Connect with us

Today News

ڈن ڈم – ایکسپریس اردو

Published

on


جووا پرارے ڈی سوزا (Joao Pereira De Souza) ایک مزدور تھا۔پوری زندگی اس نے مچھیروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ ساتھ ساتھ جہاں بھی اینٹ روڑے کا کام ہو ‘ کرتا رہتا تھا۔ 2011ء تک ریٹائر ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی‘ ساتھی مچھیروں کے ساتھ کبھی کبھی ‘ کشتی پر سوار ہو کر مچھلیاں پکڑتا تھا۔ معمولی سا گھر‘ پرووٹا ساحل (Proverta beach) کے نزدیک تھا۔بلکہ ساحل سمندر کے عین کنارے پر تھا۔ برازیل کی جس ریاست میں جووا رہتا تھا۔ اس کا نام Rio de Janeiro تھا۔ اہلیہ‘ ماریا‘ بھی ایک حد درجہ متوسط سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔ ڈی سوزا کے ساتھ‘ ایک دکھ بھرا حادثہ ہو ا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو تقریباً دس برس کا تھا۔ جس دن‘ بیٹے کی سالگرہ تھی۔ اس نے بہت ضد کی‘ اور ڈی سوزا کو مجبور کیا ‘ کہ سمندر کی سیر کروائی جائے۔

ڈی سوزا نے بہت سمجھایا کہ آج طوفانی لہریں بہت ہیں۔ لہٰذا جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ہوا۔ باپ بیٹا‘ سمندر کی سیر کر رہے تھے کہ طاقتور لہروںنے کشتی کو الٹا دیا۔ بیٹا ڈوب کر زندگی سے بہت دور نکل گیا۔ ڈی سوزا اور اس کی بیوی کے لیے‘ یہ صدمہ بہت مہیب تھا۔ جس سے پوری زندگی باہر نہیں نکل سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ دونوں بوڑھے ہوتے چلے گئے۔ ڈی سوزاء زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔ میاں بیوی میں بات کم ہی ہوتی تھی۔ مئی2011ء میں ڈی سوزا‘ اکیلا کشتی میں بیٹھا تھا ۔ارادہ‘ مچھلیاں پکڑنے کا بالکل نہیں تھا۔ خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہاتھا جس نے اس کے سب سے قیمتی اثاثے کو نگل لیا تھا۔ اچانک نظر‘ ایک پینگوئن پر پڑی‘ جو پانی میں تیرنے کی بجائی خاموشی سے سطح سمندر پر لیٹی ہوئی تھی۔

قریب جانے پر معلوم ہوا کہ کہیں سے تیل کا اخراج ہوا ہے۔ پینگوئن کی بدقسمتی‘ کہ پوری کی پوری ‘ تیل میں بھیگ گئی تھی۔ اس میں تیرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ تقریباً ڈوبنے والی تھی۔ ڈی سوزا‘ نے فوری طور پر پینگوئن کو اٹھایا ۔ اسے گھر لے گیا۔ جمی تیل کی تہہ کو صاف کرنے میں سات آٹھ دن لگ گئے۔ ڈی سوزا ‘ پینگوئن کو تولیے میں لپیٹ کر رکھتا تھا۔ اسے کھانے کے لیے چھوٹی چھوٹی خشک مچھلیاں دیتا رہتا تھا۔ دو ہفتے میں ‘ پینگوئن بالکل صحت مند ہو گئی۔ ڈی سوزا‘ ایک دن کچھ خریدنے کے لیے بازار گیا۔ تو وہ جانور‘ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا‘ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ لوگ حیران رہ گئے کیونکہ کسی نے کبھی بھی ‘ پینگوئن کو انسان کے ساتھ اتنی انسیت رکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دونوں کے اردگرد‘ ایک ہجوم جمع ہو گیا۔

مجمع میں ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی‘ جو حیرت سے پینگوئن کو دیکھ رہی تھی۔ ڈی سوزا سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ ڈی سوزا نے کہا کہ ابھی تک کوئی نام نہیں رکھا۔ بچی نے زور سے کہا کہ اس کا نام ڈن ڈم ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ پینگوئن کا نام‘ یہی پڑ گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تھوڑے عرصے میں یہ نام پوری دنیا میں گونجے گا۔ اسی بھیڑ میں‘ ایک نوجوان ‘ موبائل فون کے کیمرے سے ویڈیو فلم اور تصویر بنا رہا تھا۔ اور انھیں‘ سوشل میڈیا پر لوڈ کر رہا تھا۔

ڈی سوزا کو تو خیر معلوم ہی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا کیا ہے۔ اب آپ اتفاقات کا سلسلہ دیکھے۔ Joao Paulo krajewski نام کے ایک سائنسدان نے ڈی ڈم کی تمام تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ وہ بنیادی طور پر پینگوئنز پر تحقیق کر رہا تھا۔ گلوب ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک تھا۔ پائلو کو یقین ہی نہیںآیا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔ وہ ارجنٹینا میں ایک جزیرے میں تجربے کر رہا تھا جہاں پینگوئن افزائش نسل کے لیے ہر سال آتے تھے۔ اور پھر چند ماہ بعد نامعلوم مقامات پر واپس چلے جاتے تھے۔ پائلو نے ٹی وی کی ایک تجزیاتی ٹیم‘ ڈی سوزا کے گھر بھجوائی ۔ ڈی سوزا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی ٹی وی سے منسلک ٹیم‘ انٹرویو کے لیے اس کے گھر آئے گی۔ حد درجہ گھبرا گیا۔ بیوی کے اسرار پر ٹیم کے سربراہ کو انٹرویو دینے کی حامی بھر لی۔ سارا کچھ بتایا کہ کیسے ڈن ڈم اسے تیل میں بھیگا ہو ا ملا تھا اور کس طر ح اب گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ یہ انٹرویو پوری دنیا کے تمام چینلز پر دیکھا گیا۔

سائنسدانوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین امر تھا کہ پینگوئن جیسا شرمیلا جانور‘ کیونکر ایک انسان کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ تھوڑے دن بعد ڈن ڈم سمندر میں کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ۔ قدرت کا حسن دیکھئے کہ یہ وہی جزیرہ تھا جہاں پائلو تجربات کر رہا تھا ۔ اس کی ٹیم نے پینگوئن کوپہچانا اور اس کے جسم پر ایک ٹیگ لگا دیا ۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ ڈی سوزا کے گھر سے پانچ ہزار کلو میٹر دور تھا ۔ چار ماہ گزرنے کے بعد ڈن ڈم واپس ڈی سوزا کے گھر پہنچ گیا ۔ دنیا کے چوٹی کے سائنسدان اس غریب مزدور کے گھر پہنچے ۔ ٹیگ کے نمبر کو پڑھا اور انھیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی پینگوئن ہے جو پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے واپس آئی ہے۔اب ہوتا یہ تھا کہ ڈن ڈم ‘ ڈی سوزا کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا ۔ جب بھوک لگتی تو ڈی سوزا کو بتاتا کہ اسے کھانے کی ضرورت ہے۔

اسے فوری طور پر خشک چھوٹی چھوٹی مچھلی کھانے کے لیے چاہیں۔ پینگوئن اور انسان کے درمیان یہ رشتہ سائنسدانوں کے لیے ایک عجوبہ بن کر رہ گیا۔ چھ سال گزر گئے ۔ ڈن ڈم چھ مہینے ڈی سوزا کے گھر میں رہتا اور پھر سمندر میں چھ ماہ کے لیے اسی پرانے جزیرے پر پہنچ جاتا جہاں سائنسدان تحقیق کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں پائلو نے ڈن ڈم کو پکڑا اور ایک لیبارٹری میں تجزیئے کے لیے لے جانے کی کوشش کی مگر پینگوئن موقع پا کر جیپ سے باہر نکل گئی ۔ اسے سمندر تک پہنچنے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ حد درجہ مشکل سے وہ سمندر تک پہنچی مگر اس کوشش میں اس کا جسمانی نقصان کافی زیادہ ہوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر برازیل پہنچ جاتا تھا۔ جن دنوں میں اس کی متوقع آمد تھی ۔ اس تمام دورانیہ میں پورا قصبہ اور لاتعداد ٹی وی چینل کیمرے لے کر اس کے آنے کا انتظار کرتے رہے ۔ مگر متعین وقت پر ڈن ڈم گھر نہ پہنچ پائی۔ڈی سوزا سمجھ گیا کہ اس کے دوست کو کوئی حادثہ پیش آ چکا ہے۔ لہٰذا اس نے مچھیروں کے ساتھ مل کر سمندر میں پینگوئن کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔

بڑی مشکل سے ڈن ڈم پانی میں زخمی حالت میں ملا ۔ اس کے تیرنے کی صلاحیت زخموں کی وجہ سے ختم ہو چکی تھی۔ ڈی سوزا اسے گھر لے کر آیا اور اس کا مکمل علاج کیا ۔ پینگوئن بالکل ٹھیک ہو گئی ۔ چند ماہ دونوں دوست اکٹھے رہے ۔ اس کے بعد حسب معمول ڈن ڈم ‘ طویل سفر پر روانہ ہو گئی۔ یہ سلسلہ پورے آٹھ سال چلتا رہا۔ معینہ مدت میں ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر رہنے آ جاتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اس پورے عرصے میں سائنسدانوں کی ٹیم بڑی ریاضت سے تحقیق کرتی رہی کہ ایک پینگوئن کیسے انسان کے ساتھ رہ سکتی ہے۔سی این این نے اس کے اوپر پوری ایک ڈاکومنٹری بنائی ۔ اور وہ بھی پوری دنیا کے سامنے نشر کی گئی ۔ یہ بھی ایک سچ تھا کہ ڈن ڈم ‘ قطعاً ڈی سوزا کی قید میں نہیں رہتی تھی بلکہ گھر کے پیچھے یا صحن میں جس میں کسی قسم کی کوئی دیوار نہیں تھی۔ اس میں ایک مخصوص جگہ پر رہائش گاہ سی بنا رکھی تھی۔ وہ مکمل طور پر آزاد تھی ۔ اس طرح سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گئی کہ جانور اور پرندوں کی آزاد دنیا اور انسانوں میں رابطہ ممکن ہے۔

اس سچی کہانی نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں جانوروں اور پرندوں کو بہت کرختگی سے رکھا جاتا ہے۔ پرندوں کی تو ویسے ہی شامت آئی رہتی ہے ۔ کیونکہ چند لوگ ان کاشکار کر کے اپنی کسی نامعلوم حس کی تسکین کرتے نظر آتے ہیں۔یہی حال جانوروں کا ہے ۔ جن علاقوں میں ہرن ‘ اڑیال اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں۔ وہاں ان کا استحصال مسلسل جاری و ساری رہتا ہے ۔ دراصل ہم انسانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے تو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیا خاک اچھا ہو گا ؟ ہمارے جیسے سماج میں جہا ں انسانوں کے پاس کوئی سنجیدہ حقوق موجود نہیں ہیں ۔ جہاں قتل و غارت کا دور دورہ ہے ۔ جہاں ملک کے پیشتر حصے میں بھاری ہتھیاروں سے حملوں کی روایت موجود ہے ۔ وہاں بے زبان مخلوق کا کیا ذکر کرنا ۔پتہ نہیں کہ مجھے یہ کہنا بھی چاہیے یا نہیں ؟ کہ جو معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے عاری ہے۔ وہاں اس نے اپنے اردگرد دیگرمخلوق سے کیا بہتر برتاؤ کرنا ہو ۔ زبانی جمع خرچ تو خیر بہت ہے ۔ مگر عملاً ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں۔ جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اگر آپ کو اتفاق سے کوئی پرندہ یا جانور مل جائے تو ڈی سوزا کی طرح ڈن ڈم کے ساتھ اچھے سلوک کو یاد ضرور رکھیے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سیاہ انقلاب ، سفید انقلاب اورسرخ انقلاب

Published

on


نام تو ان کا کوئی اورتھا لیکن لالہ کے نام سے مشہور تھا ، میں اسے کامریڈلالہ کہتا تھا، ہمیشہ ایک خاکی رنگ کا تھیلا اس کے کاندھے پرلٹکا ہوتا تھا یا کہیں جاتے ہوئے یاکہیں سے آتے ہوئے پوچھا جاتا کہ لالہ کہاں جارہے یا کہاں سے آرہے ہو، کہتا تنظیم کے کام سے جا رہا ہوں۔ تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا ، تھیلے میں اکثر اقوال ماوزئے تنگ اورمارکس و لینن یا انگلز سٹالن کے اقوال کے چھوٹے چھوٹے کتابچے ہوتے ، یہ وہ دن تھے جب فیشن ایبل سوشلزم کا فلو یا کرونا زوروں پر تھا ، روسی کتابوں کے اردو تراجم کی بھر مارتھی اورترقی پسند مصنفین بے تحاشا مزاحمتی ادب تخلیق کرنے میں لگے ہوئے تھے ،اکثر فارغ البال قسم کے سرمایہ دار وکیل، صحافی ،شاعر اورکالجوں کے اسٹوڈنٹ اس بخارمیں مبتلا تھے ، فیض اورساحر کے اشعار زبان زد خاص وعام تھے ۔

لالہ ایک ایسے محکمے میں ملازم تھے جس میں تنخواہ کے دن حاضری دیتے تھے ، آدھی تنخواہ لے کر آجاتا تھا اورباقی ’’حقدار ‘‘ آپس میں تقسیم کرلیتے ، ایسے ملازموں کو محکمے کی اصطلاح میں شش وپنج کہتے تھے ۔دوسری طرف لالہ کی بیوی نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ سنگل پھیرہ ہرگز نہیں لگائے گی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں کرکٹ ٹیم پوری کرلی تھی ، ایسے لوگ جب اولاد کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے تو لاڈلے پن کا مظاہرہ یوں کرتے ہیں کہ انھیں بے مہار چھوڑ دیتے ہیں چنانچہ لالہ کے بیٹے بھی ہر وہ کام کرتے اورسیکھنے لگے جو کرنے کے ہرگز نہیں ہوتے اورہر وہ ہنرسیکھتے رہے جو سیکھنے کے نہیں ہوتے ۔

پھر لالہ کی زندگی میں اچانک ایک انقلاب آگیا جو سرخ انقلاب تو نہیں تھا البتہ کالا انقلاب اسے ضرورکہہ سکتے ہیں، لالہ کی بیوی کسی دوسرے گاؤں کی تھی جہاں اس کا باپ اپنے باپ سے پہلے مرگیا تھا اس لیے چچاؤں نے اسے وراثت میں کچھ نہیں دیا ، اس کی ماں اسے لے کر یہاں آگئی اورمحنت مزدوری کر کے اسے پالا، پھر اس کی شادی لالہ سے ہوگئی، لالہ کو بھی کوئی اوراپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں تھا،  لیکن جب ایوب خان کے عائلی قوانین نافذ ہوگئے تو اس کے رشتہ داروں میں کچھ خداترس اوراچھے لوگ بھی پیدا ہوگئے اورانہوں نے خود ان سے کہا کہ آکراپنے حصے کی جائیداد لے لیں۔

لالہ گیا اس کاخیال تھا کہ تھوڑی زمین ہوگی لیکن وہ بہت بڑی جائیداد نکلی، اوپر سے بارانی کی جگہ اب نہری بھی ہوگئی تھی چنانچہ لالہ نے ایک ٹکڑا بیچ ڈالا جس کا اتنا روپیہ ملا کہ گھر کا سب کچھ بلکہ مکمل گھر بھی تیار ہوگیا اورایک بھینس بھی خرید لی، بھینس کاکچھ دودھ فالتو ہوجاتا تھا تو اسے بیچنے لگے ، دودھ کی آمدنی دیکھ کر ایک اوربھینس خریدی پھر چارہوگئیں تو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی ،چند بیٹے بڑے ہوگئے تھے اس لیے بھینس چرانے ، چارہ لانے اوردیکھ بھال کرنے کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا ، مسئلہ تھا تو جگہ کی تنگی کا چنانچہ لالہ نے اس زمین کا ایک اورٹکڑا بیچ کر گاؤں کے باہر زمین خرید لی اورچاردیواری ڈال کر فارم بنا لیااوربھینسوں کی تعداد بڑھاناشروع کردی کچھ ہی عرصے میں بھینسوں کی تعداد بیس پھر تیس پھر چالیس یہاںتک کہ اسی(80) ہوگئی، اتنا دودھ گاؤں میں تو کھپتا نہیں، اس لیے شہرکے دکانداروں کو بھی دودھ سپلائی کرنے لگے اوراس کام کے لیے ایک پک اپ بھی خرید لی ، پک اپ کا ڈرائیور بھی اپنا بیٹا تھا، ایک بیٹے کو جانوروں کا ڈاکٹر بھی بنایا۔ اب چونکہ گاؤں کے دوسرے سرے پر فارم کے ساتھ ہی گھر بنا کر رہنے لگے تھے اس لیے لالہ سے ملاقات کم ہوتی تھی لیکن اس کی دن دونی رات چوگنی ترقی کے بارے میں سنتا رہتا تھا ۔ ایک دن دیکھا تو لالہ ایک شاندار کار میں بیٹھا تھا ، خاکی تھیلے کی بجائے ہاتھ میں کالابریف کیس تھا ،بے رنگ کپڑوں کی سفید براق لباس میں تھا\ پوچھا تو بولا کہ فارم کا باقی کام تو بیٹے سنبھالے ہوئے ہیں اورلالہ کے ذمے شہر کے دکانداروں کے ساتھ حساب کتاب اور وصولی کرنا تھا اورکھل بورا وغیرہ پہنچانا تھا ۔ کلین شیو کی جگہ داڑھی نے لے لی تھی۔

 پھر کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ مسجد کا خزانچی اورمتولی بھی ہوگیا ہے، اذان بھی دینے لگا اورعشاء کی نماز کے بعد لاوڈ اسپیکر کھول کر رشد وہدایت کے مسائل بھی بیان کرنے لگا ہے ، پھر اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو ہاتھ میں سو دانے کی تسبیح، سر پر مخروطی ٹوپی جیب میں مسواک۔ پوچھا ، لالہ یہ کیا؟ بولا باقی تو خدا کا فضل ہے لیکن آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے بلکہ ساتھ ہی مجھے نماز کی تلقین بھی کی اورمیں حیران ہو رہا تھا، یہی لالہ تھا جو ہر وقت قسمت کا رونا روتا رہتا اور خدا کی ناشکری کرتا تھا ، دین اوردینی شعائر سے کوسوں دور تھااورآج وہ آخرت کی بات کررہا تھا اورمجھے اس نماز کی تلقین کررہا تھا جس سے وہ خود دور تھا۔

لیکن پھر بھی اس کی تبدیلی کے بارے میں سن سن کر خوش ہوجاتے تھے ، صبح کابھولا شام سے پہلے گھرآئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، پھر سنا کہ حج بھی کرلیا ہے اوراپنے ایک بیٹے کو دینی مدرسے میں بھی داخل کیا ہوا ہے اوراس لیے داخل کیا ہے کہ اپنا ایک دینی مدرسہ کھولنا چاہتا ہے جس کے لیے سڑک کے کنارے زمین بھی خرید لی ہے ۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ دولت آنے پر بھٹکا نہیں بلکہ اوربھی زیادہ دیندار ہوگیا ہے پھر کچھ دن بعد اس کی بیوی فوت ہوگئی ، تجہیز وتکفین میں تو عام لوگوں کی طرح حصہ لیا تھا لیکن سوچا اتنا عرصہ ایک محلے میں رہے ہیں اچھے تعلقات رہے ہیں تو خصوصی طورپر بھی تعزیت کے لیے جاناچاہیے ۔ بہت بڑا وسیع فارم تھا جس سے لگے ہوئے کھیت بھی تھے جن میں مختلف چارے کے کھیت بھی تھے اوراس کے دوبیٹے ان میں چارہ کاٹ رہے تھے ۔فارم کے گیٹ پر جو چوکیدار تھا وہ اپنے پرانے محلے کاتھا اس کی رہنمائی میں چل پڑا تو ایک وسیع وعریض احاطے میں چاروں طرف برآمدے اورکمرے تھے جن میں مختلف عمروں اوررنگوں کی بھینسیں کھڑی تھی اورچوکیدار مجھے بتا رہا تھا وہ دودھیل بھینس ہیں ، وہ سوکھی ہیں ایک طرف مختلف عمروں کی کٹڑیاں بھی تھیں ، کل تین سو بھینس تھیں ، اس احاطے کے پہلو میں ایک دروازہ تھا جو آدمیوں کے لیے، ضروری سامان کے لیے اورفارم سے متعلق آلات وغیرہ کے لیے، اس حصے میں تو برآمدے ہیں ، لالہ ایک پرتکلف چارپائی پر بیٹھا تسبیح پھیر رہا تھا اوربرآمدے کے دوسرے سرے پر کام کرتے ہوئے بیٹوں کو دیکھ رہا تھا ، وہ لوگ بڑے ٹبوں میں پانی اورکچھ چیزیں ملا کر ایک بڑی واشنگ مشین میں ڈال رہے تھے اورپھر واشنگ مشین سے نکلتا ہوا ’’دودھ‘‘ برتنوں میں بھر رہے تھے ، علیک سلیک اورعذر معذرت سے فارغ ہوئے تو میں نے اشارہ کرکے پوچھا لالہ یہ کیا ہے ، ہنس کر بولا دراصل مارکیٹ میں دودھ کی مانگ بڑھ گئی تو بھینس پورا نہیں کرپارہی ہیں اوراس میں کوئی خراب چیز نہیں ہے ،صاف پانی ہے اورکچھ مسالے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ طبیعت خراب ہوئی لیکن کچھ کہے بغیر اٹھ آیا، راستے میں دودھیل بھینسوں کابرآمدہ تھا ، برآمدے کے سامنے دو خون آلود بوریاں پڑی تھیں ، چوکیدار سے پوچھاکیا کوئی بھینس مرگئی ہے ؟ بولا نہیں یہ وہ کٹڑے ہیں جو پیدا ہوتے ہی ذبح کردئیے جاتے ہیں صرف مادہ کٹڑیاں زندہ رکھی جاتی ہیں ، ان کٹڑوں کے حصے کا دودھ بھی بچ جاتا ہے اورکٹڑے بھی فروخت کیے جاتے ہیں جو بازاروں اورہوٹلوں میں ’’چھوٹا گوشت ‘‘کے طورپر بیچے جاتے ہیں ۔

میں نے دل میں سوچا۔ پہلے بھینسوں کا سیاہ انقلاب پھر دودھ کا سفید انقلاب اوراب یہ سرخ انقلاب۔





Source link

Continue Reading

Today News

سندھ کی حکومت اور گورنر ہاؤس

Published

on


سندھ کے وزیر سعید غنی اور بعض پی پی رہنماؤں نے سندھ کے گورنر کو ہٹا کر وزیر اعظم سے مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کسی شخص کو گورنر بنانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی کہا ہے کہ سندھ کے گورنر ہاؤس کو سیاسی محاذ آرائی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کیا دو وفاقی وزراء خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کے بیانات وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس میں امید رمضان کے نام سے گرینڈ افطار کا انتظام کیا جاتا ہے اور شہریوں کو عمرے کے ٹکٹ اور پلاٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ افطار ڈنر میں یہ بھی کہا تھا کہ کراچی کے مستقبل پر بحث شروع ہو چکی ہے۔

سندھ اسمبلی نے حال ہی میں سندھ کی تقسیم اورکراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے خلاف جو قرار داد منظورکی تھی، اس پر ایم کیو ایم کے دونوں وفاقی وزیروں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو غیر آئینی اور وفاق کے خلاف کھلا چیلنج قرار دیا تھا کہ کیا کسی صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئین سے متصادم قرارداد منظور کرے؟ وفاقی وزیروں کو جواب دیتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ متحدہ رہنما آئین کا مطالعہ کرتے تو غیر سنجیدہ بیانات نہ دیتے۔

سانحہ گل پلازہ کے بعد وفاق میں حلیف پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوئی تھی اور ایم کیو ایم نے وفاق سے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی کو وفاقی کنٹرول میں لیا جائے اور ایم کیو ایم کا کوئی مطالبہ بھی آئین سے باہر نہیں ہے اور وفاقی حکومت آئین کے تحت ایسا کر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے اس مطالبے کی پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی مخالف ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی ان دونوں پارٹیوں نے حمایت کی ہے۔

دو سال قبل فروری 2024 میں وفاقی حکومت کی تشکیل کے وقت دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی شامل تھیں۔ بڑی پارٹیوں نے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے عہدے خود لیے تھے اور حلیف پارٹیوں کو وفاقی وزارتیں دی تھیں۔ (ن) لیگ اور پی پی نے جو فیصلہ کیا تھا، اس میں پنجاب اورکے پی کے گورنر پیپلز پارٹی کو اور سندھ بلوچستان کی گورنر شپ مسلم لیگ (ن) کو دینا تھی۔ معاہدے کے تحت پنجاب اور کے پی میں پیپلز پارٹی کے اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے گورنر مقرر ہوئے تھے جب کہ سندھ کی گورنری 2022 میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کو دی تھی اور کامران خان ٹیسوری کو گورنر سندھ بنایا گیا تھا جو (ن) لیگی حکومت نے برقرار رکھ کر ایم کیو ایم کو دی تھی۔

1973 کے آئین میں پیپلز پارٹی نے سندھ کے مخصوص حالات کے تحت زیادہ تر اردو بولنے والے کو گورنری کے عہدے پر رکھا جب کہ ایم کیو ایم بعد میں بنی تھی۔ پی پی حکومت میں میر رسول بخش تالپور بھی گورنر سندھ رہے۔ جنرل پرویز نے متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر بنایا تھا جو بعد میں پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں بھی گورنر سندھ رہے جن کے بعد (ن) لیگ نے بھی اردو بولنے والوں کو گورنر کا آئینی عہدہ دیا تھا۔ پی پی حکومت نے گورنر سندھ کو بعض اختیارات سے محروم بھی کیا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ کامران ٹیسوری سندھ کے منفرد گورنر بنے جنھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھولے۔ گورنر ہاؤس میں عوام کے لیے مختلف تقریبات بھی منعقد ہوتی رہیں اور عوام کی شنوائی کے لیے مختلف اقدامات کیے اور متحدہ رہنما بھی گورنر ہاؤس میں مختلف پروگرام منعقد کرتے رہے۔

سانحہ گل پلازہ پر گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے وقوعہ پر پہنچے تھے اور وہ متاثرین کی مدد میں سرگرم بھی رہے جب کہ ان کے پاس متاثرین کی مدد کا کوئی اختیار نہیں تھا اور وزیر اعلیٰ سندھ ہی کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور سندھ حکومت نے ہی متاثرین اور شہید ہونے والوں کی امداد کا اعلان کیا اور سندھ حکومت نے گل پلازہ کی تعمیر نو کا اعلان کیا اور متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور کاروبار کے لیے اپنے میئر کراچی سے جگہیں بھی دلائی ہیں۔

گورنر ایک آئینی عہدہ ہے گورنر کے انتظامی اختیارات نہیں ہیں۔ سندھ کے گورنر کا تعلق ایم کیو ایم، پنجاب و کے پی کے گورنروں کا تعلق پیپلز پارٹی اور بلوچستان کے گورنر کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ گورنر بلوچستان کی سرگرمیاں تو میڈیا میں نہیں آتیں اور وہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت ہے جب کہ پنجاب و کے پی کے گورنر سیاسی طور پر متحرک ہیں اور صدر مملکت آصف زرداری اور بلاول بھٹو پنجاب کے گورنر ہاؤس میں سیاسی اجتماعات منعقد کرتے رہے ہیں۔

گورنر کے پی اور وہاں پی ٹی آئی حکومت میں سخت محاذ آرائی ہے جس پر کے پی حکومت نے گورنر کے پی پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں مگر سندھ میں تقریباً چار سال سے گورنر اور سندھ حکومت میں کوئی محاذ آرائی نہیں تھی اور گورنر سندھ بھی گورنر پنجاب کی طرح وہاں کی حکومتی کارکردگی پر زبانی تنقید ضرور کرتے ہیں مگر سندھ کا گورنر ہاؤس سیاست سے زیادہ عوامی معاملات میں سب سے آگے ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے گورنر ہاؤسز میں تبدیلی لانے کے اعلانات کیے تھے مگر عملی طور کچھ نہیں کیا تھا صرف گورنر پنجاب سرور چوہدری نے اپنے طور پر کچھ تبدیلیاں ضرور کی تھیں۔ گورنر ہاؤس میں پی ٹی آئی دور میں یونیورسٹیاں تو نہ بنیں مگر گورنر ہاؤس کراچی میں نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دینے کے لیے جو پیش رفت ہوئی اس کی تقلید باقی صوبوں میں بھی ہونی چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

Published

on


غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔

 آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔

یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔آج میں اسے سیر پر لے گیا۔بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گذر رہا ہوں۔

کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں رہنے والی خاتون امل السامری اور ان کے شوہر نے تین بچوں کی خاطر رمضان کا ’’ ماحول ‘‘ محسوس کروانے کے لیے اچھے سے جھونپڑی کی صفائی کی اور پانی کی شدید قلت کے باوجود یکم رمضان کو بچوں کو دھلے ہوئے کپڑے پہنائے۔

امل السامری کو تین برس پہلے کا پرامن رمضان ایسے لگتا ہے گویا تین صدیوں پہلے کی بات ہو۔تب کیسے سب مل کے بازار جاتے تھے۔آرائشی قمقمے خریدتے تھے۔رمضان میں ہی بننے والی روائیتی مٹھائیاں کھاتے بھی تھے اور رشتے داروں کو بھی بھیجتے تھے۔ فجر کی اذان تک چہل پہل اور پھر آرام۔پچھلے ماہ طوفانی بارشیں جھونپڑی اڑا لے گئیں۔نئی بنانے میں بہت وقت لگا۔بجلی اور صاف پانی تو مدت سے ایک خواب ہیں۔روایتی قمقموں کی قیمت دوگنی تگنی ہے۔پھر بھی اکا دکا تباہ شدہ گھروں اور خیموں کے باہر گھپ اندھیرے میں اپنی چمکیلی پٹیوں کے سبب یہ قمقمے روشنی کا گمان پیدا کرتے ہیں۔اردگرد کے بچے ان کے گرد پتنگوں کی طرح جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو بھی چھوٹا موٹا بازار ان خیمہ بستیوں اور کھنڈروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔بچے وہاں کا چکر لگا کے من بہلا لیتے ہیں۔

غزہ میں کرسمس ہو یا رمضان ، خوشیاں مشترک ہیں۔ماہر ترزی فلسطینی مسیحی ہیں اور عمر کی پچھتر چھہتر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ شام گئے زاویہ مارکیٹ میں نکل آتے ہیں۔بچے ان کو گھیر لیتے ہیں اور پھر سب مل کے گیت گاتے ہیں ’’ کیسی خوبصورت روشن رات ہے ، ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بھی مسکرا رہا ہے…

ماہر ترزی کہتے ہیں کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ زندہ رہنا شرط ہے۔یہ دن بھی گذر ہی جائیں گے۔

غزہ میں بنیادی خوراک کے نرخ نامے کا ڈھائی سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو تصویر واضح ہو جائے گی کہ رمضان کیسا گزر رہا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق مرغی کا گوشت اسی فیصد ، فروزن مچھلی ایک سو نوے فیصد ، فروزن بیف پچھتر فیصد ، انڈہ ایک سو ستر فیصد ، کھیرا تین سو فیصد ، ٹماٹر سو فیصد ، آلو سڑسٹھ فیصد ، چاول پچاس فیصد ، زرد پنیر سو فیصد اور خوردنی تیل اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں سو فیصد مہنگا ہے۔یعنی چھ نفوس پر مشتمل کنبے کو مناسب افطار تیار کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم درکار ہے۔یہ بجٹ ڈھائی برس پہلے کے مقابلے میں نوے فیصد زائد ہے۔

لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا حالت ہے ؟ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے بارہ سو ڈالر تھی جو اب ایک سو اکسٹھ ڈالر ہے۔کاروبار ، ماہی گیری اور زراعت برباد ہو چکے لہذا بے روزگاری کا تناسب پچانوے فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ۔مگر لوگ روزگار کے امکانات بھول بھال کر اس فکر میں ہیں کہ کل بچوں کے لیے کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں۔

غزہ کو اس وقت خوراک اور رسد سے بھرے کم ازکم ایک ہزار مال بردار ٹرک روزانہ درکار ہیں۔دس اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل چھ سو ٹرکوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔مگر روزانہ دو سو سے ڈھائی سو ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں ۔ صرف دس مقامی تاجروں کو چار اسرائیلی کمپنیوں سے سامانِ خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کا سامان خریدنے کی اجازت ہے۔اب یہ اجارہ دار کمپنیاں اور تاجر جتنی چاہیں قیمت وصول کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اسرائیل بار بار کے بین الاقوامی مطالبات کے باوجود پانچ مہینے سے غزہ کی گذرگاہیں پوری طرح نہیں کھول رہا۔کیونکہ پھر رسد کی مقدار بڑھ جائے گی اور مسابقت کے سبب چیزیں سستی ہوں گی۔جب فلسطینیوں کا پیٹ بھرے گا تو وہ زیادہ شدت سے آزادی اور غلامی کا موازنہ کرنے لگیں گے اور فلسطینیوں کی گردن پر گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑ جائے ، یہ نہ تو اسرائیل کو منظور ہے اور نہ ہی اس کے مددگاروں کو۔ان حالات میں اہلِ غزہ کی عید کیسے گذرے گی۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے سماج میں بے سروسامانی کے باوجود جو حرکتیں قابِل نفرین سمجھی جاتی ہیں ان میں سب سے اوپر بھکاریوں کی طرح کسی کا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ہے۔ان بے آسرا بستیوں کے رمضان میں شائد ہی کہیں ایسا کوئی منظر نظر آئے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending