ٹرائلز کی رپورٹس شائع ہوئیں۔ لیکن منفی یا مشکوک رزلٹس والے ٹرائلز کی رپورٹس زیادہ تر چھپا دی گئیں۔ نتیجہ؟
شائع شدہ مقالوں سے لگتا تھا کہ 94 فیصد ٹرائلز مثبت ہیں جبکہ حقیقت میں صرف 51 فیصد مثبت تھے۔ اس طرح ان ادویات کی اثر انگیزی 32 فیصد زیادہ دکھائی گئی۔ 2022 میں اسی تحقیق کی اپ ڈیٹ میں بھی بتایا گیا کہ یہ تعصب اگرچہ تھوڑا کم ہوگیا ہے لیکن اب بھی موجود ہے۔
ایک اور بڑی تحقیق (2003 ۔ بی ایم جے) نے دیکھا کہ جب دوا کی کمپنی خود ٹرائل کرتی ہے تو مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ 2023 کی ایک حالیہ اسٹڈی میں دنیا کے سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لیا گیا تو 89 فیصد انڈسٹری فنڈڈ ٹرائلز کمپنی کے حق میں نکلے۔
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ دنیا میں ٹرائل رجسٹریشن لازمی ہونے سے پہلے (2000 سے پہلے) مثبت نتائج 57 فیصد آتے تھے۔ جب رجسٹریشن لازمی ہوئی تو یہ صرف 8 فیصد رہ گئے۔ یعنی پہلے منفی نتائج آسانی سے آنکھوں سے اوجھل رکھے جاتے تھے۔ اب سائنسی جرنلز (رسالوں) کا حال دیکھیے۔
لانسٹ جرنل کی 41 فیصد آمدنی ادویاتی کمپنیوں سے آرٹیکلز کے ری پرنٹس (دوبارہ چھاپنے) سے آتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن اور امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی بھی بڑی آمدنی اسی سے ہے۔ یعنی جو آرٹیکل کمپنی کے حق میں ہو وہ زیادہ پیسہ دے کر اسے شائع کروا لیتی ہے۔ جرنل کے ایڈیٹرز بھی اس میں شامل ہیں۔ 2017 کی ایک تحقیق میں 52 بڑے جرنلز کے 50.6 فیصد ایڈیٹرز کو دوائی کمپنیوں سے پیسہ ملا۔
حالیہ اسٹڈیز میں وہ لوگ جو آرٹیکلز چیک کرتے ہیں (پیئر ریویورز)، ان میں سے بھی 59 فیصد سے زیادہ کو انڈسٹری سے لاکھوں ڈالر مل چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا ادویاتی انڈسٹری تعلق بھی عام ہے۔ تقریباً 94 فیصد ڈاکٹروں کا دوائی کمپنیوں سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے، کانفرنسز، فیس یا تحائف کی شکل میں۔ اس مسئلے کو خود جرنلز کے سابق ایڈیٹرز نے بھی تسلیم کیا ہے۔
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی سابق ایڈیٹر ڈاکٹر مارسیا اینجل کا کہنا ہے کہ ’’اب کلینیکل ریسرچ پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ لانسٹ کے ایڈیٹر رچرڈ ہارٹن نے 2015 میں لکھا کہ ’’سائنسی ادب کا شاید آدھا حصہ جھوٹا ہے۔‘‘
اب تک یہ واضح ہے کہ ثبوت پر مبنی ادویات کا نظام جب تک آزاد اور شفاف نہیں ہوتا ہمیں اس پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ عام آدمی کے لیے کیا لکھوں، بس اگلی بار جب ڈاکٹر کوئی نئی مہنگی دوا لکھیں تو پوچھیں کہ یہ کس آزاد تحقیق پر مبنی ہے۔
دوسری رائے ضرور لیں۔ اپنی صحت کا بہترین خیال خود رکھیں۔ متوازن کھانا، روزانہ ورزش، تناؤ کم کرنا اور سگریٹ، شراب سے پرہیز۔ یہ پرانی چیزیں اب بھی سب سے محفوظ اور موثر ہیں۔ آخری لائن یاد رکھیے جب منافع اور مریض روبرو ہوں تو احتیاط لازمی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Source link
Today News
کراچی؛ یونیورسٹی روڈ کی صورتحال بدترین، گندے پانی اور گڑھوں میں حادثات معمول بن گئے
یونی ورسٹی روڈ کی صورت حال بدترین ہوگئی ہے جہاں گزشتہ چند برسوں سے زیرتعمیر ریڈ لائن کی وجہ بنے ہوئے گڑھے گندا پانی جمع ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لیے موت کے کنویں کا منظر پیش کر رہے ہیں اور حادثات معمول بن گئے ہیں۔
یونی ورسٹی روڈ پر ریڈ لائن کی تعمیرات گزشتہ ساڑھے چار سال سے جاری ہے اور منصوبے کی فوری تکمیل کے امکانات نہیں ہیں جبکہ ملیر ہالٹ سے نمائش چورنگی تک سڑک کی حالت بدترین ہوگئی ہے جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑھے ہوئے جس میں شہری گر رہے ہیں۔
دوسری جانب حسن اسکوائر سے جیل چورنگی جانے والے راستے میں سیوریج کا پانی جمع ہوا ہے اور اسی مقام پر بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہے جہاں موٹرسائیکل سوار اور رکشے گرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کی ٹیم جب اس مقام کی کوریج کر رہی تھی تو اس دوران ایک رکشہ ایسے ہی ایک گڑھے میں گرا اور چند ہی لمحے بعد ایک اور رکشہ اسی گڑھے میں گرا جس میں خواتین سوار تھیں جن کو شہریوں نے فوری طور مد د فراہم کی۔
اسی دوران ایک موٹرسائیکل سوار اس گڑھے میں گر کرزخمی ہوگیا، جس کے بعد فوری طور ایک اس مقام پر لکڑیاں لگا کر راستہ بند کردیا گیا تاکہ مزید کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔
یونی ورسٹی روڈ پر بھی ایسی ہی صورت حال جگہ جگہ دیکھنے کو ملی وہاں موجود شہریوں نے ایکپسریس نیوز سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ یہ صورت حال کئی دنوں سے ہے، پانی جمع ہے اور اس کے نیچے بڑے بڑے گڑھے ہیں جس کا شہریوں کو اندازہ نہیں ہوتا اور وہ حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے اور شہریوں نے اپیل کی ہے کہ ان مقامات کا مرمتی کام فوری مکمل کیا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
واضع رہے کہ ریڈلائن کی تعمیر کی وجہ سے شہریوں کو اذیت ناک سفر کا سامنا ہے اور جہاں ایک جانب شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرر ہے ہیں تو دوسری جانب گڑھوں میں گر کر حادثات کا شکار ہو ر ہے ہیں۔
Source link
Today News
پنجاب میں ڈرون اڑانے پر فوری اور مکمل پابندی عائد
پنجاب بھر میں ڈرونز کے ذریعے سیکیورٹی میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر صوبہ بھر میں 30 دن کے لیے آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر فوری اور مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر 30 دن کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پنجاب نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس ادارے پابندی سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے بعد راولپنڈی انتظامیہ نے ڈرونز پر پابندی عمل درامد کا پلان تشکیل دے دیا ہے۔
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ راولپنڈی میں تمام بلند عمارتیں، اہم مقامات، میٹرو ٹریک سے ڈرونز کی موجودگی مانیٹر کی جائے گی۔
Source link
Today News
آسٹریلیا نے بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا
کرکٹ آسٹریلیا نے بنگلا دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔
اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ 13 سے 17 اگست تک ڈارون میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 22 سے 26 اگست تک مکائے میں ہوگا، ڈارون میں 2004 کے بعد پہلی بار ٹیسٹ میچ ہونے جا رہا ہے اور مکائے میں بھی پہلی بار ٹیسٹ میچ کا انعقاد ہو گا۔
Test cricket returns up north 🌴 pic.twitter.com/72PMs0NdEf
— Cricket Australia (@CricketAus) February 25, 2026
گزشتہ بار بنگلا دیش نے 2017 میں ڈھاکا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی تھی اور اب بنگلا دیش 2003 کے بعد پہلی بار آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch