Today News
ڈکیتی مزاحمت پر گھر کے اندر شہری کو قتل کرنے والے 5 ملزمان کو موت اور عمر قید کی سزائیں
راولپنڈی: عدالت نے ڈکیتی اور اقدام قتل کے مقدمے میں نامز 5 ملزمان کو موت اور عمر قید کی سزا سنادی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی کی مقامی عدالت نے ڈکیتی، قتل اور اقدام قتل مقدمے میں نامزد 5 مجرمان کو مجموعی طور پر پھانسی،عمر قید، 100 سال قید، 1 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانے اور 50 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے ملزم شیرگل کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، ڈکیتی کے جرم میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، اقدام قتل کیلیے گھر میں داخل ہونے پر عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے ڈکیتی جرم میں 10سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے، اقدام قتل کے جرم میں 10 سال قید اور 05 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
اسی طرح ملزم ایوب خان کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور 10 لاکھ روپے ہرجانے، ڈکیتی جرم میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
تیسرے ملزم اکرام اللہ کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور 10 لاکھ روپے ہرجانے اور ڈکیتی کے جرم میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے چوتھے ملزم سرفراز کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور 10 لاکھ روپے ہرجانے، ڈکیتی کے جرم میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جبکہ پانچویں ملزم آصف خان کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور 10 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی گئی۔
اس کے علاوہ ڈکیتی کے جرم میں عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان نے گھر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے شہری کو قتل دوسرے کو زخمی کیا تھا۔
Source link
Today News
آن لائن اسکیمنگ، پاکستانی نوجوانوں ٹریپ ہونے لگے
کراچی:
آن لائن اسکیمنگ، پاکستانی نوجوانوں کیلیے دورجدید کا بیگارکیمپ، سوشل میڈیا اوردیگرآن لائن پلیٹ فارمز پر ٹارگٹڈ اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کوبیرون ملک بھاری تنخواہوں کی حامل پرکشش ملازمتوں، مفت ٹکٹ، ویزہ اوررہائش کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
بہترمستقبل کیلیے تگ ودوکرنے والے پاکستانی نوجوان بغیر تصدیق ان کمپنیوں پراندھا اعتماد کرکے بند گلی میں پہنچ جاتے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے امیگریشن شہزاد اکبر کا ایکسپریس نیوزسے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا کہ روایتی ڈنکی جو کہ سن 90 سے سن 2000 کی دہائی میں ہوا کرتا تھا، اس میں عموماً وہ لوگ ہوا کرتے تھے، جومالی اعتبارسے بہت زیادہ کمزور تھے۔
مگرآج کے جدید دورمیں وہ طبقہ ٹریپ ہورہا ہے، جوپڑھا لکھا ہے اوراپنے مالی حالات کوبہترکرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرتعلیم یافتہ پاکستانی نوجوان ان بظاہرچمکتے دمکتے مگردرحقیقت گھپ اندھیروں کے حامل ان اشتہارات سے متاثردکھائی دیتاہے،جوکہ ٹارگیٹیڈ مارکیٹنگ کے طورپراس کے مشاہدے کا حصہ بنتے ہیں۔
یہ کمپنیاں اکثرورک ویزے کی فیس ڈبل ہونے کی بنا پرنوجوانوں کووزٹ ویزے پربلوا لیتی ہے، جس کی وجہ سے ابتدا ہی جھانسے کے شکارنوجوان کا قیام اس ملک میں ال لیگل اسٹیٹس بن جاتاہے۔
ایک اورحربہ یہ اسکیمنگ کمپنیاں اپناتی ہے کہ اس فرد کا پاسپورٹ پہلے ہی اپنے پاس رکھ لیتی ہے، پھریہاں ایک نیا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔
شہزاد اکبرکے مطابق جب نوجوان کی ٹریننگ مکمل ہوجاتی ہے تو اس سے بلامعاوضہ مشقت لینے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور کسی بیگارکیمپ کی طرز پر اس سے جبراً یا ڈر کے ماحول میں گھنٹوں کام لیا جاتا ہے، اگروہ اکتا کرجاب چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے تواس کے حوالے سے ملک کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کواطلاع دینے کی دھمکی یا عملی طورپرعملدرآمد کا سامنا رہتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نوجوان کی سفارت خانے کوفریاد نقارخانے میں کسی طوطی کے مصداق سودمند ثابت نہیں ہوتی۔
پکڑے جانے کے بعد وہ ممالک اسے ڈی پورٹ کردیتی ہے، جس سے اس نوجوان کا پروفائل ریڈ لسٹ میں آجاتا ہے، اس کے بعد کسی دوسرے ملک کا فضائی سفراس کیلیے مستقل مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔
Today News
جنگ،معیشت اور پاکستان کا کردار
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے.
لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنھیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ پہنچیں گے جہاں دونوں رہنما پاک چین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔
چین نے ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے، کیونکہ پاکستان نتیجہ خیز بات چیت کے حوالے سے ہر ممکنہ سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس نہج پر کھڑا ہے جہاں طاقت، مفادات اور بیانیے ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے توازن کو بھی بری طرح متاثر کریں گے.
حالیہ کشیدگی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ تباہ کن کارروائیوں کی دھمکیاں شامل ہیں، اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں ایک بار پھر تصادم کے راستے پر گامزن ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، اگرچہ بظاہر سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ’’زیادہ معقول حکومت‘‘کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، بظاہر ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتی ہے، لیکن اسی بیان میں یہ دھمکی بھی شامل ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔
اس میں خاص طور پر خارگ جزیرہ، تیل کے کنویں، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر کیا گیا، جو ایران کی معیشت اور عوامی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک مرکزی حب ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، اگر اس جزیرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نہ صرف ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی تیل کی رسد بھی متاثر ہوگی۔
ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ یہ پلانٹس سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیںاور ان پر حملہ کسی بھی ملک میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اس طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنانا صرف عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک وسیع تر انسانی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔
ایران کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اور اس کی فوج نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی توانائی کے تمام انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی۔
اس تناظر میں خلیجی ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی اڈے موجود ہیں، براہ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ جنگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جو دنیا کے تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق چین کی بڑی شپنگ کمپنی COSCO کے دو جہاز اس آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، جو ایک حد تک مثبت اشارہ ہے کہ ابھی تک یہ راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
تاہم اس کے باوجود خطرات بدستور موجود ہیں، کیونکہ کسی بھی وقت اس راستے کو بند کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا بیان کہ اسرائیل اس جنگ میں اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، ایک ایسے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل کی عسکری برتری پر مبنی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور ایران کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے قریب ہیں۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں، اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو ایران کے جوہری پروگرام کا بھی ہے، جسے اقوام متحدہ اور اسرائیل ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹس اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کرتیں۔
یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس تنازع میں معلومات اور بیانیے بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔عالمی طاقتوں میں چین کا کردار خاص طور پر اہم ہے، جو اس تنازع میں ایک متوازن اور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
چین نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ امن کے قیام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ چین کی معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے، اس لیے وہ اس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحق ڈارکا چین کا دورہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں نہ صرف پاک چین تعلقات بلکہ ایران امریکا تنازع پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
ایران کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں پاکستان سے ضمانت طلب کرنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک لمحہ ہے، جہاں اسے نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور اگر اس تنازع کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔
توانائی کی سیاست اس پورے تنازع کا ایک مرکزی عنصر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ رکھتا ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو، جب کہ ایران اس کو ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر دنیا بھر کے عوام پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے مزید متاثر ہوں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے، اگر جنگ کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے، لیکن اگر سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو ایک بہتر اور مستحکم دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان، چین اور دیگر ذمے دار ممالک کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ ایک ممکنہ تباہی کو روکا جا سکے اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
Today News
حکمت اور دانائی (آخری قسط)
بلاشبہ حکمت اور دانائی کے خزانے کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتے ہیں۔ منفرد نثر نگار اور معروف کالم نگار جناب ہارون الرشید نے کئی بار اپنے کالموں میں ذکر کیا ہے کہ وہ جب بھائی جان جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ صاحب سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ بیرسٹری کی تعلیم کے دوران لنکنزاِن میں ان کے انگریز استاد کہا کرتے تھے کہ ’’قانونِ وراثت ہم نے قرآن سے سیکھا ہے اور ویلفیئر اسٹیٹ کا تصوّر ہم نے عمرؓ دی گریٹ سے لیا ہے‘‘
جب وراثت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریمؐ کے بڑے سے بڑے دشمن بھی اعلانیہ کہنے لگے کہ اتنا پیچیدہ اور انصاف پر مبنی قانون، صرف مکّہ کا کوئی انسان ہی نہیں بلکہ پورے عرب کا کوئی پڑھا لکھا شخص بھی نہیں بنا سکتا۔
کنبے اور خاندان کے ہر فرد کا حصہ اس طرح مقرّر کردیا گیا کہ سننے اور پڑھنے والے حیران وششدر رہ گئے۔ کئی فراخدل عیسائی پادریوں نے یہ کہہ کر نظریۂ حق تسلیم کیا کہ وراثت کی آیات ہی قرآن کو کلامِ الٰہی ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
وراثت کی تقسیم، یتیموں کے حقوق اور نکاح کے معاملے میں محرّمات کا ذکر قرآن کی سورۃ النساء آیات میں ہے، جو حکمت اور دانائی کی تابدار کرنیں ہیں۔
مولانا مودودیؒ اور ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنی تفاسیر میں سورۃ النساء کا تعارف کرایا ہے۔
دونوں کا کہنا ہے کہ سورۂ النساء کے ان خطبوں میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق پر کس طرح درست کریں، یہاں خاندان کی تنظیم کے اصول بتائے گئے، نکاح پر پابندیاں عائد کی گئیں، معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حد بندی کی گئی، یتیموں کے حقوق متعین کیے گئے، وراثت کی تقسیم کا ضابطہ مقرر کیا گیا اور معاشی معاملات کی درستی کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔
سورۃ النساء کا آغاز ہی اس طرح کیا گیا ہے ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔
یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔ یتیموں کے مال ان کو واپس دو، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو اور ان کے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ‘‘
اس سورہ کی تمہید اس طرح باندھی گئی ہے کہ ایک طرف اللہ سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ انسانوں کی تخلیق کی ابتداء ایک انسان سے کی گئی ہے۔
اس لحاظ سے تمام انسانوں کا origin ایک ہے اور وہ ایک دوسرے کا خون اور گوشت پوست ہیں۔ ایک دوسری جگہ قرآن میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ پہلا انسان آدم تھا جس سے دنیا میں نسلِ انسانی پھیلی۔
انسانوں کے کمزور طبقوں کے حقوق کے بارے میں اگر واضح ہدایات دی ہیں تو وہ کسی ملحد مفکر یا دانشور نے نہیں بلکہ انسانوں کے خالق نے قرآنِ کریم میں دی ہیں۔ یہاں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ یتیم جب تک چھوٹے بچّے ہوں، ان کے مال ، ان کی خوراک، رہائش اور فلاح وبہبود پر خرچ کرو اور جب وہ بڑے ہوجائیں تو جو اُن کا حق بنتا ہے، وہ انھیں واپس کردو اور یتیموں کے اچھے اور معیاری مال کو اپنے برے اور غیر معیاری مال سے نہ بدل لو۔
آگے چل کر وضاحت فرمائی کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور تم ان کے اندر اہلیّت پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اس خوف سے ان کے مال جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہوکر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔
مفسّرین کے مطابق تقسیمِ وراثت کے پانچ احکامات دیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وفات پاجانے والے کی میراث میں صرف مردوں کا ہی حصّہ نہیں، بلکہ عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں۔
دوسرے یہ کہ میراث تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو، حتٰی کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور اس کے پندرہ یا بیس وارث ہیں تو ان سب کو حصہ دیا جائے گا۔
تیسرے یہ کہ وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا خواہ وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور صنفِ مال میں شمار ہوتے ہوں۔
چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ کر مرا ہو اور پانچویں اس سے یہ قاعدہ بھی نکلتا ہے کہ اقرباء کی اہمیّت زیادہ ہے، اور اُن کا حق فائق ہے۔
قریب تر رشتے داروں کی موجودگی میں دور کا رشتے دار میراث میں حصّہ دار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں ایک آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے ’’اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو‘‘
یہاں وفات پانے والے کے ورثاء کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دور ونزدیک کے رشتے دار اور خاندان کے غریب لوگ اور یتیم بچے آجائیں تو ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو، میراث میںشرع کے لحاظ سے تو ان کا حصہ نہیں ہے مگر فراخدلی سے کام لیتے ہوئے ترکہ میں سے ان کو بھی ضرور کچھ دے دو اور پھر یہ بھی تلقین کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ایسی دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے موقع پر بالعموم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔
میراث کے معاملے میں یہ اوّلین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصّہ عورت سے دوگنا ہے، یہ اس لیے ہے کہ شریعت نے خاندانی نظام میں مرد پر ہی معاشی ذمّے داریوں کا بوجھ ڈالا ہے اور عورت کو معاشی ذمے داریوں کے بار سے سبکدوش رکھا ہے۔
لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد کی نسبت کم رکھا جاتا۔ اگر اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو کل ترکے کا 2/3 حصہ ان بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔
عورتوں کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ انھیں والد کی وراثت کا حق دار بھی بنایا گیا ہے اور شوہر کے ترکے میں سے بھی ان کا معقول حصّہ رکھا گیا ہے۔ صرف اولاد نہیں بلکہ وراثت میں والدین کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔
متوفی کے صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں بھی اس کے والدین میں سے ہر ایک 1/6 کا حقدار ہوگا۔ ماں باپ کے سوا کوئی اور وارث نہ ہو تو باقی 2/3 باپ کو ملے گا ورنہ 2/3 میں باپ اور دوسرے وارث شریک ہوں گے۔
بھائی بہن ہونے کی صورت میں ماں کا حصہ 1/3کی بجائے 1/6 کردیا گیا ہے۔ اس طرح ماں کے حصہ میں سے جو 1/6 لیا گیا ہے وہ باپ کے حصّہ میں ڈالا جائے گا کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمّے داریاں بڑھ جاتی ہیں۔
یہ واضح رہے کہ متوّفی کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصّہ نہیں ملتا۔ اگر مرنے والے کی ایک بیوی ہو یا زیادہ ہوں تو اولاد ہونے کی صورت میں وہ 1/8 کی اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں 1/4کی حصہ دار ہونگی اور یہ 1/4 یا 1/6 تمام بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کیا جائے گیا۔
جہاں وراثت کے حصے مقرر کیے گئے ہیں وہاں یہ بھی فرمایا گیا ہے ’’تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہارے اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور تمام مصلحتوں کا جاننے والا ہے‘‘۔
پھر حکم دیا گیا ہے کہ ’’عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گذارو‘‘۔ یعنی ان کے معاملے میں نرمی اختیار کرو۔ عورتوں کے ساتھ سختی یا harshness کا مظاہرہ کرنے کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
اس کے بعد انسانوں کے خالق نے کچھ ایسے مقدّس رشتوں کے ساتھ نکاح کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جو عقلِ سلیم اور مہذب معاشرتی اقدار کے عین مطابق ہے۔
اگر ماں بہن، بیٹی اور دوسرے محرّمات کے ساتھ نکاح کی کھلی چھوٹ ہوتی تو پھر انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ رہ جاتا اور معاشرے سے پاکیزگی اور تقدّس ختم ہوجاتا، لہٰذامحرمات کی نشاندہی کرکے قرآن نے انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ انسانی معاشرے کو جانوروں کا ریوڑ بننے سے بچالیا ہے۔
یہ حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں ہیں جن سے انسانی تاریخ کے کسی دور میں کوئی بھی دانشور، فلسفی یا قانون دان انسانوں کو روشناس کرانے سے قاصر رہا ہے۔ حکمت اور دانائی کے یہ خزانے صرف اور صرف خالقِ کائنات نے ہی اپنی کتابِ حق کے ذریعے انسانوں کو عطا کیے ہیں، لہٰذا اُس ربِّ ذوالجلال کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم